آپریشن قلب ماہیت
ہماری ریاستی مقتدرہ نے پچھلی چار دہائیوں سے پروان چڑھتی انتہا پسندی، مہیب دہشتگردی اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ذہنی و سماجی انتشار پہ قابو پا کر معاشرے کی تطہیر اور مملکت کے نظم و ضبط کو بحال کرنے کی خاطر ”آپریشن عزم استحکام“ کے نام سے جس مساعی کی شروعات کا فیصلہ کیا، وہ ماضی قریب میں کیے جانے والے آپریشنز کے تلخ تجربات، گہرے ابہام اور معاشرے و ریاست کے مابین باہمی اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ابتداء ہی میں تنازعات کا شکار ہو گیا۔
تاہم ارباب اختیار کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ متذکرہ آپریشن ماضی کی طرح صرف سکیورٹی فورسیز کی جانب سے دہشتگردوں کے تعاقب تک محدود نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک ایسی مربوط مساعی ہو گی جس میں ملک کے تمام ادارے، مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ، فوج، ایف سی، پولیس، ایف آئی اے، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور سوسائٹی کے فعال طبقات جیسے شاعر، ادیب، صحافی، ناول نگار، ڈرامہ نویس، فلم ساز اور گلوکاروں کو بھی سماج کی مجموعی ٹرانسفارمیشن کے لئے فعال کردار ادا کرنے پہ مائل کیا جائے گا، گویا یہ فرد کے تزکیہ سے لے کر معاشرے کے اجتماعی روّیوں کو ازسر نو مدون کرنے کی ہمہ گیر مشق ہو گی جو زندگی کی جزئیات سے لے کر حیات اجتماعی کے مرکزی دھارے کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کرے گی۔
اگر اس سکیم کے حوالہ سے ہماری تفہیم درست ہے تو پھر یہ طویل مگر ہمہ جہت مساعی، سماجی اور فکری آزادیوں کے بغیر بار آور نہیں ہو پائے گی کیونکہ وسیع کوآرڈینیشن کرداروں کی مکمل آزادی کی متقاضی ہوتی ہے تاکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے بھر پور مظاہرے کی ترغیب ملے اور بتدریج وہ اعلیٰ سطح کے فیصلہ سازوں کی توقعات کے ساتھ اچھی طرح ہم آہنگ رہ سکیں۔ بلاشبہ کوآرڈینیشن انسانی وسائل کے بہترین استعمال کا معیاری طریقہ ہے۔
تاہم مقصد کے حصول سے قبل جس قسم کی اورینٹیشن اور مینوپُلیشن کی ضرورت تھی وہ ابھی تک نظر نہیں آتی، سمعی اور بصری معلومات کو مربوط کرنے کے لیے جس نوع کے ابلاغی نظام کی صلاحیت درکار تھی وہ بھی مفقود ہے کیونکہ مربوط مساعی ایک مشترکہ تنظیمی مقصد کے حصول کے لیے بہت سے افراد یا محکموں کو اکٹھا کرنے کا وہ نظام ہے جو ایسی سرگرمیوں کے انضمام سے پیدا ہوتا ہے جو اہداف و مقصد کے حصول کے لیے تنظیم کے وسائل ( مادی اور انسانی) کا زیادہ موثر استعمال یقینی بنا سکے۔
اسی طرح مینوپولیشن کی مہارت سے مراد ایک مشترکہ مقصد حاصل کرنے کے لیے سرگرمیوں، وسائل اور معاشرے کو منظم اور ہم آہنگ رکھنے کی لچک اور تال میل ہے۔ بنیادی طور پر ، ہم آہنگی ان تنظیموں کے درمیان مشترکہ طاقت کے استعمال کی مہارت کو کہتے ہیں جو اجتماعی مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرتی ہیں۔ اچھی ہم آہنگی کو تین اہم عناصر میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، وقت، آگاہی اور سلیقہ (Manipulation) ۔ جس طرح ایک ماہر جرنیل اپنی جنگی صلاحیت کا درست ادراک رکھنے کے علاوہ دشمن کی قوت کا صحیح اندازہ لگانے کے بعد ہمیشہ مرضی کے وقت اور اپنی پسند کے میدان میں جنگ لڑنے کو ترجیح دیتا ہے۔
کیا ہماری ریاستی حرارکی بھی اسی مہارت اور شعور کے ساتھ ہمہ جہت اجتماعی مہمات کی طرف قدم بڑھا رہی ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر سب سے پہلے،مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پڑے گی، جس کی تکمیل اعلیٰ سطح سیاسی قیادت کر سکتی ہے، جو آپریشن کی ملکیت لے کر وسیع البنیاد ادارہ جاتی ہم آہنگی اور رائے عامہ کی تلویث یقینی بنائے گی۔ دوسرا پالیسی امور میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے نقطہ نظر کو شامل کرنا پالیسی سازوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ضرورتوں، ترجیحات اور مفادات کے وسیع مجموعے کو مربوط رکھ سکیں۔
اس سے اس بات کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملتی ہے کہ پالیسی سازوں کے پاس وہ ڈیٹا اور معلومات موجود ہیں جن کی انہیں فیصلے کرنے کے لئے ضرورت تھی۔ تیسرا، مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان موثر کوارڈینشن، حکومت کے اندر ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کے درمیان، مختلف شعبوں اور مختلف سطحوں پر فنانسنگ پالیسیوں کے ڈیزائن اور نفاذ میں ہم آہنگی کو زیادہ موثر، خطرات کو کم اور نئے خطرے کی تخلیق سے بچاتی ہے۔ جس طرح افراد اور عوامل جو ان کاموں کی تکمیل میں تعاون دیتے ہیں ہر خطہ میں مختلف ہوتے ہیں (بلوچ، پشتون سندھی، پنجابی) ، اسی طرح حکمرانی کی اقدار بھی، معاشرے کی تاریخ، روایات اور سیاست میں گہرائی سے جڑے ہوتے ہیں، انہیں پیش نظر رکھنا از بس لازم ہو گا۔ ہم آہنگی چونکہ تغیر پذیر عمل ہے جو وقت کے ساتھ خواہشات کی مناسب سطح کو بھی بدلتی رہتی ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں یہ متذکرہ بالا تین کلیدی افعال ہم آہنگی کو فعال رکھیں گے لیکن عزائم کی مناسب سطح کا انحصار ملک کے حالات، وسائل اور صلاحیتوں پر ہو گا۔
لاریب، ابلاغیات ایسی طاقتور سائنس ہے جو زندگی کے دھارے کو متلاطم رکھتی ہے، سیاہ فام دانشور مالکم ایکس نے کہا تھا ”اگر آپ ہوشیار نہیں تو میڈیا تمہیں مظلوم سے نفرت اور ظالموں سے محبت کرنا سیکھا دے گا“ ، نپولین نے کہتے تھے، اگر بوربان خاندان نے آلات تحریر پہ قابو پا لیا ہوتا تو ان کی حکومت تادیر قائم رہتی۔ اس کی ایک اور کلاسیکی مثال امریکہ کے اصل زمین زادوں ریڈ انڈین کی نسل کشی کے دوران سفید فاموں کی پروپیگنڈا مہمات تھیں جس میں اخباری خبریں، مضامین اور ناولز کے علاوہ دنیا کو ایسی مسحور کن فلمیں اور ڈرامے دکھائے گئے جس میں اپنی بقاء کے لئے مزاحمت کرنے والے مظلوم ریڈ انڈین کو وحشی اور انسانیت کا دشمن دکھایا جاتا اور جارحیت کا ارتکاب کرنے والے سفید فاموں کو تہذیب و تمدن اور نور علم کا حامل نجات دہندہ ثابت کیا جاتا تھا۔
بسا اوقات ایسے عوامل کو فطری انداز میں مثبت مقاصد کے لئے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے جیسے یورپ میں نشاة ثانیہ اور اصلاح کی تحریکوں کے دوران شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور گلوکاروں نے پورے سماج کی کایا پلٹ دی، جرمنی میں ہیگل کی جدلیات، نطشے کی قوت افروزی، شوپنہار کے ارادے، فرانس میں والٹیئر کی مذہبی جمود کے خلاف توانا تحریروں، واگنر اور بیتھون کے گداز نغمات اور جنیوا میں بیٹھے روسو کی فطرت کے ساتھ ہمنوائی کی تحریکات نے یورپ کو جہالت، فرقہ پرستی اور شہنشاہیت اور پاپائیت کے گٹھ جوڑ سے نجات دلائی۔
ہندوستانی مسلمانوں کی روح پہ چھائے غلامی کے جمود کو تحلیل کرنے کی خاطر علامہ اقبالؒ نے بھی شاعری سے مدد مانگی تھی۔ قصہ کوتاہ اگر اجتماعی زندگی کے دھارے کو فعال و منظم بنانا ہے تو اس میں شاعروں اور ادیبوں کے رشحات قلم کے علاوہ فلم سازوں، ڈرامہ نویسوں، موسیقاروں، گلوکاروں اور سماجی سائنسدانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا پڑے گا، ڈاکٹر جمیل جالبی نے کہا تھا کہ جس معاشرے میں ادب اور فنون لطیفہ ختم ہو جاتے ہیں وہ معاشرہ اندر سے مر جاتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے مغربی خیرخواہوں نے اپنے عالمی مفادات کے لئے یہاں پُرتشدد مذہبی عوامل کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی سکیم کے تحت ہمارے لئے ایسے رجحانات کو ڈیزائن کیا جس نے شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، موسیقی اور گلوکاری کی بیخ کنی کے ذریعے معاشرے کی فطری لچک کند کر کے ہمیں نفرتوں اور تعصبات کی آگ میں جھونک دیا۔
شاعری طلسماتی قوت کی حامل ہوتی ہے، 1962 میں ایوبی آمریت کے کلائمکس پر جب ساری سیاسی قوتیں دب چکی تھیں اس وقت حبیب جالب کی صرف ایک نظم ”ایسے دستور کو ، صبح بے نور کو ، میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا“ نے ایوب کے مسلط کردہ 1962 کے آئین کو اڑا کے رکھ دیا تھا۔ پھر 1965 کی جنگ میں نورجہاں کے رزمیہ نغمات نے ایسا سماں باندھا کے پوری قوم فوج کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی، موسیقیت کی غنائیت اور اثر پذیری دیکھئے کہ ملک علی ملکو کے ”ناک دا کوکا پِھٹا رتو کا“ جیسے فضول سے گیت نے وہ کام کر دکھایا جو عمران بیس سالہ جد و جہد اور پی ٹی آئی کا پورا سوشل میڈیا نہ کر سکا، ملکو کے گیت نے عمران خان کو لوگوں کی روح کے اندر اتار دیا۔
1969 میں عام پاکستانی مسلمانوں کو فلسطینیوں پہ اسرائیلی مظالم کی داستانیں سنانے اور فلسطینوں کی جدوجہد کے مفاہیم سمجھانے میں فلم ساز ریاض شاہد کی فلم ”زرقا ’نے جو اثر دیکھایا وہ ناقابل فراموش ہے، یہ فلم صرف کراچی میں 102 ہفتے چل کر ڈائمنڈ جوبلی ایوارڈ پا گئی، ریاض شاہد کو اسی کی پاداش میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے لیکن اس فلم کے دلخراش مناظر اور پُرسوز نغمات کی بازگشت آج بھی ہمارے قلب و روح میں گونجتی سنائی دیتی ہے۔


