مقتدر اشرافیہ: آپ پر عوام بھی قربان


یہ ہمارا ملک پاکستان عوام کی بے مثال اور عظیم قربانیوں کی بدولت قائم ہوا تھا۔ وہ جاگیر دار، نواب، سردار وڈیرے تمن سائیں جیسے برطانیہ والوں نے تخلیق کیے تھے آج تلک ویسے کے ویسے ہی ہیں، نہ اس وقت ملک کے قیام میں کوئی چیز قربان کی تھی نہ ہی آج تک ملک کو چلانے کے لئے کوئی قربانی دی ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے ملک سے بے پناہ مال و دولت اور وسائل نہ صرف خود اپنی ذاتی تجوریوں میں بھر لئے ہیں بلکہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کو بھی ان سے اتنا ہی مستفید کیا ہے۔ کسی ایک ایسے جاگیر دار کی مثال ہی نہیں ملتی جس نے اس وطن کے لئے کچھ اپنی جیب سے بھی لگایا ہو۔ یہ عوام ہی ہے جس نے ہمیشہ قربانی دی ہے۔ وہی روایت ہمارے مقتدر طبقہ نے بعینہ قائم رکھی ہے جیسی کہ اس ملک کی بنیاد کے وقت قائم ہوئی تھی کہ عوام قربانی دیں ہم اس قربانی کا ثمر خود بھی جی بھر کر کھائیں گے اور اپنے بیرونی اکاؤنٹس میں بھی محفوظ کریں گے تاکہ بوقت تبدیلی حکومت کام آ سکے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں قربانی صرف عوام نے ہی دی۔ عاشق اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ تیرے نام پہ جان بھی قربان ہمارے حکمران اپنے آئی ایم ایف اور دوسرے غیر ملکی سرداروں اور مالی اداروں کو کہتے ہیں آپ کے نام پر عوام بھی قربان، آپ بس ہمارا اور باہر بیٹھے ہمارے بچوں کا خیال رکھیں۔

یہاں ہر قدم پر عوام کی قربانی دینا جیسے ہمارے حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ خاص طور پر ہر نیا بجٹ نئی قربانی لے کر آتا ہے۔ حکمران ہمیں آئی ایم ایف کے قرضوں کی مجبوری دکھا کر قربانی مانگتے ہیں ہم مجبور بھیڑیں اس پر بھی مان جاتی ہیں لیکن ایک بات کی سمجھ ابھی تک نہیں آئی کہ یہ آئی ایم ایف کبھی بھی خواص کی قربانی نہیں مانگتا۔ عوام کے بجلی کے بل کی قیمت بڑھانے کی شرط لگاتا ہے کبھی اس بجلی کو واپس لینے کی شرط نہیں لگاتا جو اشرافیہ نے مفت میں آپس میں تقسیم کر رکھی ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھانے کی شرط لگاتا ہے مگر وہ پٹرول جو مفت میں بٹ رہا ہے اس پر پابندی کا کبھی نہیں کہتا۔ یہ آئی ایم ایف بھی جیسے ہمارا حکمران طبقہ ہی ہو عوام سے ہی قربانی مانگتا رہتا ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ یہی تو اشرافیہ کی موجیں کراتا ہے۔ اسے نئی نئی پٹیاں پڑھاتا ہے کہ عوام سے قربانی کیسے کیسے اور کہاں کہاں سے لی جا سکتی ہے۔ اسی لئے ہماری اشرافیہ اسے معتبر و محترم ٹھہراتی ہے۔ اپنے ملک کو تو نقصان پہنچا سکتی ہے مجال ہے جو آئی ایم ایف پروگرام پر ذرا بھی حرف آنے دے یا اس کے منصوبوں کو پورا نہ کرے۔

ساری دنیا میں قومی پالیسیاں عوام کی فلاح اور ترقی کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں مگر ہمارے پیارے ملک میں عوام سے قربانی لینے اور اس کو پریشانی میں مبتلا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں تاکہ عوام پیٹ بھرنے کے چکر میں چکر کھاتے رہیں اور اشرافیہ کی موجیں لگی رہیں۔ ہمارا ملک چلانے والے اگر آئی ایم ایف اور امریکہ کو خوش کرنے کی بجائے، اگر ان غیر ملکی آقاؤں کو سے پیار کی پینگیں بڑھانے کی بجائے، اس پیار کا عشر عشیر بھی اپنی عوام سے کر لیں تو یہ دن میں چند گھنٹے سوئی گیس مل جانے پر خوش ہونے والے عوام، بجلی کے بلوں میں لا یعنی بے بہا ٹیکس خاموشی سے دینے والے عوام، ملکی معاملات سے لا تعلق رہنے والے عوام، صرف باتوں سے خوش ہو جانے والے عوام پتہ نہیں محبتوں کے کتنے ڈونگرے انتظامیہ پر برسا دیں، دل و جان نچھاور کر دیں۔ اے کاش میرے ملک کی انتظامیہ اپنے عوام سے تھوڑی سی محبت کا اظہار کر دے، تھوڑی سی ہمدردی کر دے، تھوڑا سا ریلیف دے دے تو دیکھے گی کہ یہ جذباتی عوام کیسے اپنا تن من دھن اس پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ غیروں کے آگے ہاتھ پاؤں جوڑنے کی بجائے اپنے عوام کا خیال کر لیں اور جتنی چاہیں بلندی تک ملک کو لے جائیں۔

مگر وائے افسوس کہ عوام سے یہاں قربانی ہی لی جاتی ہے۔ انھیں ریلیف بھی ایسا دیا جاتا ہے کہ بعد میں ان کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ جس دن اشرافیہ سے چھوٹی سی قربانی بھی لے لی گئی اسی دن ہمارے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔