چاند پر پہنچنے کی دوڑ میں چین کی نئی کامیابی
چاند پر پہنچنے کی بھاگ دوڑ میں چین نے ایک نئی کامیابی سمیٹی ہے۔ چین کا چنگ ای ششم نامی قمری تحقیقاتی پروب، جسے امسال تین مئی کو ، کوسموڈروم وینشنگ نامی لانچ پیڈ سے چھوڑا گیا تھا، آٹھ مئی کو بیضوی مدار میں پہنچنے کے بعد ، پہلی جون کو چاند کی عقبی جانب والی سطح پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ چاند کی عقبی جانب والی سطح کے چٹانی نمونے لینے کے بعد ، اسے پچیس جون کو زمین پر بحفاظت اتار لیا گیا تھا۔
جرمن ٹیلیویژن کے مطابق، چنگ ای ششم کا چاند کی عقبی جانب جانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس علاقے سے چٹانی نمونے لانا خلائی تاریخ کا منفرد کارنامہ ہے۔ چنگ ای ششم پروب کے ساتھ زمین پر پہنچنے والے چٹانی نمونوں کی تحقیقات سے چاند کے متعلق نئی معلوماتی راہیں کھلیں گی۔ کیونکہ آج تک کسی بھی ملک کو چاند کے عقبی جانب تک پہنچنے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ روس اور امریکہ اب تک صرف، زمین کی طرف جھکاؤ والے چاند کے فرنٹ جانب کے علاقے میں اپنے پروب بھیجتے رہے ہیں۔ ساٹھ /ستر کی دہائیوں میں مشہورِ زمانہ تمام اپالو خلائی جہاز بھی چاند کی فرنٹ جانب بھیجے گئے تھے اور وہ صرف اسی علاقے کے متعلق تحقیقات اور معلومات حاصل کر رہے تھے
اہل زمین، چاند کے عقبی حصے کو ، علوم فلکیات میں مستعمل ایک ”باؤنڈ گردش“ نامی اصطلاح کی وجہ سے کبھی دیکھ نہیں پاتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کے نزدیک چاند کا عقبی حصہ زیادہ دلچسپ اور جیالوجی کی مناسبت سے نہایت اہم ہے۔
اس وقت چین اور امریکہ اپنی اپنی فلکیاتی تحقیق کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے کوشاں ہیں۔ جن میں چاند پر انسان بردار لینڈنگ پروگرام دونوں کی اولین ترجیح ہے۔
چین کا سرکاری خلائی ادارہ، چنگ ای ششم پروب کے فالو اپ مشن، ہفتم اور ہشتم پر کام کر رہا ہے۔ چین کا چاند پروگرام چار فیزوں پر مشتمل ہے۔ جس میں زیر تحریر چنگ ای ششم، تیسرے فیز کی آخری کڑی تھی۔ چوتھے فیز میں چنگ ای ہفتم اور چنگ ای ہشتم پروگراموں کے ذریعے چاند کے متعلق پری معلومات حاصل کرنے کے بعد اگلے چند سالوں تک انسان بردار خلائی جہاز، چاند پر پہنچایا جائے گا۔ یو ایس اے نے بھی آئندہ سالوں میں چاند پر انسان کو بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔
یو ایس اے نے چاند پروگرام کے لئے دو ہزار بیس میں آٹھ ممالک کے ساتھ مل کر آرتمیس اکارڈز نامی پروگرام طے کیا تھا۔ جس میں اب تک تقریباً تینتالیس مغربی اور سرمایہ دارانہ نظریات کے حامل ممالک بشمول جرمنی، شامل ہو چکے ہیں۔ چین نے بھی اپنے چاند پروگرام کے لئے برازیل، آذربائیجان، پاکستان/سعودیہ جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ پارٹنرشپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین فلکیات کے نزدیک چین کے لئے چاند پر جانا ایک قابل توقیر عمل ہو گا اور اپنی نئی نسل اور نوجوانوںکو ریاست کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔
امریکن ایروسپیس ایجنسی کے مطابق، آرتیمس ٹو پروگرام میں تین مرد اور ایک عورت کو خلائی جہاز میں چاند کے مدار کے طرف بھیجا جائے گا جو چاند کے گرد صرف چکر لگائے گا اور آرتیمس تھری، انسان بردار خلائی جہاز، جو چاند پر لینڈنگ کرے گا، کی تیاری میں مددگار ثابت ہو گا۔ یو ایس اے کے نزدیک اس دفعہ جھنڈے گاڑنے کی بجائے، چاند کے متعلق سائنسی تحقیقات مقدم ہوگی
زمین سے چاند صرف چار لاکھ کلومیٹر کی دوری پر ہے جبکہ مریخ زمین سے دو سو باسٹھ اعشاریہ چار تین ملین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ امریکن ماہرین فلکیات کے مطابق، یو ایس اے پہلے چاند پر انسانی زندگی کے امکانات ٹیسٹ کرے گا اور ان ٹیسٹوں سے استفادہ کرتے ہوئے مریخ پر اس کا اِطلاق کرے گا۔ چاند پر موجود ممکنہ برفانی منجمد سطحوں کو پگھلا کر ، اس سے آکسیجن اور ہائیڈروجن، جسے راکٹوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، حاصل کی جائے گی۔ مریخ پر پہنچنے کے لئے زمین کی بجائے چاند کو استعمال کیا جائے گا کیونکہ چاند پر زمین کی نسبت چھ گنا کم کششِ ثقل پائی جاتی ہے۔
جرمن خلا باز مسٹر الیگزینڈر گیرسٹ کے مطابق یو ایس اے، چاند پر مستقبل میں، جنوبی قطب میں واقع انٹارکٹیکا تحقیقاتی مرکز کی مثل، ایک مستقل خلائی سٹیشن بنانا چاہ رہا ہے۔ جنوبی قطب میں انٹارکٹیکا سٹیشن کا قیام بھی ویران صحراء میں عمل میں آیا تھا۔
جرمنی کے شہر کولون میں یورپین ایروسپیس سینٹر میں ایک ”لونا“ نامی ٹریننگ ہال ہے۔ جہاں پر ہزاروں ٹن مصنوعی قمری پتھر ڈال کر ایک مصنوعی چاند بنایا گیا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کے مستقبل کے، چاند پر جانے کے خواہشمند خلائی بازوں کے لئے، اس ہال میں ٹریننگ کا بندوبست ہے تاکہ وہ چاند پر جانے سے پہلے اس ہال میں ٹریننگ لے سکیں۔


