ساحل عدیم اور خلیل قمر ایسے مبلغین کا معاشرہ
مذہب کا مقصد تو خود کی اصلاح، من کی کدورتوں اور نفرتوں کو صاف کر کے ایک بہترین انسان بننے کی طرف بڑھنا تھا۔
یہ بھی ایک ڈائیکاٹومی یا تضاد ہے کہ مذہبی تعلیمات انسان اور سماج کو بدل نہیں پائیں بلکہ اسی انسان نے مذہب کے نام نجانے کتنی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں کا خون اپنے اپنے مذہب کا طنطنہ قائم کرنے کے لیے پانی کی طرح بہایا گیا۔ تشریح و تفسیر و تعبیر اور تاویل کے نام پر نجانے کتنوں کے بیچ مذہب کھلونا بنا ہوا ہے۔ طویل روایتی فکر کی کوکھ سے درجنوں فرقوں نے جنم لیا جو آج 21 ویں صدی میں بھی ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں۔ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے عائد کرنا، معمولی معمولی باتوں پر بازاری زبان میں مناظرہ بازی کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ معمولی نوعیت کے مسائل مثلاً نماز میں آمین اونچی آواز میں کہنا چاہیے یا نیچی آواز میں؟
دوران نماز ہاتھ کہاں باندھنے چاہیں؟
نور بشر ایسے موضوعات پر ایک دوسرے سے اختلاف کے نام پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور انہی بنیادوں پر ایک دوسرے کو دائرہ مذہب سے خارج کرنے کا شغل بھی چلتا رہتا ہے۔
وقت کا پہیا تو اپنی رفتار سے گھومتا رہتا ہے، سوالات بڑھتے رہتے ہیں اور بہت کچھ غیر متعلقہ ہونے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو پاتا قصہ پارینہ بنتا چلا جاتا ہے۔
یہی وقت کی حقیقت یا جبر ہے کوئی اس میں بھلا کیا کر سکتا ہے؟
ایسے علماء منظر عام پر آ گئے جنہوں نے اپنے طور پر مذہب کو آج کے تقاضوں کے ساتھ جوڑنے اور متعلقہ بنائے رکھنے کی سعی کی۔
اس دوران بہت ساری مضحکہ خیزیوں نے بھی جنم لیا، مذہب کو ریلیونٹ بنانے کے لیے کچھ نے مذہب میں سے سائنس کو برآمد کرنے کی کوشش کی اور کچھ نے تو سیدھا سیدھا سائنس کو ہی مذہب کے دائرہ میں لانے کے لیے یہ تک دعویٰ کر ڈالا
” جو سائنس آج بتا رہی ہے وہ تو پہلے سے ہی کتاب مقدس میں موجود تھا“
قصہ مختصر ابوالاعلیٰ مودودی، امین اصلاحی اور علامہ پرویز ایسی ہستیوں نے مذہب کو جدیدیت کے رنگ میں ڈھالنے کی پوری کوشش کی اور آج یہی کام جاوید احمد غامدی سرانجام دے رہے ہیں۔
لیکن معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید گنجلک ہوتا چلا جا رہا ہے۔ چونکہ بظاہر ایسا کوئی پیمانہ ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جا سکے کہ کس کی تشریح و توضیح حقیقی سورس کے عین مطابق ہے اور شاید اس کا فیصلہ ہو بھی نہیں پائے گا۔
اب جاوید احمد غامدی بڑے شاطر ہیں، اپنی بیان کردہ تشریحات کو ”طالب علمانہ“ رائے میں ملفوف کر ڈالتے ہیں۔ سوالات کی بوچھاڑ سے محفوظ رہنے کے لیے آخر میں اس اختتامی جملے میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں
” یہ میری ایک ناقص اور طالب علمانہ سی رائے ہے، آپ اختلاف کر سکتے ہیں“
اس جملے میں ہی عقل والوں کے لیے واضح نشانیاں موجود ہیں۔
لیکن اب معاملہ ساحل عدیم المعروف ”ڈوپامین، سرونٹین“ قیصر علی راجہ اور خلیل قمر ایسوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے جو اس زعم یا مغالطے کا شکار ہیں کہ ” جو وہ جانتے ہیں کوئی اور نہیں جانتا“
ان کا مقصد اپنے الفاظ کی صورت میں دوسروں پر رعب جمانا، شاؤٹنگ کرنا اور سوال پوچھنے والے کی تضحیک کرنا اور زچ کرنا ہوتا ہے۔
حال ہی میں سماء چینل پر ساحل عدیم نے اپنی گرجدار سی گفتگو میں اس بات کا انکشاف کیا ہے
” 95 فیصد خواتین جاہل ہیں اور اسلام میں ‘طاغوت’ سب سے بڑا گناہ ہے“
موصوف نے طاغوت کا لفظ اپنی گفتگو میں نجانے کتنی بار استعمال کیا اور آج کل تو ”بیٹا“ کا لفظ ان کی زبان پر اکثر رہتا ہے۔
سوال و جواب کا سلسلہ چلا تو ایک بہادر بیٹی نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی شائستہ اور مہذب انداز میں ساحل عدیم کو کہا کہ سب سے پہلے آپ کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے خواتین سے معافی مانگنی چاہیے، چونکہ آپ نے 95 فیصد خواتین کو جاہل کہا ہے، اس بات کا آپ کے پاس کیا پیمانہ ہے اور کیسے ایک شخص یہ دعوی کر سکتا ہے کہ 95 فیصد خواتین جاہل ہیں
اس بہادر بیٹی نے ساحل کو مزید آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ان خواتین کو جاہل رکھنے میں میل ڈومیننٹ سوسائٹی کا بھرپور کردار ہے جس میں آپ سب شامل ہیں۔
جب بیٹی کے کاؤنٹر آرگیومنٹ بڑھنے لگے تو خلیل قمر کی مردانگی بھی اچانک سے بیدار ہوئی اور بچی کو شٹ اپ کال دیتے ہوئے مائک بند کرنے کو کہا اور خاتون کو مذہب کے نام پر ہراساں کرتے ہوئے کہا
” تم کو آیت پر اعتراض ہے“
یہ ایک طرح سے اس بچی کو خاموش کروانے کا حربہ تھا۔
اب اسے بدقسمتی کہیں یا بے بسی کہ روایتی فکر کے پاس سوال کا گلا گھونٹنے کا صرف یہی ایک حل بچا ہے کہ سامنے والے کو مذہب کے نام پر ہراساں کرنا شروع کر دو تاکہ وہ خاموش ہو جائے۔
بچی کا سوال تو جینوئن ہے کہ آخر ان خواتین کو جاہل یا لاعلم رکھنے میں کن کا اہم کردار ہے؟ بجائے سوال کا جواب دینے کے الٹا ساحل نے طاغوت کی اصطلاح میں معاملہ الجھا دیا تاکہ بچی مزید کوئی بات نہ کر سکے۔
خلیل قمر نے اپنی سابقہ روش کو برقرار رکھا اور اپنی پست ذہنیت کا اظہار کرنے سے یہاں بھی باز نہیں آئے، موصوف کی ذہنی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے ان کی ماروی سرمد کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام میں ہونے والی گفتگو ہی کافی ہے۔ جس میں ماروی سرمد نے اس بندے کی خوب دھلائی کی تھی۔
اس بچی نے ہر ذی شعور خاتون کی نمائندگی کی اور مسوجنسٹ فکر پر ایک طرح سے خاصی گہری ضرب لگائی ہے اور ”ساحل و راجہ اور قمر“ ایسوں پر واضح کر دیا ہے کہ ہم بھی انسان ہیں، عقل و شعور والے ہیں اور سوال کی صورت میں سامنے والے کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔
انتہائی نرم اور مہذب لہجے میں اس بہادر بچی نے ساحل عدیم اور خلیل قمر ایسوں کی ذہنیت کو آشکار کر دیا، جو بظاہر تہذیب اور علمیت کا لبادہ اوڑھے ہر جگہ براجمان ہوتے ہیں۔
بات تو خیر اسی وقت ختم ہو گئی تھی جب خلیل قمر نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مائک بند کرنے کو کہا۔ یاد رکھیں یہ آج کے بچے بچیاں ہیں ان کے ذہنوں میں ہزاروں سوال موجود ہیں اور وہ پوچھتی رہیں گی بس اپنا ظرف کشادہ رکھنا۔



ان لوگوں کے اوپر آنے میں آپ لوگ بھی قصور وار ہیں۔
جب آپ کسی ایسے شخص کی ویڈیو دیکھتے ہیں آپ اس کو ایک view دے دیتے ہیں جو اسکی راٹنگ یا ویورشپ بڑھاتا ہے۔
جب آپ کسی چینل پر اسے دیکھیں تو آپ چینل کی TRP بڑھارہے ہوتے ہیں۔
اسی لئے بہتر ہوتا ہے جب آپ کو کسی شخص کے معیارات اور رویوں کا علم ہوجاتا ہے تو آپ یا انکی ویڈیو کلپ مت دیکھیں ۔ بلاک کردییں۔ یا وہیں ڈس لائیک کرکے منفی کمنٹ دیں۔
کیا ہی اچھا نہ ہوتا کہ اگر کسی بچی کا مائیک بند کردیا جاتا ہے اس بات پر کہ 95 فی صد عورتیں جاہل ہیں تو وہاں موجود کم از کم 95 فی صد خواتین بائیکاٹ کرکے جگہ چھوڑ دیتیں۔ یہ بہت بھرپور احتجاج ہوتا ہے۔ اسی طرح آئندہ بھی اگر کہیں ساحل عدیم موجود ہوں تو بچیاں اور خواتین ان سے اسی دعوی کا ماخذ مانگتی رہیں اور بائیکاٹ کرتی رہیں۔ چینل والے بھی اب سیاست سے ہٹ کر اس طرح کے متنازعہ بیانات اور دعوی کرنے والوں کو آگے لاکر TRP بڑھارہے ہیں۔ لوگوں کو ان سے بچنا چاہئے۔
اپ جو دیکھتے ہیں وہی آپ کو باقی بھی دکھاتے ہیں۔