فطرت کی بنیادی قوتیں

پچھلے ایک مضمون میں، میں نے ایٹم کی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک ایٹم، مرکزے، یعنی نیوکلیس، پر مشتمل ہوتا ہے جس کے گرد منفی چارج زدہ الیکٹرون ہوتے ہیں۔ میں نے تفصیل سے الیکٹرون کے بارے میں بتایا۔ اس مضمون میں، میری کوشش ہو گی کہ نیوکلیس کی ساخت کو سمجھا جائے۔
نیوکلیس سے وابستہ بہت سے بنیادی سوالات ہیں جن پر توجہ دینے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے، ہم نوٹ کرتے ہیں کہ نیوکلیس پروٹون اور نیوٹرون پر مشتمل ہوتا ہے۔ پروٹون پر مثبت چارج ہوتا ہے، جبکہ نیوٹرون پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔ دلچسپی کا سوال یہ ہے کہ کیا پروٹون اور نیوٹرون سب سے زیادہ بنیادی ذرات ہیں جن کے کوئی مزید چھوٹے اجزاء نہیں ہیں یا یہ اس سے بھی زیادہ ابتدائی ذرات کے مجموعے سے بنتے ہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کچھ مخصوص حالات میں نیوکلیس تین قسم کے ذرات خارج کرنے کے قابل ہوتے ہیں، ایک ہیلیم نیوکلیس جس میں دو پروٹون اور دو نیوٹرون ہوتے ہیں، جسے الفا (alpha) پارٹیکل کہتے ہیں، ایک الیکٹران جسے بیٹا (beta) پارٹیکل کہتے ہیں، اور ایک فوٹون جسے گاما (gamma) ریڈی ایشن کہتے ہیں۔ یہ اخراج ان عناصر میں ہوتا ہے جن میں پروٹون اور نیوٹرون کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ عمل جس کو radioactivity کا نام دیا جاتا ہے، مکمل طور پر امکانی ہے، یعنی اس بات کی پیشن گوئی کرنا ناممکن ہے کہ ایک ایٹم کس وقت نیوکلیس سے یہ اجزا خارج کرے گا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیسے ہوتا ہے؟ اہم سوال یہ ہے کہ کس قسم کی قوتیں ان ذرات کے اخراج کا باعث بنتی ہیں۔
تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ بھاری نیوکلیس کے اندر پروٹون اور نیوٹرون کی تعداد کافی بڑی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، سیسہ کے ایٹم کے مرکزے میں 82 پروٹون اور 126 نیوٹرون ہوتے ہیں۔ جبکہ نیوکلیس کا سائز ہمارے تصور سے بھی زیادہ چھوٹا ہے۔ اسی طرح، یورینیم کانیوکلیس 92 پروٹون اور 126 نیوٹرون پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک انتہائی چھوٹی سی جگہ میں مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی حیران کن ہے۔ مثبت چارجز ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلتے ہیں اور جب یہ چارجز ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں تو رجعتی قوت بہت بڑی ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بہت ہی چھوٹے حجم میں مثبت چارج شدہ پروٹون کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں ایک نیوکلیس اتنا مستحکم کیسے ہو سکتا ہے؟ اتنے سارے پروٹون کی موجودگی میں تو نیوکلیس کو پھٹ جانا چاہیے۔
اور چوتھا اہم نکتہ فیوژن (fusion) اور فشن (fission) کے عمل ہیں جو بے پناہ توانائی کا ذریعہ ہیں۔ فیوژن کے عمل میں، ہائیڈروجن نیوکلیس آپس میں مل کر ہیلیم نیوکلیس بناتے ہیں اور فشن کے عمل میں، یورینیم جیسا ایک بہت ہی بھاری نیوکلیس، جب کسی توانائی بخش ذرے سے ٹکراتا ہے، تو دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ دونوں عملوں میں توانائی کی ایک بہت بڑی مقدار خارج ہوتی ہے جسے تعمیری اور تباہ کن دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فیوژن کا عمل ہائیڈروجن بم کے لیے ذمہ دار ہے اور اس توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی زبردست کوشش جاری ہے۔ فِشن کا عمل جوہری ری ایکٹر کے ذریعے توانائی کا ذریعہ ہے اور یہ وہ عمل ہے جو ایٹم بم میں ہوتا ہے۔
ذیل میں ان سوالات کے جوابات فطرت کی قوتوں اور ان کی خصوصیات کی بنیاد پر دیے گئے ہیں۔
1964 میں آزادانہ طور پر دو امریکی سائنسدانوں، مرے گیل مین (Murray Gellman) اور جارج زوئیگ (George Zwieg) ، نے دریافت کیا تھا کہ جوہری ذرات، پروٹون اور نیوٹرون خود کوارکس (quarks) کہلانے والے ابتدائی ذرات پر مشتمل ہیں۔ یہ کوارکس چھ مختلف اقسام یا ”ذائقے“ میں آتے ہیں : اوپر (up) ، نیچے (down) ، عجیب (strange) ، دلکش (charm) ، بالا (top) اور نشیں (down) ۔ یہ رنگین نام محض نام ہیں اور ان ناموں کے ساتھ وابستہ کوئی خاصیت موجود نہیں۔ مثلاً عجیب کوارک کے بارے میں کوئی عجیب بات نہیں ہے اور اسی طرح دلکش کوارک کے بارے میں کوئی دلکشی نہیں ہے۔
کوارک ایک ساتھ مل کر مختلف ذیلی ایٹمی ذرات بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک پروٹون دو اپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنا ہے اور ایک نیوٹرون ایک اپ اور دو ڈاؤن کوارک سے بنا ہے۔ اگر کسی طرح اپ کوارک ڈاؤن کوارک میں تبدیل ہو سکے، تو ایک پروٹون نیوٹرون میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ڈاؤن کوارک اپ کوارک میں تبدیل ہو سکے، تو ایک نیوٹرون پروٹون میں تبدیل ہو جائے گا۔
کوارک سے وابستہ ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی بھی انفرادی طور پر نہیں پائے جاتے۔ یہ ہمیشہ پروٹون اور نیوٹرون میں مقید رہتے ہیں۔ یہ آپس میں اس قدر مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں کہ انہیں الگ کرنے کے لیے اتنی بڑی قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس وقت ممکن نہیں۔
ایسا کیسے ممکن ہوتا ہے کہ کوارک اتنی مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں؟
وہ کون سی قوت ہے جو ان کو علیحدہ نہیں ہونے دیتی؟
اس اور اس قسم کے دوسرے سوالات کو حل کرنے کے لئے ہم کو فطرت کی ان قوتوں کو سمجھنا ہو گا جو پوری کائنات کو توازن میں رکھتی ہیں اور ان تمام مظاہر کی وضاحت کرتی ہیں جونیوکلیس، ایٹم اور کائنات میں بکھرے تمام ذرات اور ان کے مابین تعلقات کو واضح کرتی ہیں۔
فطرت کی چار بنیادی قوتیں ہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جنہوں نے کائنات کو موجودہ کیفیت میں استحکام بخشا ہے۔ سائنسدانوں کا خواب ہے کہ ایک دن وہ ان تمام قوتوں کو صرف ایک قوت کا مظہر ثابت کر سکیں۔ اس مقصد کی طرف کافی پیشکش ہوئی ہے جس کا ذکر ذیل میں دیا ہے۔
ہم عام زندگی میں جس قوت کا براہ راست مشاہدہ کر سکتے ہیں، وہ کشش ثقل ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ ہر چیز چھوڑنے پر زمین پر گرتی ہے، اوپر نہیں جاتی۔ اسی طرح سیارے سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اور چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ یہ سب کشش ثقل کی وجہ سے ہے۔ کشش ثقل کی قوت کو زیادہ تر نیوٹن کے دریافت کردہ قانون کشش ثقل کی بنیاد پر سمجھا جاتا ہے۔ دو اشیاء کے درمیان کشش ثقل کی قوت ایک پرکشش قوت ہے۔ دونوں اشیاء ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ جب اشیاء کی کمیت بڑھائی جاتی ہے تو کشش ثقل میں اضافہ ہو تا ہے۔ اور جب ان کے درمیان فاصلہ بڑھایا جاتا ہے تو یہ کشش کم ہوتی جاتی ہے، لیکن کبھی صفر نہیں ہوتی۔ اس طور ہم کہہ سکتے ہیں کہ کشش ثقل کی قوت کی رینج لمبی ہوتی ہے۔ یہ لامحدود فاصلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کی آمد کے ساتھ، کشش ثقل کے بارے میں ہماری سمجھ میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ ایک قوت کے بجائے، اس کو بڑے پیمانے پر اشیاء کی موجودگی میں جگہ اور وقت کے گھماؤ (curvature) کے مظہر کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اس حیرت انگیز تصویر پر ایک اگلے مضمون میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ طبیعات کی دنیا کا ایک حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کشش ثقل کو کوانٹم تھیوری کے تناظر میں کیسے وضع کیا جائے۔
دیگر تین قوتیں، یعنی برقی مقناطیسی قوت، کمزور قوت، اور مضبوط قوت، کو ایک متحد فریم ورک کے اندر بیان کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم ذیل میں دیکھتے ہیں، کمزور اور مضبوط قوتیں نیوکلیس کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کوانٹم تھیوری کے فریم ورک کے اندر، یہ قوتیں ذرات کے تبادلے پر مبنی ہیں۔
پہلے ہم برقی مقناطیسی قوت پر غور کرتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر بحث کی گئی ہے، تمام ایٹم دو قسم کے چارجز پر مشتمل ہوتے ہیں، منفی چارج شدہ الیکٹرون اور مثبت چارج شدہ پروٹون۔ چارجز کے درمیان ایک برقی قوت موجود ہوتی ہے، ایک جیسے چارجز، جیسے دو الیکٹران یا دو پروٹون، ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلتے ہیں اور مخالف چارجز ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
پھر مقناطیسی قوت ہے، چارجز کی طرح ایک ہی قطب کے دو مقناطیس ایک دوسرے کو دور دھکیلتے ہیں اور مختلف قطب کے مابین کشش ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
جب برقی چارجز حرکت کرتے ہیں تو وہ مقناطیسیت پیدا کرتے ہیں۔ اس طور برقی قوت اور مقناطیسی قوت ایک ہی قوت کے مظہر ہیں۔ لیکن دونوں قوتوں کے مابین ایک بنیادی فرق ہے۔ جبکہ مثبت برقی چارج اور منفی برقی چارج پروٹون اور الیکٹرون کی شکل میں موجود ہیں، کوئی مقناطیس ایسا نہیں جس میں صرف شمالی قطب یا صرف جنوبی قطب موجود ہو۔ دونوں قطب ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ آتے ہیں۔ اگر مقناطیسی بار، جس میں دونوں قطب شمالی اور قطب جنوبی موجود ہوتے ہیں، کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو دو مقناطیس حاصل ہوتے ہیں، دونوں میں شمالی اور جنوبی قطب دونوں ہوتے ہیں۔
اٹھارہویں صدی کے وسط تک برقی اور مقناطیسی قوتوں کو مختلف تصور کیا جاتا تھا۔ یہ برطانوی سائنسدان جیمز کلرک میکسویل تھے جس نے 1873 میں دونوں قوتوں کو متحد کیا اور دکھایا کہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
کوانٹم تھیوری کی آمد کے ساتھ، ایک اہم سوال یہ تھا کہ برقی مقناطیسی قوت کو کیسے سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر، اصل کوانٹم کا عمل کیا ہے جو دو الیکٹرانوں یا دو پروٹونوں کے پیچھے دھکیلنے کا ذمہ دار ہے۔
1947 میں رچرڈ فائن مین (Richard Feynman) ، جولین شوئنگر (Julian Schwinger) اور شن اچیرو ٹوموناگا (Shin ’Ichiro Tomonaga) کے کام کے ذریعے جو تصویر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ یہ قوتیں فوٹون نامی برقی مقناطیسی ذرات کی ثالثی کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ انہیں اس اہم کام کے لیے 1965 میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔
اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے، ہم تصور کرتے ہیں کہ دو الیکٹرون ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ جب وہ کافی قریب آتے ہیں، تو ان کے درمیان ایک دوسرے کو دھکیلنے کی قوت اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
کوانٹم مکینکس یہ فرض کر کے اس ’بکھرنے‘ کے عمل کی وضاحت کرتی ہے کہ ایک الیکٹرون ایک فوٹون خارج کرتا ہے اور یہ فوٹون دوسرے الیکٹرون میں جذب ہوتا ہے۔ اس عمل کی ریاضیاتی تفصیلات کافی پیچیدہ ہیں۔ تاہم، دونوں الیکٹرون کے مابین قوت کو سمجھنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ جب ایک الیکٹرون فوٹون کو خارج کرتا ہے اور دوسرا الیکٹرون اسے جذب کرتا ہے، دونوں کو ایک recoil قوت کا تجربہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب الیکٹرون فوٹون کو آگے کی سمت میں خارج کرتا ہے، تو الیکٹرون پیچھے کی سمت میں حرکت کرتا ہے۔
یہ بالکل اس طرح ہے جیسے جب گولی آگے کی سمت میں چلائی جاتی ہے تو رائفل پیچھے کی سمت میں حرکت کرتی ہے۔ اسی طرح، جب الیکٹران فوٹون کو جذب کرتا ہے، تو یہ فوٹون کی سمت میں حرکت کرتا ہے۔ اس طور یہ سمجھنا ممکن ہوجاتا ہے کہ کس طرح ایک دوسرے کی طرف رواں دواں الیکٹرون جب قریب آتے ہیں تو انہیں ایک repulsive طاقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح دو پروٹونوں کے مابین اور ایک پروٹون اور ایک الیکٹرون کے مابین قوتوں کو بھی فوٹون کے تبادلے کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
ان فوٹون کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا اور انہیں ورچوئل فوٹون کہتے ہیں۔
اس پس منظر کے ساتھ، ہم دو ایٹمی قوتوں، کمزور قوت یعنی weak force اور مضبوط قوت یعنی strong force پر بات کر سکتے ہیں۔
پہلے ہم کمزور قوت (weak force) کا جائزہ لیتے ہیں۔
کمزور قوت کشش ثقل کے مقابلے میں تو زیادہ طاقتور ہوتی ہے لیکن برقی مقناطیسی اور مضبوط قوتوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہوتی ہے۔ کمزور قوت ایک پرکشش قوت ہے جو ذرات کے درمیان بہت کم فاصلے پر کام کرتی ہے، ایسے فاصلے جو پروٹون کے سائز کے دسویں حصے سے قریب تر ہوں۔ بڑے فاصلے پر، کمزور قوت کم ہوتی ہے اور صفر کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ یہ فاصلے پروٹون کے سائز کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں۔
کمزور قوت کو سب سے پہلے 1933 میں اطالوی ماہر طبیعیات، اینریکو فرمی (Enrico Fermi) نے متعارف کرایا تھا، تاکہ بیٹا کشی کی وضاحت کی جا سکے جو کہ نیوکلیس سے الیکٹرون کے اخراج کے مساوی ہے۔ بیٹا کشی کے دوران، نیوکلیس کے اندر ایک نیوٹرون ایک پروٹون میں بدل جاتا ہے اور اس پراسس میں ایک الیکٹرون اور ایک کمیت سے عاری پارٹیکل، جسے نیوٹرینو (neutrino) کہتے ہیں، پیدا ہوتے ہیں۔ نیوکلیس سے نکالے گئے الیکٹرون کو بیٹا پارٹیکل کہتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نیوکلیس کے اندر پروٹون کی تعداد میں ایک کا اضافہ اور نیوٹرون کی تعداد میں ایک کی کمی ہو جاتی ہے۔ چونکہ کسی عنصر کی نوعیت کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے نیوکلیس میں پروٹون کی تعداد کتنی ہوتی ہے، اس طور بیٹا تابکاری میں عنصر کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک کاربن ایٹم، جس کے نیوکلیس میں چھ پروٹون ہوتے ہیں، بیٹا کشی کے نتیجے میں سات پروٹون کے ساتھ نائٹروجن ایٹم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
1960 کی دہائی میں، شیلڈن گلاشاؤ (Sheldon Glashaw) ، عبدالسلام، اور سٹیون وائنبرگ (Steven Weinberg) نے برقی مقناطیسی قوت اور کمزور قوت کو الیکٹرو ویک فورس (elecroweak force) میں متحد کیا۔ انہیں اس اہم کام کے لیے 1979 کا نوبل انعام برائے طبیعیات ملا۔ انہوں نے دکھایا کہ جس طرح برقی مقناطیسی قوت فوٹون کے تبادلے سے ہوتی ہے، اسی طرح کمزور قوت W اور Z بوسونز (bosons) نامی ذرات کے تبادلے سے پیدا ہوتی ہے۔ W بوزون چارج شدہ ذرات ہیں، مثبت چارج شدہ ذرات کو Wپلس اور منفی چارج شدہ ذرات کو W مائنس کہا جاتا ہے ۔ Zبوزون پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔
متحد الیکٹروویک تھیوری کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ فوٹون کی طرح W، اور Zبوزون کی کمیت بھی صفر ہونی چاہیے۔ لیکن ایک معمہ تھا۔ ایسی قوت جو ایسے ذرات کے مابین تبا دلے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جن کی کمیت صفر ہوتی ہے، ان کی رینج بہت دور تک ہونی چاہیے۔ اس کی اہم مثال برقی مقناطیسی قوت ہے۔ تاہم، کمزور قوت تو انتہائی مختصر فاصلے پر عمل کرتی ہے۔ کمزور قوت کے اس رویے کے لیے W اور Z بوزون کی کمیت پروٹون سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔
لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟
1964 میں ایک عمل جو اب ہگز (Higgs) میکانزم کے نام سے جانا جاتا ہے، تجویز کیا گیا تھا، جس کے مطابق W اور Z بوزون کمیت حاصل کرتے ہیں۔ W بوزون 1983 میں CERN پارٹیکل ایکسلریٹر میں دریافت ہوئے تھے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، کمزور قوت بیٹا کشی میں اہم کردار ادا کرتی ہے جب نیوکلیس سے الیکٹران خارج ہوتا ہے۔ اس عمل میں، ایک نیوٹرون، ایک پروٹون اور ایک الیکٹرون میں تبدیل ہوتا ہے۔
اس پراسس کو کیسے سمجھا جائے؟
ہوتا یہ ہے کہ ڈبلیو بوزون کا اخراج ذرات کے میک اپ کو تبدیل کر دیتا ہے۔ ڈبلیو بوزون کے اخراج سے، کوارک کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ایک down quark منفی چارج شدہ W بوزون کے تبادلے کے ذریعے up quark میں تبدیل ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک نیوٹرون پروٹون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس عمل میں ایک الیکٹرون اور اینٹی نیوٹرینو نامی ذرہ بھی خارج ہوتے ہیں۔ اسی طرح، مثبت چارج شدہ Wبوزون کا تبادلہ ایک up quarkکو down quark میں تبدیل کر دیتا ہے، اس طرح ایک پروٹون کو نیوٹرون میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ عمل نیوکلیئر فیوژن کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے جو سورج جیسے ستارے میں حرارت اور روشنی پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
اب آخر میں، میں اس مضبوط ایٹمی قوت پر بات کرتا ہوں جونیوکئیس میں موجود جوہری ذرات، پروٹون اور نیوٹران، کے استحکام کا باعث ہے۔ یہ تمام قوتوں میں سب سے مضبوط ہے۔ دو ذرات کے درمیان مضبوط قوت گلوون (gluon) نامی ذرے کے تبادلے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ گلوون نامی ذرہ ایک پروٹون اور نیوٹرون کے اندر موجود کوارکس کو ’glue‘ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پرکشش مضبوط قوت کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کسی بھی لیبارٹری میں دستیاب توانائی کے ساتھ کوارک کو الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ مضبوط قوت نیوکلیس میں موجود پروٹون کے مابین پرکشش قوت کے لیے بھی ذمہ دار ہوتی ہے جو کہ پروٹون کے مابین تابکار برقی مقناطیسی قوت کے باوجود نیوکلیسکو مستحکم رکھتی ہے۔
مضبوط قوت کے بارے میں ایک قابل ذکر حقیقت یہ ہے کہ فطرت کی دیگر تین قوتوں کے برعکس یہ دو ذرات کے درمیان فاصلے بڑھانے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط تر ہوتی جاتی ہے۔ صورت حال ایک مکینیکل اسپرنگ کی طرح ہے جس میں جتنا ہم سٹرنگ کو کھینچتے ہیں دونوں سروں کو قریب لانے کی قوت بڑھتی جاتی ہے۔
ایک پروٹون یا نیوٹرون کے اندر تین کوارک کو ایک ساتھ رکھنے کے علاوہ، ایک بقایا قوت ہے جو پروٹون اور نیوٹرون کے باہر کام کرتی ہے۔ یہ بقایا قوت پروٹونوں کے درمیان تابکار برقی مقناطیسی قوتوں پر قابو پا کرنیوکلیس کے اندر پروٹون اور نیوٹرون کو ایک ساتھ رکھنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ جب پروٹون کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو نیوکلیس کا سائز بڑا ہو جاتا ہے۔ دور دراز پروٹون کے درمیان برقی مقناطیسی قوتیں مضبوط قوت پر غالب ہونے لگتی ہیں۔
بالآخر، نیوکلیس کو ایک بڑی توانائی سے مزین ذرے کونیوکلیس سے ٹکرا کر اس عمل کے ذریعے توڑا جا سکتا ہے جسے فِشن کہتے ہیں۔ فشن کے دوران، بڑی توانائی سے مزین ذرات اور گاما شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔ یہ ذرات دوسرے مرکزوں کو فشن کے عمل سے گزرنے کا سبب بنتے ہیں، اس طرح ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جسے chain reaction کا نام دیا جاتا ہے۔ یورینیم۔ 235 اور پلوٹونیم۔ 239 جیسے بھاری نیوکلیس کے فشن سے حاصل ہونے والی توانائی جوہری ری ایکٹروں کو طاقت دیتی ہے اور ایٹم بموں میں جاری ہونے والی بے پناہ تباہ کن توانائی کا ذریعہ ہے۔

