برطانیہ کا ڈیفنس منسٹر میرے دروازے پر


منگل کی شام گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولا تو ایک بزرگ خاتون پمفلٹ لئے کھڑی تھی۔ دھیمے لہجے میں بولی کہ گرانٹ شاپس کے لئے ووٹ کی طلبگار ہوں۔ میں نے خوشگوار انداز میں اسی طرز کا جواب دیا جو چند دن پہلے لیبر کے لئے کمپین کرنے والے حضرت کو دیا تھا۔ محترمہ کو تھوڑا حوصلہ ہوا اور بولی کہ گرانٹ خود ووٹ مانگے گا۔ اور ایک دم پیچھے مڑ کر اس نے اونچی آواز میں گرانٹ کا نام پکارا اور کہیں قریب سے جینز ٹی شرٹ میں ملبوس برطانیہ کا ڈیفنس منسٹر دوڑتا ہوا میرے دروازے پر آیا اور مصافحہ کیا۔

میں نے خوشگوار انداز میں کہا کہ سیاسی صورتحال کچھ زیادہ موافق نہیں آپ لوگوں کے لئے۔ وہ مدافعانہ انداز میں بولا کہ مقابلہ مشکل ضرور ہے لیکن وہ ذاتی حیثیت میں اہل علاقہ سے ووٹ مانگ رہا ہے۔ اس لیے پرامید ہے۔ مختصر سی ملاقات کے بعد اس کی کمپین ٹیم نے میرے نام کا خط لیٹر بکس میں ڈالا جس میں درج تھا کہ مضبوط اپوزیشن ملک کے لئے ضروری ہے ورنہ لیبر کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہونے کا خطرہ ہے۔ گویا نوشتہ دیوار وہ اچھی طرح پڑھ چکا تھا اور ڈوبتا ہوا تنکوں کو صدائیں دیتا ہوا مجھ جیسوں سے ووٹ کی اپیل کر رہا تھا۔

دو دن بعد آج صبح بیگم کے ہمراہ مارننگ واک کے لیے نکلا تو راستے میں ایک چرچ کے باہر ”پولنگ سٹیشن“ کا پوسٹر چسپاں دیکھا تو یاد آیا کہ آج یعنی جمعرات کو الیکشن ہے۔ پہلے ارادہ کیا کہ علی الصبح ووٹ کے فریضے سے سبکدوش ہوا جائے لیکن پھر یاد آیا کہ ووٹ دینے کے لیے کچھ شناختی ڈاکومنٹ بھی ہونا چاہیے۔ یہ شناختی کارڈ کی شرط اس سال متعارف کرائی گئی تھی ورنہ ماضی کے الیکشنوں میں زبانی بیان کو کافی سمجھا جاتا تھا۔

کڑوا سچ بولوں تو بات یہ ہے کہ بھلا ہو ہم پاکستانی لوگوں کا کہ ماضی قریب کے الیکشنوں میں یہاں بھی ووٹنگ فراڈ سے ہر قسم کا اودھم مچایا تھا۔ کہیں مرے ہوؤں کے جعلی ووٹ ڈالے گئے تو کہیں بہروپیے اصل ووٹروں کے ووٹ پہلے سے ڈال آتے تھے۔ آخر کار بادل نخواستہ مجبوراً شناختی کارڈ کی شرط کو اب لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مارننگ واک ختم کر کے گھر پہنچنے پر ناشتہ کیا اور بیگم اور بیٹے سمیٹ پانچ منٹ کی پیدل واک کر کے مقامی چرچ جا پہنچا جس کے باہر پولنگ سٹیشن لکھا تھا۔ سناٹے کا عالم تھا اور وہاں ہال میں ساتھ بیٹھے ایک بزرگ خاتون اور ایک بزرگ صاحب اپنی میزوں کے پیچھے جیسے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے دونوں نے روایتی انگریزی علیک سلیک کی اور پھر نام اور پتہ پوچھنے کے بعد میز پر پڑی لسٹ میں مجھے ڈھونڈ نکالا۔ پھر مجھ سے میرا شناختی کارڈ مانگا۔ برطانیہ میں ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ شناختی کارڈ کا کام کرتے ہیں۔ میں نے اپنا ڈرائیونگ لائسنس اس کے حوالے کیا اس نے ایک لمحہ نام پڑھا اور شناخت کی تصدیق کردی۔

یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بزرگ محترمہ نے ووٹ کی پرچی کاٹ کر ہاتھ میں تھما دی۔ یہی سلسلہ بیگم اور بیٹے کے ساتھ بھی ہوا اور ہم تینوں ایک طرف لگے پولنگ بوتھ گئے جہاں ایک بال پین پڑا ہوا تھا جس سے ووٹ کی پرچی پر اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے آگے کراس کا نشان لگانا تھا۔ اس کے بعد ہم نے وہ پرچیاں بزرگ خاتون کے سامنے پڑے بند بکسے میں ڈال دیں اور مشن مکمل ہونے پر ہم واپس گھر لوٹ آئے۔ باقی شہر بالکل ویسا ہی نارمل تھا جیسے سال کے باقی دنوں میں رہا کرتا تھا۔ اگر ہم پولنگ سٹیشن نہ جاتے تو ہمیں صرف خبروں سے پتہ چلتا کہ شہر میں الیکشن ہوا تھا۔

سیاسی طور پر اب ان پارٹیوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہا۔ تمام اندازے یہی ہیں کہ لیبر بھاری اکثریت سے جیت جائے گی۔ بیچارے اتنے عرصے سے اقتدار کو ترس رہے ہیں۔ اب ان کا حق بھی بنتا ہے۔ جو بات میرے نزدیک زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ ان گوروں کا سارا نظام باہمی اعتماد پر چلتا رہا ہے۔ ہمارے عیار فنکار جوں جوں آبادی میں بڑھیں گے اس نازک نظام کا تہہ و بالا کر کے دم لیں گے۔ اور بقول فیض آخر میں بس اٹھے گا انا الحق کا نعرہ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

Facebook Comments HS

ڈاکٹر حیدر شاہ

مصنف برطانیہ کی ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے بانی ہیں۔ ان سے hashah9@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

haider-shah has 22 posts and counting.See all posts by haider-shah

One thought on “برطانیہ کا ڈیفنس منسٹر میرے دروازے پر

  • 06/07/2024 at 2:53 صبح
    Permalink

    اور آپ کے کہنے کے عین مطابق وزیر دفاع الیکشن ہار گیا اور لیبر کی حکومت بھی قائم ہوگئی۔

Comments are closed.