نوآبادیات سے نبرد آزما لواخ


اختر رضا سلیمی کا تیسرا ناول لواخ گزشتہ برس شائع ہوا۔ سلیمی کے پہلے ’ناول جاگے ہیں خواب میں‘ نے ادبی حلقوں میں بطور ناول نگاران کا ایک بھرپور تعارف کروا یا اور جندر نے اس پہچان پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ میں ان تینوں ناولوں کو ایک تسلسل میں دیکھتا ہوں۔ ویسے بھی کسی معروف ناول نگار کا قول ہے کہ ناول نگار زندگی بھر ایک ہی ناول لکھتا ہے۔ میرا بھی خیال یہی ہے کہ کہانی ایک ہی ہوتی ہے، سب لکھاری اور قاری اپنی اپنی مرضی کے کرداروں اور زمانوں کو الگ الگ کر لیتے ہیں۔

اختر رضا سلیمی کے دوسرے ناول جندر میں جندر انسانی زندگی کی اندرونی کشمکش کی علامت ہے، پہلے ناول ’جاگے ہیں خواب میں‘ کا نام بھی میری اس بات کی تائید کر رہا ہے، لیکن ان کا تیسرا ناول لواخ زندگی کے لیے بیرونی سطح پر لڑی جانے والی جنگ اور جدوجہد کی علامت ہے۔ یہ ناول نگار کے کام میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کہانی میں ان کے گزشتہ ناولوں کا ماحول موجود ہے۔ بلکہ جندر تو لواخ کا حصہ دکھائی دیتا ہے اور ایک اہم موڑ پراس کی بھرپور یاد دلاتا ہے۔ اختر رضا سلیمی کے ناولوں میں علامت کا استعمال بہت شاندار اور متاثر کن انداز میں سامنے آیا ہے۔ یہ بھی ناول کی کامیابی ہے کہ پوری کہانی اور منظر نامہ کسی ایسی علامت کے گرد گھومتا ہے جسے ناول کا عنوان بنایا گیا ہے۔

میرے نزدیک لواخ اجتماعی اور انفرادی، دونوں سطح پر زندگی کی وہ روشن علامت ہے جسے انسان کا یا کسی قبیلے کا ضمیر بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا ضمیر جو بار بار رہنمائی کرنے اور خبردار کرنے کے لیے روشن ہوتا رہتا ہے۔ یہ روشنی اسے اس کی حقیقت کی تہہ تک اترنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم اس علامت کے ذریعے اپنے مجموعی قومی کردار کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

سلیمی نے اس ناول میں نوآبادیاتی نظام سے نبردآزما مقامی طبقے کی جدوجہد کی کہانی رقم کی ہے۔ یہ دراصل دو طبقوں کی کشمکش کی تاریخ ہے۔ ایک طبقہ جس کے ہاتھ میں جابرانہ اختیار ہے اور دوسرا وہ جس پر یہ مسلط ہے۔ ایک طرف مقامی لوگ ہیں اور دوسری طرف نوآبادیاتی قوتیں اور ان کے مقامی نمائندے۔

ایڈورڈ سعید نے اپنے ایک مضمون ”ییٹس اور رد نو آبادیات“ میں آئرش شاعر ڈبلیو بی ییٹس کی شاعری کا بہت گہرائی سے، اس تناظر میں مطالعہ کیا کہ نوآبادیاتی آئرلینڈ کے لوگوں کے بارے میں شاعری کرنے والا انقلابی شاعر نوآبادیات کے مصائب اور اس کے خلاف جدوجہد کو کس طرح دیکھتا اور اس سے نجات کے لیے کس انداز یا طریقہ کار کو پسند کرتا ہے، یا اس کی جدوجہد کے اصول اور نظریات کن حالات سے تشکیل پاتے ہیں۔ ییٹس قوم پرست انقلابی تھا اور سعید نے ییٹس کی قومیت پرستی پر بعض سوالات بھی اٹھائے ہیں اور مقامیت پرستی کو قبول کرنے کو بنیاد پرست، مذہبی اور سیاسی تفریقوں کو خوشی سے قبول کرنے کے مترادف قرار دیا، لیکن یہ الگ بحث ہے۔

ایڈورڈ سعید نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا ”جغرافیہ وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے میں تاریخ مربوط انداز میں بیان کر سکتا ہوں، تاریخ کا اظہار ہمیشہ جغرافیہ کے ذریعے ممکن ہے“

اختر رضا سلیمی کے ناولوں کا جغرافیہ ایک ہی ہے اور اس جغرافیے کے اندر ہی سلیمی کی کہانیاں سوئی پڑی ہیں۔ یہ خطہ جدوجہد کی کئی عظیم داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ سلیمی کو معلوم ہے کہ مقامی ثقافت اور تاریخ کا نقشہ کھینچ کر دراصل ہم اپنے حال اور کسی حد تک مستقبل کا حساب لگا سکتے ہیں۔ اختر رضا سلیمی بنیادی طور پر کہانی کار ہے لیکن وہ ہمارے موجودہ سماجی و سیاسی یا تہذیبی ڈھانچے کو اپنی نظر سے، یعنی ایک دانشور کی نظر سے دیکھتا ہے، جس کا مشاہدہ مقامی بھی ہے اور گہرا بھی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم پر وہی سامراجیت اب نئے انداز سے مسلط ہے۔

اگر ہم نوآبادیاتی قوتوں کا طریقہ کار دیکھیں، تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا ہماری تاریخ، اور زبان و ادب وغیرہ پر نوآبادیاتی عہد میں کیا گیا کام، جسے ہم ان کے کارنامے کے طور پر یاد رکھتے ہیں، دراصل یہاں کے معروض کو سمجھنے اور توسیع پسندانہ مقاصد کے حصول کی کوشش تھا۔ ہمارے معروض کو اور معروضی حقائق کو اور تاریخ کو درست انداز میں سمجھتے اور مرتب کرنے کے لیے سلیمی جیسے مقامی تخلیق کار اور زمینی حقیقتوں سے آگاہ شخص کی ضرورت تھی۔

اختر رضا سلیمی کے اس ناول کی دوسری بھرپور علامت وہ نوشتہ ہے جسے اس کا مرکزی کردار سینے سے لگائے پھرتا ہے۔ نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف مقامی سطح پر کئی جانے والی جدوجہد کی یہ کہانی دلچسپ بھی ہے اور معنی خیز اور ایک دستاویزی حیثیت کی حامل بھی۔ اس میں علامتیں بھی ہیں اور جیتے جاگتے کردار بھی ہیں۔ مقامی لوگوں کا طاقت کے نزدیک سچ کا ساتھ دینے کا رویہ بھی ہے اور کہیں اپنے خوف سے باہر آتے ہوئے اپنے سچ کا حوصلہ مندانہ اظہار بھی۔

سلیمی نے اپنے بابا کے لواخ کو روشن کر کے نوآبادیاتی نظام کا چہرہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ میں نے آغاز میں عرض کیا، اس کی لوکیل اپنی ہے سو یہ کردار سلیمی کے لہو میں بہتے ہیں۔ وہ ان سے کافی مانوس ہے۔ کہیں کہیں سلیمی ان کرداروں میں سے ایک کردار دکھائی دیتا ہے۔ ’جاگے ہیں خواب میں‘ سے سفر آغاز کرنے والا ناول نگار اپنے تینوں ناولوں میں اسی لوکیل کے اندر گھوم رہا ہے۔ یہ سفر شاندار اور قابل رشک ہے اور اس شاندار ناول نگار سے مستقبل میں اس سے بھی بڑے ناول کی توقع ہے۔ مجھے تو اس کے ہر نئے پڑاؤ کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔

Facebook Comments HS