خود پسند زہریلی سیاست


ہمارے تخلیقی اور غور و فکر کرنے والے محبی سلیم بھٹہ کا استدلال ہے کہ خود پسندی میں انسان اپنے آپ کو اپنی بعض صفات یا امتیازات کی وجہ سے سب سے بڑا شمار کرتا ہے، اپنی کامیابیوں کے گن ہر وقت گا کر ہر خاص و عام پر ہمہ وقت خود پسندی کی کہانیاں شروع کر دیتا ہے، اپنے اور نفس کے درمیان صرف اپنی صفائی پیش کرتا ہے کہ میں ایسا ہوں، میں ویسا ہوں۔

سلیم بھٹہ کہتے ہیں کہ خود پسندی اخلاقی امراض کا سبب بنتی ہے جس سے انانیت اور تکبر جنم لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے اور پھر پہلا قدم تکبر کی صورت اٹھاتا ہے جبکہ اسی لمحے خود پسند اپنے عیوب کو بھول جاتا ہے ، اس مرحلے پر خود پسندی کے زہر سے بچنے کے لئے علم و دانش کی معرفت رکھنے والے

علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ صالح بننے کے لئے انسان کو پانچ خصلتوں یعنی جہالت، لالچ، کنجوسی، ریاکاری اور خود پسندی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

خود پسندی کے مرض کے متعلق برطانوی کنسلٹنٹ ڈاکٹر ٹینیسن لی کی تحقیق کے مطابق اس بیماری کو پرکھنے کے نو نکات ہیں جو پوری دنیا میں رائج ہیں

*اپنی اہمیت کا انتہائی احساس
* کامیابی اور طاقت ور ہونے کا وہم۔
* خود کو انوکھا اور منفرد خیال کرنا
* سراہے جانے کی حد سے زیادہ کی طلب کا شکار ہونا۔
* ہر چیز پر اپنا حق سمجھنا
* باہمی رشتوں میں صرف اپنے بارے میں سوچنا
* ہمدردی کے احساس کی کمی
*اپنے ہر عمل پر رشک کرنا
* مغرور اور گھمنڈی رویے رکھنا

محققین کا خیال ہے کہ خود پسندی سے اخلاق حسنہ غائب ہو جاتے ہیں، خرابیاں اور برے اخلاق عام ہو جاتے ہیں اور تمام برائیاں خود پسند انسان کے اندر مجتمع ہونے لگتی ہیں۔

خود پسندی وہ آفت یا فتنہ ہے جو انسان کو بسا اوقات مکمل تنہا کر دیتی ہے۔

اڈیالہ جیل اور تنہائی اس وقت عمران خان کی خود پسندی کی وہ علامت بن چکی ہے جس میں ان کے سیاسی ساتھی بھی آئے روز چھوڑ چھوڑ کر ان کی خود پسندی کو کچوکے لگا رہے ہیں، عمران خان کی اس خود پسندی کی پیچیدہ تنہائی کے اس مرحلے مجھے نہیں معلوم کہ عمران خان کے بہی خواہ و ہمدرد کارکنوں کو ”گیدڑ“ بننا کتنا اچھا لگتا یا کہ انہیں اپنے مہان رہنما کا خود کو ”شیر“ کہنا کتنا بھاتا ہے، البتہ اس ساری صورتحال کے بعد مجھے 5 آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ فلم The Silence of Lamb کے اہم کردار جوڈی فوسٹر اور انتھونی ہاپکنز کی تھامس ہیرس کی کہانی پر مبنی 1991 کی شاہکار فلم ضرور نگاہوں میں گھوم گئی جس میں ایک نہایت عیار جھوٹے اور مکار قاتل سے ایف بی آئی کی ٹرینی اس کی زبان کھلوا کر اس کے سفاکانہ کردار کو دنیا کے سامنے منظر عام پر لے آئی۔

اسی ضمن میں مجھے نوے کی دہائی کا یہ قصہ بھی یاد آ گیا، جب ہمیں بالی ووڈ کے مہان بنگالی ہدایت کار ستیا جیت رے کی فلموں کا چسکا پڑا ہوا تھا، اپھار سے لے کر یہاں سے شہر کو دیکھو تک بیشمار فلمیں ہمارا جنون تھیں، اسی جنون کو سکون دینے کی خاطر فیض احمد فیض، سبط حسن اور کیفی اعظمی کی کتابوں کے ٹائیٹل بنانے والے آرٹسٹ لیاقت حسین جو خود لکھنوی تہذیب میں رچے بسے سپوت تھے، ایک روز منشی پریم چند کی کہانی پر مبنی فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“ لے آئے جس کو ڈائریکٹ ستیا جیت رے نے کیا تھا جبکہ اس فلم میں مرکزی کردار سنجیو کمار اور امجد خان بطور واجد علی شاہ نے ادا کیا تھا، ڈھائی گھنٹے کی یہ تاریخی اور تفریح کے تمام لوازمات لئے فلم سب نے جام سے جام ٹکرا کر ایک ہی نشست میں دیکھ ڈالی۔

ان دونوں فلموں کا مرکزی عنوان یا خاکہ شکست و ریخت اور طاقت کے نشے میں سرشار خود پسند افراد کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، جہاں جنونی اور پاگل پن کی حد تک سفاک دی سائلنس آف دی لیمبز کا انتھونی ہاپکنز تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ وہ ایف بی آئی کی خوبرو ایجنٹ جوڈی فوسٹر کو بیوقوف بنا کر وہ اسے اپنے دھوکے میں جکڑ لے گا، وہیں ”شطرنج کے کھلاڑی“ کا واجد علی شاہ کا وہ کردار تھا جو خود کو ذہین اور دنیا کا کامیاب حکمران یا رہنما سمجھتا تھا اور اسے اپنی حماقتوں اور اقتداری بد انتظامی سے زیادہ خود پسندی میں اس بات کا زعم تھا کہ اس کے اقتدار سے خوش ہو کر ”اودھ“ کے عوام اسے برٹش سامراج کی لشکر کشی سے بچا لیں گے۔

ان دونوں فلموں کے اختتام پر نظر رکھی جائے تو دونوں فلموں میں مشترکہ نکتہ اقتدار اور طاقت کے زعم کی شکست و ناکامی اور اعلی طبقات کی خود پسندی نمایاں دکھائی دے گی جبکہ سائلنس آف دی لیمبز کی کمزور سمجھی جانے والی ایف بی آئی کی ایجنٹ کے خاموش کردار کو دنبے کا لذیذ گوشت سمجھا گیا، اور جب خاموش دنبے کے گوشت کی نرم محبت یا سلوک کا عادی سفاک اور جھوٹا انتھونی ہاپکنز بن گیا تو اسی خاموش محبت نے اس کی سفاکی کو دنیا کے سامنے عیاں کر کے اس کے مکر و فریب کے کردار کو دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا۔

اسی طرح ”شطرنج کے کھلاڑی“ میں واجد علی شاہ کو بڑا زعم تھا کہ اس کے پائے کا کوئی شطرنج کا کھلاڑی نہیں جو اسے شکست دے سکے جبکہ اس کی شطرنج کی چالوں کو مات دینے میں آخر کار اس کا دوست سمجھے جانے والا سنجیو کمار ہی نکلا جو گاہے گاہے اسے کبھی رخ کی سیدھی چال کبھی فیلے کی ترچھی چال اور کبھی گھوڑے کی ڈھائی چال میں الجھا کر اور اس کو مصروف رکھتا اور واجد علی شاہ کو حکمرانی کے امور سے لاتعلق کیے رکھتا، تاکہ وہ واجد علی شاہ کے تخت کا تختہ کرنے میں کامیاب ہو اور آخرکار وہ واجد علی شاہ کی حکمرانی پر گرفت کمزور کرنے میں کامیاب رہا، جس کا انجام واجد علی شاہ کی بادشاہت کے خاتمے پر ہوا۔

آج کے پاکستان کی سیاسی صورتحال میں مذکورہ فلموں کا اختتام ایک ایسا سبق ہے جس پہ ہر صاحب نظر اور بطور خاص اہل سیاست کو ضرور سوچنا چاہیے، آج کل ملک کی سیاسی صورتحال میں خاص طور پر عمران خان کے خود پسندانہ فیصلے ”اوتالوے“ رویے یا بیانیے کے تناظر میں تحریکی تجزیہ کاروں کو یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ سیاست اور حکمت عملی خواہش اور مرضی و منشا کی مرہون منت نہیں ہوتی بلکہ سیاست میں تاریخی خد و خال اور سیاسی مقاصد کی تکمیل دھیرج قدم اور انتہائی سنجیدگی کی متقاضی ہوتی ہے وگرنہ سیاست میں جلدی یا خواہش بہت جلد پانی کے اس ابال کا کردار ادا کرتی ہے جو کچھ لمحے بعد ٹھنڈا ہوتے ہی بے اثر ہو جاتا ہے۔

اس بات سے انکار کیسے کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کی تبدیلی آئین کے تقاضوں کے تحت ہی ہوئی، اس طریقے کار سے اختلاف بھی سیاسی سنجیدگی کا متقاضی ہے جو کہ عمران خان یا ان کے حامی ملک کی معروضی اور سیاسی صورتحال کے برعکس کرنے پر تلے بیٹھے ہیں، جس کا انجام خالی ہاتھ کے سوا کچھ نہیں لگتا، عمران خان کے بیانیے کی طاقت افسوسناک سطح تک ان غیر سیاسی نوجوانوں یا افراد تک ہی محدود ہے جو کہ تعداد میں تو زیادہ ہو سکتے ہیں مگر تحریک انصاف کے لئے کارکنان کی یہی غیر سیاسی فوج مستقبل کی ایسی چھچھوندر بننے جا رہی ہے جو پی ٹی آئی کی سیاست کے تابوت میں اسی جذبے و جوش سے آخری کیل ٹھوکے گی جس جذبے سے وہ آج کل اپنے خود پسند قائد عمران خان کی ہر بات پر لبیک کہہ رہے ہیں، کیونکہ سیاست اور تاریخ میں اٹھایا جانے والا ہر جذباتی اور غیر سنجیدہ قدم فرد یا گروہ کو بالآخر شرمندگی اور پسپائی سے ہی سرخرو کرتا ہے۔

دنیا کی تاریخ کے تناظر میں سیاست کی سنجیدگی ہمیں بتاتی ہے کہ عوام نہ تو تماشبین ہوتے ہیں اور نہ ہر فرد سیاست کا کھلاڑی ہو سکتا ہے، سیاست تدبر غور و فکر اور مستقل سنجیدگی کا وہ عمل ہے جس کا غلط استعمال آپ کو شطرنج کے کھیل کی طرح مات سے دوچار کر سکتا ہے، شہرت اور رعایت کے بل بوتے پر سیاست میں بہت دیر تک چلنا نہ صرف محال بلکہ نا ممکن ہو جاتا ہے، جبکہ عمران خان ایسی خود پسند سیاست کرنے والوں کی نسل بعد میں ہٹلر کی پوتی کی طرح یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ ”یہ میرا قصور نہ تھا کہ میرا دادا ایک سفاک اور دنیا میں نفرت زدہ شخص تھا، البتہ میں اپنے شعور کی بنا پر ہٹلر کو اپنا دادا کہنے پر آج شرمندہ ہوں“ ۔

سیاست کے تجزیہ کاروں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ہٹلر نما فاشسٹ سوچ کے رہنما عمران خان کا اقتدار سے محروم ہونے کے بعد خود پسندی کی مقدار بڑھتے بڑھتے نرگسیت کے خوفناک مرض کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ عدلیہ، الیکشن کمیشن، نیب اور دیگر ادارے اگر آئین و قانون کے مطابق چل رہے ہیں اور مذکورہ ادارے عمران خان کی خواہشات کو بروئے کار نہیں لا رہے تو وہ ہر اس ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی سے گریز نہیں کرتے جو ان کے مفادات کی نگہبانی یا مدد نہ کر رہا ہو،

ہر دوسرے لمحے وہ طاقتور اداروں یا سیاست میں فوج کو کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں، جو ان کی ذہنی افراتفری اور خود پسند سوچ کا واضح مظہر ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک ضدی بالک کی طرح اقتدار کے ایوانوں تک کی رسائی کے راستوں کی گنجائش پیدا کرنے کے لئے ہر وہ خود پسندانہ قدم اٹھانے کو تیار ہیں جو انہیں ایوان اقتدار تک لے جائے۔

عمران خان کی اس خود پسند پالیسی کا منطقی نتیجہ عوام اور ان کے کارکنان میں ان کی غیر سنجیدہ حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے

عمران خان آج کی سیاست میں اپنی خود پسندانہ سیاسی چالاکیوں اور گھاگ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کے چنگل میں آ کر خود کو شیر کی کھال کے وہ کمانڈر ثابت کر رہے ہیں جو کسی بھی شکست کے لمحے گیدڑوں کے ساتھ جا کر ان میں پناہ لے سکتا ہے۔

ہمارے ملک میں عمران خان کی سیاست سے در گزر اور گفتگو کے مقابلے میں جو گالم گلوچ اور عقیدہ پرستی کا جنون پیدا ہوا ہے وہ کسی طرح بھی طرح ملکی سیاست کے لئے نیک شگون نہیں، عمران خان کے خود پسند، اشتعال پسند جذباتی بیانیے کے مقابلے میں دوسری جانب سے سیاسی یا اداراتی خاموشی کو بزدلی یا بیانئے کا متبادل نہ دینے کا عمل ہرگز قرار نہ دیا جائے کیونکہ دنبے کے گوشت کو چٹخاروں کے ساتھ کھایا تو جا سکتا ہے مگر اس کی ”خاموش“ رہنے والی صفت سے پیٹ میں آنے والے بھونچال سے نمٹنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، پھر ایسے کھیل میں فلم سائلنس آف دی لیمبز اپنی آخری فتح ایف بی آئی کی ٹرینر جوڈی فوسٹر کے نام کرتی ہے کہ جس کے سامنے شہرت کا مارا جھوٹا اور سفاک انتھونی ہاپکنز بے سدھ و لاچار پڑا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza