کیا عدالتوں سے رجوع صرف احمدیوں کا فرض ہے؟
خاکسار نے گزشتہ کالم میں مکرمی مجیب الرحمن شامی صاحب کے تین پروگراموں کا ذکر کیا تھا جن میں احمدیوں کی شکایات اور ان کے خلاف علماء کی شکایات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس دوران محترمی شامی صاحب اور ان علماء کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جو کہ اس وقت احمدیوں کے خلاف سرگرم ہیں۔ شامی صاحب نے ایک بہت عمدہ بات فرمائی کہ استدلال اور دلائل کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہیے۔ اسی ارشاد کے مطابق خاکسار اس موضوع پر یہ دوسرا کالم لکھ رہا ہے۔ تاکہ یہ مکالمہ مثبت طریق پر آگے بڑھ سکے۔ اس عمل سے ہم سب ایک دوسرے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کریں گے۔
تیسرے پروگرام میں شامی صاحب نے فرمایا کہ اگر قادیانی دوستوں کو کوئی شکایت ہے تو وہ عدالت میں جائیں۔ اور سپریم کورٹ کو چاہیے کہ ان کی مذہبی آزادی کی حدود و قیود طے کی جائیں۔ اور یہ بات ایک سے زائد مرتبہ دہرائی گئی۔ اور تمام گفتگو سے ظاہر تھا کہ اس رائے کا اظہار ان علماء کی طرف سے بھی ہوا تھا جنہوں نے شامی صاحب سے روزنامہ پاکستان کے دفتر میں ملاقات کی تھی۔
اس مرحلہ پر کچھ عرض کرنے سے قبل میں آئین پاکستان کی ایک بنیادی شق پیش کرنا چاہتا ہوں جس کی روشنی میں ہمیں اس تجزیہ کو آگے بڑھانا پڑے گا۔ آئین پاکستان کی شق 25 میں یہ ضمانت دی گئی ہے ’تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔ ‘ اس سے ایک ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر جس کلیہ کا اطلاق ایک گروہ پر ہو گا اسی کلیہ کا اطلاق دوسرے گروہ پر بھی کرنا پڑے گا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر احمدیوں کو کوئی شکایت ہے تو وہ عدالت میں جائیں۔ تو پھر ہمیں یہ اصول بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر احمدیوں کے مخالف علماء حضرات کو کوئی شکایت ہے تو ان کا بھی فرض ہے کہ وہ عدالت میں جائیں۔ یہ حق تو کسی کو نہیں ملنا چاہیے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے۔
یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ احمدیوں کی مذہبی آزادی کی حدود و قیود کا تعین کرے۔ اس پر میں ایک سوال اٹھاتا ہوں کہ کیا یہ مطالبہ جائز نہیں ہو گا کہ سپریم کورٹ ان علماء کی حدود و قیود کا تعین کرے۔ کیونکہ جو کلیہ ایک گروہ کے لئے روا رکھا جائے گا وہی کلیہ دوسرے گروہ کے لئے بھی تسلیم کرنا ہو گا۔ اب میں معین مثالوں کا ذکر کرتا ہوں۔
گزشتہ چند سالوں میں سینکڑوں احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ کسی کا کتبہ توڑا گیا۔ کسی کی قبر مسخ کی گئی۔ کسی کے کتبہ پر سیاہی ملی گئی۔ گزشتہ کالموں میں ان واقعات کی تفصیلات درج کر دی گئی ہیں۔ کئی مقامات پر تحریک لبیک کے سرکردہ افراد نے لوگوں کو بھڑکا کر قبروں کی بے حرمتی کروائی۔ اور کئی مقامات پر ان کے دباؤ کے بعد خود پولیس کے اہلکاروں نے یہ نام نہاد کارنامہ سر انجام دیا۔ اسی سال 24 جنوری کو ڈسکہ پولیس سٹیشن کی حدود میں دو مقامات پر پولیس نے خود قانون شکنی کر کے احمدیوں کی نوے قبروں کے کتبوں کو منہدم کر دیا۔
اسی ماہ میں مخالفین کوٹلی آزاد کشمیر میں دس احمدیوں کی قبروں کے کتبوں کو توڑ کر ان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ جون کے مہینے میں بستی سخرانی بہاولپور میں احمدیوں کے مخالف مذہبی پیشوا پولیس کے ساتھ آئے اور پولیس نے سترہ کتبوں کو توڑا۔ میں یہ سوال پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ان علماء کو یا پولیس کو احمدیوں کی قبروں سے یا ان کے کتبوں سے یا ان قبروں میں منوں مٹی تلے سونے والے مرحومین سے کوئی شکایت تھی تو انہوں نے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ سپریم کورٹ سے رہنمائی کیوں نہیں لی؟ تاکہ عدالت عالیہ ان کی رہنمائی کرتی کہ قبرستان میں دخل اندازی کی حدود و قیود کیا ہیں؟ انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟ قانون اور آئین صرف احمدیوں کے لئے نہیں بنائے گئے تھے۔ ان کا اطلاق دوسرے شہریوں پر بھی ہوتا ہے۔ میری درخواست ہے کہ تعزیرات پاکستان کی شق 297 ملاحظہ فرما لیں۔ اس کی رو سے جو بھی کسی کی توہین کرنے یا مذہبی جذبات مجروح کرنے کے لئے کسی قبرستان یا عبادت گاہ کی حدود سے تجاوز بھی کرے گا تو اسے ایک سال قید یا جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
خاکسار متعدد کالموں میں یہ تفصیلات پیش کر چکا ہے کہ کئی مرتبہ احمدیوں کی عبادت گاہوں کے مینارے منہدم کرنے کے لئے ہنگامے کیے گئے اور حملہ کر کے ان عبادت گاہوں کے مینارے توڑے گئے یا پولیس نے ہلہ بول کر میناروں کی توڑ پھوڑ کی۔ اس پر بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان سب کو ان میناروں پر اتنا ہی اعتراض تھا تو قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟ عدالتوں سے کیوں رجوع نہیں کیا؟
جب ایسے واقعات بار بار ہوئے تو ایک ایسا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوا۔ میں حوالہ پیش کر دیتا ہوں۔ یہ مقدمہ عمران حمید وغیرہ بنام سرکار تھا اور اس کی تاریخ 10 اپریل 2023 کی ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ دیا :
آغاز میں مساجد کے مینار نہیں ہوا کرتے تھے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺکے زمانے میں نماز کے لئے اذان مسجد کے قریب سب سے اونچی چھت سے دی جاتی تھی۔ میناروں کی ابتدا سے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کچھ علما کا خیال ہے کہ شروع کے مسلمانوں نے عبادت کے لئے لوگوں کو بلانے کے لئے یونانیوں کے پہرے والے میناروں کو استعمال کیا، جنہیں مسلمان اپنے اس مقصد کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے الگ سے اپنے لئے اس قسم کی تعمیرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
دیگر علما یقین رکھتے ہیں کہ یہ مینار دراصل سلطنت بابل کے زیگورات میناروں سے متاثر ہو کر بنائے گئے۔ مجھے اس کارروائی میں یہ طے کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کیا دفعات 298۔ Bاور 298۔ Cت پ قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہیں مسجد کی طرز پر بنانے سے روکتی ہیں یا اسے جرم قرار دیتی ہیں یا نہیں؟ تاہم میری رائے میں یہ دفعات اس بات کا اختیار نہیں دیتیں کہ آرڈیننس، 1984، XXجس کے ذریعے یہ دفعات وجود میں آئیں تھیں، کے نفاذ سے پہلے کی عمارات بھی منہدم کی جائیں یا ان میں کوئی تبدیلی کی جائے۔
عدالت سے یہ واضح فیصلہ تو آ گیا لیکن کیا اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ اس سال کے دوران بھی دستگیر کراچی، جاہمان لاہور، کوٹلی آزاد کشمیر اور راولپنڈی کے علاقوں میں پولیس اور شدت پسندوں نے حملے کر کے احمدیوں کی عبادت گاہوں کے مینارے منہدم کیے ہیں۔ اور اب تک ایسے مینارے بھی منہدم کیے جا رہے ہیں جو کہ 1984 سے قبل کے بنے ہوئے تھے۔
اس پس منظر میں احمدیوں کو بار بار یہ مشورہ دینے کی بجائے کہ اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، احمدیوں کی مخالفت میں بار بار ہنگامے برپا کرنے والوں کو یہ نصیحت کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو اس طرح قانون شکنی کرنے کی بجائے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔
اگر احمدی عدالت سے رجوع کر لیں اور عدالت اس بارے میں کوئی فیصلہ سنا بھی دے تو نہ شورش پسند ان فیصلوں کی کوئی پرواہ کرتے ہیں اور نہ پولیس ان احکامات کی کوئی پرواہ کرتی ہے۔ اور شدت پسند ہنگامہ کر کے پولیس کو دباؤ میں لے آتے ہیں۔ اور احمدیوں کا مخالف طبقہ علی الاعلان اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے ایک احمدی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلہ آنے کی دیر تھی کہ ایک مخصوص حلقہ میں طوفان برپا ہو گیا۔ میں تمام تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔ فضل الرحمن صاحب نے فوری طور پر ایک ویڈیو میں اس پر جو بیان جاری کیا اس کے صرف چند جملے ملاحظہ فرمائیں۔ انہوں نے چیف جسٹس صاحب کا نام لے کر کہا:
”ان کا یہ فیصلہ شریعت آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ اس سے متصادم ہے۔ اور ہم اس فیصلہ کو علی الاعلان مسترد کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ مغرب کی خواہشات کے تابع صادر کیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم کے جو حوالے اس میں پیش کیے گئے ہیں وہ غلط بھی ہیں بد دیانتی پر بھی مبنی ہیں۔ لہذا ٰ سب سے پہلے جمعیت علماء اسلام پورے ملک کے طول و عرض میں ائمہ و خطباء سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جمعہ کے روز اپنے خطبوں میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف آواز بلند کریں۔ شدید الفاظ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی مذمت بھی کریں اسے مسترد بھی کریں۔‘‘
اس پروگرام سے قبل تو محترم و مکرم شامی صاحب نے اسی طبقہ کے علماء کے وفد سے تفصیلی ملاقات کی تھی۔ مودبانہ سوال ہے کیا انہوں نے ان علماء کو بھی سمجھایا تھا کہ جب عدالت کوئی ایسا فیصلہ سنائے جو آپ کی مرضی سے ذرا ہٹ کر ہو تو اسے قبول کر لیا کریں۔ اگر اس کے بارے میں کوئی شکایت ہے تو عدالتوں کے دروازہ کھٹکھٹائیں۔ اس طرح پاکستان کے شہریوں کی قبروں کی بے حرمتی نہ کریں۔ کسی کی عبادت گاہ پر حملے اور فائرنگ نہ کریں۔
اور نہ اس طرح سپریم کورٹ کے ججوں کو اس قسم کے القابات سے نوازیں۔ اگر ہر فیصلہ ڈنڈے کے زور پر اور گالی گلوچ سے کرنا ہے تو پھر آئین، قانون اور عدالتوں کا فائدہ ہی کیا ہے؟ ان پروگراموں میں پانچ منٹ کے دوران بار بار یہ دہرایا جاتا تھا کہ احمدی تو اقلیت ہیں۔ اگر آپ انہیں اقلیت ہی سمجھتے ہیں تو ان کی مذہبی آزادی کی حدود و قیود سمجھنے کے لئے آئین کی تمہید ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں لکھا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہو گا جس میں ’قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔ ‘



جناب اتنی تمہید کیوں آپ قلم کی بجائے خود کیوں نہیں عدالت چلے جاتے اور ان تمام لوگوں کے خلاف عدالت سے کہکر ایف آئی آر درج کرواتے جو اقلیتوں کی عبادت گاہوں یا ان کے قبرستانوں میں حملوں میں ملوث ہیں۔ حوصلہ کریں آگے بڑھیں۔
بھلا
یہ خدمت انجام دینے والے مولوی حضرات تو مادر پدر آزاد ہوئے، وہ عدالت کیوں جائیں گے۔