خلیل جبران: محبّت کے افسانے
کچھ ادیب ایسے ہوتے ہیں جو نیند، غذا اور سانس کی طرح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے آپ کا بچپن، اوائل عمری اور جوانی گزرتی ہے۔ آپ ان کی لکھی ہوئی کتابیں بار بار پڑھتے ہیں۔ ان کے لفظوں سے آپ کی مڈبھیڑ قدم قدم پر ہوتی ہے۔ المختصر، ایسے ادیب آپ کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن جاتے ہیں۔ میری زندگی میں ایسے ہی ایک ادیب ”خلیل جبران“ ہیں۔
میں جب اپنی مختصر اور غیر نمایاں گزشتہ زندگی کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے وہ مختلف ادوار میں بٹی نظر آتی ہے۔ ہر دور کو خلیل جبران کی کسی نہ کسی کتاب سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اسکول کا زمانہ: خلیل جبران کی پاکٹ سائز کی کتاب ”ابن آدم۔“ میٹرک کا دور: ”خلیل جبران کی سوانح عمری۔“ کالج کا پہلا سال: ”النبی۔“ کالج کا دوسرا سال: ”ٹوٹے ہوئے پر۔“ یونیورسٹی اور ہوسٹل کے دن اور پنجاب یونیورسٹی کے سالانہ کتاب میلے کی یادگار: ”محبت کے خطوط۔“ ایک آپریشن کے بعد بستر سے لگے بحالی کے ایام: ”محبت کی نظمیں۔“ جاب کے بعد پہلے فلیٹ میں قیام: ”دیوانہ۔“ دوسرا فلیٹ اور پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کا سال: ”محبت کے افسانے۔“
ابھی جانے زندگی کی کتنی بہاریں دیکھنا نصیب ہوں گی۔ ان پر خلیل جبران کی کس کس کتاب کا پیش لفظ لکھا ہو گا۔ سانسوں کے ساتھ ساتھ خلیل جبران کی کہانیوں، نظموں، اقوال اور تصویروں کا قافلہ رواں دواں رہے گے۔ مرنے کے بعد یہ جلوس آخری سفر میں میرے جسد کو کندھا دے گا۔ اور مجھے لحد میں اتار کر تا ابد اس پر شبنم افشانی کرے گا۔
ذیل میں خلیل جبران کی ایک کتاب ”محبت کے افسانے“ سے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے :
جب میں نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے تو الفاظ نا جانے کہاں کھو گئے۔ جب میں محبت سے آشنا ہوا تو الفاظ مدھم سانسوں میں تحلیل ہو گئے۔ محبت نے مجھے اپنے لبادے میں چھپا لیا ہے۔ میں طریق محبت کا متلاشی ہوں۔ کون ہے جو مجھے میری ذات کا عرفان بخشے؟
تمہیں محبت کا واسطہ، بتاؤ تو سہی۔ وہ شعلہ سا کیا ہے جو میرے خرمن دل کو جلائے دے رہا ہے؟ محبت نفس کو اپنے مقدس ہاتھوں سے چھوتی ہے۔ سماعت میں اپنی آواز کا رس گھولتی ہے اور رگ و پے میں نفوذ کر جاتی ہے۔
یہ کس کے پر ہیں جو رات کو میرے بستر کے گرد پھڑپھڑاتے ہیں؟ اور میں جاگ اٹھتا ہوں۔ انتظار کرتے ہوئے اس شے کا جسے میں نہیں جانتا۔ میری آہ و کراہ قہقہوں کی بازگشت سے زیادہ مسرور کن ہے۔ میں ایک انجانی قوت کے آگے سرنگوں ہو گیا ہوں۔
محبت ہمیں حضرت آدم سے ورثے میں ملی ہے۔ محبت بادہ کوثر ہے۔ محبت ایک الوہی معرفت ہے۔ محبت کہرے کا ایک غلاف ہے محبت ہماری ذات سے پھوٹتی ایک کرن ہے اس روشنی میں کائنات ایک شاندار جلوس کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ زندگی ایک حسین خواب دکھائی دیتی ہے۔ محبت سوز و اضطراب کا دوسرا نام ہے۔
محبت کی گھڑیاں سامنے سے پرچھائیوں کی طرح گزر گئیں۔ جب میں نے تمہیں دیکھا تو اپنی تخلیق کی غایت کو پا لیا۔ جب میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے لگا کہ زندگی جنت ہے۔ اور دل اس کا دروازہ۔
اے موت، مجھے زندگی سے آزاد کر۔ میں ابدیت میں تمہارا انتظار کروں گا۔ میں نے تمہیں خوابوں میں دیکھا ہے۔ تنہائی میں تم سے باتیں کی ہیں۔ تم میری ذات کا نصف حصہ ہو۔ جسے دنیا میں آنے سے پہلے جدا کر لیا گیا تھا۔ کاش، تم اپنی ضیاء پاش نظروں سے مجھے دیکھتیں۔ اپنی آنکھوں سے مجھے حیات نو عطا کرتیں۔ تمہارا عشق کبھی نہ بچھڑنے والا رفیق ہے۔ تمہاری یاد کبھی نہ ختم ہونے والا جشن ہے۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے تم میرے سامنے بیٹھی ہوئی ہو۔ خاموش، پلکیں جھکائے۔ اتنے قریب کہ تمہاری دھڑکنیں میرے دل میں اترتی جاتی ہیں۔ ہمارے درمیاں خاموشی نغمہ سرا ہے۔ اس نغمے میں ہماری داستاں بسی ہوئی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ خاموشی محبت کا بہترین اظہار ہے؟
میں دنیا سے روانہ ہونے سے قبل ایک ”لفظ“ کہنا چاہتا ہوں۔ صرف ایک لفظ۔ وہ لفظ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے۔ ضمیر صدف میں گوہر کی طرح۔ ایک دن آئے گا میں اسے ضرور ادا کروں گا۔ اس وقت تک یہ لفظ میرے سینے میں بند رہے گا۔ ضمیر شب میں شعاع سحر کی طرح۔
جب میری روح جدائی کے عذاب سے بیقرار ہو کر تڑپتی ہے۔ تو تمہاری محبت آگے بڑھ کر تسکین کا پھاہا رکھ دیتی ہے۔ حیا نے تمہارے حسن و دلکشی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ہم نہایت تیز رفتاری سے ”روحانی ارتقا“ کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ ارتقا جمال کائنات کا ادراک ہے۔ جو ہمیں اپنے دل کے جذبات سے حاصل ہوتا ہے۔
ان غمناک نگاہوں کے پیچھے ابدی المیہ کا ایک باب پوشیدہ ہے۔ وہ المیہ جو شب و روز دنیا کے اسٹیج پر کھیلا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ اس کی درد آفرینیوں کو دیکھنے کی تاب لاتے ہیں۔ آؤ، میرے ساتھ آؤ کہ ہم بہار کے نقش قدم پر چلیں۔ میرے اتنے قریب آؤ کہ سردی کا لمس ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ آتش دان کے سامنے میرے پہلو میں بیٹھ جاؤ۔ آؤ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں۔ اس سے پہلے کہ یہ بند ہو جائیں۔ میری طرف دیکھو کہ میں تمہاری آنکھوں میں چھپے بھید دیکھ لوں۔ تمہارے خد و خال سے تمہاری روح کے راز سمجھ لوں۔
میں تمہیں محبت کی قسم دیتی ہوں جس نے ہماری روحوں کو چھو کر ایک شعاع بنا دیا ہے۔ میں تمہیں دل کی راحت اور دل کے درد کی قسم دیتی ہوں۔ اس سے پہلے کہ تاریکی مجھے اپنی لپیٹ میں لے لے۔ میں بید کے درختوں میں تمہارا انتظار کروں گی۔ میں تمہیں اور صرف تمہیں چاہتی ہوں۔ میرا محبوب تمہارے سوا کوئی نہیں ہے۔ آؤ کہ میں تمہیں اپنی آغوش میں جذب کر لوں۔ رسم و رواج کی جکڑ بندیوں نے میرے پاؤں کو زنجیر بنا دیا۔ آؤ رات کی تاریکیوں میں چھپ کر بھاگ چلیں۔ تم میرے دل کی فریاد سن رہے ہو؟
یہ لمحے ہیرے کے ٹکڑوں سے زیادہ قیمتی اور شاہی تاج سے زیادہ گراں بہا ہیں۔ محبت مشکلوں کو آسان اور تاریکیوں کو روشن کر دیتی ہے۔ محبت خدا کی طرف سے دلوں پر نازل ہوتی ہے۔
میرے پاس سے دور ہو جاؤ میں تمہیں بھلا چکا ہوں۔ میں تمہیں بھلا چکا ہوں اور تم سے نفرت کرتا ہوں۔ لوگوں نے جھوٹ نہیں بولا کہ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں۔
نہیں مجھے تمہاری باتوں پر یقین نہیں۔ تم مجھ سے اور صرف مجھ سے محبت کرتے ہو۔ میں نے تمہاری آنکھوں میں محبت کے معنی پائے ہیں۔ میرے پاس آؤ مجھے کبھی نہ چھوڑو۔
میں تم سے نفرت کرتا ہوں نفرت۔
کون ہے جو میرے بعد تمہاری محبت سے آسودہ ہو؟ میرے دل کے سوا کون ہے جو تمہارے بوسوں سے کیف و سرور حاصل کرے؟
آہ زندگی موت سے زیادہ کمزور ہے۔ موت محبت سے زیادہ کمزور ہے۔ میری آنکھیں ان ہاتھوں کو بوسہ دیتی ہیں جنہوں نے میری ساری قیدیں توڑ دیں۔ میرے ہونٹوں کو بوسہ دو جنہوں نے جھوٹ بولا اور دل کی بات چھپائی۔ میری آنکھوں کو اپنی خون میں لتھڑی انگلیوں سے بند کر دو۔ یہ خنجر میرے پہلو میں رکھ دینا اور کہنا۔ اس نے نا امیدی میں اپنی جان لے لی۔
لوگو قریب آؤ۔ اس خنجر سے نہ ڈرو۔ یہ ایک مقدس ہتھیار ہے۔ میرے محبوب کی طرف دیکھو۔ اسے میں نے ہی قتل کیا ہے۔ ہمیں کوئی سیج ایسی نہ ملی جو ہماری ہم آغوشی کے قابل ہوتی۔ اس لیے ہم نے یہی بہتر سمجھا بادلوں سے پرے دوسرے عالم میں چلے جائیں۔ ہمارے دلوں سے الوہیت کے شیریں نغمے پھوٹ رہے ہیں۔ میرے محبوب دیکھو اب میں تمہاری ہوں۔ بہت دن ہم تاریکیوں میں افسردہ رہے۔ اب میں نے ساری قیدیں توڑ دی ہیں۔ ہر چیز میری نگاہوں سے چھپ گئی ہے۔ اب مجھے تمہارے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔ میری آخری سانس قبول کرو۔ آؤ چلیں محبت کا فرشتہ پر تول چکا ہے اور حلقہ نور کے گرد منڈلا رہا ہے۔
اس وقت وہ یکہ و تنہا مکان میں اپنی میز پر بیٹھا تھا۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ کبھی وہ کھڑکی سے منہ نکال کر آسمان پر ستاروں کو دیکھنے لگتا۔ کبھی اپنے ہاتھوں میں پکڑی ایک دوشیزہ کی تصویر پر نظریں جما لیتا۔ تصویر کے رنگ اس کے قلب و نظر میں پوری طرح منعکس ہو گئے۔ تصویر اس سے ہم کلام ہونے لگی وہ ہمہ تن گوش اس کی باتیں سننے لگا۔ اس خوبصورت خواب کا ایک لمحہ ابدیت میں گزارے ایک سال جیسا تھا۔ اس نے تصویر کو سامنے رکھا اور اپنے جذبات لکھنے لگا۔
عظیم سچائی جو کار گہ فطرت میں کار فرما ہے۔ محبت کرنے والی روحوں سے ہم کلام ہونے کے لیے سکوت و خامشی سے کام لیتی ہے۔ ہمارے دلوں کے درمیان رات کی خاموشی پیام رسانی کا بہترین ذریعہ ہے۔ محبت نے ہمیں الفاظ و تکلم کی پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے میں صدیوں سے تمہیں جانتا ہوں۔ ہماری دھڑکنیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو گئی ہیں۔ اب تک میں تمہیں دوسرا سمجھ کر کلام کرتا رہا۔ حالانکہ تم میرے وجود کا ایک حصہ ہو۔ آج تک میں اس راز کو نہ سمجھ سکا۔
اس کے چہرے پر سوسن اور گلاب کی سی تازگی تھی۔ بالوں میں ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں کی جھلملاہٹ تھی۔ اور ہونٹوں پر طلوع سحر کی مسکراہٹ۔ میں نے اس کی سانسوں اور زیر لب لفظوں کو سنا۔ اپنی قوت سماعت کے ذریعے اس کے دل کا مشاہدہ کر لیا۔
موسیقی روحوں کی زبان ہے جو دل کے تاروں میں محبت کا ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ موسیقی کی نازک انگلیاں جذبات کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ اور ماضی کے پردوں میں چھپی یادوں کو تازہ کر دیتی ہیں۔ موسیقی کی اپنی زبان ہے جو دوسری زبانوں سے مختلف ہے۔
ہماری روحیں پھولوں کی طرح ہیں جن کا وجود تقدیر کی ہواؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ پرندوں کے نغمے انسان کو نیند سے بیدار کرتے ہیں۔ اور ابدی عقل کی تسبیح میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ پرندے کس کو آوازیں دیتے ہیں؟ حقیقت کل ایک پر اسرار زبان میں ہم کلام ہوتی ہے۔
مجھے نیند اور بیداری کے خوابوں میں ایک پرچھائی نظر آنے لگی۔ میں اسے رات کی تاریکی میں بستر کے قریب کھڑے دیکھتا۔ خاموشی میں اس کی آواز سنتا اپنی پیشانی پر اس کی انگلیوں کو محسوس کرتا۔ کیا میں نے اپنے تصور میں ایک خوبصورت دوشیزہ تخلیق کی ہے۔
ہم جنگل میں ساتھ پہنچتے اور بلند چٹانوں پر پہلو بہ پہلو بیٹھ جاتے۔ وہ غروب آفتاب کی سنہری شعاعوں کی طرف اشارہ کرتی۔ اس کے آنے سے بے قراری سکون میں بدل جاتی۔ اس کے دیدار سے طوفان تھم جاتا۔ اس کی نگاہوں سے نوری شعاعیں پھوٹتی۔ زندگی چشم بصیرت کے سامنے مسرت کی جلوہ گاہ بن جاتی۔ وہ نور سمندر کی سطح پر تیرتا چاندنی میں گنگناتا۔ کسی کان نے اسے نہیں سنا کسی آنکھ نے اسے نہیں دیکھا۔ جہاں میں جاتا وہ میرے ساتھ جاتی۔
اے خدا، اے محبت زندگی اور موت کے مالک۔ تو ہی ہے جس نے ہماری روحوں کو پیدا کیا۔ تو نے ہی دلوں کو دھڑکنا سکھایا۔ تو نے ہی میرے محبوب کو مجھ سے ملایا۔ جنگل میں سفید چنبیلی کے پھول کو کھلایا۔ تاکہ میں اس پھول کو مرجھاتا ہوا دیکھوں۔ ہم انسان۔ اطاعت اور فرماں برداری کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم خوش ہوتے ہیں تو خوشی ہمارے دل میں نہیں نفس حیات میں ہوتی ہے۔ درد ہمارے زخموں سے نہیں قلب فطرت سے پھوٹتا ہے۔
محبت کی پہلی نظر ”کن“ کی مانند ہے۔ جمال وہ ہے جسے دیکھ کر تو اسے دینا چاہے لینا نہ چاہے۔ محبت زندگی کے منتشر اجزا کو اکٹھا کرتی ہے۔ دل اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ مقدس رازوں کو سپرد قلم کرے۔ آنسوؤں کے ذریعے ہی یہ راز افشا کیے جا سکتے ہیں۔
عورت کا دل ایک پرندے کی مانند ہے جو محبت کے آسمان میں پرواز کرتا ہے۔ عورت کا دل ایک صحیفے کی مانند ہے جس کے اوراق شادمانی اور درد کے ابواب سے بھرپور ہیں۔ اس صحیفے کو وہی پڑھ سکتا ہے جس کے دل کا ایک حصہ اس کے دل میں ہو۔ جو ازل سے اسی کے لیے وجود میں آیا ہو۔
تمہارے بعد حسن پھیکا نظر آتا ہے۔ صبح مرجھائی ہوئی لگتی ہے۔ تمہارے بعد ہر شے پر لرزش طاری ہے۔ شام افسردہ ہے۔ تمہارے بعد چاند کا چہرہ زرد اور رات اداسیوں کا مسکن ہے۔ پاک ہے، پاک ہے، پاک ہے وہ محبت جس کی عظمت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے۔


