یکم جولائی سے سکول کھولنا بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف


ان دنوں، سندھ اور پنجاب سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، متعدد شہروں میں ہیٹ ویو کا سلسلہ جاری ہے۔

بہاولپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، رحیم یار خان، سانگھڑ اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران بہاول پور کے کچھ نجی اسکولوں سے بچوں کی جدائی برداشت نہیں ہوئی اور انھوں نے چھٹیوں کے شیڈول کو روندتے ہوئے یکم جولائی سے سکول کھول دیے ہیں۔ یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ حالانکہ جس طرح گرمی کے تیور ہیں اس سے لگتا ہے کہ شاید مزید چھٹیاں کرنی پڑیں لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ شدید گرمی اور حبس میں یہ سکول محض، اپنے چند کاروباری مقاصد اور نئے داخلوں کے شکار کی غرض سے کھول دیے گئے ہیں۔

یہ سرکاری اسکولوں اور نجی اسکولوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس ملک کے بچوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔ ہمارا وتیرہ رہا ہے کہ جب کوئی بڑا حادثہ ہو جاتا ہے تو ہم اس کے بعد اقدمات کرتے ہیں اور اپنی نالائقی پر یہ کہہ کر مٹی ڈال دیتے ہیں کہ ”بس اسی کی مرضی“ حالانکہ وہ نالائقی سراسر ہماری مس منیجمنٹ ہوتی ہے۔ میری سکریٹری ایجوکیشن پنجاب اسکول ڈیپارٹمنٹ سے عرض ہے کہ جنوبی پنجاب میں اس وقت درجہ حرارت تقریباً 45 درجے سے اوپر ہے لیکن بدقسمتی سے اس شدید ترین موسم میں، انتہائی غیر ذمہ داری سے چند سکولوں نے یکم جولائی سے سکول کھولنے کی تیاری شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

استدعا ہے کہ براہ کرم ان اداروں کو پابند کیا جائے کہ یہ 15۔ اگست 2024 ءتک اس مہم جوئی سے باز رہیں اور بچوں کو متحرک نہ کریں۔ اس سے شدید گرمی میں کوئی بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS