کائنات : 11 کیا فنا ناگزیر ہے؟
کیا ہمارا مرنا ضروری ہے؟ کیا دریائے زمانہ میں تیرنے والے ایسے وجود بھی ہیں جو کائنات میں حیاتِ جاوید رکھتے ہیں۔
ہمارے آبا و اجداد وقت کو چاند اور ستاروں کی مدد سے یاد رکھتے تھے۔ لیکن یہاں پانچ ہزار سال پہلے وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے پہلے وقت کو گھنٹوں اور منٹ کے چھوٹے حصوں میں بانٹ دیا۔ وہ اس جگہ کو ”اوروک“ کہتے تھے۔ ہم اسے عراق کہتے ہیں۔ یہ بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کا ایک حصہ ہے جو دجلہ اور فرات دریاؤں کا درمیانی علاقہ ہے۔ یہاں شہر ایجاد ہوا۔ وقت کے خلاف ایک عظیم جنگ میں فتح یہیں حاصل کی گئی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم نے لکھنا سیکھا۔ اب ہمیں موت خاموش نہیں کر سکتی تھی۔ تحریر نے ہمیں وہ طاقت عطا کی کہ ہم ہزار سال دور جا سکتے تھے اور زندہ انسانوں کے دماغ میں بول سکتے تھے۔
تاریخ کے پہلے شہنشاہ کی بیٹی اور چاند کے دیوتا ”نانا“ کی پجارن ایکاڈین شہزادی ”این ہیڈوآنا“ سے زیادہ دریائے زمانہ کے طویل حصے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ کیونکہ اس نے نہ صرف شاعری لکھی بلکہ اس نے کچھ ایسا کیا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے کام پر اپنے دستخط کیے۔ وہ پہلی شخصیت تھی جس کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کون تھی، اور اس نے کیا خواب دیکھا تھا۔ اس نے بابِ حیرت سے گزرنے کا خواب دیکھا۔ یہ ایک خیال ہے جو این ہیڈوآنا نے آپ کو چار ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے بھیجا تھا۔ یہ وسیع القلب خاتون ( لیڈی آف دی لارجسٹ ہارٹ) کے عنوان کی تصنیف میں سے ہے : ”انانا، سیارہ زہرہ، محبت کی دیوی، پوری کائنات میں اس کی عظیم کامیابی ہوگی۔“
اوروک ہی وہ جگہ ہے جہاں ”ہیرو کا سفر“ کی عظیم داستان پہلی بار لکھی گئی تھی۔ بیٹ مین سے پہلے، لیوک اسکائی واکر، اوڈیسیئس، ان سب سے پہلے ”گِل گامش“ نامی ایک شخص تھا جو وقت کو فتح کرنے کی جستجو میں گھر سے نکلا تھا۔ گل گامش لافانیت کی تلاش میں تھا۔ اس نے ہر جگہ تلاشا، مکمل حکمت حاصل کی، چھپی ہوئی چیزوں کو بے نقاب کیا۔ وہ عظیم سیلاب سے پہلے کے زمانے کی کہانی واپس لے کر آیا۔ اس نے اوروک کی دیوار تعمیر کی، جس کا مستقبل کا کوئی بادشاہ کبھی مقابلہ نہیں پایا۔
اس شخص کی کہانی پڑھیں۔ گل گامش، اوروک سے پیدا ہونے والا ہیرو، جو ہر طرح کے مصائب سے گزرا۔ جس نے بحرِاعظم کو عبور کیا، وسیع سمندروں کو، جہاں سے طلوع آفتاب ہوتا ہے ؛ جس نے ابدی زندگی کی تلاش میں دنیا کے کناروں تک کی دریافت کرلی۔ اپنے سفر کے دوران، گل گامش کا سامنا ”اتناپیشتم“ نامی ایک عقلمند آدمی سے ہوا، جس نے اسے ایک ایسے سیلاب کی کہانی سنائی جس نے دنیا کو تباہ کر دیا تھا۔ اور کس طرح دیوتاؤں میں سے ایک نے اتناپیشتم کو اپنے خاندان اور جانوروں کو بچانے کے لیے ایک کشتی بنانے کی ہدایت کی۔
سیلاب کے افسانے کا سب سے قدیم زندہ بچ جانے والا نسخہ بین النہرین (میسوپوٹیمیا) میں لکھا گیا تھا، اس سے ایک ہزار سال پہلے کہ اسے عہد نامہ قدیم میں نوح کی کہانی کے طور پر دوبارہ بیان کیا جائے۔ لہذا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ گل گامش نے لافانی ہونے کی اپنی جستجو کو پورا کیا۔ ہم اب بھی گل گامش کی داستان پڑھتے ہیں، اور ہر قاری کے ساتھ، وہ دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔ اور وہ تمام ہیرو اور سپر ہیروز جو اس کے بعد آئے، پہلے ہیرو کے سفر کے نقش قدم پر ہی چلتے ہیں۔ ایک دوسری قسم کی لافانیت۔ ہزاروں سالوں میں ایک تہذیب سے دوسری تہذیب کو بھیجی گئی کہانیاں۔ لیکن زندگی خود اپنی کہانیاں اربوں سالوں میں آگے بھیجتی ہے۔
یہ ایک ایسا پیغام ہے جسے ہم میں سے ہر ایک اپنے اندر لیے پھرتا ہے، ہمارے جسم کے تمام خلیوں میں اس زبان میں لکھا ہوا ہے جسے زمین کی تمام حیات پڑھ سکتی ہے۔ جینیاتی کوڈ صرف چار حروف پر مشتمل حروف تہجی میں لکھا جاتا ہے۔ ہر حرف ایٹموں سے بنا ایک مالیکیول ہے۔ ہر لفظ تین حروف پر مشتمل ہے۔ ہر جاندار ایک شاہکار ہے، جسے فطرت نے تصنیف کیا ہے اور ارتقاء کے ذریعے ترمیم شدہ ہے۔ زندگی کی پیچیدہ مشینری کو چلانے اور دوبارہ تیار کرنے کی ہدایات۔
زندگی کا ناگزیر پیغام تین ارب سال سے زیادہ عرصے سے نقل اور دوبارہ نقل کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ پیغام کہاں سے آتا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ شاید یہ اسی طرح ایک، سورج کی روشنی سے بھرے اتھلے تالاب میں شروع ہوا ہو گا۔ کسی نہ کسی طرح، کاربن سے بھرپور مالیکیولز نے اپنی خام نقول بنانے کے لیے توانائی کا استعمال شروع کیا ہو گا۔ کچھ قسمیں نقول بنانے میں بہتر تھیں، انہوں نے زیادہ اولاد چھوڑی۔ مقابلہ کرنے والے مالیکیول زیادہ وسیع ہو گئے۔ ارتقاء اور زندگی خود جاری تھی۔ یا گہرے سمندر کے فرش پر آتش فشانی اخراج کی شدید گرمی میں زندگی شروع ہو سکتی تھی۔ یا یہ ممکن ہے کہ زمین پر زندگی ایک مسافر کے طور پر آئی ہو؟
میں آپ کو کسی اور دنیا کے مسافر کے بارے میں ایک کہانی سناتا ہوں۔ اسکندریہ کے قریب مصری گاؤں ”نخلہ“ کا امن جون 1911 کی صبح اچانک اچاٹ ہو گیا۔ ایک شہابی ٹکڑا۔ اس شہابی ٹکڑے میں تحریر شدہ ایک اور سیارے کا پیغام تھا۔ لیکن ستر سال گزر جانے کے بعد اسے پڑھا جا سکا۔ 1976 میں ناسا نے دو وائکنگ خلائی جہاز مریخ پر اتارے۔ کارل سیگن نے ہمیں اس بارے میں بتایا : ”ہم نے جانا ہے کہ مریخ کی ہوا ہماری ہوا کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم کثیف تھی، اور زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بنی تھی۔ نائٹروجن، آرگن، پانی کے بخارات اور آکسیجن کی مقدار کم تھی۔“ کچھ سال بعد ، جب سائنس دانوں نے نخلہ پر گرنے والے شہابی ٹکڑے کے اندر پھنسی گیسوں اور اس کے طبقے کے دیگر ارکان کا تجزیہ کرنے کا سوچا، تو انہیں ایک حیرت انگیز مماثلت ملی کہ شہابیوں کی اکثریت شہابِ ثاقب کے ٹکڑے تھے۔ لیکن زمین پر نخلہ سے ٹکرانے والی قسم صرف ایک ہی جگہ سے آ سکتی تھی، مریخ۔
مریخ پر خوش آمدید۔ ایک ارب سال پہلے یہاں ایک آتش فشاں پھٹا اور اس کا لاوا ٹھنڈا ہو کر ٹھوس چٹان بن گیا۔ کروڑوں سال بعد یہ علاقہ پانی سے بھر گیا۔ اس سیلاب کے کافی عرصے بعد ، جبرالٹر کی چٹان کے حجم کے برابر کا ایک سیارچہ مریخ کی سطح سے ٹکرا گیا، جس سے ایک بہت بڑا گڑھا پیدا ہوا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا زیادہ تر ملبہ واپس خلا میں نکل گیا، جہاں وہ سورج کے گرد چکر لگانے لگا، یہاں تک کہ اس کے آبائی سیارے، مریخ سے کشش ثقل کی ایک ٹھوکر نے پتھروں میں سے ایک کو زمین کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔
اس ٹکراؤ نے نخلہ کے چھوٹے سے گاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ نخلہ سے ٹکرانے والی قسم کے شہاب ثاقب بین سیاراتی ترسیلی نظام کی گاڑیاں ہیں جو سیاروں کے درمیان چٹانوں کا تبادلہ کرتی ہیں۔ اس طرح کا شہاب ثاقب خوردبینی سامان، یعنی زندگی کے بیجوں کو محفوظ طریقے سے ایک بین سیاراتی کشتی میں پناہ دے سکتا ہے۔ زیادہ تر چٹانیں مسام دار ہوتی ہیں، چھوٹے چھوٹے کونوں اور سوراخوں سے بھری ہوتی ہیں، جہاں زندگی محفوظ رہ سکتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ کچھ جرثومے خلا کے سخت ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ جرثوموں نے ڈیڑھ سال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر انتہائی درجہ حرارت، خلا اور خلا کی تابکاری کے سامنے گزارے۔ اور ان میں سے کچھ اس وقت بھی زندہ تھے جب انہیں زمین پر واپس لایا گیا۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن مخلوقات ہیں، جو آٹھ ملین سال کی موت جیسی نیند سے بیدار ہوئی ہیں۔ وہ ہماری نوع کے وجود سے لاکھوں سال پہلے انٹارکٹک برف میں منجمد ہو گئی تھیں اور ابھی تک زندہ ہیں۔
اگر زندگی خلا کی مشکلات کو برداشت کر سکتی ہے اور ہزاروں سال تک برداشت کر سکتی ہے، تو یہ قدرتی بین السیاراتی ترسیلی نظام کو ایک دنیا سے دوسری دنیا تک بھی لے جا سکتی ہے۔ یہ سوچنے میں حرج نہیں کہ ہمارے جراثیمی آبا و اجداد نے خلا میں کچھ وقت گزارا ہو گا۔ ہم ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ زمین ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے۔ اپنی زندگی کے پہلے نصف تک، بڑے سیارچے ہر چند ملین سال بعد کرہ ارض پر بمباری کرتے تھے۔ یہ پرتشدد اثرات سمندروں کو بخارات میں تبدیل کر دیتے تھے اور یہاں تک کہ سطح کی چٹانوں کو بھی پگھلا دیتے تھے۔
اس طرح کے ہر تصادم کو ہزاروں سالوں سے سیارے کو مکمل طور پر جراثیموں سے پاک کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن ہم چٹانوں کے فوسلز سے جانتے ہیں کہ اس ابتدائی دور میں بھی بیکٹیریا زمین پر پنپتے رہے ہیں۔ تو زندگی اتنی مہلک ضربوں سے کیسے بچ سکتی تھی؟ جب بھی ان بڑے سیارچوں میں سے کوئی ایک زمین سے ٹکراتا تھا، دھماکہ سے ایک بڑا گڑھا پڑ جاتا تھا، جس سے لاکھوں پتھر خلا میں واپس اچھل جاتے تھے۔ ان میں سے بہت سی چٹانیں اپنے اندر زندہ بیکٹیریا لے جاتی تھیں۔
کچھ جرثومے خلا میں زندہ بچ جاتے ہوں گے، جبکہ زمین پر پیچھے رہ جانے والے تمام جرثومے جل کر راکھ ہو جاتے تھے۔ ہر ایسے ٹکراؤ کے چند ہزار سال بعد ، زمین اتنی ٹھنڈ ہو جاتی کہ پانی سمندروں میں بہنے لگتا۔ سیارہ پھر سے رہنے کے قابل ہو جاتا۔ دریں اثنا، خلا میں بھیجی جانے والی زیادہ تر چٹانیں سورج کے گرد چکر لگا رہی ہوتیں۔ ان میں سے کچھ دوبارہ زمین کا سامنا کریں گی، شہاب ثاقب کے طور پر فضا میں دوبارہ داخل ہوں گی، اور نوح کی کشتی کی طرح سیارے پر دوبارہ بیج ڈالنے کے لیے اپنی قیمتی زندگی کا سامان فراہم کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کو ہر تباہی کے بعد دوبارہ سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ وہیں سے اٹھ سکتی ہے جہاں سے اس نے چھوڑا تھا۔
جب نظام شمسی جوان تھا، زہرہ شاید زمین ہی کی طرح تھا، سمندروں اور شاید زندگی کے ساتھ۔ زہرہ، زمین اور مریخ، سبھی سیارچوں کے اثرات کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ چٹانوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔ کیا زمین پر زندگی ماضی بعید میں کیے گئے بین السیاراتی سفر کا کوئی نشان رکھتی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ کچھ جرثومے خلا کی شدید تابکاری اور خلا میں زندہ رہ سکتے ہیں؟ یہ حالات قدرتی طور پر زمین پر تو موجود نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ جرثومے ہمیں بتا رہے ہوں کہ ان کے آبا و اجداد چند ارب سال پہلے خلا میں انہی حالات سے بچ گئے تھے۔ لہذا ہم جانتے ہیں کہ جرثومے چٹانوں میں محفوظ رہ سکتے ہیں اور ایک سیارے سے دوسرے سیارے کے سفر میں بچ بھی سکتے ہیں۔
لیکن ستارے سے ستارے تک کے سفر کے بارے میں کیا خیال ہے، ایک بین الکائناتی سفر ( انٹرسٹیلر اوڈیسی) ؟ ککروندا ( ڈینڈیلین) ۔ تقریباً تیس ملین سال پہلے، اس نے زماں و مکاں میں زندگی کا اپنا پیغام بھیجنے کے لیے ایک الگ طریقہ اختیار کیا۔ ہر پودا ایک چھوٹا سا چھاتہ بردار ہوتا ہے، ہوا پر تیرتا ہے اور زمین پر محفوظ جگہ ڈھونڈنے اور وہاں اترنے کے لیے ہر چیز کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ہوا کا زور انہیں ہوا میں اونچا لے جا سکتا ہے۔
ایک ڈینڈیلین درجنوں، ممکنہ طور پر سینکڑوں کلومیٹر، یہاں تک کہ پورے پہاڑی سلسلوں کو عبور کر سکتا ہے۔ ارتقاء نے اسے ایک شاندار اڑن کھٹولے ( فلائنگ مشین) کی شکل دی ہے۔ بیج ایک اور قسم یا کشتی ہے، جو ماحول کے دھاروں پر بہتا ہوا محفوظ بندرگاہوں تک اپنی نسل کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔ ہر بیج اپنے ڈی این اے میں اگلے ڈینڈیلین کی ایک کہانی، کردار اور تقدیر رکھتا ہے، تاکہ وہ اپنی کہانی کو دوبارہ بیان کر کے پھیلاتا چلا جائے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ زندگی ستارے سے ستارے تک کے سفر میں بچ سکے؟ ستارے سیاروں کے مقابلے میں ایک دوسرے سے تقریباً دس لاکھ گنا دور ہیں۔ خلا اتنی وسیع ہے کہ زمین سے نکلنے والی چٹان کو دوسرے ستارے کے گرد چکر لگانے والے سیارے سے ٹکرانے میں اربوں سال لگیں گے۔ کوئی بھی فرار ہونے والا جرثومہ اتنے عرصے تک کائناتی تابکاری سے کبھی زندہ نہیں رہ پائے گا۔ لیکن اس بات کا ایک ممکنہ منظر نامہ ہے کہ زندگی ایک نظام شمسی سے دوسرے نظام میں کیسے پھیل سکتی ہے۔
ملکی وے کے ستارے اپنے مرکز کے گرد اپنے ہی بہت بڑے مداروں میں کشش ثقل کے ذریعے کھینچے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے سورج کو ایک ہی مدار کو مکمل کرنے میں تقریباً سوا دو سو ملین سال لگتے ہیں۔ کہکشاں کے گرد ہر چکر کے دوران، ہمارا نظام شمسی دو یا تین دیو ہیکل کائناتی (انٹرسٹیلر) بادلوں سے گزرتا ہے، جن میں سے ہر ایک کئی نوری سالوں پر محیط ہے۔ کہکشائیں دنیائیں بنانے والی مشینیں ہیں۔ ہماری ملکی وے میں یہ وسیع بادل ایک سو سے زیادہ ہیں، یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں گیس اور دھول گاڑھی ہو کر نئے ستاروں اور سیاروں کو جنم دیتی ہیں۔
ملکی وے میں سفر میں، ہمارا سورج نہ صرف اپنے سیاروں کے ساتھ ہے، بلکہ ایک ٹریلین دور دراز کے کومِنٹ بھی اس میں شامل ہیں۔ جب ہمارا نظام شمسی ایک کائناتی بادل میں سے گزرتا ہے، تو بڑے بادل کی کشش ثقل سب سے باہر کے کومِٹ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ کچھ کومِٹ ستاروں کی درمیانی جگہ میں ادھر ادھر بھٹک جاتے ہیں۔ دوسرے اندر کی طرف، سورج کی طرف گرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ سیاروں سے ٹکرا سکتے ہیں۔ چٹانی سیارے کے ساتھ کومِٹ کا تیز اور زبردست ٹکراؤ خلا میں راکٹ کی رفتار جیسے پتھر چھوڑے گا۔
اگر وہ سیارے آباد ہونے لائق ہیں تو ان میں سے بہت سی چٹانیں جرثوموں کو بحیثیت مسافر وہاں تک لے جائیں گی۔ ہزاروں سالوں بعد ، زمین سے نکلنے والی چٹانوں کے ٹکڑے کائناتی بادل میں نوزائیدہ سیاروں کے ماحول میں شہاب ثاقب کے طور پر گر سکتے ہیں۔ اگر فرار ہونے والے جرثومے مائع پانی کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں، تو وہ دوبارہ زندہ بھی ہوسکتے ہیں اور دوبارہ پیدا بھی کر سکتے ہیں۔ شاید اسی طرح زندگی بنجر جگہوں پر ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔
سورج کائناتی بادل سے نکلتا ہے، جس نے زندگی کے بیج دوسرے ستاروں کی نوزائیدہ دنیا میں بکھیر دیے ہیں۔ وہ نئی دنیائیں، جنہیں اب حیات چھو گئی ہے، پھر وہ اپنے پیدائشی بادل کو چھوڑ کر اپنے الگ الگ راستے پر چلی جائیں گی۔ آخر کار، ان کے ستارے انہیں دوسرے کائناتی بادل وہاں لے جائیں گے جہاں وہ مزید نئی دنیاؤں میں زندگی کی تخم ریزی کریں گے۔
تصور کریں کہ اس عمل کو ایک دنیا سے دوسری دنیا میں دہرایا جاتا ہے، ہر ایک دوسروں کے لیے زندگی لاتا ہے۔ اس طرح پوری کہکشاں میں ایک سست زنجیری عمل کے ذریعے زندگی پھلے پھولے گی۔ ہو سکتا ہے کہ زندگی اسی طرح حیات کرہ ارض پر آئی ہو۔ ہم یقینی طور پر نہیں جانتے۔
کیا وہاں پر ہمارے جیسے کوئی اور وجود ہیں؟
کیا وہ بھی یہی سوال کرتے ہیں؟
کیا ان کے اور ہمارے خوف مشترک ہیں؟
کیا ان کے پاس بھی ہیرو اور مہم جوئی ہے؟
اگر وہ موجود ہیں تو وہ کہاں ہیں؟
وہ اپنی موجودگی کا احساس کیسے دلا پائیں گے؟
ہم نے کہکشاں میں سب سے پہلے اپنی موجودگی کا اعلان کیسے کیا؟
یہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ایک سال بعد 1946 کی بات ہے۔ ایک خبر نشر ہوتی ہے۔
اناؤنسر: ”ایچ جی ولس اور بک راجرز کے واضح تخیلات بھی بیلمار، نیو جرسی میں اپنی لیبارٹری میں کام کرتے فوجی انجینئرز سے زیادہ شاندار تجربہ پیش نہیں کرسکے۔ یہ کائناتی تجربے کے لامحدود امکانات کو وا کرتا ہے۔“
امریکی انجینئروں نے چاند سے ریڈیو لہروں کی ایک شعاع کو اچھالا اور اس کی بازگشت کا پتہ لگانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے اس تجربے کو ”پروجیکٹ ڈایانا“ کا نام دیا۔ یہ ہماری نوع کی طرف سے بھیجا جانے والا پہلا کائناتی پیغام تھا، ایک عجیب سی بجنے والی گھنٹی کی آواز۔
”اگر کوئی تخیل کو آزادی سے حکمرانی کی اجازت دیتا ہے، تو مستقبل کے بہت سے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔ ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسافروں کو لے جانے والے خلائی جہازوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور ان کے مسافروں کے ساتھ رابطہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اب ہم جانتے ہیں کہ زمین کے ماحول میں دراندازی ممکن ہے۔ “
روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے، ریڈیو لہر کو چاند کی سطح تک پہنچنے میں صرف ایک سیکنڈ سے ذرا زیادہ وقت لگتا ہے۔ لیکن پھیلتی ہوئی لہری سرحد چاند سے بہت بڑی ہے۔ زیادہ تر لہر اس کے بالکل پاس سے گزر جاتی ہے، لیکن مرکزی حصہ چاند سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتا ہے۔ ڈھائی سیکنڈ کے آنے اور جانے کے سفری وقت کے بعد ، یہ ہمارے سیارے سے ٹکراتا ہے۔ پروجیکٹ ڈایانا نے چاند کو ”پِنگ“ کرنے کے لیے ہر چار سیکنڈ میں ایک طاقتور ریڈیو لہروں کا ایک سلسلہ منتقل کیا۔
وہ حصے جو چاند سے چھوٹ گئے تھے، وہ ابھی تک سفر کر رہے ہیں۔ یہ صرف آغاز تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ، پورے امریکہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں ٹیلی ویژن اسٹیشن بن گئے۔ پروجیکٹ ڈایانا کا پیغام اور بیسویں صدی کے ایف ایم ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ریڈار سگنلز، سب روشنی کی رفتار سے باہر کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ مواصلاتی نظام ریڈیو لہروں کا ایک وسیع دائرہ بناتا ہے، جو زمین سے باہر تمام سمتوں میں پھیلتا چلا جاتا ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری دنیا کہانیاں پھیلا رہی ہے۔ ہمارے آبا و اجداد نے گل گامش کی کہانی کو مٹی کی سلوں میں ڈھالا، اور اس عظیم کہانی کو مستقبل میں بھیجا۔ ہم نے اپنی کہانیوں کو ریڈیو لہروں میں لکھا ہے اور ان کی شعاعیں خلا میں بھیج رہے ہیں۔ وہ شعاعیں چھوڑے جانے کے بعد سے ہر سال چھ ٹریلین میل بمطابق ایک نوری سال کا سفر کرتی ہیں۔ ہم اپنی کہانیاں ستر سالوں سے خلا میں بھیج رہے ہیں۔ ان سگنلز کا سرکردہ کنارہ پہلے ہی دوسرے ستاروں کے ہزاروں سیاروں کے آگے نکل چکا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی دنیا ریڈیو دوربینوں کو استعمال کرنے والی تہذیب کا گھر ہے، تو وہ پہلے ہی جان چکے ہوں گے کہ ہم یہاں ہیں۔
کیا ہو گا اگر دوسری دنیائیں اپنی کہانیاں خلا میں بھیج رہی ہو؟ 1960 کے بعد سے، ہم ماورائے زمین ریڈیو سگنلز سن رہے ہیں جو ہمیں گھنٹی بجنے کی آواز سے زیادہ سنائی نہیں دے رہے۔ لیکن ہماری تلاش غیر مستقل رہی ہے اور آسمان کے بعض حصوں تک ہی محدود ہے۔ ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے غلط وقت پر غلط جگہ پر دیکھتے ہوئے ایک اجنبی باہر سے آنے والا پیغام چھوڑ دیا ہو۔ ہم اپنی کہکشاں میں ستاروں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی سن پائے ہیں۔
ایک اور مسئلہ ہو سکتا ہے کہ ہم کسی حد تک اپنے وقت کے قیدی ہیں اور ہماری ٹیکنالوجی محدود ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات ہماری تکنیکی ترقی میں صرف ایک مختصر مرحلہ ہو سکتا ہے۔ جب ہم تصور کرتے ہیں کہ اجنبی تہذیبیں ریڈیو دوربینوں سے سگنل نشر کرتی ہیں، تو کیا ہم پچھلی نسلوں سے مختلف ہیں جنہوں نے چاند پر توپ کے گولے چلانے کا تصور کیا تھا؟ ہو سکتا ہے کہ ہماری تہذیب سے قدرے ترقی یافتہ تہذیبیں پہلے ہی کسی دوسرے رابطے کے طریقے کی طرف بڑھ چکی ہوں، جنہیں ہم نے ابھی دریافت یا تصور کرنا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ان کے پیغامات اسی لمحے ہمارے گرد گھوم رہے ہوں، لیکن ہمارے پاس ان کو سمجھنے کے ذرائع کی کمی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے تمام آبا و اجداد، ایک صدی سے کچھ زیادہ پہلے تک، انتہائی ضروری ریڈیو سگنل سے غافل تھے۔ یہ ان کے لیے دوسری دنیا تھی۔ لیکن ایک اور، زیادہ پریشان کن امکان ہے کہ تہذیبیں، دیگر جانداروں کی طرح، قدرتی وجوہات، یا تشدد، یا خود ساختہ زخموں کی وجہ سے ہلاک ہونے سے پہلے صرف اتنی ہی سی دیر تک زندہ رہ پاتی ہیں۔ ہم ذہین اجنبی زندگی سے کبھی رابطہ کر پاتے ہیں یا نہیں اس کا انحصار ایک اہم سوال پر ہو سکتا ہے۔ ایک تہذیب کی متوقع عمر کیا ہو سکتی ہے؟
تحریر کی خاصیت حاصل کرنے والی پہلی شخص، این ہیڈوآنا کے وقت تک، تہذیب کی عمر پہلے ہی ایک ہزار سال سے زیادہ تھی۔ لیکن آج، اس کا شاندار شہر ایک بنجر ویرانے میں بدل چکا ہے۔ کیا غلط ہوا تھا؟ ایک مسئلہ میسوپوٹیمیا کے شہروں کے درمیان تقریباً نہ ختم ہونے والی جنگیں تھیں، جو ان کی کامیابیوں پر مسلسل پانی پھیرتی رہیں۔ انہوں نے فوجی فتوحات کے راگ الاپے اور بالآخر اسی کا شکار بن گئے۔ زوال کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ تکنیکی ذہانت کے مقابلے میں ان کی فطرت کے بارے میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی۔
آبپاشی کا مقامی نظام جو میسوپوٹیمیا کی عظیم تہذیبوں کی بنیاد تھا اس کا ایک غیر متوقع نتیجہ یہ تھا کہ ہر سال ان کے کھیتوں کو جو پانی دیا جاتا تھا وہ ہوا میں تحلیل ہوتا رہا اور اپنے پیچھے نمک چھوڑتا رہا۔ نسلوں کے دوران، نمک جمع ہوتا رہا اور فصلوں کو تباہ کرتا رہا۔ اور پھر، تقریباً دو ہزار دو سو قبل مسیح میں، این ہیڈوآنا کے زمانے کے کچھ ہی عرصہ بعد ، خشک سالی بڑے پیمانے پر تباہی لے کر آئی جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔
بارشیں رک گئیں، فصلیں مرجھا گئیں، قحط پڑ گیا اور طوائف الملوکی پھیل گئی۔ وحشیوں نے حملہ کر دیا۔ کئی شہروں کی گلیاں مرنے والوں سے بھری پڑی تھیں۔ صرف ایک وضاحت ہو سکتی ہے۔ اینلل، ایک بڑا دیوتا، ناراض تھا کیونکہ اس کا ایک مندر تباہ کر دیا گیا تھا۔ میسوپوٹیمیا کے لوگ یہ نہیں جان سکتے تھے کہ یہی خشک سالی مصر، یونان، ہندوستان، پاکستان اور چین کی ابھرتی ہوئی تہذیبوں کو کچل رہی تھی۔ زمین کے تمام دیوتا کسی چیز پر واقعی بہت ناراض ہوئے ہوں گے۔
ان کی تمام تر خوبیوں کے باوجود، ان تہذیبوں کے لوگوں کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اچانک ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ تین ہزار سال بعد ، ایک اور شاندار تہذیب کے لیے آب و ہوا اچانک بدل گئی تھی، یہ وسطی امریکہ میں تھا۔ اپنے عروج پر، مایا تہذیب نیست و نابود ہو گئی۔ ایک صدی کے دوران شدید خشک سالی کے ایک سلسلے نے اسے ختم کر دیا۔ ہمیں اب بھی اپنی زبانوں اور اپنی دیو مالا میں ان معدوم ہو جانے والی تہذیبوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
آج ہمارے پاس اپنی ایک عالمی تہذیب ہے۔ یہ کب تک زندہ رہے گی؟ تہذیب کے مرنے کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں۔ آئیے ان سے شروعات کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم شاید زیادہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔ وہ سپرنووا ایک ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اگر وہ ذرا سا قریب ہوتا جیسے، زمین سے تیس نوری سال سے بھی کم فاصلے پر، اس کی کائناتی تابکاری فضا کی حفاظتی اوزون کی تہہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی اور ہماری تہذیب کو فنا کر دے گی۔ ہمارے لیے یہ خوش قسمتی ہے کہ ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے اتنے قریب ستاروں میں سے کوئی بھی اگلے چند سو ملین سالوں میں کسی بھی وقت سپرنووا بن جانے کا امکان نہیں ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ پر کلک کریں


