طاغوت یا ایک پہلی


آج کل ساحل عدیم صاحب کے ایک غیر ذمہ دارانہ ریمارک جو انہوں نے سماء ٹی وی کے ایک پروگرام پر دیا تھا، سوشل میڈیا میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوا ہے۔ پہلے تو ساحل نے ملک کی 95 فیصد خواتین کو جاہل اور اجڈ کہہ دیا۔ پروگرام میں شامل ایک خاتون کے استفسار پر انہوں نے ایک دینی اصطلاح، طاغوت سے اکثر خواتین کا ناواقف ہونے کی دلیل لے کر انہوں نے اپنی بات کو جسٹی فائی کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ خاتون ساحل کی اس توجیہہ سے متاثر نہیں ہوئی، بلکہ الٹا ساحل سے مسلسل خواتین کے بارے میں توہین آمیز ریمارک کرنے پر اس سے معافی مانگنے کا کہتی رہیں۔ اب اس سارے واقعے کو آپ سوشل میڈیا پر کسی بھی پیج پر سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے اس واقعے پر ایک دو باتیں کہنی ہیں۔

طاغوت دراصل کوئی ایسا اچھوتا لفظ نہیں، جس کا مطلب معلوم نا ہونے پر کسی کو ”جاہل، اجڈ“ کہا جائے۔ طاغوت دراصل غوتا غوت سے مشتق ہے۔ ط غ و ، طغی، نافرمانی میں حدود سے تجاوز کرنے کے لئے عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ طغیانی یا طوفان اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ پانی کی لہریں کناروں کی حدود سے اپنے زور اور طاقت سے تجاوز کر جاتی ہیں اور بے شمار نقصانات کا ذریعہ بنتی ہیں۔

امید ہے بنیادی بات آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی اب اس لفظ کو مذہبی نقطہ نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔

مذہبی اصطلاح میں اس کے معنی صرف شرک کرنے کے ہوسکتے ہیں، یا اس بندے کو بھی طاغوت کہ سکتے ہیں، جو کسی کو اللہ کی ذات سے ہٹا کر اس کو شرک کرنے پر مجبور کرے۔ اور یہ بات تو ہر مسلمان مرد و عورت کو سو فیصد پتہ ہی ہے کہ شرک خدا کے نزدیک ایک ناقابل معافی گناہ ہے۔ تو صرف اتنی سی بات کہنے پر ساحل عدیم جیسے جاہل شخص کو پوری قوم کی خواتین کو جاہل کہنا، خود سب سے بڑی جہالت ہے۔ طاغوت شرک ہی کی superlative degree ہے، اس لیے شرک کی تمام اقسام میں سے سب سے بڑا گناہ (اکبرالکبائر) ہے، قرآن کے مطابق، طاغوت سے ”کفر“ کیے بغیر نجات ناممکن ہے۔

طاغوت کی جمع نہیں ہے۔ یہ لاکھوں کروڑوں مل کر بھی طاغوت ہوتے ہیں اور ایک اکیلا بھی طاغوت ہوتا ہے۔ پوری قوم بھی طاغوت ہوتی ہے اور ایک فیملی یا فرد بھی۔ جب بھی ان کی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کا ذکر ہو گا تو طاغوت کے نام سے بھی ہو گا۔ کسی چیز کا معلوم نہ ہونا جہالت نہیں کہلاتا نہ طاغوت کہلاتا ہے۔ قرآن مجید کی طاغوت والی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :

طاغوت ”لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا، جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے، جو بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرماں برداری ہی کو حق مانے، مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام فسق ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اصولاً منحرف ہو کر یا تو خود مختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے۔ یہ کفر ہے۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہو کر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے، اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔

تفہیم القرآن تفسیر سورة البقرہ آیت 256

پر یہ خالصتاً مذہبی اصطلاحات جب ساحل عدیم جیسے بونوں کے ہاتھ لگی، تو اس وقت سے یہ ٹرم، ایک چیستان اور پہلی بن گئی۔ یہ عجیب ٹیکسٹ ہے کہ جس کی تشریح پچھلے ڈیڑھ ہزار سال سے کروڑوں ایسے لوگ کیے جا رہے ہیں مگر نہیں کر پا رہے۔ ان کی منزل مقصود صرف اور صرف تلوار اور شلوار تک ہی محدود ہے۔

کوئی پوچھ کے بتا سکتا ہے کہ ان جاہل خواتین میں، جو لفظ طاغوت نہیں سمجھتی، کیا ان میں ساحل عدیم اور خلیل الرحمٰن قمر جیسے معتبر حضرات کے گھر کی خواتین بھی شامل ہیں یا یہ اعزاز صرف دوسرے لوگوں کی بہنوں، بیٹیوں اور ماؤں کے لئے ہے؟ ‏ساحل عدیم، خلیل الرحمٰن قمر، قیصر احمد راجہ، زید حامد، اور اوریا مقبول جان کے سکولوں کا پتہ کریں اور اپنے بچوں کو وہاں داخل مت کروائیں۔ میری راِئے میں ایسے لوگ ذہنی مریض ہیں جو معاشرے میں فتنہ و انتشار پھیلا رہے ہیں، انہیں نا بات کرنے کی تمیز ہے اور نا ہی اختلاف کرنے کا سلیقہ اور نا ہی جواب سننے کا حوصلہ، بد قسمتی سے پاکستان میں ایسے پاگلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

اس ایک معاملے نے ساحل اور اس جیسے جتنے بھی نمونے ہیں، ان کے علمی معیار کو بری طرح ایکسپوز کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ یہ خود کتنے بڑے جہالت کے قطب مینار پر فائز ہیں۔ ان ہی نمونے کے زیر اثر جو پود تیار ہوتی ہے، وہی پود کپڑے پر لکھے عربی کیلی گرافی والے ”حلوے“ کو بھی بلاسفیمی سمجھتے ہیں، اور جتھے لے کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS