ہمت اور صبر کی کہانی
یہ میرے لڑکپن کی بات ہے. ہمارے ایک بہت قریبی عزیز تھے، ان کے بچے ہمارے ہم عمر اور دوست تھے، اس لیے ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا۔ لیکن جب بھی وہاں جاتے، تو ٹوٹے دل کے ساتھ واپس آتے اور تہیہ کر لیتے کہ آئندہ نہیں جائیں گے کیونکہ ہمارے وہ عزیز ہمیں غصہ دکھاتے، ڈانٹتے اور ایسا رویہ رکھتے کہ جیسے وہ ہماری عزت نفس کو کچلنا چاہتے ہوں۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم نے اعلان کر دیا کہ آئندہ کبھی ان کے گھر نہیں جائیں گے۔
جب امی جی کو ہمارے اس فیصلے کا علم ہوا تو انہوں نے ہمیں بلایا، پاس بٹھایا، نرمی اور پیار سے سمجھایا کہ بیٹا، اللہ تعلق جوڑنے والوں کو پسند کرتا ہے، نہ کہ توڑنے والوں کو ۔ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمے دار ہے اور کوئی دوسرا نہیں۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ زیادتی کرتا ہے تو اس کا جوابدہ بھی وہی ہے۔ اس لیے میں یہ پسند نہیں کرتی کہ میرا بیٹا کسی سے تعلق توڑے۔ میری زندگی میں تو تم ان سے ملو گے اور میری خواہش ہے کہ میرے بعد بھی نہ صرف ان سے ملتے رہنا بلکہ کسی سے بھی ناراض نہ ہونا۔ میں امید کرتی ہوں کہ میرا بیٹا میری نصیحت یاد رکھے گا اور مجھے رب کے سامنے شرمندہ نہیں کرے گا۔ پھر وہ خود مجھے اپنے ساتھ ان کے گھر لے کر گئیں۔
امی جان کی اچانک وفات پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ سارا خاندان جنازے میں شرکت کے لیے پہنچا، وہ بزرگ بھی آئے جن کے لیے سفر کرنا انتہائی مشکل تھا۔ اس دن امی جان کے جنازے پر مجھے حقیقی معنوں میں تعلق جوڑنے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ یہ واقعہ میرے لیے ایک نیا سبق تھا، جس نے مجھے یاد دلایا کہ زندگی میں تعلقات کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ امی جان کے اخلاق اور ان کی محبت نے خاندان کو ایک دوسرے کے قریب رکھا تھا، اور ان کے جنازے پر یہ بات واضح ہو گئی کہ محبت اور تعلقات کی قدر کس طرح لوگوں کے دلوں میں بس جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ پیار، محبت اور احترام سے پیش آنا چاہیے اور تعلقات کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تعلقات جوڑنے سے نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارے آس پاس کے لوگوں کو بھی سکون اور خوشی ملتی ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔
ابو جی کے جانے کے بعد حالات ہمارے لیے بہت مشکل ہو گئے تھے۔ ایک طرف والد کے بچھڑنے کا غم اور دوسری طرف رشتے داروں کی بے اعتنائی نے ہمیں دل برداشتہ کر دیا۔ ہمارے عزیز، جو وارث بننے کا وعدہ کر کے آئے تھے، جلد ہی ہمارے مال و اسباب پر قابض ہو گئے اور ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
چار بچوں کو پالنے کی ذمہ داری، سر پر اپنی چھت نہ ہونا، اور روزگار کا کوئی سلسلہ نہ ہونا، یہ سب ایسی آزمائشیں تھیں جنہوں نے ہماری ماں کو کمزور نہیں پڑنے دیا بلکہ ان حالات نے انہیں مضبوط اور حوصلہ مند بنا دیا۔ ان کی محنت اور اللہ پر یقین نے ہمیں ان مشکلات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
زندگی میں ایسے حالات اکثر انسان کی ہمت اور برداشت کو آزماتے ہیں، مگر انہی مشکلوں کے دوران انسان کی حقیقی قوت اور صبر کا پتہ چلتا ہے۔ ہماری ماں کی قربانیوں اور جدوجہد نے ہمیں یہ سکھایا کہ مشکل وقت میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور اللہ پر بھروسا رکھتے ہوئے ہر چیلنج کا سامنا کرنا چاہیے۔


Its always a pleasure to read your article.