سرمد نے دارا کو کونسی سلطنت بخشی؟


اُس دن شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ عام شہریوں میں یہ دہشت پھیلا دی گئی تھی کہ قانون کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔ ہندوستان کے دارالحکومت نے سیاہ ماتمی لباس پہن لیا تھا۔ جس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا گیا تھا اُس کا نام سرمد تھا۔ قتل کا یہ فتویٰ جمعرات کو دیا گیا اور اُس کے شارع عام کے لئے اگلا دن جمعہ کا روز مقرر کیا گیا تھا۔ یہ 1661.62ء کا خونی سال تھا۔ اگلے دن جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں کے سامنے ایک اُونچا چبوترہ بنایا گیا تھا جسے مقتل کا کام دینا تھا۔ حاکم وقت اورنگزیب نے اپنے بھائی دارا کو قید خانے کی سیاہ تاریکیوں میں موت کے گھاٹ اُتارا تھا مگر آج سرمد کے قتل کو تماشا عام بنا دیا تھا۔ پورے شہر میں منادی کروائی تھی۔ یوں تو جمعہ کے روز جامع مسجد کے پاس بے شمار لوگ جمع ہوتے تھے مگر اُس دن لوگوں کا انبوہ یہ منظر دیکھنے کے لئے موجود تھا۔ زبردست خوف کا ماحول طاری تھا۔ اُس دن سرمد کے عقیدت مندوں کی حالت ناقابل بیان تھی۔ ہر دل رو رہا تھا، ہر انکھ اشکبار تھی۔ اُس دن نماز جمعہ کے بعد سرمد کو سپاہیوں کی حراست میں لال قلعہ سے باہر لایا گیا۔ لوگوں کا بے پناہ ہجوم اُس کے آگے پیچھے تھا مگر سرمد ہمیشہ کی طرح بے فکر و بے پرواہ تھا۔ گویا قتل کے لئے نہیں بلکہ ایک عاشق، صادق جاں باز کی طرح ہتھیلی پر سر رکھے اپنے محبوب حقیقی سے وصال کے لئے جا رہا ہو، کتنا دل سوز منظر تھا۔

سرمد ایک صادق و با ایمان عاشق کی طرح مستانہ وار جھومتا ہوا، رباعیات گاتا ہوا چلا آ رہا تھا۔ اُس دن اُس کے چہرے پر کمال کا جلال تھا۔ وہ خود اعتمادی اور اطمینان کا مظہر تھا۔ خوف، فکر یا پریشانی کا سایہ اُس کے پاس سے نہ گزرا تھا۔ سرمد کو بے انتہا ہجوم کی موجودگی میں چبوترے پر کھڑا کیا گیا، اُس کی آنکھیں اور بازو آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔ اُس کی روح جسمانی قید و بند توڑ کر ہمیشہ کے لئے اپنے محبوب حقیقی کی آغوش میں جانے کے لئے بے تاب تھی۔ جلاد ننگی تلوار لئے چبوترے کی جانب بڑھا۔ اُس نے بموجب قاعدہ سرمد کے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپنا چاہا اور بازو پشت پر باندھنے کا بولا مگر سرمد نے چہرہ ڈھانپنے اور بازو باندھنے سے انکار کر دیا۔ اُس نے مسکرا کے جلاد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،

، فدائے تو شَوم بیا۔ بیا کہ تو بہر صورتے می آید ۔ من تُرا خوب می شناسم

مطلب۔ اے میرے محبوب تو (تیغ برہنہ) لئے آ گیا ہے۔ میں تیرے قربان۔ آ۔ کہ جس صورت بھی آئے میں تجھے پہچانتا ہوں۔

ایک روایت ہے کہ جب نیشا پور کے حادثے کے وقت ہلاکو خان کے لشکری فرید الدین عطار کو قتل کرنے لگے تو انہوں نے بھی جلاد کو انہی الفاظ سے مخاطب کیا تھا۔

سرمد نے ایک لمحے کے لئے سر اور بازو اُوپر اٹھائے اور آسمان کی طرف منہ کر کے مسکرا دیا اور اپنا سر جھکا دیا عین اُس وقت جلاد کی تلوار نے ایک ہی وار میں سر تن سے جُدا کر دیا۔ معارف کے مطابق سرمد نے یہ شعر بلند آواز پڑھا تھا۔

شور شُد و ما از خوابِ عدم چشم کُشودیم
دِیدیم کہ باقیست شب فِتنہ غنُودیم

مطلب۔ شور ہوا اور ہم نے عدم کے خواب سے ذرا آنکھ کھولی، دیکھا کہ فتنوں کی رات ابھی باقی ہے، دوبارہ سو گئے۔

سرمد کا لفظی مطلب ہے، ازل، و، ابد، سے بری جو لافانی اور دائم ہے۔ ہمیشہ زندہ و جاوید ہے، وہی سرمد ہے جو زمان و مکان سے پَرے ہے۔ جو لَا مُنتہا، لَا محدود اور فہم و ادراک سے بعید ہے وہ سرمد ہے۔

سرمد نرالا انسان تھا جو ظاہرہ تو مستِ مالا، غرض و بے نیاز فقیر تھا مگر باطن پر قابو پا کر روحانی شہنشاہ بن چکا تھا۔ وہ حق ِ اعظم سے ہم آہنگ ہو کر اور مذہبی شریعت کی تنگ وادی پار کر کے مکمل وَحدانیت کے کھلے آسمان کا آزاد طائر بن چکا تھا۔ سرمد آرمینیا کا رہنے والا تھا۔ اُس کی پیدائش ایران کے مشہور تجارتی مرکز ’کاشان‘ میں ہوئی تھی۔ اُس کے آبا و اَجداد پہلے آرمینیا کے باشندے تھے جو بعد میں ایران آ بسے تھے اور تجارت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ سرمد کا خاندان یہودی تھا۔ اہل یہود کے رواج کے مطابق سرمد کو بچپن میں ہی مذہبی کتابوں کے مطالعہ، غور، فکر اور وضاحت میں طاق کر دیا گیا تھا۔ اُس نے یہودیوں کی مقدس کتاب ’توریت‘ بچپن میں ہی زبانی یاد کر لی تھی۔ اُسے سامی مذاہب کی مذہبی کتابوں کے بارے میں علم حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا۔ اُس نے انجیل، توریت، زبور اور دیگر عیسائی مذہبی کتب کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا مگر ساتھ ہی کتاب دل پڑھنے پر بھی توجہ دی۔
اپنی آزاد خیالی کے باعث اُس نے نہ صرف اسلام و پارسی مذہب بلکہ ہندو دھرم کی مذہبی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ دراصل اُس پر سب سے زیادہ اثر صوفی ادب اور صوفی علما کا تھا۔ وہ پہلے آرمینیا ایران بعد ازاں ہندوستان میں ہیرے جواہرات، ایرانی قالین، سونا چاندی، تانبے پیتل کے برتن، ململ اور ریشم وغیرہ درآمد کرتا تھا۔ ہندوستان اور ایران کا تجارتی راستہ سندھ سے ہو کر گزرتا ہے جس پر ٹھٹھہ شہر مشہور تجارتی مرکز تھا۔ سرمد کو تجارت کی غرض ہندوستان لے آئی پھر وہ ہندوستان کا ہو کر رہ گیا۔ سرمد ٹھٹھہ میں ایک دو سال قیام کے بعد حیدر آباد پھر لاہور آ گیا۔ اُس کے عقیدت مند روزانہ حاضری دیتے تھے۔ سرمد بھری محفل میں رباعیاں سُناتا تھا جن سے دنیاوی خواہشات ترک کرنے کا سبق ملتا تھا۔ یہاں لوگ اُس کے شیدائی تھے۔ اُس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تھی۔

وہ دہلی نہیں پہنچا تھا مگر اُس کی شہرت وہاں پہنچ چکی تھی۔ اہل دہلی اُس کی آمد کے منتظر تھے۔ دہلی پہنچتے ہی لوگ جوق در جوق اُس کے دیدار کے لئے امڈ پڑے۔ حاکم وقت (بادشاہ) کے درباری، امرا، وزرا، معززِین شہر بھی سرمد کے دِیدار کو آنے لگے۔ شاہ جہاں اور دارا شِکوہ بھی سرمد کے عقیدت مند تھے۔ دارا سرمد کو ایک کامل درویش کی صورت میں دیکھتا تھا۔ دارا اکثر سرمد کے دربار (محفل) میں حاضر ہوتا تھا۔ شہزادہ دارا شِکوہ مستقبل قریب میں ہندوستان کا بادشاہ بننے ولا تھا مگر جب شاہ جہاں بیمار ہوا تو اُس کے بیٹے اورنگزیب عالمگیر نے اسے آگرہ میں قید کر لیا اور تخت و تاج کے لئے لڑائی شروع ہو گئی۔ دارا کے بیٹے سلیمان شِکوہ کو شکست ہوئی۔ اورنگزیب اور مراد نے مل کر دارا کا تعاقب کیا۔ دارا بیچارہ، غم کا مارا، بستی بستی، صحرا صحرا بھٹکتا رہا۔ آخر ملک جیون نے گرفتار کر کے اورنگزیب کے حوالے کر دیا اور بھاری انعام وصول کیا۔ سیاست کی بے رحم دنیا میں دارا اورنگزیب کا بھائی نہیں بلکہ رقیب تھا۔ اورنگزیب عالمگیر نے شرعی عدالت سے دارا کے خلاف کفر کا فتوی ٰحاصل کیا اور اُسے کال کوٹھڑی میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ باپ کو قید تنہائی میں مار دیا۔

دارا کا دربار درویشوں، صوفیوں اور عالموں سے بھرا رہتا تھا۔ وہ اُن سے علمی تبادلہ خیالات کرتا تھا۔ وہ اُن کی صحبت و سُخن کا لطف اٹھاتا تھا۔ دارا کو ہندوستانی فلسفہ اور رُوحانی ادب سے ایک خاص رغبت تھی پھر سرمد جیسے کامل درویش سے اُس کی دوستی تھی۔ وہ سرمد کو ازراہ تعظیم پیر و مرشد خطاب کرتا تھا۔ وہ اپنا کرب و درد پیر و مرشد کے سامنے یوں بیان کرتا تھا۔

اُس کے ایک خط کا ترجمہ یوں ہے۔
دَارا بنام سرمد
پیر و مرشد

میں ہر روز آپ کے دیدار کا ارادہ کرتا ہوں مگر وہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ اگر واقعی میں، میں ہوں تو یہ مصمم ارادہ کیوں پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ اگر میں کچھ بھی نہیں ہوں تو میرا قصور کیا ہے۔ اِس کامل درویش سے دارا تمام شکوک رفع کرواتا تھا۔ اِس سے اُس کے کئی شک جاتے رہے.

عمل: صابر نذر

اورنگزیب عالمگیر صرف دارا کے خلاف نہیں تھا بلکہ جس کا بھی دارا کے ساتھ تعلق تھا وہ اُس کی تلوار کا شکار بنا۔ سرمد کی عظمت و شہرت، اُس کی مجلس کی بڑھتی ہوئی رونق، اُس کے عقیدت مندوں کی عقیدت، متعصب مولویوں، شرعی عالموں اور حاسد درباریوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔ وہ سرمد کو بادشاہ کی نظر میں ایک خطرناک باغی اور ملزم کے طور پیش کرنے لگے۔ انہوں نے اورنگزیب کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ سرمد آج اتنا مشہور اور ہردلعزیز ہے کہ اُس کے ایک اشارے پر دہلی کے لوگ باغی ہو کر آپ کی زمین گول کر دیں گے۔ وہ سرمد کے ہر عمل کو کفر ثابت کرنے لگے تاکہ یہ آزمودہ نسخہ بروئے کار لاتے ہوئے کفر کا فتویٰ لگایا جائے۔ قاضی ملا قوی سرمد کا سخت مخالف اور دشمن تھا۔ وہ کسی کی شہرت اور عزت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ملا قوی اور اُس کے خوشامدیوں نے شہنشاہ اورنگزیب کے کان بھرنا شروع کر دیے۔ اُنہوں نے سرمد پر عریانی کا الزام لگایا کہ یہ ننگا رہتا ہے۔ جب سرمد کو معلوم ہوا تو اُس نے مندرجہ زیل رباعی کہی۔

آں کس کہ تِرا تاج جہاں بانی داد
ما را ہمہ اسباب پریشانی داد
پوشاند لِباس ہر کر ا عیبی دید
بے عیباں را لِباس عریانی داد

اے اورنگزیب جِس مالک نے تجھے یہ تاج سلطانی دیا ہے اُسی نے ہمیں یہ سامانِ پریشانی دیا ہے۔ جو پُر عیب ہیں اُن کو مالک لباس سے سنوارتا ہے اور جو مجھ جیسے بے عیب ہیں اُن کو فقط عریانی سے نوازتا ہے۔

مُلا، قاضی نے یہ الزام لگایا کہ سرمد نے دارا کو تخت و تاج اور سلطنت کی دُعا دی ہے۔ تب سرمد کو شہنشاہ اورنگزیب کے دربار میں بلایا گیا۔ اورنگزیب نے بھرے دربار میں سرمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’کہ تو نے پیش گوئی کی تھی کہ شہنشاہ شاہ جہاں کے بعد دارا دہلی کے شاہی تخت کا وارث ہو گا، مگر اب تیرا وہ عزیز دارا کہاں ہے‘ ؟ سرمد نے بھرے دربار میں پُررمز لہجے میں جواب دیا۔ ’سن اے اورنگزیب۔ میرے خدا نے اُسے لَافانی تخت و تاج اور اَبدی سلطنت بخش دی ہے۔ میری پیش گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی‘۔ اِن لاعلموں کو کیا علم کہ سرمد نے دارا کو رُوحانی دنیا کی لافانی بادشاہت کی پیش گوئی کی تھی نہ کہ اِس فانی دنیا کی حکومت کی، جس کے لئے اورنگزیب نے بے پناہ انسان لقمہ اجل بنا دیے۔ سرمد نے بڑی دلیری سے کہا ’کہ تو دارا کو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ تو نے اپنے ہی بھائیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا ہے، باپ کو مارا ہے اِس کے علاوہ خدا کی مخلوق پر ظلم و ستم ڈھائے ہیں‘ ۔

سرمد کا یہ جواب سن کر تمام درباری بادشاہ اورنگزیب کی جانب دیکھنے لگے۔ مگر سرمد کے جواب نے اورنگزیب کو دیکھنے کے قابل کہاں چھوڑا تھا۔ تب مُلا قاضی اور اورنگزیب نے یہ طے کیا کہ صرف عریانی کے جرم میں سرمد کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ اِس لئے مزید الزامات تراش اور تھوپ کر سرمد کو بڑے قاضی مُلا قوی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اُس کے بعد تین الزام سرمد کے سر تھوپے گئے۔

ایک عریاں گھومتا ہے، دوسرا دارا کو تخت و تاج کی دُعا دی ہے، تیسرا یہ پورا کلمہ نہیں پڑھتا۔

سرمد پر لگائے گئے الزامات لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھے۔ دراصل سرمد کے قتل کا اصل مقصد یہ تھا کہ رعایا اور خصوصاً سرمد کے عقیدت مند اِس قدر دہشت زدہ ہو جائیں کہ اِس قتل کے خلاف کوئی باغیانہ قدم نہ اُٹھا سکیں۔ جامع مسجد کے جس چبوترے پر سرمد کا سر تن سے جُدا کیا گیا تھا آج وہاں اُس کا مزار ہے۔ داغستانی لکھتا ہے۔ ’سرمد کے مزار کو طرح طرح کے پھول سارا سال ڈھکے رکھتے ہیں۔ ہریالی کبھی خشک نہیں ہوتی۔ سرمد کی روح کی طرح جو دورانِ حیات تروتازہ رہی اور شہادت کے بعد بھی مرجھائی نہیں‘۔ کہ شہیدوں کی یاد کبھی مرجھاتی نہیں ہے۔

عمل: صابر نذر

سرمد کا قتل بادشاہ کی فتح نہیں بلکہ شکست کا زندہ ثبوت تھا کیونکہ بہادری اور فتح سچائی اور حقیقت کو برداشت کرنے میں ہے، سچائی سے بھاگنے یا حقیقت کو قتل کرنے کی کوشش میں نہیں۔ وہ ظاہری طور پر اِس کامیابی پر شادیانے بجاتے، خوشی مناتے اور ڈینگیں مارتے پھرتے تھے مگر دراصل اندورنی طور پر اپنے دل میں شکست خوردہ اور شرمندہ تھے۔

سرمد فارسی زبان میں اپنے محبوب کے گیت گانے والا وہ نغمہ گو تھا جو دُنیا کی آلائشوں کے ایک جال کو بھی چھوئے بغیر سر برہنہ ننگے پائوں گلی گلی کوچہ کوچہ پھرتا رہا۔ وہ دنیائے تعصب سے بے نیاز، اپنے کلام میں راز ہائے حقیقت کا بڑی بہادری سے انکشاف کرتا رہا۔ اُس کو حق پرستی جان سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ راہ حق میں جان دینے والا مردِ حق اور شہیدوں کا سرتاج ہے جبکہ دوسری جانب اورنگزیب عالمگیر کی تلوار نے سینکڑوں، ہزاروں، معصوم انسانوں کا خون پیا تھا۔ عالمگیر نے مارچ کے تہوار نوروز کو ختم کروا دیا۔ شراب کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ ساتھ ہی نشہ آور مشروب پینے پر مجرموں کا ایک ہاتھ کاٹنے یا پائوں سے محروم کرنے کی سزا مقرر کی گئی۔ ناچ گانے اور مسخرے پن پر سخت پابندی کا حکم ہوا۔ اُس کے حکم کے عین مطابق محل سے وابستہ سازندوں کو برخاست کر دیا گیا جس کے لئے خصوصی افسر مقرر کئے گئے کہ جہاں کہیں موسیقی سنی جا رہی ہو وہ اُس گھر میں داخل ہو کر موسیقی کے آلات کو جلا دیں۔ ملک بھر میں موسیقی کے آلات ڈھیروں کی شکل میں جلائے جانے لگے۔ ہند میں سازندے بھوک کے ہاتھوں مرنے لگے جبکہ ناچ گانے والی لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بیان سے باہر ہے۔ اُس نے جوا خانوں اور علم نجوم کی سختی سے ممانعت کر دی۔ علم نجوم کے ماہروں کو پکڑ کر قید کیا جانے لگا۔ شاعری کو صوفیوں کے کھاتے میں ڈال کر بند کر دیا گیا۔ وہ سنی مسلک کا دعویدار تھا جبکہ اُس نے شیعہ امرا کی زمینیں ضبط کر کے کشمیر کی طرف نکال دیا۔ اُس نے ایک فرمان جاری کیا جس میں شیعہ کمیونٹی کو لمبی مونچھیں رکھنے سے منع کر دیا گیا۔ اِس کے لئے افسر مقرر کیے گئے کہ وہ مونچھوں کی ٹھیک ٹھیک پیمائش کریں۔ اگر یہ مقرر حد سے تجاوز ہوں تو موقع پر کاٹ دی جائیں اور سزا دی جائے۔ بادشاہ سلامت نے ہندوئوں کے مقابلے میں مسلمان تاجروں پر عائد محصول نصف کر دیا۔ اِن حالات میں محصولات میں رعایت لینے کے لئے تاجروں نے جمعہ کے روز بادشاہ کے محل سے جامع مسجد تک بازار میں ہجوم پیدا کر دیا۔ اس ہجوم سے گفت و شنید کی بجائے بادشاہ سلامت کے فرمان کے مطابق ہاتھی چھوڑ دیے گئے۔ یہ بادشاہ سلامت کے ظلم و بربریت کی ایک جھلک ہے۔ بادشاہ سلامت ظل الٰہی پڑاؤ کی زندگی کو پسند کرتے تھے۔ وہ شہروں میں شاذ و نادر ہی رہتا تھا۔

موسم گرما میں کشمیر کی سیاحت کے دوران خوشگوار وادیوں کے سرد ماحول میں وہ اپنی بیگمات کی محفل میں اپنے آپ کو مصروف کر لیتا تھا۔ وہ جارجیا کی عیسائی خاتون اُودے پوری پر فریفتہ تھا۔ جب وہ بچی تھی تو ایک تاجر نے اُسے شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بھائی دارا کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ وہ بڑی ہو کر نہایت حسین و جمیل ہو گئی تھی۔ دارا کو سزائے موت دینے والے نے اُس کو دل کے قریب رکھا تھا۔ اب یہ بات تاریخ کے پنوں سے کیسے نکالی گئی کہ وہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتا تھا۔ خدا کی زمین پر خدا ہی گواہ ہے کہ وہ ٹوپیاں کس وقت سلائی کرتا ہو گا اور کس وقت بیچتا تھا اور بیچ کر گزارا کیسے کرتا تھا۔ یہ وہ کہانی ہے جو صدیوں سے بالعموم اور پون صدی سے بالخصوص سنائی گئی، پڑھائی گئی، بتائی گئی کہ شہنشاہ ہند اورنگزیب عالمگیر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتا تھا۔ وہ ٹوپیاں سی کر نہیں بلکہ انسانوں کا خون پی کر گزارا کرتا تھا۔ جس نے باپ چھوڑا نہ بھائی، صوفی چھوڑا نہ درویش، سادھو چھوڑا نہ فقیر، شاعر چھوڑا نہ ادیب۔ وہ صرف اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے خون کی ہولی کھیلتا رہا۔ یہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرنے والا انسان دشمن، شدت پسند، متعصب حکمران تاریخ کے کوڑا دان میں پڑا ہوا ہے جو اپنی ہی گندگی اور غلاظت کھا کھا کر موٹا ہوتا جاتا ہے پھر ایک دن پھٹ کر اِسی گندگی اور غلاظت کا نیا ڈھیر بن جاتا ہے۔ وہ تاریخ دان جنہوں نے تاریخ کو تباہ اور نسلوں کو گمراہ کیا ہے۔ وہ بھی ٹوپیاں سینے والے کے ساتھ اُسی کوڑا دان میں پڑے ہیں۔ یہ آفاقی سچائی ہے کہ تاریخ کو جھوٹ میں چھپانے سے سچ نہیں چھپ سکتا، وہ سرمد کی کہی گئی رباعیوں کی صورت زندہ رہتا ہے۔ سچ اور جھوٹ کے پردے میں لپٹا اورنگزیب عالمگیر تاریخ نے ہمیشہ کے لئے مار دیا ہے مگر سرمد کی رباعیاں اُسے ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

Facebook Comments HS