چنگیز خان کا ڈنڈا
بننا تو میں ہیڈ بوائے چاہتا تھا لیکن میرا قد اِتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کبھی مانیٹر کے لیے بھی شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا۔ چھٹی جماعت تک یہی صورتِ حال رہی۔ آخر میری دعائیں، تعلیمی کارکردگی اور جوڑ توڑ کی صلاحیتیں رنگ لے آئیں اور ساتویں جماعت میں مجھے مانیٹر بنا دیا گیا۔ کلاس انچارج، سر افضل بودلہ سے ملا اور اپنی ذمہ داریوں کے متعلق استفسار کیا تو اُنہوں نے لکڑی کا ایک ڈنڈا بنا کر لانے کی فرمائش کی۔ اور تو کچھ سجھائی نہ دیا، کرسی کی ایک ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر سلوشن ٹیپ چڑھا کر لے گیا۔
یہ خون خوار درندہ کمرہ جماعت میں داخل ہوا تو ہر طرف کہرام مچ گیا۔ لڑکوں نے توبہ استغفار شروع کر دی، لڑکیاں دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں، ڈشکروں کے تراہ نکل گئے، جلیبیاں تیر کی طرح سیدھی ہو گئیں۔ کلاس شروع ہونے میں ابھی کچھ تاخیر تھی۔ ایک ایک کر کے سبھی کلاس فیلوز نے میری منت کی کہ میں اِس پھنیر ناگ کو کہیں دور چھوڑ آؤں یا کم از کم اس کا سراغ مٹا دوں۔ میں ٹس سے مس نہ ہوا تو اُنہوں نے پہلے خوشامد، پھر سماجی مقاطعہ اور آخر میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ یہ تینوں اقدامات بھی کارگر ثابت نہ ہوئے تو ایک بردبار ہم جماعت نے چتاؤنی دی کہ ہتھیار سب سے پہلے اپنے موجد کا سر کچلتے ہیں اور اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے مادام کیوری کی مثال دی۔ ابھی میں اُس کی بات کے سیاق و سباق پر غور کر ہی رہا تھا کہ اِسی اثناء میں سر افضل بودلہ کلاس روم میں داخل ہوئے۔ اُن کی یاداشت، پڑھانے کا انداز اور تشدد کی صلاحیت، تینوں ہی غضب کی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی اُنہیں ڈنڈا یاد آ گیا۔ میں فخر سے سینہ پھلائے اپنی ایجاد کو ٹرافی کی طرح اٹھا کر اُن کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اُنہوں نے نہایت حیرت اور اشتیاق سے اِس عجیب الخلقت ڈنڈے کا معائنہ کیا۔ اُن کی آنکھوں میں فخر اور تحسین کے ملے جلے جذبات تھے۔ پھر ایک دم پتا نہیں اُنہیں کیا ہوا، اُنہوں نے وہی ڈنڈا بازوؤں کی پوری شدت سے میرے کولہے پر مارا اور منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے بولے :
”حرام کے پلے! میں تجھے چنگیز خان دکھائی دیتا ہوں کیا؟“
حق سچ کی بات کی جائے تو میں اُنہیں چنگیز خان ہی سمجھتا تھا، لیکن چونکہ اِس کے اظہار کی صورت میں مزید پٹائی کا اندیشہ تھا، لہٰذا میں خاموش رہا۔
یہ واقعہ میری زندگی کے کچھ اہم ترین اسباق میں سے ایک ہے۔ میں نے پھر کبھی کوئی ڈنڈا ایجاد کرنے کی کوشش نہیں کی، نہ ہی خود کو اپنے کسی استاد، سینئر یا باس کا ڈنڈا بننے دیا۔
اُس روز مجھے یہ بات اچھی طرح سے سمجھ آ گئی تھی کہ ہمارا بنایا ہوا ڈنڈا ایک نہ ایک دن ہمارے اوپر ضرور استعمال ہوتا ہے، چاہے ہم ایک فرد ہوں یا ایک قوم۔


