بسکٹ کے ڈبے سے جڑی رومانویت


تقریباً ہر گھر میں گہرے نیلے یا جامنی رنگ کے ڈینش بسکٹ کا ایسا گول ڈبہ ضرور ہوتا ہے۔ کہیں کہیں احمد یا حافظ کے حلوے کے ڈبے بھی محفوظ ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر ایسے ہی ڈبے ملتے ہیں جو زیادہ تر یورپی ممالک یا عرب ریاستوں سے آئے ہوئے کوئی عزیز، رشتہ دار یا دوست آپ کے لئے بطور تحفہ لے کے آیا ہو تا ہے۔ بسکٹ یا حلوہ تو زیادہ تر پہلے ہلے میں ہی ختم کر دیے جاتے تھے، اب اس ڈبے میں آپ کو بسکٹ یا کوکیز نہیں ملیں گے۔ ہماری نانی دادی کے زمانے سے ایسے ڈبے گھروں میں سوئی دھاگا وغیرہ رکھنے کے کام آتے ہیں۔ ان ڈبوں کا یہ استعمال صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔

آپ کی شرٹ کا بٹن ٹوٹ جاتا تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں! گھر میں موجود اس ڈبے سے استفادہ کیا جاتا تھا، اس میں یقیناً شرٹ سے ملتے جلتے رنگ کا دھاگا اور اگر آپ نے بٹن گم کر دیا ہوتا تو ایکسٹرا بٹن بھی مل جاتا تھا۔ ہم بچوں کی وجہ سے عموماً ”اس ڈبے کی حالت خاصی گنجلک ہو جاتی تھی کہ ہم نے کسی کام سے ڈبہ کھولا اور اپنے کام کی چیز ڈھونڈنے میں سارا ڈبہ تلپٹ کر دیا۔ لیکن امی اکثر ڈبے کی صفائی کرتی رہتی تھیں۔ سارے لوز دھاگوں کو سلیقے سے لپیٹ دیا جاتا۔ تمام چھوٹی بڑی سوئیوں کو ترتیب سے ایک نرم سے گتے کے ٹکڑے میں پرو دیا جاتا۔ رضائیوں کو تاگنے والے ڈی ایم سی کے موٹے دھاگے علیحدہ حصے میں رکھے جاتے۔ اس طرح کوئی بھی چیز ڈھونڈھنے میں آسانی رہتی تھی۔

دیکھا گیا ہے کہ کچھ گھروں میں ایسے ڈبے کے اندر نیچے ایک گول گتے کا پیس کاٹ کے رکھا ہوتا تھا جس کے نیچے کچھ چھوٹے موٹے بل، ڈاکٹر کے نسخے یا کوئی ایک آدھ تصویر بھی رکھی ہوتی تھی۔ اچھا کیا ایسے ڈبے میں صرف سلائی کڑھائی سے متعلق اشیاء ہی رکھی جاتی تھیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ بعض ڈبوں میں سے آپ کو کروشیا، اور کچھ کروشیا کی لیس کے بنے ہوئے چھوٹے نمونے کے پیس، ٹچ بٹن، ہک، بکسوئے، قلم کی نب (خصوصاً زیڈ اور جی کی نب) ، شیونگ بلیڈ کا کاغذ میں لپٹا ہوا ٹکرا (جو غالباً کسی کپڑے کی سلائی کو کھولنے یا ادھیڑنے کے کام آتا تھا) ، اور دو چار طرح کی دوا کی گولیاں مثلاً ”سردرد، جسم درد، پیٹ میں مروڑ وغیرہ کی گولیاں اسی ڈبے سے مل جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ پھوڑے پھنسیوں پہ لگانے والا بیلا ڈونا کا بچا کھچا پتا بھی اسی ڈبے میں مل جاتا تھا۔ تاہم جب تک گھر میں پاندان کا استعمال ہوتا رہا تو ایسی ادویات پاندان کے زیریں حصے سے برآمد ہوتی تھیں۔ پاندان اور سلائی مشین کے ذکر سے مجھے اپنی نانی اور بلو پھوپھی (نام تو ان کا والیہ تھا لیکن پیار سے انہیں بلو کہتے تھے۔ ) یاد آجاتی ہیں، سلائی مشین لے کے بیٹھی ہیں اور انتظار میں ہیں کہ کوئی سوئی میں دھاگا ڈال دے۔ کیونکہ ان کی نظر کافی کمزور ہو چکی تھی۔

کبھی کبھی ڈبے میں سے کوئی بھولی بسری اٹھنی، چونی یا کچھ دوسرے سکے بھی مل جاتے تھے۔ لیکن ان کے استعمال سے پہلے آپ کو ایک آواز لگانا پڑتی تھی کہ کوئی وہاں رکھ کر بھول تو نہیں گیا، مبادا، ان پیسوں کا اصلی مالک بعد میں سب سے جھگڑتا پھرے کہ اس کے پیسے کس نے نکالے۔ گتے کے نیچے کسی اخبار کا تراشہ بھی مل جاتا تھا جس میں کسی حکیمی دوائی کا نسخہ اور بنانے کا طریقہ لکھا ہوتا۔ کسی تراشے پہ کھانے کی کوئی ڈش پکانے کی ترکیب درج ہوتی تھی۔ اب تو ٹی وی پہ کھانا پکانے کے چینلز میسر ہیں۔

آج کے دور میں فرسٹ ایڈ باکس کی طرح، پلاسٹک کے بنے ہوئے خوبصورت ڈبے جس میں سوئی دھاگے سے متعلق یہ تمام ضروری اشیاء موجود ہوتی ہیں بازار سے بآسانی مل جاتے ہیں۔ شاید وہ گول بسکٹ کے ڈبے والی بلکہ یوں کہئیے کہ قارون کے خزانے والی رومانویت ختم ہونے کو ہے۔

Facebook Comments HS