میں اور میڈوسا ہنستے ہیں!
دنیا میں پچاس برس گزارنے کے بعد جب میں کسی حد تک کچھ باتوں کو تھوڑا بہت سمجھنے لگی تو میں نے محسوس کیا کہ میں بھی لکھ سکتی ہوں۔ اپنی یادوں کے بارے میں۔ اُن یادوں کے حوالے سے جن میں ایک عورت تھی۔ ایک عورت جس کے پاس مخصوص اور مختلف یادیں تھیں۔ ایک منفرد ماضی تھا۔
لکھنے سے مجھے لگا کہ میرا حال میرے ماضی سے الگ ہو رہا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک عورت تھی جس نے لکھنا شروع کیا اور اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی یادوں کے بارے میں لکھ سکتی ہے کیوں کہ ان یادوں میں ایک عورت تھی جو اس سے ملتی جلتی تھی، شباہت میں بھی اور حالات میں بھی۔ وہ عورت مجھ سے باتیں کرتی تھی اور مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی اور جو بھی وہ مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی مجھے لگتا تھا کہ وہ سب بہت جانا پہچانا، بہت دیکھا دیکھا اور بہت بیتا برتا سا ہے۔
اس نے مجھے بتایا اُسے اُس کے جسم سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ بے جسم ہے۔ اس نے کہا باڈی لسBodyless، تو تم سمجھتی ہی ہو گی لیکن میرا یہ بے جسمی پن یا باڈی لسنیس (Body lessness) بھوتوں پریتوں والا یا آواگوون اور روحوں والا نہیں، حقیقی ہے، بالکل حقیقی۔ تم مجھے چھو کر دیکھ سکتی ہو۔
میں نے اسے چھو کر دیکھا۔ وہ حقیقی تھی، بالکل حقیقی۔ بالکل مجھ سی، بالکل میں۔ اس نے مجھے چھوا، میں نے اس کا لمس اپنے ہاتھوں پر محسوس کیا، اپنے چہرے پر اس کی سرد انگلیوں کو رینگتے ہوئے محسوس کیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اُسے کیسے انتہائی پُر تشدد طریقے سے بے دخل اور بے جسم کیا گیا۔
اُسی نے مجھے کہا کہ تم اب لکھنے لگی ہو۔ تم ایک گائناکالوجسٹ ہو۔ تم نے ہزاروں عورتوں کو وہاں تک اور اس حال میں دیکھا ہے جس میں وہ خود بھی خود کو دیکھ نہیں سکتیں۔ دیکھ بھی لیں تو جان نہیں سکتیں۔ ضرور تم اپنے بارے میں لکھو۔ لیکن جیسے اپنے بارے میں، اپنے عورت اور ایک مخصوص الگ عورت ہونے کے بارے میں لکھتی ہو اُسی طرح دوسری عورتوں کے بارے میں بھی لکھو۔ لکھنے والی اور نہ لکھنے والی عورتوں کے بارے میں۔ تو میں نے طے کیا کہ میں ممکن حد تک اور زیادہ سے زیادہ عورتوں کے بارے ہی میں لکھوں گی۔
میں عورتوں کے بارے میں اور ان کی تحریروں کے بارے میں بات کروں گی۔ میں لکھوں گی کہ ہر عورت کو اپنے بارے میں خود لکھنا چاہیے۔ سب عورتوں کو عورتوں کے بارے میں لکھنا چاہیے اور انہیں اپنی تحریر میں عورتوں کو لانا چاہیے۔ عورتوں کو عورتوں کے ان حالات اور مقامات کے بارے لکھنا چاہیے جہاں سے انھیں انتہائی پُرتشدد طریقے استعمال کر کے نکالا گیا ہے۔
ہر انسان کا، ہر عورت کا جسم اس کا گھر، اس کا ملک اور اس کی دنیا ہوتا ہے۔ بہت سے نادان اس بات پر ناراض ہو جاتے ہیں۔ کیا وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ملک میں جو بھی ہو اس میں اُس کی مرضی بھی شامل ہو، اُن کی رضامندی کا بھی خیال رکھا جائے؟ یہی تعلق اُن میں اور اُن کے گھروں میں ہونا چاہیے اور یہی رشتہ ان کا ان کے جسموں سے ہونا چاہیے۔
یہ بات اگر آپ کو عجیب لگے تو ممتاز فرانسیسی مصنفہ، مفکر اور فیمینسٹ ہیلینی سسکو Helene Cixous کا کہا سن لیں :
’Woman must write her self must write about women and bring women to writing, from which they have been driven away as violently as from their bodies-for the same reasons, by the same law, with the same fatal goal. Woman must put herself into the text-as into the world and into history-by her own movement.‘
ہیلین سسکو کو میں نے حال ہی میں پڑھا۔ ان کی طرف مجھے خالد جاوید نے متوجہ کیا۔ وہ ہندوستان کے ممتاز فکشن رائٹر ہیں۔ سسکو کا ذکر انہوں نے میری کتاب ”وی بک“ کے حوالے سے کیا ہے۔ اس ذکر کے بعد میں نے انہیں تلاش کیا۔ جس کے نتیجے میں مجھے ان کا مضمون The Laugh of the Medusa ملا۔
سسکو فرانسیسی میں لکھتی ہیں اور ان کے اس مضمون کا انگریزی ترجمہ Keith Cohen and Paula Cohen نے کیا ہے۔
میڈوسا یونانی اساطیر میں ایک ایسی عورت ہے جسے منفی کردار کے طور پیش کیا گیا ہے۔ میڈوسا کے بال سانپوں کی شکل کے ہیں اور میڈوسا جسے دیکھتی ہے اسے پتھر کا بنا دیتی ہے۔
اس کے باوجود میڈوسا یونانی دیوتاؤں کے عتاب کا شکار ہوئی۔ ریپ کے بعد میڈوسا کو قتل کر کے اس کے سر کو دیوتاؤں نے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا کیونکہ اس کے سر میں کٹنے کے بعد بھی وہ طاقت قائم تھی کہ جس کو دیکھے اسے پتھر بنا دے۔ عورت کی صلاحیتوں اور غیر معمولی قابلیت کو منفی تاثر کے ساتھ جوڑ کر اسے تاریخ کا منفی کردار بنا دیا گیا۔ لیکن سسکو کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے میڈوسا کے کردار کو زندہ کرتے ہوئے دوبارہ تخلیق کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر عورت کو اپنی آزادی کی خاطر اتنا ہی طاقتور ہونا چاہیے اور ہر عورت کو میڈوسا کی طرح کا ردعمل دینا چاہیے اگر اس کے اظہارِ رائے کے سامنے کوئی رکاوٹ آئے۔ ہیلن نے میڈوسا کو مزاحمت کی علامت بنایا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کیمیو نے سسیفس کے کردار کو نیا تعارف دیا۔ سسیفس ایک ایسا کردار جس کی سزا تھی کہ اسے ایک بھاری پتھر ایک پہاڑی پر چڑھانا ہے اور جب بہت مشکل سے وہ چڑھا لیتا ہے تب پتھر کو پھر نیچے لڑھکا دیا جاتا ہے اور سسیفس کو کہا جاتا ہے کہ وہ پھر اسے اوپر لے کر جائے۔ کیمیو نے سسیفس کو ایک ایسی علامت کے طور پر پیش کیا جو جدوجہد کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ سسیفس ہار نہیں مانتا، نتیجے سے مبرا ہو کے اپنا کام کرتا جاتا ہے اور جس کا ایمان یہ ہے کہ مجھے یہ کام کرنا ہے۔
تو سسکو کہتی ہیں عورتوں کو چاہیے کہ وہ خود لکھیں، عورتوں کے بارے میں لکھیں، عورتوں کو تحریروں میں لائیں۔ ان تحریروں میں جن سے انہیں انتہائی متشدد طریقوں سے نکال دیا گیا تھا بالکل اُسی طرح جیسے انہیں ان کے جسموں سے نکالا گیا، اُسی سبب سے، اُسی قانون کے تحت اور اُسی اندوہناک مقصد کے لیے۔
کیسے اور کیوں؟
ان کی کوئی رائے نہیں، ان کا کوئی خیال نہیں، انہیں کسی قسم کی اجازت نہیں، کسی بھی معاملے میں ان کی مرضی نہیں، ان کا اپنے کسی بھی معاملے پر اختیار نہیں، تو وہ اب جسموں سے عاری ہیں۔
اب سسکو تجویز کرتی ہیں عورتیں جس طرح اپنی تحریکوں کے ذریعے خود کو دنیا اور تاریخ میں لائی ہیں اُسی طرح اب انہیں خود کو اپنی تحریروں اور متون میں بھی لانا چاہیے۔
مستقبل کا تعین ماضی سے نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی کے اثرات حال پر پڑتے ہیں اور پڑتے رہیں گے۔ لیکن انہیں دہرا کر تقویت نہیں دی جانی چاہیے۔ انھیں تقدیر کا مساوی اور ناقابل واپسی مقام نہیں دیا جانا چاہیے۔ توقع اور امید کو ہمیشہ موقع دینا ضروری ہے۔
زندگی کے تمام عکس مختلف مقامات پر اپنی ہیئت یا شکل اختیار کرتے ہیں جہاں سے انہیں دریافت کیا جا سکے، ایسے ہی کہیں نہ کہیں ان پر ہمارے وقت کے نشان بھی ہوں گے۔
ایک ایسے وقت میں نیا پرانے سے الگ ہوتا ہے، اور زیادہ واضح طور پر نسائی یا نسائی تناظر میں، نیا پرانے میں سے (la nmwelle de l ’ancien) یعنی پرانے میں سے نیا سامنے آتا ہے۔ ہر نئے ڈسکورس کے لیے کیوں کہ کوئی بنیاد نہیں ہے تو ہمیں اس ہزاروں سالہ بنجر میں سے ہی ایک بنیاد استوار کرنا ہو گی۔
ہمیں کم از کم دو مقاصد سامنے رکھنے ہوں گے، وہی دو مقاصد جو اب تک سامنے نہیں رکھے گئے : بندھے لگے تصورات کو نیست و نابود کرنا؛ اور غیر متوقع کا اندازہ لگانا، اُسے سامنے لانا۔
تحریروں میں جب لفظ عورت لکھا جاتا ہے تو یہ روایتی مرد کے خلاف ناگزیر جدوجہد کرنے والی عورت کی بات ہوتی ہے۔ ایک ایسی ہمہ گیر عورت جسے نہ صرف دنیا کے ہر جغرافیے کی عورت کو اس کے گم شدہ ہوش و حواس واپس دلوانے میں مدد کرنی ہے بل کہ اُسے تاریخ میں اس کے اپنے معنی تک بھی پہنچانا ہے۔
لیکن سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ عورتوں کو اندھیرے میں رکھنے والے اُس جبر کی وسعت کے باوجود عورتوں کو اس اندھیرے کی تاریکی اور اُس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ کیوں کہ یہ اندھیرا جسے مردوں کی بہت بڑی اکثریت اپنا وصف اور شناختی خصوصیت مانتی رہی ہے اور مانتی ہے اور شعوری و غیر شعوری طور پر اِسے اپنا صنفی فرض بھی قرار دیتی ہے۔
اس وقت کوئی عورت عام عورت نہیں ہے بلکہ ایک بات تمام عورتوں میں مشترک ہے کہ وہ عام نہیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی انفرادیت کا بے مثال نمونہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انتہائی متاثر کرتی ہے کہ ان کے پاس انفرادیت کی لامحدود فراوانی ہے۔ خواتین کی جنسیت کے بارے میں یکساں کوڈز مختص نہیں کیے جا سکتے، مخصوص معنی دینے والی اصطلاحات میں بات نہیں کی جا سکتی نہ ہی عورتوں کی درجہ بندیاں کی جا سکتی ہیں۔
زیادہ سے زیادہ ان میں ایک دوسرے سے لاشعوری مشابہت کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ موسیقی، پینٹنگ اور ادب میں خواتین کا تخیل ناقابل تسخیر اور ناقابلِ تقابل ہے۔ لیکن ابھی خواتین کی موسیقی، مصوری اور ادب کو دیکھنے کے منصفانہ معیارات دریافت نہیں کیے جا سکے۔ ابھی تک انہیں پدرسری سوچ کی بنیاد پر بنائے گئے معیاروں سے ہی دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔
پدرسری اثرات دنیا کی تمام زبانوں میں ہیں اور کیوں نہیں ہوں گے کیونکہ زبان بنیادی ہتھیار ہے۔ اس لیے جب تک زبانوں کی بنیادوں میں چھپ کر بیٹھی پدرسریت کو پرکھا نہیں جائے گا اور زبان کو غیر جانبدار نہیں بنایا جائے گا تب تک پدر سری اثرات سے پاک تصورات قائم نہیں ہو سکتے۔ تب ہی کوئی تصور پیدا ہو گا اور پہلے سے موجود زبان میں نیا اظہار پا سکے گا۔
تمام زبانوں اور ان کے الفاظ کو اب تک جو معنی دیے گئے ہیں وہ تصورات کو متعین حدود سے نکلنے راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اردو میں عورتوں کے اعضاء کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا شدید فقدان ہے۔ اور اس کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ایک مریض عورت آپ کے پاس آتی ہے، وہ آپ کو بہت شرمندہ ہو کے کہتی ہے کہ مجھے تکلیف ”وہاں“ پہ ہے۔
کہاں؟
وہاں
وہاں کہاں؟
نیچے
نیچے کہاں؟
نیچے۔
اس کے پاس نہ حوصلہ ہوتا ہے، نہ جرات، اور نہ الفاظ۔ بقول سسکو کے کہ اسے اس کے جسم سے نکال دیا گیا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا الفاظ کے اپنے معنی ہوتے ہیں؟ اگر آپ کسی زبان کو نہیں سمجھتے تو اس کے الفاظ اگر ہم سن یا پڑھ بھی لیں تو پھر بھی وہ الفاظ ہمارے لئے بے معنی ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ الفاظ کے معنی ہوتے ہیں جو ہم انہیں الاٹ کرتے ہیں۔ گالیوں میں استعمال ہونے والے بہت سے الفاظ کا بذات خود کوئی مطلب نہیں تھا، اسے معاشرے نے بلکہ پدرسری معاشرے نے معنی کا چولا پہنایا ہے۔
ان الفاظ کے ساتھ شرم فحاشی اور عورت کو کمتر دکھانے کا ایک سبب بنایا ہے کہ اگر آج عورتوں کے سامنے آپ وہ والے الفاظ بولیں، جن کو ”چ“ یا ”پ“ سے شروع ہوتے ہیں تو ظاہر ہے ہر عورت شرمندہ ہو کر بیٹھ جائے گی اگرچہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہو گا۔
ہمارے معاشروں میں جو بھی حالات ہیں کیا وہ لکھنے کی آزادی کے لیے ساز گار ہیں۔ پھر بھی اردو میں جن عورتوں نے لکھا ہے، کیا اُسے پڑھنے کے لیے درکار عورت ذہن موجود ہے۔
نہیں ہے۔ ہر گز نہیں ہے۔ مجھے کہنے دیجیے ابھی تو ہم عورتوں نے عورت ہو کر، خود کو عورت مان کر لکھا ہی نہیں۔ کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ ابھی تو زبان کے صنفی کردار کا تصور ہی پیدا ہوا۔ ابھی اس تصور نے پیدا ہونا ہے۔ ابھی دستیاب زبان میں چھپے ہوئے نام نہاد مردانگی اور پدر سریت کی بالادستی کے جکڑ کر رکھنے والے اثرات کی نشاندہی ہونی ہے۔ پھر اس کی صفائی کے طریقوں کے بارے میں سوچا جانا ہے۔
جب یہ عمل ہو جائے گا اور عورت کی اپنی زبان اپنے معنی میں اپنا اظہار کرنے لگے گی تو عورت لکھے لگی۔ لکھنے والی وہ عورت بتائے گی کہ ہم ہی نہیں ہم سے پہلی نسلیں بھی کیسے حالات اور کیسی پابندیوں کا شکار رہیں۔ ہم نے کیسے کیسے ان پابندیوں سے نکلنے کی کوششیں کیں یا نہیں کیں۔
لیکن کیا تب تک عورت سوچے گی نہیں؟
کیا تب تک عورت لکھے گی نہیں؟
میری تمام تحریریں اسی کوشش کا حصہ ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے پڑھیں۔
مرد بن کر؟
عورت بن کر؟
عورتوں کو محکوم رکھنے والے مرد بن کر؟
مردوں کی محکوم رہنے والی عورت بن کر؟
پدرسری کے مرض کو سمجھنے والی روشن خیال اور تبدیل ہوتے ہوئے مرد کے ساتھ رہنے والی عورت بن کر؟ یا ایک دوسرے کے شریکِ حیات اور ایک دوسرے کو انسان سمجھنے والے مرد اور عورت بن کر؟
( یہ مضمون ہندوستان سے نکلنے والے رسالے اثبات کے مزاحمت نمبر میں ”اظہار، نسائی اظہار اور مزاحمت“ کے عنوان سے چھپا )

