ساحل عدیم، مسجد، فتوی اور ریاست
کل ساحل عدیم صاحب ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں خواتین کے حقوق پہ بات کرنے کے لیے خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ براجمان تھے، شو کی میزبان نے عورت مارچ اور عورت کے ساتھ ہونے والے استحصال کے متعلق ساحل عدیم صاحب سے سوال کیا تو ساحل عدیم صاحب کا کہنا تھا کہ عورت غلط جگہ احتجاج کر رہی ہے، اسی لیے اس کے احتجاج کو مذہبی طبقے اور مردوں سے نفرت کا سامنا ہے، عورت کو چاہیے کہ وہ محلے کی مسجد کو موبلائز کرے تاکہ ایک مولوی جو عورتوں کے حقوق کا نعرہ سن کر سیخ پا ہو جاتا ہے، وہ بجائے سیخ پا ہونے کے ان عورتوں کی بیک پہ کھڑا ہو، اس طرح آگے بڑھتے ہوئے وہ مولوی گھریلو تشدد، جبری شادی، اور عورتوں کو درپیش دیگر مسائل پہ فتویٰ جاری کرے گا، اس فتویٰ سے مردوں میں سزا اور مذہبی طور پہ جرم کا احساس انھیں اس چیز پر مجبور کرے گا کہ وہ عورتوں سے ظلم پہ مبنی رویہ بند کریں۔
ساحل عدیم صاحب شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی مرد کو اس ظلم اور غلط فعل کی اسلامی سزا اور وبال کا علم نہیں اس لیے وہ اس طرح کر رہا ہے، اور اگر اسے یہ باور کروا دیا جائے تو وہ اس فعل سے باز آ جائے گا۔
اسی لیے وہ مساجد سے فتویٰ کو اس کا حل سمجھتے ہیں، پھر اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں کثیر تعداد میں مساجد ہیں جو اگر عورتوں پہ ہونے والے مظالم یا فلسطین میں جہاد کے فرض عین ہونے اور اس پہ فوج بھیجنے پر فتویٰ دیں تو ریاست یہ اقدام اٹھانے پہ مجبور ہو جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ ساحل عدیم مسجد کو قرونِ وسطٰی کے چرچ کے خطوط پہ بھی استوار کرنا چاہتے، اس کا اندازہ ان کے اس جملے سے ہوتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ جب مسجد کے پاس وہ طاقت آ جائے جو تھانے کے پاس پہ جو عدالت کے پاس ہے تو یہ مظالم بند ہو جائیں گے، پروگرام کی میزبان نے جب ان سے اختلاف کرتے ہوئے سوال کیا کہ یوں تو مساجد سمیت سماج میں ملا کی اتھارٹی قائم ہو جائے گی جو اگر غلط استعمال ہوئی تو اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، تو ساحل عدیم نے کمال غیر منطقی جواب سے اتنے سنگین معاملے کو معمولی بناتے ہوئے عرض کیا کہ یہ سب بتدریج ہو گا، یعنی پہلے ایک دو نسل ملا ازم کی بھینٹ چڑھے گی اور بعد میں فطری ارتقا اسے درست جگہ پر لے آئے گا، اس کے اثبات میں انھوں نے ڈنمارک میں ٹریفک سگنل کی مثال دی کہ آج اگر وہاں کوئی ٹریفک سگنل نہیں توڑتا تو وجہ یہ ہے کہ پیچھے ان کی دو تین نسلیں ایسی گزر چکی پیں جو ٹریفک سگنل توڑنے پہ زیر عتاب آئی ہیں (حالانکہ وہاں ٹریفک سگنل کی سزا سٹیٹ کی قائم کردہ اتھارٹی دے رہی ہے، کوئی سینٹ، پادری یا پوپ نہیں)۔
مجھے ساحل عدیم صاحب کی سوچ انتہائی سطحی و عامیانہ سی لگی وہ اس لیے کہ پاکستان میں اول تو ہر مسجد کسی نہ کسی مکتب فکر (دیوبند، بریلوی، اہلِ حدیث وغیرہ) سے جڑی ہوئی ہے اور ان کے کراچی اسلام آباد یا دیگر بڑے شہروں میں بیٹھے اکابر یا تو حکومت کی بیعت کر چکے ہیں یا پھر ان کے نزدیک ریاست و اس کا نظام عین اسلامی ہے لہذا ایسے میں وہ کوئی کردار ادا کرنے کے حق میں نہیں اور یہ مساجد ان کے حکم سے بال برابر مختلف فتویٰ دینے پر تیار نہیں۔
مزید یہ کہ جس مسجد کو موبلائز کرنے کا ساحل عدیم اتنا آسان سمجھ رہے ہیں وہ انتہائی پر خطر اور حساس معاملہ ہے، وہ اس لیے کہ آپ پاکستان کی اکثریت مساجد کے امام صاحب سے اختلاف رائے نہیں کر سکتے، وہ دینی تعبیرات و سماجی معاملات میں مطلق العنان کا درجہ رکھتے ہیں اس کا مظاہرہ خود اپنے ارد گرد دیکھ چکا ہوں، کہ امام صاحب سے اختلاف رائے کرنے والے کا مقتدیوں نے کیا حشر کیا، اور اس سب پہ امام صاحب بالکل مطمئن و ہشاش بشاش نظر آئے، نیز امام صاحب کی وسعت نظری کا یہ عالم ہے کہ وہ مسجد میں اپنے مکتبِ فکر سے ہٹ کر کسی اور مکتبِ فکر کے افراد کو وہاں اسلام کی ہی تبلیغ نہیں کرنے دیتا تو آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔
دوم یہ کہ اگر مسائل کا حل فتویٰ جات ہیں تو ساحل عدیم صاحب جامعہ بنوریہ یوسف ٹاؤن، دار العلوم دیوبند، محدث فورم اور فتویٰ آن لائن کی ویب سائٹ پہ جائیں وہاں مذکورہ تمام معاملات پہ فتویٰ جات، متعلقہ حدود و تعزیرات وغیرہ موجود ہیں، لیکن ظلم کرتے وقت ریاست سمیت مرد حضرات کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
اس کے لیے ہمیں پاکستان میں مختلف اوقات میں دیے جانے والے فتویٰ جات، ان کی تاریخ اور اثرات کا جائزہ لینا ہو گا، تاکہ جو مقدمہ ہم قائم کرنا چاہ رہے ہیں وہ قائم تو ہو۔
اس سلسلے میں شروعات کرتے ہیں سود سے، سود پہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ سمیت کئی فتویٰ جات موجود ہیں، جن میں واضح انداز میں یہ چیز درج ہے کہ سود حرام ہے، لیکن ریاستی طور پہ آج تک سودی نظام نہ صرف رائج ہے بلکہ ہر شہری ریاستی قرضہ جات پہ سود کی ادائیگی میں ٹیکسوں اور دیگر ذرائع سے اس کے ادا کرنے میں بھی شامل ہے۔
اس سے کچھ پیچھے چلیں تو افغان جہاد پہ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کے رسالہ ”الجمعیہ“ اکتوبر 1999 میں مولانا مفتی محمود مرحوم کا افغان جہاد (گروہی جہاد) کے بارے فتویٰ کا ذکر ہے کہ انھوں نے 1979 میں روس کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا، جبکہ 2017 میں 31 جید علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے یوں مفتی محمود مرحوم کے فتویٰ کا رزلٹ دہشت گردی، منشیات، کلاشنکوف اور بد امنی کی صورت میں نکلا، کیونکہ مذکورہ تمام چیزیں سویت افغان جنگ کی پراڈکٹ ہیں، اور اس میں مفتی محمود مرحوم بھی شریک ہیں۔
اس طرح اگر 1969 میں سوشلزم کے خلاف دیے جانے والے فتویٰ پہ بات کی جائے تو اس پہ 113 سے زیادہ علماء کرام نے دستخط کیے اور فتویٰ کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں :
”اس وقت اسلام اور پاکستان کے لیے سوشلزم سے بڑا کوئی خطرہ اور فتنہ نہیں ہے۔ ان کے خلاف جہاد ہر مسلمان پر بقدر طاقت فرض ہے۔“
اس فتویٰ پہ سوچا جائے تو اس میں کیپٹلزم کو بالکل زیر عتاب نہیں لایا گیا نہ ہی کوئی الگ سے فتویٰ دینے کی ضرورت سمجھی گئی لہذا اس فتویٰ کا براہ راست فائدہ کیپٹلزم کو ہوا۔
کچھ آگے بڑھتے ہوئے حال ہی میں ہونے والے سوات واقعہ کو یاد کریں کہ کس طرح ایک شخص کو ایک جتھے نے زندہ جلا دیا جبکہ گستاخی کے معاملے پہ تو متعدد فتویٰ جات موجود ہیں جن میں یہ درج ہے کہ ایسے شخص کو سزا دینا فقط ریاست کا اختیار ہے، بلکہ ضیا الحق کے دور میں جاری ہونے والے حدود آرڈیننس میں تو حدِ قذف یعنی زنا میں جھوٹا الزام لگانے پہ ”جھوٹے دعویدار“ پہ حدِ قذف جاری کرنے کا حکم ملتا ہے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی پہ جھوٹ باندھنے کی سزا ہے لیکن یہاں گستاخی کے معاملے میں آبادی کی اکثریت اپنا ”پولیس جج اور جلاد“ کا منصب چھوڑنے کو تیار نہیں، اس معاملے میں ریاست خود ان جتھوں سے خوف زدہ ہے، تو وہ کیا کسی جھوٹے الزام لگانے کو سزا دے گی؟
ان تمام امور کو بحث میں لائے بغیر آپ کو ہمارا موقف سمجھ نہ آتا، ہمارا موقف یہ ہے انسانی تاریخ میں انسان کا ریاست کو قائم کرنا ایک انقلابی عمل تھا، اس اتھارٹی کی قیام سے جتھہ بازی، طاقت کے اصول، انفرادی سزا جزا اور حقوق و فرائض کی تقسیم ممکن ہوئی لہذا ”ریاست“ ہی وہ اتھارٹی ہے جو حقوق کی ضامن و محافظ ہے، بشرط یہ کہ وہ ایک صالح انسان دوست اور عادلانہ فکر و فلسفہ پہ قائم ہو نہ کہ نیو کالونیئلزم پہ۔
آج ہماری مسجد کو آزاد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مسجد نبوی جیسا کردار ادا کر سکے، وہ سماجی و معاشرتی مسائل کے حل کا مرکز ہو، وہ ایک تربیت گاہ ہو، سکول ہو، ایک اسمبلی پوائنٹ ہو، ایک مشورہ گاہ ہو، ایک صالح سماجی اکائی ہو اور اس عمل کی سمت مسجد سے پارلیمنٹ کی طرف نہیں بلکہ پارلیمنٹ سے مسجد کی طرف ہے، کیونکہ جس قوم کا سیاسی نظام غالب ہو دین و مذہب، سماج اور رسم و رواج حتی کہ زبان و لباس بھی اس قوم کا غالب ہوتا ہے۔
رہی بات فتویٰ کہ تو جیسے اوپر بیان کر چکا ہوں نیو کلونیئلزم میں خلافت ڈھونڈنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ اسلام شریعت طریقت اور سیاست کا مجموعہ ہے، یوں اگر سیاسی نظام آپ کا اپنا نہیں تو پھر کیسی شریعت (مطلب جب شریعت کو نافذ کرنے والی اتھارٹی پہ آپ کا اختیار نہیں تو شریعت اپنے ثمرات نہیں دکھا سکتی) کہاں کے فتویٰ؟


