انسان دشمن جرگہ سسٹم کو ختم کیا جائے
سندھ آج سنگین اور خطرناک صورتحال سے دو چار ہے۔ ایک طرف اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے نام پر سندھ کی زمینیں، وسائل اور جزیرے غیر ملکی سرمایہ داروں کو فروخت کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب قبائلی سرداری نظام اور کاروکاری کی فرسودہ روایات نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ وڈیروں اور سرداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اغوا، جرگوں، لوٹ مار اور ڈکیتیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سندھ کے مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
جرگے کے فیصلوں کے تحت خون بہا کے طور پر کم سن لڑکیوں کو ’ونی‘ کے طور پر دینا ریاست کی مکمل ناکامی اور قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ حالیہ امن و امان کے حوالے سے سکھر میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں جرگہ بلانے کا اعلان عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے صدر زرداری کا یہ عمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
یاد رہے کہ 2004 میں سندھ ہائی کورٹ اپنے ایک فیصلے میں جرگہ نظام کو غیر قانونی اور متوازی عدالتی نظام قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، جسٹس رحمت حسین جعفری نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئندہ اگر کوئی جرگہ منعقد ہوا تو اس کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، جن میں چھ ماہ سے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر جرگے کے فیصلے سے کسی کا قتل ہوا تو جرگہ کرنے والوں پر تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302 کے تحت، جو کہ عمداً قتل سے متعلق ہے، مقدمہ درج کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 1963 کے بعد پاکستان کے آئین کے تحت سندھ اور پنجاب میں جرگوں کا انعقاد ممنوع ہے، مگر اس کے باوجود بھی غیر قانونی جرگے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
صدر زرداری کے اس اجلاس کے نتیجے میں سرداری اور وڈیرہ شاہی نظام کمزور ہونے کے بجائے مزید طاقتور ہو گیا ہے۔ فرض شناس صحافیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ جان محمد مہر اور صحافی نثر اللہ گڈانی کے قاتل ابھی تک قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ طاقتور افراد کی مرضی کے بغیر کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ کی زمین پر قبضہ ہو جائے تو پولیس کچھ نہیں کر سکتی۔ آپ کو ان ہی طاقتور افراد کے پاس جانا پڑتا ہے، جن کی ہدایت پر ہی پولیس کارروائی کرتی ہے۔
صوبے میں عملی طور پر انتظامیہ کا کنٹرول نہیں بلکہ یہ کنٹرول ان ہی طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری جانب، ان طاقتور افراد کو ریاستی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے میں پولیس اور سرداروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ معصوم لوگوں کو اغوا کرنا عورتوں کو کاری قرار دے کر قتل کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جس کے نتیجے میں وڈیرے اور سردار کروڑوں روپے کماتے ہیں۔
جاگیردارانہ نظام کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ کوئی اس کے خلاف کھڑا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی اس نظام کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرے، تو اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے، جیسا کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں ہوا۔ ان کے لواحقین کو جرگے کے ذریعے صلح کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اور اب پروفیسر اجمل ساوند کے قاتلوں کو بچانے کے لیے جرگہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ ایسے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جرگہ نظام جرم کو فروغ دینے اور مجرموں کو پناہ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں پر فیصلے عدالت کے بجائے چند طاقتور لوگو کرتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ریاستی ادارے سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اپریل 2004 میں سندھ ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے نے جرگہ نظام کو غیر قانونی قرار دیا اور پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جرگوں کے انعقاد کو روکے، لیکن پولیس اس قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ریاستی اداروں کی یہ خاموشی اور ناکامی جرگہ نظام کے تحت ہونے والے جرائم کو مزید تقویت دیتی ہے اور نظامِ عدل کی ناکامی اور ریاستی اداروں کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ جب تک ان مسائل پر قابو نہیں پایا جائے گا، انصاف کی فراہمی ایک خواب ہی رہے گی۔
عوام کی امیدیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں اور انصاف کا حصول مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ جرگہ نظام نے اب تک انسان دشمن فیصلے کیے ہیں اور ہمیشہ جرم اور مجرمانہ طرزِ عمل کے فروغ کا ذریعہ بنتا رہا ہے اس نظام کے تحت بے شمار بے گناہ لوگ ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ با الخصوص خواتین اور بچے، لہذا اسے مزید مضبوط بنانے کے بجائے جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے۔

