ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی۔ وجہ کیا؟


کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب گزشتہ 3 سالوں میں پی سی بی کے چیئرمین کو بار بار تبدیل کیا گیا، سیاسی عدم استحکام پی سی بی میں بھی عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ 3 سال کے عرصے میں 4 چیئرمین تبدیل کیے گئے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر چیئرمین کا بورڈ کو چلانے کا اپنا منصوبہ اور ٹیم کو مستحکم اور بہتر بنانے کے لیے اپنی پالیسی ہوتی ہے۔ لہذا، پی سی بی کے چیئرمین کی مسلسل تبدیلی ٹیم کی کارکردگی اور بورڈ کے ساتھ اس کے ہم آہنگی کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔

ان 3 سالوں میں ٹیم کے ساتھ کوئی ہیڈ کوچ مستقل طور پر نہیں رہا، ہیڈ کوچ کا اعلان مخصوص سیریز کے لیے کیا جاتا اور سیریز مکمل ہونے کے بعد ہٹا دیا جاتا تھا، پھر کسی اور کو آئی سی سی ایونٹ میں ٹیم کے ہیڈ کوچ کا چارج دے دیا جاتا تھا، جب پی سی بی ہیڈ کوچ کو وقت ہی نہیں دیتا اور ہر سیریز اور ایونٹ میں اسے تبدیل کرتا ہے تو پھر ہم ٹیم سے کارکردگی میں تسلسل کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں۔

ایک اور تباہ کن فیصلہ یہ تھا کہ جب حکومت نے محسن نقوی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنانے کا اعلان کیا، ان کے پاس پہلے ہی ملک کی وزارت داخلہ کا ایک اہم اور وقت طلب عہدہ تھا پھر کوئی کیسے دو مختلف شعبوں پر ایک جیسی توجہ دے سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر نارکوٹکس کی کرسی بھی سنبھال رکھی تھی، جس شخص کا اپنا پرائیویٹ میڈیا چینل ہو، ملک کی 2 اہم وزارتیں ہوں تو پھر ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ اسے پی سی بی کا چیئرمین بنانا دانشمندانہ فیصلہ ہو گا۔ یہ حکومت پاکستان کی طرف سے صرف چند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے فیصلہ کیا گیا

پی سی بی کا چیئرمین بننے کے بعد محسن نقوی نے جو ایک اور غلطی کی وہ نظریہ ضرورت کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے کرکٹ ٹیم میں نئے عہدوں کی تخلیق تھی۔ انہوں نے ہیڈ کوچ کا عہدہ ختم کر کے ”ٹیم ڈائریکٹر“ کا نیا عہدہ متعارف کرایا۔ جس نے ابہام پیدا کیا کہ ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں سمیت نئے عہدوں کے مقاصد اور رول کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ٹیم سے چیف سلیکٹر کا عہدہ ختم کیا جا رہا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی میں 7 ممبران شامل ہوں گے جن کے پاس برابر کے اختیارات ہوں گے، کھلاڑیوں کا انتخاب اکثریت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہ غیر واضح اور الجھے ہوئے اقدامات کرکٹ ٹیم کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

ٹیم کی خراب کارکردگی کی ایک اور بڑی وجہ پی سی بی کے نقطہ نظر میں ابہام ہے۔ پی سی بی عوام میں کچھ غیر معقول بیانات دے کر اور اصل معاملے پر آنکھیں بند کر کے پاکستان ٹیم کو واضح کلیریٹی دینے میں ناکام رہا۔ پاکستان نے ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کے ساتھ سیریز کھیلی تھی جس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ٹیم کا دفاعی انداز ہمیں ورلڈ کپ میں پریشان کرے گا اسی لیے ہم انگلینڈ بی ٹیم سے 2۔ 0 سے ہار گئے۔ اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے آئرلینڈ کے ساتھ 3 میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی اور اسے 2۔0 سے جیت لیا، یہ ایک اور سیٹ بیک تھا جب آئرلینڈ نے پاکستان۔ اے ٹیم کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ جیتا تھا۔ آئرلینڈ کے ساتھ سیریز نے واضح طور پر ظاہر کیا کہ آئرلینڈ نے پاکستان کو مشکل وقت دیا کیونکہ وہ اپنے میچ جیتنے کے بہت قریب تھے۔ بابر کی ناقص کپتانی اور بری باؤلنگ نے آئرلینڈ کو پاکستان کی ٹاپ کلاس باؤلنگ سائیڈ کے خلاف 190 سے زیادہ رنز بنانے کا موقع دیا۔ لیکن اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سامنے آئے اور کہا کہ یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتے گی، اس ٹیم پر سوال نہ اٹھائیں اور انہیں سپورٹ کریں۔ اور ورلڈ کپ میں ٹیم کی باقی کارکردگی اب سب کے سامنے ہے۔

2019 میں جب سرفراز احمد کو بطور کپتان پاکستان کے لیے مسلسل 11 سیریز جیتنے کے باوجود ان کی خراب بیٹنگ فارم کی وجہ سے پاکستان کے کپتان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس سے دیگر کھلاڑیوں کو پیغام یہ ملا کہ ٹیم کی جیت سے زیادہ ان کی ذاتی کارکردگی اہم ہے، بابر کا دفاعی انداز بھی اسی ذہنیت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے محسن نقوی کو ٹیم میں گروپ بنانے والے کھلاڑیوں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے پھر اس ٹیم مینجمنٹ کو لایا جائے جو اپنے رول اور ٹیم کی ضرورت کو اچھی طرح جانتے ہوں، کسی کو خوش کرنے کے لیے پوزیشنیں دینے کی بجائے انہیں دی جائیں جو انہیں دی جائیں جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔ بابر کو فوری طور پر کپتانی سے ہٹا کر ایسے کھلاڑی کو کپتانی سونپی جائے جو جارحانہ مزاج رکھتا ہو اور صحیح وقت پر درست فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

Facebook Comments HS