تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز


بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان جو اس وقت جیل کی کال کوٹھڑی میں ہوتے ہوئے جس طرح ملکی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں اس کا ملکی سیاست میں صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان کی پارٹی کو چیلنجز بھی درپیش ہیں جس میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پارٹی میں عمران خان کے بعد کوئی ایسی شخصیت موجود نہیں جس پر پارٹی کارکنان آنکھیں بند کر کے یقین کر سکیں جس کی وجہ سے پارٹی میں گروپنگ کی خبریں بھی گردش میں ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں، ایسا ہونا فطری ہے کیوں کہ بہت بڑے درخت کے سائے میں رہنے والے پودے اکثر توانا نہیں ہو پاتے اور عمران خان جیسے قد کی شخصیت کے ہوتے ہوئے دیگر افراد کا بونا دکھائی دینا فطری ہے۔

سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اس وقت کس قسم کی حکمت عملی اپنانی چاہیے جس سے وہ بیک وقت عوام میں بھی مقبولیت برقرار رکھ سکے اور سسٹم میں بھی قبولیت حاصل کرسکے اس سلسلے میں ناچیز کی چند گزارشات ہیں

عمران خان کو اپنے تمام ترجمانوںکو واضح ہدایات دینا ہوں گی کہ پارٹی چھوڑ کے جانے والے ہر شخص کی واپسی کا فیصلہ وہ اپنی رہائی کے بعد کیس ٹو کیس کریں گے اس کے علاوہ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کسی ایسے شخص کو پارٹی میں شامل کرسکیں جو پارٹی چھوڑ کر جا چکا ہو۔

تحریک انصاف کو فوری طور پر اپنے متحرک ترین پارٹی ورکرز کی فائنل لسٹ مرتب کرنی ہوگی اور اس کے بعد جماعت کے اندر انتخابی عمل سے خود کو گزارنے کا اعلان کر کے ورکرز کو مطمئن کرنا ہو گا کیوں کہ ان کا ورکر اس وقت سسٹم میں تبدیلی کا جو خواب آنکھوں میں سموئے ہوئے ہے اور جو معیار وہ اپنی قیادت کے لیے منتخب کرچکے ہیں اب اس کا تقاضا ہے

بلاشبہ تحریک انصاف کے پاس حکومت آنے ہی والی ہے تو تحریک انصاف ہنگامی حالات میں اپنی وہ ٹیم مرتب کرنا ہوگی جس نے ملک کی معاشی سمت کو درست کرنا ہے اور معاشی ریفارمز کرنی ہیں پاکستان میں مقبولیت زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہتی اس لیے جو بھی فیصلے کرنے ہیں وہ پہلے سے پلان شدہ ہوں تاکہ حکومت میں آتے ہی اس سب پر کام شروع کر دیا جائے اور اس کے نتائج عوام کو جلد ملنا شروع ہوجائیں

تحریک انصاف کو اپنے کارکنان کو گراس روٹ سطح پر مضبوط کرنے کے لیے اور عوام کے بنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے جمہوریت کی بنیاد یعنی بلدیاتی انتخابات پر اپنا فوکس کرنا ہو گا نیز اپنے انتخابی منشور 2024 کے اہم نکتے truth and reconciliation کو عملی جامہ پہنانا ہو گا یہ واضح ہو چکا ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت میں انتخابی عمل سے دور نہیں رکھا جانا چاہیے اگر ملک میں پائیدار جمہوری روایات کو فروغ دینا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دینا ہوگی اور احتساب کے ادارے کے ناجائز استعمال کو روکنا ہو گا کرپشن کو کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کرنے ہوں گے۔ تمام سیاسی لیڈران رضاکارانہ طور پر اپنے اوپر لگے الزامات کا 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کروائیں اور مل کر مستقبل کے لیے ایسا لائحہ عمل طے کریں جس میں کسی قسم کا استحصال نہ ہو اور کرپشن کے فروغ میں بھی رکاوٹ ہو

یاد رکھیں جمہوریت کا بنیادی اصول بقائے باہمی ہے اکثریت کو حکومت کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اقلیت کو دیوار سے لگانے سے گریز کیا جاتا ہے جب سیاستدان عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے ”بھائی لوگوں“ کے مفادات کا تحفظ کریں گے تو بدلے میں ان سب کو اسی مرحلے سے گزرنا ہو گا جس سے وہ اب گزر رہے ہیں

Facebook Comments HS