بتریک گاؤ ں کے آتلاخ خان سے دلچسپ مکالمہ
اجنبی جگہوں پر دعائیں کتنی جلدی قبول ہو جاتی ہیں۔ ریسٹ ہاؤس کے لان میں چند مقامی لوگ داخل ہوئے۔ یہ مشی خان کے ساتھ تصویریں اُتروانے کے خواہشمند تھے۔ مُڈ بھیڑ میرے ساتھ ہی ہوئی۔ میں مشی خان کو باہر لے آئی یوں ایک چھوڑ کئی تصویریں بن گئیں۔ عورتیں نہال ہو گئیں۔ میرے مسئلے کا جاننے پر فی الفور انہوں نے اپنے گھر کی پیشکش کردی۔ سفر وسیلہ ظفر یونہی تو نہیں کہا گیا۔ چلیے میں پروین کو خدا حافظ کہہ کر ان کے ساتھ گاڑی میں لد گئی۔
یوں میں بتریک گاؤں کے اس مسلمان گھرانے کی مہمان ہوئی جس کی عورتیں اور مرد اُردو سے خاصی شناسائی رکھتے تھے۔ پڑھے لکھے تھے ۔ہوٹل چلاتے اور سرکاری ملازمتیں کرتے تھے۔ پھولوں، پھلوں سبزیوں ،درختوں، پودوں اور سبزے سے سجے اس گھر میں چائے پلانے کے فوراً بعد ہی وہ مجھے آتلاخ خان جو بتریک وادی کی سر کردہ شخصیت ہیں کے گھر چھوڑ آئیں۔ اس تاکید کے ساتھ کہ رات کا کھانا انکے ساتھ کھانا ہے۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صاحب خانہ کے ساتھ اس کا خاندان بھی موجود تھا۔ وادی میں داخلے کے وقت سے میں ایک بڑے سے سوال کی گرفت میں تھی۔ کیسے اور کس طرح اس بے حد قدیم قوم نے وقت اور زمانے کی آندھیوں اور طوفانوں سے قبائل اور قوموں کی یلغاروں سے اپنے ارد گرد موجود مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگوں سے ارتباط کے باوجود اپنے عقائد رسم و رواج اور طور طریقوں کو بعینہ ویسے ہی سنبھالے رکھا۔ ان کے ساتھ بہت سے سوالیہ نشان ہیں اُنکے جواب کیا ہیں؟
اپنے آغاز کے بارے میں وہ یوں گویا ہوئے۔ ’’ہمارے بارے میں بے شمار آراء ہیں۔ چند زیادہ مستند ہیں۔ ’’ جنیمی‘‘ نے ہماری اصل دراوڑ کی اُس شاخ سے جوڑی ہے جو ابتدا میں مہاندیو کے ماننے والے چینی تھے ۔ ہماری مرن جیون کی رسومات قدیم اسرائیلیوں سے بھی ملتی ہیں۔ چند مصنفوں نے مغربی افریقہ کی ایک قوم ’’ چوس ‘‘ سے ہمارا ناطہ جوڑا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ہمارے جد امجد یونانی تھے جو سکندر اعظم کے ساتھ آئے تھے اور پھر یہیں رہ گئے۔ چند جرمنوں نے ہمیں آریاؤں کی اولاد بھی ثابت کیا ہے۔ کالاشیوں کی اکثریت اپنے آپ کو سیام (تھائی لینڈ) سے وابستہ کرتی ہے کیونکہ ہمارے مذہبی گیتوں میں سیام کا ذکر ملتا ہے۔
جب بارشیں رکنے کا نام نہ لیں تب ہماری عورتیں گیت گاتی ہیں کہ "اے خدا تو ہم سے بمبوریت لے لے اور ہمارا سیام ہمیں لوٹا دے۔”
بعض یورپی سیاحوں نے بھی اسکی تصدیق کی ہے کہ ہماری جیسی اقدار والے چند قبائل تھائی لینڈ میں رہتے ہیں۔ البتہ کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم افغانستان کے علاقے کافرستان سے ہیں جسے اب نورستان کہا جاتا ہے۔ وہاں کے کافر لال اور ہم کالے ہیں۔ چند محقق ہمیں چترال کے باشندے ثابت کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب تک ہم نے اپنی نسل کو بیرونی اثرات سے بچائے رکھا ہے۔ مگر اب مشنری ہمیں عیسائی اور مولوی ہمیں مسلمان بنانے پر کمر بستہ ہیں۔ خود ہمارے نوجوان ایک طرف اگر سیاحوں سے الرجک ہیں تو دوسری طرف اپنی اقدار سے بھی کسی حد تک گریز پا ہیں۔ ‘‘ وہ جونہی رُکے مجھے بولنے کا موقع مل گیا۔
’’بھئی جب آپ کے بچوں کو ایٹی کیٹس سکھانے کے لیے ٹیچرز یونان سے آئیں، وادی میں سترہ سکول کھلے ہوں جس میں پہلی جماعت سے انگریزی لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہو، وادی میں پوری دنیا سے سیاحوں کی بھرمار ہو، آپکے ہر گھر میں ریڈیو اور ٹرانسسٹر بجیں، اب ایسے میں آپ خود سوچیئے۔ بشالینی میں زچہ کو بھیج کر آپ اُسے ایک ہفتے کے لیے گھریلو دھارے سے الگ کر دیتے ہیں۔ زچگی بھی وہ بیس دن تک بشالینی میں خاندان سے الگ ہو کر گزارتی ہے اناڑی دائی کے ہاتھوں مر جائے تو منحوس ٹھہرتی ہے مردوں کے لیے اسکے جنازے کو کندھا دینا ممنوع، اب ایسے میں جو تہذیبی انقلاب آپ کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے اس سے خوف زدگی کیسی؟‘‘
تھال میں خوبانیاں اور توت سجے تھے۔ اخروٹ کی گریوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر تھا۔ سیاہی سے اٹے کمرے میں نمدے پر بیٹھی کو ڑیوں، سیپیوں اور بکری کے سینگوں کی راکھ کے تلوں سے سجی عورت چپ چاپ ہماری گفتگو سنتی تھی۔ بہو نے لوبیا پکایا تھا توے پر پتلے آٹے کو پوڑے کے انداز میں ڈال ڈال کر روٹیاں بناتی تھی۔
پھر جب رات کا چڑھاؤ ہوا تب کچھ لوگ مجھے لینے آئے جن کا آنا مجھے اچھا لگا۔ زار ولی خان کے ہاتھ میں لالٹین تھی اور نشرف بی بی اور بی بی تاج نے ٹارچیں پکڑی ہوئی تھیں۔ رات کی سیاہی خوفناک تھی۔ پہاڑوں سے ڈر لگتا تھا۔ درختوں کو دیکھ کر سارا تن لرزہ براندام تھا۔ اونچے نیچے راستوں پر لالٹین کی مدھم اور ٹارچ کے گول دائرے کی روشنی بڑی مہربان سی لگتی تھی۔ زار ولی خان کی آواز سنائی دی کسی جگہ کی طرف اسکے ہاتھ اشارہ کرتے دکھائی دئیے۔
’’یہ وہ جگہ ہے جہاں موسم بہار کے تہوار چلم جوشی کے رقص ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے راستے سے نظریں اُٹھا کر اشارے کی سمت ضرور دیکھا پر تاریکی میں دیکھنے سے بھلا تفصیلات کیا دکھتیں۔ گھپ اندھیرے میں ہر چیز تو بھوت پریت کے ہیولے بن بن کر سامنے آتی تھی۔ ٹھنڈی ہواؤں کا زور شور سے چلنا اور چشموں کا گونج سے بہنا سبھی جسم و جان پر ہلکا ہلکا لرزہ طاری کرتے تھے۔
جس کمرے میں کھانا چنا ہوا تھا۔ وہ چھوٹا ضرور تھا پر بڑا صاف ستھرا تھا۔ لالٹین کی روشنی گو دھیمی سی تھی ۔پر اس دھیمے پن میں بھی ایک رومانوی ٹچ تھا۔ یا شاید مجھے محسوس ہوا تھا۔ کھانا سادہ مگر ذائقہ دار تھا۔ اُبلے چاول گوشت اور سلاد۔ کھانے پر دو موضوع زیادہ زیر بحث رہے۔ پہلا اس گھرانے کا چترال کی کٹور فیملی سے تعلق جو تیمور لنگ کی اولاد ہے۔ اور دوسرے وادی میں سیاحوں کی آمد سے مسائل کا پیدا ہونا۔ جن میں ہوٹلوں کی کثرت سے تعمیر اور انکی تعمیر میں بنیادی اُصولوں کا فقدان جن میں سپٹک ٹینک کا نہ بننا سر فہرست ہے جنگلات کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ جس پیمانے پر ان کی کٹائی ہے پیدائش نہیں۔ اب زار ولی خان اور شکور ولی خان جو خود فرنٹیئر ہوٹل چلاتے ہیں اور دعویدار ہیں کہ انہوں نے تعمیر میں بنیادی اُصولوں کا خیال رکھا ہے۔
شب بسری جہاں اور جس کے ساتھ ہوئی وہ بھی خوب تھی۔ میل خوردہ نمدے پر میں اور وہ ساتھ ساتھ لیٹیں۔ پھر میرا جی کسی چھوٹے بچے کی طرح ہمک کر اسکے سینے سے چمٹ جانے کو چاہا کہ مجھے لگا تھا ماں جی اُوپر سے اس وادی میں مجھے اپنی صورت دکھانے آ گئی ہیں۔ نیند اور بیداری کی لُکن میٹی ساری رات چلی کہ کمرے کی سیلن نے نہایت شوخ و شنگ قسم کے کھٹمل پال رکھے تھے جو کسی ستم گر کی طرح چُٹکی کاٹتے اور غائب ہو جاتے۔ اب نیند کا جالا تنی آنکھوں سے زخم خوردہ حصوں کو سہلاتے ہوئے ان کی ادھر اُدھر کھوج کرتے کہ مل جائیں تو بھرتہ بنائیں۔ نمدے پر ایک چھوڑ کئیوں کو طمطراق سے چلتے پھرتے دیکھ کر تذبذب میں کہ کسے ماریں اور کسے چھوڑیں والی کیفیت۔ دوسری جانب اگر ان سے یاری تھی تو بڑھاپے کی عنایت کردہ نوازشات نے جا بجا دردوں کی صورت نیند عذاب کر رکھی تھی کہ ہاتھ کبھی ٹانگوں کی جانب اُٹھتے اور کبھی شانوں کی۔ فجر کی نماز ہم دونوں نے اکٹھی پڑھی۔ پھر میں نے انہیں دبایا۔ ٹانگوں سے لے کر بازو شانے کمر۔ جی بھر کر دبا چُکنے کے بعد جونہی سیدھی ہوئی میرے گلے میں بوڑھے بازو نے ہاتھ ڈال کر میری پیشانی کو قریب لا کر اس پر بوسہ دیا۔ سالہا سال گزر جانے پر آج بھی اُس بوسے میں چھُپی شفقت اور محبت کی یاد میری آنکھیں نم کر دیتی ہے۔


