سروگیٹ سوسائٹی

کچھ روز سے سکول کی بچیوں سے متعلق زہر فشانی اور پھر مختلف آراء پر مبنی جو بحث چھڑی ہوئی ہے وہ ہمارے معاشرے کی مجموعی سوچ کی عکاس ہے۔ مقرر کی زبان کی تلخی کا کیا ذکر اس کے جواب میں لوگوں کا ردعمل بھی حیران کن ہے۔
سکول جو مادر علمی ہیں جہاں سے انسان علم و شعور حاصل کرتا ہے اس کا نظام کیسے چل رہا ہے۔ تعلیمی نظام میں شدت پسندی کیسے شامل ہوئی اور حالات اس قدر خراب ہوئے کہ آج سے چالیس سال پہلے کا پندرہ سولہ سالہ لڑکا جو بہن کے ساتھ سکول جاتا تھا کھیلتا تھا شام میں ٹی وی پر ٹام اینڈ جیری شو دیکھتا تھا اور کرکٹ یا فٹ بال گراؤنڈ میں اپنی ٹیم کی جیت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتا تھا چھٹی کے روز شہر بھر کی ٹیموں کو اکٹھا کر کے میچ کراتا تھا آج پچاس پچپن سال کی عمر کو پہنچ کر بیٹی کے لیے اتنا تلخ اور باعث آزار کیوں ہو گیا ہے۔ بہن کے ساتھ لڈو اور کیرم بورڈ کھیلنے والا لڑکا بیٹی کے لیے اس قدر زہر آلود کیوں ہو گیا ہے۔
عورت کے لباس، پردہ، تعلیم، سماجی حیثیت کو دبانے والا حوروں کے حسن کے راگ الاپتے نہیں تھکتا بلکہ راگ بھی کہاں حوروں کے حسن اور جسمانی ساخت کے قصیدے پڑھتے ان کے چہروں سے ٹپکتی خباثت اندر کا حال کہتی نظر آتی ہے اسی لئے تو روز قیامت محبوب کو مانگنے پر مرزا غالب کو بھی ٹکا سا جواب ملا
ہم جو کہتے ہیں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
ایک پر اعتماد، باوقار، اور کسی سہارے کی تمنا سے بے نیاز عورت کا مومنین کو اس سے بڑا جواب اور کیا ہو گا کہ ایسی بہادر عورت حور بننے پر بھی تیار نہیں اسے اپنے عورت ہونے پر ناز ہے۔ حوروں پر فنا ہونے والے زندہ عورت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ پُراعتماد عورت سے سماج کو خطرہ ہے کیونکہ وہ خود کو انسانی سطح پر دیکھنا سیکھ جاتی ہے۔ جائیداد، گھر، بچوں اور اپنے حقوق کی بات کرنے لگتی ہے اور مرد کو اپنی حاکمیت ٹوٹتی نظر آتی ہے۔ یہ سب کیا اتنی آسانی سے ہوا یقیناً نہیں اس میں ایک عمر اور بہت سی محنت لگی ہے۔ برصغیر مذہبی رواداری کی تاریخ رکھتا ہے۔ یہاں کا سماج مذہبی مسلکی تعصب سے مبرا تھا۔ مختلف مذاہبِ کا مل جل کر رہنا، دوستی رشتے ناتے کوئی انوکھی بات نہیں تھی تو بعد یہ خطہ شدت پسندی کا شکار کیسے ہوا۔ تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد مذہبی منافرت پھیلانے میں جن طاقتوں کا ہاتھ تھا وہ کبھی کسی اور کبھی کسی کا ہاتھ تھامے اس سماج میں تفرقہ پیدا کرنے مصروف رہے۔
پاکستان بننے سے پہلے اور بعد یہاں مذہبی ریاست کا سحر طاری کیا گیا۔ پاکستان میں ہر شدت پسند تحریک مذہب کارڈ استعمال کرتی آ رہی ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ شدت پسندی کی جنگ نظریات کی نہیں مفادات کی جنگ ہے یہ بھی کارپوریٹ کلچر کا حصہ ہے۔ جنگ بھی ایک کمپنی بلکہ یوں کہیں کارپوریشن ہے جو صرف اپنے مفادات کو عزیز رکھتی ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کو دنیا پر حکومت کرنے کا جو خواب مسلسل دکھایا جا رہا ہے اس نے جنگجویانہ نفسیات کو جنم دیا اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے ایسی تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی جس نے کئی دہائیوں سے اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیے ہیں۔ تعلیمی پالیسی اور اساتذہ نئی نسل کی ذہن سازی کرتے ہیں اس لیے نصاب اور اساتذہ کی تربیت ہی ایسے کی گئی کہ اس تعلیمی پالیسی کے تحت تیار ہونے نسل اس جنگ کا حصہ بنی رہے۔ یہ جنگ بڑی طاقتوں کی تھی جس میں ہمارے بچے جل کر راکھ ہوئے۔
اسی تناظر میں ایک مخصوص ذہنیت نے اپنے مقاصد کے حصول میں معاون سمجھتے ہوئے اہم ریاستی اور سکیورٹی اداروں تک رسائی حاصل کی شدت پسندوں کے ساتھ روابط سے ایوانوں تک رسائی اور اس کے نتیجے میں انتظامیہ، فوج، سول اور سیاسی جماعتوں سمیت ملک کے اہم ترین اداروں میں مذہبی شدت پسندی در آئی۔ اس سارے عمل میں جن اہل علم اور دانشوروں نے افغان جنگ کی مخالفت کی ان کی بھرپور حوصلہ شکنی کی گئی۔ پاکستانی مقتدرہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔ شدت پسندی کے خلاف ہماری حکومتیں ہمیشہ تذبذب کا شکار رہیں اور ملک میں امن و استحکام کی بجائے انہیں اپنے ووٹ بینک کی فکر رہی۔
اب چالیس سال پیچھے چلتے ہیں جب سکولوں اور کالجوں میں کھیلوں کے باقاعدہ مقابلے ہوتے تھے۔ ثقافتی پروگرام، گرل گائیڈز کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ ہمارا سکول کالج کا سارا زمانہ ضیائی تھا مگر ہر شہر میں سب لڑکیاں سپورٹس کھیلتی تھیں۔ سٹیج پروگرام ہوتے تھے۔ فینسی ڈریس شو، پی ٹی شوز اور سٹیج ڈراموں میں تو دوسرے شہروں اور سکولوں سے ٹیمیں شامل ہوتی تھیں۔ سپورٹس ٹیمیں دوسرے شہروں میں منعقدہ مقابلوں میں حصہ لیتی تھیں۔ یہ تمام مثبت سرگرمیاں تھیں جن میں ہم سب لڑکیاں شامل ہوتی تھیں۔ والدین، خاندان دوستوں سب سے ہمیشہ حوصلہ افزائی ملتی تھی نہ آج کی طرح لڑکیاں عبایہ بند تھیں نہ اتنی سخت پابندیاں تھیں والدین اولاد کو روایات کا پاس کرنا سکھاتے تھے انسانیت سے عزت و محبت ابھی باقی تھی۔ صحیح غلط کی تمیز، مخالفت کو تحمل سے برداشت کرنا اور دلیل سے بات کرنا سکھایا جاتا تھا۔ کیا سکول کالج کے ثقافتی شوز میں لڑکیاں مختلف ثقافتی لباس پہن کر ثقافتی رقص نہیں کرتی تھیں یا ڈراموں میں لڑکیاں ہی لڑکوں کا لباس پہن کر کردار ادا نہیں کرتی تھیں۔
سب تھا مگر کسی طرف سے کوئی مخالفت یا تنقید سنائی نہیں دیتی تھی۔ مسائل ان فیصلوں کے بعد شروع ہوئے جو آج اپنی انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ اسلام کے نام پر سعودی عرب کی اندھا دھند پیروی کرنی ہے کیونکہ مقامات مقدسہ وہیں ہیں اور اسلام وہیں سے شروع ہوا تو اب ہم پر لازم ہے کہ ہمارا لہجہ، تلفظ، رسم الخط کے ساتھ لباس بھی وہی ہو مگر حیرت انگیز طور پر مرد نے یہ لباس نہیں اپنایا وہ گرمی سردی میں اپنے قومی، علاقائی یا آقائی لباس میں ہوتا ہے۔ عورت باہر نکلے تو سر تا پا سیاہ لبادے میں ملفوف ہو بلکہ گھر میں بھی اسے پابندیوں کا سامنا ہے تو کیا یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا کو عورت کے مسائل معلوم نہیں تھے وہ نہیں جانتا تھا کہ عورت حاملہ بھی ہو گی، ماہانہ ایام کی دشواری اور تکالیف کا سامنا بھی کرے گی اس لئے عورت پر تو پابندی لگا دی مرد کو آزاد رکھا۔
پاکستانی معاشرے میں عبایہ کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں مذہبی ہے وہاں معاشی بھی ہے۔ یورپ نے اپنی تنگ نظری سے آزادی حاصل کر لی اس لیے وہاں دو چار جینز شرٹ میں گزارا کر لیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ لباس کیوں کہ ناپسندیدہ خیال کیا جاتا ہے اس لئے تعلیمی اداروں اور مڈل کلاس ملازمت پیشہ خواتین نت نئے ملبوسات سے بچنے کے لیے بھی عبایہ کا استعمال کرتی ہیں اسی کے ساتھ امیر گھرانوں میں یہ فیشن کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور ایک اسلامک انڈسٹری وجود میں آ چکی ہے جن کے عبایہ ہزاروں سے شروع ہو کر لاکھوں تک پہنچتے ہیں۔
مہنگائی، نامساعد ملکی حالات، گرم ترین موسم میں بجلی کی بندش، سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک نے پاکستانی عوام کے اعصاب توڑ کر رکھ دیے ہیں نتیجتاً یہ گالی گلوچ، بدتمیزی اور اس کا بڑا نشانہ عورت کہ بقول عالمان کمزور مخلوق ہے۔ اور افسوس کہ اس میں زیادہ تر مذہبی طبقہ ملوث ہے جو عورت کو انسانی سطح پر اٹھتے نہیں دیکھ سکتا۔ اسلام کے نام پر کسی دوسرے معاشرے کا جو سپرم پاکستانی سماج کی کوکھ میں رکھا گیا اور پھر اس کی افزائش ایسے بیانیے سے کی گئی جس سے یہ سوسائٹی پیدا ہوئی جو اپنے نتائج میں نہایت تلخ ہے۔ انسانی سروگیسی کسی بے اولاد جوڑے کو زندگی اور خوشیاں عطا کرتی ہے مگر جب سماج سروگیٹ ہو جائے تو زومبیز پیدا کرتا ہے اور اب وہ زومبیز طاغوت کی تلاش میں ہیں۔

