کٹار


اور پھر یوں ہوا کہ گہرے کالے اندھکار کے بیچوں بیچ اجیارے کا ننھا سا بیج پھوٹا اور دھیرے دھیرے بڑا ہونے لگا۔ آگے کو بڑھنے لگا۔ اور پھر بڑھتے بڑھتے پورن ماشی کے چندرما جتنا بڑا اور گول ہو گیا۔ پھر جیسے اس چندرما کی جیوتی میں جان پڑ گئی۔ پہلے دو گول نین ابھرے۔ پھر ما تھا۔ پھر وہ تیکھی دھار جیسی ناک۔ اور پھر وہ دو رسیلے مدھ بھرے لب جو دھیرے دھیرے آگے بڑھے اور اس کے بے کل ادھروں پر آ کر ٹک گئے۔ اسے لگا کہ جیسے گہرے کالے کسیلے ساگر میں ڈوبتے ابھرتے کوئی امرت کا پیالہ اس کے ہونٹوں سے آ لگا ہو۔ اس کا شریر دھیرے دھیرے اس امرت کی مٹھاس میں اترنے لگا۔

مگر ایک بار پھر وہی ہوا۔ ملن کا نشہ اس کی رگوں میں اترنے ہی لگا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا سپنا ایک بار پھر ٹوٹ چکا تھا۔

باہر پو پھٹ رہی تھی۔ چھت کے ساتھ جمے گہرے کالے اندھیارے کو پچھلی دیوار کے موگھے سے اندر آتی صبح کی کنواری کرنیں سفید کر رہی تھیں۔ اس نے سیدھے لیٹے لیٹے چھت کی طرف دیکھا۔ چھٹتی ہوئی کالک کے اس طرف چھت کی جانی پہچانی کڑیاں اب اسے تکنے لگی تھیں۔ اس پاتال جیسی گہری کالی گپھا میں اس پر اترنے والا یہ ویسا ہی ایک اتھاہ اداسی سے بھرا سویرا تھا جیسے بے انت سویرے آج سے پہلے اس پر گزر چکے تھے۔ پچھلی دیوار کے موگھے سے روشنی کے ساتھ چڑیوں کی تیز چہکار بھی اب اس کے کانوں تک پہنچنے لگی تھی۔ آج ہوا کے جھونکے گھاس اور پتوں کی سرسراہٹ کے ساتھ ایک ٹھنڈک ملی گیلی کسیلی باس بھی لا رہے تھے۔ ’شاید رات کہیں کچھ چھینٹے گرے ہوں گے‘ اس نے سونے جاگنے کے بیچ سوچا۔

یک دم ایک بھولا ہوا خیال اس کے سینے میں انگڑائی لے کر جاگا۔ وہ لپک کر گیلی پرال پر سے اٹھا اور پچھلی دیوار کے سوراخ کے نیچے دھرے گول پتھر پر چڑھ کر کھڑا ہو گیا اور ایڑیاں اچکا کر اپنے لمبے بازو کھڑکی کی کالی سلاخوں سے باہر نکال کر پھیلا دیے۔ اس کی انگلیاں باہر اگی ہوئی گھاس کی گیلی پتیوں سے جا ٹکرائیں۔ اب وہ اپنے ہاتھوں سے آنکھوں کا کام لے رہا تھا۔ گھاس کو چھوتے ہی اس کے پورے وجود میں ٹھنڈک کی ایک لہر دوڑ گئی۔ دھلی نکھری پراکرتی کی سندر کو ملتا اس کے مار کھائے ہوئے بدن میں ہولے ہولے اتر کر اسے جینے کا آس بھرا احساس دے رہی تھی۔ قید کے ان لمبے سالوں میں قیدی کا باہر کی دنیا سے ناتا بس اس کھڑکی کے کارن ہی بنا رہا تھا۔ اسی کھڑکی نے اسے مرنے سے بچائے رکھا تھا۔ ہاں بس یہ تھا کہ بندی خانہ زمین کے نیچے ہونے کی وجہ سے برساتوں میں یہی کھڑکی پرنالے میں بدل جاتی تھی۔ پچھلی طرف کی سڑک کا سارا پانی اس کھڑکی کا رخ کر لیتا تھا اور اسے ہفتوں تک گیلی پرال پر سونا پڑتا تھا۔ لیکن پھر بھی اسے اس کھڑکی پر کبھی غصہ نہیں آیا تھا۔

اور اب کچھ دنوں سے اس کھڑکی سے اس کے لگاؤ کا ایک کارن اور بھی تو ہو گیا تھا۔

باہر سورج زمین سے پورا اگ آیا تھا۔ قیدی کے لمبے بازو اس کے کالے سوت کے چوغے میں سے نکلے ہوئے تھے۔ ہاتھ کھڑکی کی سلاخوں کے باہر دعا کے انداز میں یوں پھیلے ہوئے تھے کہ کوئی آئے اور اس کی ہتھیلیوں پر مسافت کا پہلا قدم رکھ دے۔ اس کے لب پر ارتھنا میں دھیرے دھیرے ہل رہے تھے، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا دل کہتا تھا کہ وہ آئے گی اور آج ضرور اس کے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ لے گی۔ مگر انتظار لمبا ہو رہا تھا۔ اس کے پاؤں تھکنے لگے تھے مگر دل ابھی نہیں تھکا تھا۔ آخر انتظار کی گھڑیاں سمٹیں۔ کہیں بہت دور سے گھوڑے کے سموں کی ہلکی ٹاپیں سنائی دینے لگیں تھیں جو آہستہ آہستہ قریب آ رہی تھیں۔ ذرا دیر میں ان ٹاپوں کے اوپر چنگاریوں کی سی شوخ آوازیں ابھرنے لگیں۔ یہ وہی لڑکی تھی۔ لیکن شاید آج وہ اکیلی نہ تھی۔ ایک دوسری لڑکی بھی تھی اس کے ساتھ۔ وہ دونوں اپنی کھنکتی ہوئی شوخ آوازوں میں مسلسل ہنستی بولتی ہوئی چلی آ رہی تھیں۔

قیدی کا دل اس کے سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر آنے کو تھا۔ ’رک جاؤ۔ رک جاؤ۔ ادھر دیکھو‘ وہ دھکڑ دھکڑ پکار رہا تھا۔ اور پھر جیسے ان لڑکیوں نے اس کی پاگل دھڑکنیں سن لی تھیں۔ ان کے گھوڑے کھڑکی کے سامنے آ کر رک گئے تھے۔ لڑکیاں چپ تھیں۔ شاید وہ ہلکے ہلکے آپس میں کچھ بات کر رہی تھیں۔ آخر جان لیوا انتظار ختم ہوا۔ ایک لڑکی اپنے گھوڑے سے اتری اور گھاس اور مٹی پر پھیلے ہوئے اس کے ہاتھوں کی طرف بڑھی۔ رکی، آگے بڑھی۔ پھر رکی اور پھر ایک نظر اس کے بازووں پر ڈالی۔ بالوں سے بھرے لمبے مضبوط جوان بازو، رگیں ابھری ہوئی، چوڑی کلائیاں، بڑی بڑی ہتھیلیاں، ناخن چوکور مگر میلے میلے سے۔

” کیا بات ہے؟ کیا چاہیے؟“ لڑکی نے پوچھا۔

اس کی آواز بہت مدھر تھی لیکن کچھ ڈر اور کچھ بے یقینی میں لپٹی ہوئی سی۔ قیدی سے آج سالوں بعد کسی انسان نے بات کی تھی، اور وہ بھی ایک لڑکی نے۔ بندی خانے کے رکھوالے تو اتنے کٹھور تھے کہ اس کے آگے بس کتوں کے جیسے راتب ڈال کر چلے جاتے تھے اور اس کی لاکھ منت سماجت پر بھی اس سے کوئی بات نہ کرتے تھے۔ قیدی کو لڑکی سے بہت کچھ کہنا تھا لیکن اس کو سامنے پا کر اسے سب کچھ بھول گیا تھا۔

” بولو اب۔ یہ تم ہر روز اس وقت کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال کر کسے بلایا کرتے ہو؟“ لڑکی نے پوچھا۔
” میں۔ ایک قیدی ہوں۔ میں نے برسوں سے کسی انسان سے بات نہیں کی۔“ وہ بس اتنا ہی کہہ پایا۔
” ہنہہ۔ اپرادھی“ لڑکی نے نفرت سے ہونٹ سکوڑ کر کہا۔
” نہیں نہیں۔ میں اپرادھی نہیں۔“ وہ بے صبری سے بو لا۔
” نہیں تو کیا پجاری ہو؟“ لڑکی کی ہنسی میں طنز کا زہر تھا۔

نہیں۔ میں پجاری بھی نہیں۔ میں تو ۔ میں تو ۔ ”وہ بات نہ کر پا رہا تھا۔ سالوں کی تنہائی نے اسے شبد تک بھلا دیئے تھے۔“ میں تو جنگ ہارا تھا بس۔ ”

” اووووہ“ لڑکی نے خاصا کھینچ کر کہا۔ ”تو تم دشمن کے سپاہی ہو۔ دشمن ہو۔“
” نہیں نہیں۔ میں۔ دشمن نہیں ہوں۔ میرا یقین کرو“
” ہہنہ۔ تو جنگ کیا پیار میں لڑ رہے تھے؟“ ”لڑکی کے انداز میں بڑی کاٹ تھی۔

” جنگ اچھی چیز نہیں میں مانتا ہوں۔ مگر یہ راج نیتی بڑی ظالم ہوتی ہے۔ بہت کچھ ایسا کروا لیتی ہے جو آدمی نہیں کرنا چاہتا۔ “

” ہاہ! راج نیتی“ ”لڑکی کا کٹیلا قہقہہ دھیرے سے گونجا۔“ تم وہی پورب دیش کے ہو نا۔ مہا ندی کے ادھر والے۔ میں نے تمہاری بولی سے پہچان لیا۔ واسنا کے مارے ہوئے۔ ظالم لٹیرے۔ تمہارا چہرہ اس وقت مجھے نظر نہیں آ رہا ورنہ میں تھوک دیتی اس پر ”

اتنا کہہ کر لڑکی واپس پلٹ گئی۔
” رکو۔ رکو تو “ قیدی نے لڑکی کو پیچھے سے پکارا۔ ”دو گھڑی کو رک جاؤ بس۔“
”کیوں؟ کس لیے ؟“ لڑکی نے جاتے جاتے پلٹ کر پوچھا۔
” میں نے برسوں سے کسی انسان سے بات نہیں کی۔ اس لیے“ اس نے اپنے آنسو پیتے ہوئے کہا۔ ‎‎

مگر لڑکی نے سنی ان سنی کر دی۔ اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور تیزی سے اسے بھگا کر لے گئی۔ دوسری لڑکی بھی اس کے پیچھے لپکی۔ آن کی آن میں دونوں غائب ہو گئیں۔ پیچھے ان کی اڑائی ہوئی گرد کے سوا کچھ نہ رہا۔

اس دن قیدی بہت رویا۔ اسے اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ خوب رو لینے کے بعد اس نے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ اس کو لگا کہ اس کے ہردے پر جو بھاری پتھر دھرا تھا وہ ہٹ گیا۔ تبھی اس کا دھیان اس اندھیری گپھا کی کاٹ کھانے والی تنہائی سے ہٹ کر اس لڑکی کی طرف چلا گیا جس کی اس نے صرف آواز سنی تھی درشن نہیں کیے تھے۔ کیا کھنکتی ہوئی اور زندگی سے بھرپور ہنسی تھی اس کی، کتنی کومل تیکھی آواز تھی۔ کیا ناز بھرا انداز تھا بات کرنے کا ۔ اور کیسی مست کر دینے والی باس تھی جو اس کے جوان بدن سے پھوٹتی تھی۔ جانے اس کی صورت کتنی پیاری ہو گی؟ وہ پورا دن قیدی بس اسی لڑکی کو سوچتا رہا اور پوری رات کھڑکی سے بازو باہر نکالے اس سے باتیں کرتا رہا۔

سویرے دن چڑھے آنکھ کھلی تب اسے یاد آیا کہ وہ ابھی تک قید خانے میں ہی تھا۔ پھر ایک دم اسے دوسرا خیال آیا اور وہ لپک کر کھڑکی تک پہنچا اور اپنے ہاتھ باہر پھیلا دیئے۔ وہ بہت دیر تک اسی حالت میں رہا۔ دو پہر دن گزر گیا۔ اس لڑکی کو آنا تھا نہ وہ آئی۔ قیدی کے ہاتھ پیر شل ہو گئے تو وہ واپس آ کر بھس پر لیٹ گیا۔ دن ڈوب گیا اور ساتھ ہی اس کا دل بھی۔ اگلا دن بھی اسی آشا اور نراشا میں بیتا۔ وہ نہ آئی۔ دن گزرتے گئے۔ قیدی کا انتظار ٹھنڈا پڑتا گیا۔ اب وہ پھر سے چھت کی کڑیاں گن کر اپنا وقت کاٹنے لگا تھا۔

اور پھر آخر کار، جانے کتنے یگ بیت جانے کے بعد ، ایک رات جب وہ سونے اور جاگنے کی سرحد پر تھا، اسے اپنے قید خانے کے باہر کسی زندہ وجود کا احساس ہوا۔ کسی بھولی ہوئی مہک نے پھر اس کے حواس پر دستک دی۔ وہ لپک کر اٹھا اور کھڑکی تک پہنچا۔ وہ شاید پورن ماشی کی رات تھی۔ اسے باہر چھٹکی ہوئی چاندنی کا احساس ہوا تھا۔

” کون ہے وہاں؟“ اس نے پکار کر پوچھا۔ ”کوئی ہے کیا؟“
جواب صرف درختوں میں سرسراتی ہوا نے دیا۔
” بولو نا۔ کوئی تو ہے وہاں۔ جواب دو ۔“ کوئی جواب نہ آیا۔
” تم وہی ہو کیا۔ گھوڑے والی؟“

کچھ دیر کی چپ کے بعد آخر ایک نسوانی آواز آئی۔ وہی جانی پہچانی تیکھی کومل آواز۔ قیدی کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آ رہا تھا۔

” ہاں میں وہی ہوں۔ گھوڑے والی۔“ اس نے دھیرے سے کہا۔

” اوہ تم آ گئیں آخر۔ کتنا انتظار کروایا تم نے مجھے“ قیدی نے کہا۔ ”کہاں چلی گئیں تھیں تم؟ اور آج اچانک یہاں۔ اتنی رات گئے؟“

لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا۔ ہوا درختوں میں سرسراتی رہی۔
” بولو بھی نا۔ کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے“

” میں۔ نہیں آنا چاہتی تھی۔ مگر۔ آنا بھی چاہتی تھی۔“ لڑکی نے اٹک اٹک کر بولنا شروع کیا۔ ”کیوں آتی میں بھلا؟ کس لیے ؟ مگر پھر کیوں چلی آئی آج۔ مجھے خود نہیں معلوم۔ بس نہیں معلوم۔ مت پوچھو۔“ وہ چپ ہو گئی۔

قیدی اس کی آواز کی مدھرتا کو اپنے اندر اتارتا رہا۔ وہ ذرا جھجکا اور پھر بولا ”تم نے اچھا کیا جو آ گئیں۔ تم نہ آتیں تو ۔“

” تو کیا؟“ لڑکی نے پوچھا۔
” تو میرا دل ٹوٹ جاتا۔“ قیدی نے کہا
” ارے وہ کیوں؟“ لڑکی کی اواز میں حیرانی تھی۔

‎‎ ”تم سے بات کر کے بہت اچھا لگا تھا اس دن۔“ قیدی نے کہا ”پھر تم ایک دم چلی گئیں۔ میں تمہاری راہ تکتا رہا۔ میں نے بہت پر ارتھنا کی تھی کہ تم آ جاؤ“

” اچھاآآ ! لیکن کیوں؟ تم نے تو مجھے دیکھا بھی نہیں؟ نام بھی نہیں جانتے۔ پھر کیوں؟“
” پر ارتھنا کرنے کے لیے نام جاننا ضروری تو نہیں۔“
” ہوں“ وہ دھیرے سے ہنس دی ”عجیب بات کہی تم نے“
” تمہاری ہنسی بہت خوبصورت ہے“ قیدی نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا۔
” اچھا آآ ! اس کی ہنسی کھنکھنائی۔
” من کی سندرتا بھری ہے تمہاری ہنسی میں۔“ قیدی نے دھیرے سے کہا۔

” اچھا جی“ وہ پھر ہنسی ”وہاں دھرتی کے پیٹ میں گھور اندھیرے میں من کی سندرتا بھی دکھائی پڑ گئی تم کو ؟“

” ہاں سچ مانو“ قیدی نے کہا ”یہاں بندی خانے میں رہ کر آوازوں کا پارکھ ہو گیا ہوں میں۔ جب میں آزاد تھا تو باہر کی آنکھ سے دیکھتا تھا دنیا کو ۔ تن کی سندرتا بہت دیکھی۔ من کی آنکھ سے درشن کرنا بندی خانے میں آ کر سیکھا میں نے۔ روشن سویرے کی آوازیں، کالی رات کی آوازیں، پتوں سے لپٹتی اور درختوں میں سرسراتی ہوا کی آوازیں، آندھیوں کی زد پر آئے ہوئے درختوں کی آوازیں، دھرتی کے پیاسے تن پر پڑتی پہلی بارش کی آوازیں، جھرنوں کے مدھر کومل سنگیت یہاں دھرتی کے پیٹ میں رہ کر سنے میں نے۔ تم کو پتہ ہے ہر آواز کا ایک شریر ہوتا ہے۔ اگر تم کو دیکھنا آ جائے تو تم چھو سکتی ہو اس شریر کو ۔ اس کے سارے بھید بھاؤ جان سکتی ہو۔“

” ہے رام۔ تم کتنا بولتے ہو بندی وان“ وہ حیرت بھری آواز میں بولی ”تم سپاہی ہو یا کوئی کوی؟“

” ہاں میں سپاہی ہوں۔ کبھی کوی بھی تھا۔ بہت ساری سندر کویتائیں لکھیں میں نے۔ جنہیں سن کر من پریم ساگر میں ڈوب جاتے تھے۔ مگر پھر جنگ شروع ہو گئی۔ میں بھی لڑا۔ گھائل ہو کر گرا اور پکڑ لیا گیا۔ اب تو کاغذ قلم کی شکل دیکھے یگ بیت گئے۔“

” تم کیا تھے۔ سپاہی یا سینا پتی؟“
ہاں۔ آں۔ میں سپاہی ہی تھا۔ ”قیدی نے اٹکتے ہوئے جملہ پورا کیا۔
” جنگ کیوں کی تم لوگوں نے؟“ لڑکی نے سیدھا سوال کر دیا۔

قیدی کو ذرا سا جھٹکا لگا لیکن سنبھل کر بولا ”یہ سوال تو تم کو اپنے سینا پتی سے پوچھنا چاہیے جو پہلے ہمارے راجیہ میں گھسا تھا۔ میرے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔ تم نے پوچھا اس سے؟“

” ہاں پوچھا تھا“
” پھر؟
” سوال کے جواب میں سوال ہی ملا تھا مجھے بھی“

قیدی چپ ہو گیا۔ لڑکی بھی چپ ہو گئی۔ پھر بولی ”تم سب سینا والے ایک جیسے ہوتے ہو۔ صرف سوال پوچھتے ہو۔ جواب کبھی نہیں دیتے۔ جانے کیوں؟“

قیدی کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا اس سوال کا کہ جنگ آخر کیوں ہوتی ہے؟ بات کیوں نہیں ہو سکتی؟
کئی پل ایک بے چین کر دینے والی خاموشی میں گزرے۔
پھر لڑکی بولی ”اپنے ہاتھ باہر نکالو۔ مجھے دیکھنے ہیں“

قیدی نے ایڑیوں کے بل خود کو اونچا اٹھایا اور اپنے ہاتھ سنگین سلاخوں سے باہر نکال دییئے۔ لڑکی کھلی چاندنی میں قیدی کے ہاتھوں کو غور سے دیکھتی رہی۔ وہ چوڑے مردانہ ہاتھ میلے چکٹ ہو رہے تھے۔ لڑکی نے اپنی چھاگل اٹھائی اور اسے الٹاتے ہوئے بولی ”بندی وان تمہارے ہاتھ۔ بہت اچھے ہیں۔ مگر میلے ہو رہے ہیں۔ ان کو دھو لو۔“

قیدی دل میں مسکراتے ہوئے ہاتھ دھونے لگا۔ ہاتھ دھو کر اس نے پانی پیا تو اسے شربت لگا۔
” اب میں چلتی ہوں“ لڑکی نے چھاگل سنبھالتے ہوئے کہا۔
” پھر کب آؤ گی؟“ قیدی نے بے قراری سے پوچھا۔
” پتہ نہیں۔“ اس نے پیر گھوڑے کی رکاب میں ڈالتے ہوئے کہا ”کبھی دوبارہ آ پاؤں بھی یا نہیں“
”نہیں وعدہ کرو کہ تم آؤ گی“

وہ دھیرے سے ہنسی ”وعدہ تو نہیں کر سکتی۔ لیکن کوشش کروں گی“ اس نے گھوڑے کا رخ موڑا اور اسے ایڑھ لگائی۔

” تم کو اکیلے ڈر نہیں لگتا۔ اتنی رات کو ۔ اندھیرے میں“ قیدی سلاخوں کو تھام کر پوری طاقت سے چلایا۔
” ڈر۔ ؟“ لڑکی کا قہقہہ گونجا۔ ”راجپوت ہوں۔ ڈر جیسا کوئی شبد نہیں ہوتا ہماری بھاشا میں“
قیدی کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا مگر لڑکی گھوڑا بھگا کر غائب ہو چکی تھی۔

اگلی رات وہ لڑکی نہ آئی۔ اس سے اگلی رات بھی نہیں۔ پھر بہت سی راتیں گزر گئیں مگر وہ نہ آئی۔ قیدی گھڑیاں گن گن کر گزارتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ اس لڑکی سے پہلے وقت کاٹنا کبھی اتنا کٹھن نہ تھا۔

آخر ایک رات دیر گئے کسی نے اسے پکارا۔ وہ جاگ رہا تھا۔ جلدی سے اٹھا۔ ”تم آ گئیں؟“
” ہاں۔ میں آ گئی“ رات کی سیاہ خامشی میں اس کی خوبصورت آواز گونجی۔
” اتنا انتظار؟“ قیدی کی آواز میں سارے سنسار کی شکایت بھری تھی۔
” یہ نہ پوچھو۔“ وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی ”بہت کٹھن ہوتا ہے آنا۔ آج آ گئی کسی طرح۔“
” کیا کیا اتنے دن تک؟“
” کچھ خاص نہیں“ اس نے ایک گہری سانس لے کر کہا ”بس جیتی رہی ہوں“
” ارے ایسا کیوں؟ اس عمر میں اتنے ٹھنڈے سانس؟ کچھ ہوا کیا؟“ قیدی نے پوچھنا چاہا۔
” کچھ بھی تو نہیں“ وہ بات گول کر گئی۔ ”تم بتاؤ۔ تم کو قید میں اپنے پیاروں کی یاد نہیں آتی کیا؟“

” یاد۔“ قید میں یادیں ہی تو آتی ہیں۔ مگر دھیرے دھیرے رہائی کی امید کی طرح سب کچھ دھندلا جاتا ہے۔ اور پھر باقی اگر کچھ رہ جاتا ہے تو یہ اندھکار میں ڈوبی گپھا، یہ سیلی دیواریں اور چھت کی کڑیاں جن کو یہ قیدی پرال کے بچھونے پر لیٹا گنتا رہتا ہے۔ اتیت تو سارا ہی اب سپنا لگتا ہے۔ ماتا، پتا، بھائی، بہنیں، دوست متر اور۔ ”

” اور کون؟ بتاؤ نا۔ چپ کیوں ہو گئے“

’ اور۔ ”قیدی کی آواز اٹکنے لگی تھی۔“ اور میری پریمیکا۔ وہ لڑکی جو مجھے ٹوٹ کر چاہتی ہے۔ جو اب بھی میرے سپنوں میں آتی ہے ”

” اوہ“ وہ بولی ”بہت برا ہوا۔ لیکن تمہارے لوگوں نے تمہیں ڈھونڈا نہیں کیا؟“

” شاید ڈھونڈا ہو گا۔ لیکن ان کو تو یہ بھی ٹھیک سے پتہ نہیں کہ میں بچ گیا کہ مارا گیا۔ جیتنے والے کئیوں کے سر کاٹ کر لے گئے تھے۔“

” اووہ“ لڑکی کچھ اور کہہ نہ پائی۔
” جنگ میں یہی ہوتا ہے۔ یہی ہوتا ہے جنگ میں“ قیدی کی آواز درد کی شدت سے ٹوٹنے لگی تھی۔
” مجھے اب جانا ہو گا“ لڑکی ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔
” ارے اتنی جلدی“ قیدی نے احتجاج کیا ”ابھی ابھی تو تم آئیں تھیں“
” نہیں مجھے جانا ہے“ وہ گھوڑے پر سوار ہو چکی تھی۔

” مگر تم نے اپنے بارے میں کچھ بھی نہ بتایا۔ تمہارا نام بھی نہیں۔ کس کے لیے اداس ہو یہ بھی نہیں بتایا۔“

” سب بتاؤں گی لیکن اگلی ملاقات پر “ اس نے گھوڑے کا رخ موڑتے ہوئے کہا۔ ”یاد رکھنا جنگ میں جیت کسی کی بھی نہیں ہوتی۔ اور زخم دونوں طرف ایک جیسے لگتے ہیں۔ پھر ملیں گے“ قیدی نے ایڑیاں اٹھا کر اسے دیکھنا چاہا مگر وہ جا چکی تھی۔ بس دور جاتے ہوئے گھوڑے کے سموں کی آواز سناٹے میں گونج رہی تھی۔

وہ چلی گئی اور قیدی کا جان لیوا انتظار ایک بار پھر شروع ہو گیا۔ وہی پہاڑ جیسے سخت دن اور صحرا جیسی لمبی راتیں۔ دسراتھ کے لیے اس کے پاس کچھ تھا تو بس اس لڑکی کے ساتھ بتائے ہوئے کچھ پل اور اس کی حسین کلپنا۔ اس کی جیون سے بھری ہنسی اسے زندہ رکھے ہوئے تھی۔

معلوم نہیں کتنا سمے بیت گیا تھا جب ایک رات تیز آندھی کے جھکڑوں، چمکتی بجلیوں اور برستی موٹی بوندوں کے بیچ کسی نے اسے پکارا تھا۔ وہ سو رہا تھا مگر اس کی آنکھ کھل گئی۔

وہ ایک دم پتھر پر چڑھ کر کھڑکی تک پہنچا۔ ”کون۔ کون ہے وہاں؟ کیا تم ہو؟“
” ہاں میں ہوں“ دوسری طرف سے لڑکی بولی۔
” پھر اتنا لمبا انتظار۔ قیدی نے بولنا شروع کیا۔ “ آخر تم کیا …… ”

” سنو۔ میری بات دھیان سے سنو“ لڑکی نے اس کی بات بیچ میں کاٹ دی۔ ”میرے پاس سمے زیادہ نہیں ہے۔ اور آج یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔“

باہر کہیں زور کی بجلی گری۔ ”لیکن کیوں آخر۔ کیا ہوا؟“ قیدی نے بے کل ہو کر کہا۔

” مجھے لگتا ہے میرے لوگوں کو میرے یہاں آنے کی خبر ہو گئی ہے۔“ لڑکی کی آواز کانپ رہی تھی ”میں ان کا اپمان نہیں کر سکتی۔ میں اب تم سے ملنے نہیں آ سکوں گی۔“

” نہیں نہیں۔ ایسا نہ کہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا“ قیدی نے قید خانے کی سلاخوں سے جوجتے ہوئے کہا جو خالی ہاتھوں سے ٹوٹنے والی نہ تھیں۔

” ایسا ہی ہے۔ ایسا ہی ہے“ تیز ہوا کے شور میں لڑکی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ ”سنو! اس جنم میں ہم شاید دوبارہ نہ مل سکیں۔ لیکن بچھڑتے سمے میں تم کو کچھ ارپن کرنا چاہتی ہوں۔“ بارش کی ایک تیز بوچھاڑ کھڑکی سے آ کر ٹکرائی۔ ”ان چند گھڑیوں کے نام جو ہم نے اس جنم میں ساتھ بتائیں۔“
” کیا؟“
” یہ“ لڑکی نے کھڑکی کی سلاخوں کے بیچ سے اسے آگے بڑھا دیا۔

بجلی ایک بار پھر چمکی۔ قیدی نے دیکھا وہ ایک کٹار تھی۔ نئی اور تیز دھار۔
” کٹار“ وہ کچھ پل کے لیے بھونچکا رہ گیا۔ اس کے ہاتھوں نے سالوں بعد کوئی ہتھیار اٹھایا تھا۔

” ہاں۔ کٹار۔ کیونکہ مضبوط جوان ہاتھ افسوس میں ملنے کے لیے نہیں ہوتے“ اس نے کہا اور اپنے گھوڑے کی طرف بڑھی۔ ”میں جا رہی ہوں۔ آگے تمہارے بھاگ“ وہ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گئی۔

” لیکن کیوں“ قیدی چلایا ”میں تو دشمن ہوں۔ پھر یہ مہربانی کیوں؟“ قیدی نے کٹار کو دستے سے تھام رکھا تھا۔

” کٹار کاٹنے کے لیے ہوتی ہے، پر یہ والی شاید جوڑ دے اور۔ “
” اور کیا؟“ قیدی نے پوچھا۔

” اور شاید اس کے کارن۔ تم۔ اپنی پریمیکا سے دوبارہ جا ملو۔ اور تم نے مجھ سے اداسی کا کارن پوچھا تھا نا؟ تو سنو۔ میں نے بھی اس جنگ میں اپنا پیار کھویا تھا۔ وہ بہت لمبا چوڑا، بہت سندر تھا۔ بالکل تمہارے جیسے بڑے بڑے ہاتھ تھے اس کے جن میں وہ مجھے۔ وہ مجھے ٹوٹ کر چاہتا تھا۔ اس سے بچھڑتے سمے میرا دل بہت کا نپا تھا۔ اس نے مجھے ہردے سے لگا کر کہا تھا کہ وہ لوٹ آئے گا۔ لیکن اس کا صرف شریر مجھے مل سکا۔ سر دشمن کاٹ کر لے گئے تھے“

لڑکی کے آنسو تیز برستی بارش میں شامل ہوتے جا رہے تھے۔ قیدی پتھر ہو کر سن رہا تھا۔
” میں جا رہی ہوں لیکن۔“ اس نے اپنے گھوڑے کو سنبھالا جو بجلی کی چمک سے گھبرا رہا تھا۔
” لیکن تم کو ایک وچن دینا ہو گا مجھے۔ ایک مرد کا وچن۔“
” بولو۔ جو کہو گی وہ کروں گا“ قیدی اندھیری گپھا میں سے بولا۔

” تم مجھے وچن دو کہ اگر اس کٹار کے کارن تم۔ اپنے لوگوں سے۔ اپنی پریمیکا سے دوبارہ جا ملے تو تمہارے یہ ہاتھ صرف قلم اٹھائیں گے۔ تلوار نہیں۔ تم ان ہاتھوں سے صرف پریم کی کویتائیں لکھو گے۔ خون نہیں گراؤ گے۔ وعدہ کرو“

” میں وچن دیتا ہوں۔ کہ میرے یہ ہاتھ اب صرف قلم اٹھائیں گے تلوار نہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ….. “
برستی بارش کے شور میں قیدی کو پتہ نہ چلا کہ لڑکی کب چلی گئی تھی۔ اپنا نام بتائے بغیر ۔

وہ پوری رات قیدی ایک لمحے کو بھی نہ سویا۔ ایک خوفناک طوفان اس کے بندی خانے کے باہر گرج رہا تھا اور دوسرا اس کے سینے کے اندر۔ ”کیونکہ مضبوط جوان ہاتھ افسوس میں ملنے کے لیے نہیں ہوتے“ لڑکی کے شبد بار بار اس کے کانوں سے ٹکراتے تھے۔ قیدی کی انگلیاں کٹار کی دھار کی تیزی کو جانچتی تھیں اور بازووں کی مچھلیاں اگلی صبح کے خیال سے پھڑکتی تھیں۔

کٹار کی دھار سچ میں بہت تیز تھی کیوں کہ اگلی صبح وہ بھوجن کا تھال لانے والے رکھوالے کے ٹھیک دل میں اترتی چلی گئی اور وہ کوئی آواز نکالے بغیر ڈھیر ہو گیا۔ اس کے پیر ابھی ذرا ذرا ہل رہے تھے جب قیدی اس کی کمر کے ساتھ بندھے چابیوں کے گچھے کو اتار کر پرال میں پھیلتے خون کو پھلانگتا ہوا بندی خانے سے باہر آ گیا۔ سالوں میں پہلی بار۔ خون ٹپکاتی کٹار اس کے ہاتھ میں تھی۔ وہ اندازے سے بائیں طرف مڑا اور بھاگتا چلا گیا۔ اس کے مار کھائے ہوئے بدن میں جیسے بجلیاں بھر گئیں تھیں۔ بڑے دروازے پر اس کی مڈھ بھیڑ دو اور رکھوالوں سے ہوئی۔ ان کا انجام بھی مختلف نہ ہوا۔ اب وہ کھلی فضا میں تھا۔ رات کی بارش سے ہر شے دھلی نکھری ہوئی لگ رہی تھی۔ مگر اس کے پاس کھل کر سانس لینے کا وقت نہ تھا۔ اس نے اپنے الٹے ہاتھ پر ایک گھنا جنگل دیکھا اور اس کے اندر بھاگتا چلا گیا۔

وہ بھاگتا رہا۔ کتنے دن کتنی راتیں۔ وہ جنگل، میدان اور ندیاں پار کرتا رہا۔ اس کے پیروں میں کتنے کانٹے چبھے اسے پتہ نہیں چلا کیوں کہ ان میں درد محسوس کرنے کی حس مردہ ہو چکی تھی۔ وہ کہیں بھی نہیں رکا، چلتا گیا۔ آخر ایک اندھیری رات کے خاتمے پر جب وہ درختوں کے جھنڈ سے نکل کر کھلی جگہ پر آیا تو دیکھا کہ سانجھ سمے کی روپہلی کرنیں دھرتی کے سینے سے لپٹ رہی تھیں۔ اس کے پیروں تلے مٹی میں نرماہٹ اور گیلی باس تھی۔ اس کا دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ اب اس کے کان صبح کی ہوا میں لہروں کا سنگیت سن سکتے تھے۔ سامنے مہا ندی تھی اور اس کے پار وہ اپنی راجدھانی کی گڑھیا کو دیکھ سکتا تھا۔ وہ اپنے دیش میں پہنچ چکا تھا۔

اس شام جب وہ ندی پار کر کے اپنے شہر پہنچا تو زندگی پورے جوبن پر تھی۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ لگتا تھا کہ اس شہر پر وقت گزرا ہی نہ تھا۔ جیون کے سارے بسرے ہوئے رنگ اور بچھڑی ہوئی خوشبوئیں اس کا سواگت کر رہی تھیں۔ ماگھ کا انت لگ رہا تھا۔ گدگداتی ٹھنڈ کے ساتھ ہوا میں بسنت رت کی جانی پہچانی سگندھ رچی ہوئی تھی۔ لمبے پالے کے بعد ہریاول انگڑائی لے کر جاگ رہی تھی اور اس کے بیج سو رنگ کے پھول کھلے پڑتے تھے۔ لال گلال، پیلے سفید اور سندوری۔ شہر کی فصیل کے ساتھ ساتھ لوگوں کی خوب چہل پہل تھی۔ موسمی پھل اور ترکاریاں بیچنے والوں کے ٹھیلوں پر گاہک بھاؤ تاؤ کر رہے تھے۔ تھوڑا آگے سرائے کے باہر سندھو کے پار سے آنے والے قافلے اترے ہوئے تھے۔ اونٹوں کے کجاوں پر سے سامان اتارا جا رہا تھا۔ زمین میں خیمے گاڑے جا رہے تھے۔

قیدی کو لمبی قید کے سارے دکھ اور ہڈیوں کے اندر سے اٹھتے ہوئے سارے درد بھول گئے تھے۔
وہ اپنا دوسرا جنم لینے جا رہا تھا۔

فصیل کے پہریداروں نے اس کے پھٹے ہوئے کالے سوت کے چوغے، لمبی لٹکتی داڑھی اور ننگے پیروں سے اسے کوئی جوگی یا سادھو سنت سمجھا اور جانے دیا۔ وہ شہر میں آگے بڑھتا گیا۔ اسے کسی نے بھی نہ روکا۔ البتہ راج محل کے پہریداروں نے اسے محل میں جانے کی اجازت نہ دی اور ڈانٹ کر دور جانے کو کہا۔ تماشا تب ہوا جب اس نے اونچی آواز سے راجہ اور مہارانی کے نام کی دہائی دینا شروع کر دی۔ جب اس منہ پھٹ فقیر کو گرفتار کر کے راجہ کے حضور پیش کیا گیا تو راجہ نے اپنے بیٹے کو پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ اچانک مل جانے والی اس خوشی سے اس کے دل کی دھڑکن رکتے رکتے بچی۔ گمشدہ راجکمار کے زندہ واپس لوٹ آنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ راجہ نے پورے سات دن جشن منانے کا حکم دیا اور غریبوں کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے۔

راجکمار کی پریمیکا برہا کی ماری اس کے ہجر میں بستر سے جا لگی تھی مگر اس نے کسی اور کی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ راجکمار کی زندگی سے اس کے اپنے ماتا پتا نراش ہو گئے تھے مگر اس نے ہار نہ مانی تھی۔ اپنے پریمی کو پا کر وہ دوبارہ زندہ ہو گئی تھی۔ ایک مہینے بعد وہ دونوں اگنی کے گرد پھیرے لے رہے تھے۔ ان کے سپنے سچ ہو چکے تھے۔

اب راجکمار کے لیے زندگی محبت، رنگ اور خوشبو کا ایک ختم نہ ہونے والا سفر بن چکی تھی جس کے نشے میں وہ پورا ڈوبا ہوا تھا۔ راج محل کے سجے سجائے کمروں میں ملازموں اور محافظوں کے بیچ میں سونے چاندی کے تاروں سے کڑھے ہوئے ریشمی لباس پہنے، ہیرے موتیوں کی مالائیں گلے میں ڈالے، یا راج سنگھاسن پر مکٹ سر پر سجائے بیٹھے، اسے اپنے قید میں گزرے ہوئے دن اب یاد بھی نہ آتے تھے۔ وہ اندھیری گپھا، وہ چھت کی کڑیاں اور وہ گیلی پرال کا بچھونا۔ راجکمار اس ڈراونے خواب کو بھول چکا تھا۔ ہاں بس ایک آواز تھی۔ ایک من موہنی، مدھر کھنکتی ہوئی۔ مگر بغیر چہرے کے آواز۔ جو کبھی کبھی اسے سپنے میں سنائی دیتی تو اس کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔ وہ بے چین ہو کر اپنی بیوی کے پہلو سے اٹھتا اور دوسرے کمرے میں جا کر ایک خفیہ خانے میں رکھی ہوئی اس کٹار کو نکال کر دیکھتا تھا جو اسے اس بے چہرہ آواز نے ارپن کی تھی اور جس کٹار کے کارن وہ آج یہاں راج محل میں تھا۔ وہ دیر تک ان ہاتھوں کو سوچتا رہتا جو اس کٹار کو اٹھا کر لائے تھے۔ اس اجنبی لڑکی کے آخری شبد اس کے کانوں میں گونجتے تو وہ کٹار کے قبضے کو مضبوطی سے تھامے اسے دیا ہو اپنا وچن دل ہی دل میں دہرانے لگتا۔

بہت دن گزر جانے کے بعد ایک روز جب راجکماری اپنے ہیروں کے ایک جڑاؤ ہار کو رکھنے کے لیے اپنے کمرے میں جگہ بنا رہی تھی تو اسے ایک خانے سے کچھ پرانی کتابیں اور کا ‏غذ پر لکھی کچھ تحریریں ملیں۔ یہ راجکمار کی کویتائیں تھیں۔ یہ ان کے عشق کے شروع کے دنوں کی یادگاریں تھیں۔ راجکماری نے شرماتے ہوئے وہ کاغذ اپنے پتی کو دکھائے تو اس نے انہیں یوں حیران ہو کر دیکھا جیسے وہ کسی اور کی لکھاوٹ تھی۔ اس پل اسے یاد آیا کہ اپنے نئے جنم میں اس نے اب تک کوئی کویتا بھی نہیں لکھی تھی۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا جیسے اس نے کوئی قیمتی چیز کھو دی ہو۔

’ راجکمار کس سوچ میں پڑ گئے آپ؟ ”اس کی پتنی نے اسے سوچ میں گم دیکھ کر پوچھا۔

” نہیں۔ کچھ بھی تو نہیں“ وہ چونکا۔ ”راجکماری آپ نے ہمیں بیتے دن یاد کروا دیے۔“ وہ مسکرا کر مہارانی کے سندر چہرے کو دیکھنے لگا۔

” لائیے یہ سب مجھے دے دیجئے۔ “ مہارانی نے کاغذ اس سے واپس لیتے ہوئے کہا۔ ”یہ کویتائیں میرے ہار کے ساتھ ہی رہیں گی“

” وہ کیوں؟“ راجکمار نے پوچھا۔

” وہ اس لیے راجکماری نے ایک شرارت بھری مسکان کے ساتھ کہا ”کہ اگر آنے والے دنوں میں آپ کا پیار مدھم پڑنے لگے تو میں یہ آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کویتائیں آپ کو دکھا سکوں“ راجکمار بے تحاشا ہنس دیا۔

راجکماری کویتائیں اپنے ہار کے ڈبے کے نیچے رکھنے لگی۔
” دیش واسیو! سنو میری بات۔ دھرتی ماتا کے ساتھ تمہاری وفا اور تمہاری ہمت کو آزمانے کا وقت آ گیا ہے“

راجکمار کا سینا پتی اپنی مضبوط اور رعب دار آواز میں بول رہا تھا۔ وہ راج محل کے سامنے جمع ہونے والے ہجوم سے مخاطب تھا۔

” جنگ کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارے شہیدوں کا خون ہمیں آواز دیتا ہے۔ رن بھومی ہمیں پکارتی ہے۔ ہمیں پچھلی ہار کا حساب چکانا ہے۔ ہم جب تک دشمن کو برباد نہیں کر لیتے، اس سے اپنے سارے چھنے ہوئے علاقے واپس نہیں لے لیتے ہم چین سے نہ بیٹھیں گے۔ یہ یدھ ہو کر رہے گا۔ اور آخری فیصلہ تلوار کرے گی“ اس نے اپنی تلوار کو نیام سے باہر نکال کر ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔

سینا پتی کی اس جوش بھری تقریر نے سارے میں جیسے آگ سی لگا دی تھی۔ چھوٹے بڑے صوبیدار، سردار اور مکھیا سب ایک ساتھ بولنے لگے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا ہاتھ اپنی تلوار کے قبضے پر تھا اور ہر ایک دشمن پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بے تاب تھا۔ پچھلی جنگ میں جو انہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں تھیں، جو اتنا خون بہایا تھا اور پھر بھی ہار کا سامنا کیا تھا، تو وہ سب کچھ ان کی آنکھوں کے آگے گھوم رہا تھا۔

مجمعے کی آنکھوں میں خون اترتا ہوا دیکھ کر سینا پتی نے ایک اطمینان بھری گہری سانس لی اور بوڑھے راجہ کے برابر اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ اس نے راجہ اور راجکمار کو یوں فاتحانہ نظروں سے دیکھا کہ جیسے اس نے وہ جنگ جیت بھی لی تھی جس میں اس نے ابھی قدم بھی نہیں رکھا تھا۔ اپنی پرجا کی کھولتے ہوئے لاوے جیسی بھاوناؤں کو دیکھ کو بوڑھے راجہ کی آنکھیں خوشی سے بھیگ رہی تھیں۔ اس کی آخری خواہش یہ تھی کہ مرنے سے پہلے ایک بار دشمن کا سر اپنے قدموں میں جھکا ہوا دیکھے اور اپنے چھنے ہوئے علاقوں کو پھر سے اپنے راج میں شامل کر لے۔ آج اسے اپنا یہ سپنا سچ ہوتا ہوا دکھ رہا تھا۔

راجکمار چپ تھا۔ وہ یہ سارا منظر نامہ دیکھ کر بھی چپ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جنگ پاگل پن ہے۔ لیکن اس میں اپنی سینا اور اپنی پرجا سے ٹکر لینے کی ہمت تھی نہ بوڑھے باپ کو نراش کرنے کا حوصلہ۔ اسے اس اجنبی لڑکی سے کیا ہوا اپنا وچن یاد تھا۔ جو اس وقت خطرے میں تھا۔ لیکن وہ اس سب کچھ کو، جو ہونے جا رہا تھا روک دینے کی طاقت بھی خود میں نہ پاتا تھا۔ اس کا دل کچھ اور کہتا تھا اور دماغ کچھ اور۔ اس پل راجکمار نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا۔ بہت بے بس۔

پھر جنگ شروع ہو گئی۔ دونوں فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا۔ بہت خونیں مقابلہ ہوا۔ کئی دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں کبھی ایک طرف کا پلڑا بھاری لگتا تو کبھی دوسری طرف کا ۔ آخر ایک شام دشمن کا زور ٹوٹتا دکھائی دیا۔ اب وہ سب چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ کر پیچھے کو ہٹ رہے تھا۔ یہ ماجرا دیکھ کر سینا پتی نے، جو خود اگلی صفوں میں رہ کر لڑ رہا تھا، ایک زوردار نعرہ لگایا اور اپنی سینا کو آخری حملے کے لیے ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا۔ یہ حکم سن کر تھکے ہوئے جسموں میں پھر سے جان آ گئی۔ زیادہ دیر نہ لگی کہ دشمن پوری طرح تتر بتر ہو گیا۔ لیکن عین اس وقت جب فاتح فوج دشمن کے شہر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے والی تھی، شہر کے اندر سے ایک مختصر فوجی دستہ، جس کی قیادت چھریرے بدن کا ایک نوجوان کر رہا تھا، نکلا اور ان پر چڑھ دوڑا۔ اس کے حملے میں اتنی شدت تھی کہ ایک بار تو جیتنے والی فوج کے بھی پاؤں اکھڑ گئے۔ لیکن پھر انہوں نے خود کو سنبھال کر جوابی حملہ کیا۔ کچھ وقت لگا لیکن آخر دشمن کی اس چھوٹی سی ٹکڑی پر بھی قابو پا لیا گیا۔ وہ چھریرے بدن کا نوجوان جو قیادت کر رہا تھا، بالکل تنہا رہ گیا تھا لیکن اب بھی بڑھ بڑھ کر حملے کرتا تھا اور کسی صورت ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ سینا پتی اس کے انداز جنگ سے بہت متاثر ہوا تھا۔ اس نے حکم دیا کہ اس نوجوان کو زندہ گرفتار کیا جائے۔ نوجوان کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ وہ پھر بھی لڑتا رہا۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ اب کوئی صورت باقی نہیں رہی تو زندہ گرفتاری دینے کی بجائے اس نے اپنی کٹار اپنے ہی سینے میں بھونک کر خود کو ختم کر لیا۔ جب اس کا خود اتارا گیا تو اس کے لمبے سیاہ بال ہوا میں بکھر گئے۔ وہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک لڑکی تھی۔ ایک جوان اور خوبرو لڑکی۔ سینا پتی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے دستے تک لڑکی کے سینے میں اتری ہوئی کٹار کو کھینچ کر باہر نکالا اور اس کی کھلی ہوئی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے بند کر دیا۔ وہ اس خون ٹپکاتی کٹار کو ہاتھ میں لیے بھاری قدموں کے ساتھ راجکمار کے خیمے کی طرف چلا تاکہ اسے جیت کی خوشخبری سنائے۔ مگر جب وہ خیمے میں داخل ہوا تو بالکل پتھر ہو گیا۔ سامنے زمین پر راجکمار کا جسم پڑا تھا اور اس کے سینے میں بھی ایک کٹار دستے تک اتری ہوئی تھی۔ سینا پتی لپک کر آگے بڑھا اور راجکمار کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے سینے میں کبھی ہوئی کٹار کھینچ کر باہر نکالی۔

راجکمار کا جسم سرد پڑ چکا تھا اور اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔

کہتے ہیں سینا پتی اس جنگ کے بعد بھی بہت عرصے تک جیا اور آخر بوڑھا ہو کر اپنے بستر میں مرا۔ لیکن آخری دم تک وہ یہ سمجھ نہ پایا تھا کہ راجکمار نے جنگ جیت لینے کے بعد آتما ہتیا کیوں کی؟ اور نہ ہی وہ کبھی یہ سمجھ پایا تھا

کہ اس کے سینے میں کبھی ہوئی کٹار بالکل ویسی کیوں کر تھی جیسی دشمن کی اس بہادر لڑکی کے سینے میں کبھی تھی۔

دونوں کٹاروں کے قبضوں پر ہارنے والی فوج کا مخصوص نشان کھدا ہوا تھا۔

Facebook Comments HS