سائنس کونسل ملتان سے آرٹس کونسل ملتان تک


کلمہ چوک ملتان، جو کبھی پل موج دریا کہلاتا تھا، فلائی اوورز کے اُس جال کے نیچے آ کر دب گیا ہے، جو پہلے فیصل مختار کی ضلعی نظامت اور پھر یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران تعمیر ہوئے۔ کلمہ چوک لاہور کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کچھ ہوا، لیکن بہرحال اس کی ذمہ داری فیصل مختار اور یوسف رضا گیلانی پر عائد نہیں کی جا سکتی، ہر شہر اپنے مسیحا اور آمر آپ پیدا کرتا ہے!

کلمہ چوک ملتان سے پانچ راستے نکلتے ہیں، جن میں سے ایک راستہ ایم۔ ڈی۔ اے چوک کی طرف جاتا ہے۔ کسی دور میں اِس کا شمار شہر کی اہم ترین سڑکوں میں ہوتا تھا، پھر کئی صدیوں سے افیم کے نشے میں دھت یہ شہر ہڑبڑا کر جاگا تو اِتنا دوڑا کہ اِس کے قدموں کی اڑائی ہوئی دُھول میں اِس کا چہرہ چھپ گیا اور آنکھیں دھندلا گئیں۔ اب یہاں گرد، گدا، گرما، گورستان اور ڈی ایچ اے کے علاوہ کچھ نہیں بچا، یہاں تک کہ وہ آم کے درخت، طوطے، چڑیاں اور ہدہد بھی نہیں، جن کا یونانی، عرب، منگول، افغانی، سکھ اور انگریز بھی کچھ نہیں بگاڑ پائے تھے، مگر آخرکار وہ ہماری ناقص اربن پلاننگ، عسکری سرمایہ داری اور بے ہنگم کمرشلائزیشن کی نذر ہو گئے!

کلمہ چوک سے ایم۔ ڈی۔ اے کی طرف سفر کیا جائے تو دائیں جانب سٹیٹ بینک آف پاکستان کی عالیشان بلڈنگ ہے اور بائیں جانب گورنمنٹ مسلم ماڈل گرلز سکول کی خستہ حال عمارت۔ اِن دونوں عمارتوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو سرکار کی ترجیحات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہ ہو گا۔ سڑک کی دائیں طرف چلتے جائیں تو سٹیٹ بینک سے تھوڑا آگے ملتان چیمبر آف کامرس کی عمارت ہے، جس کی مناسبت سے اِس سڑک کو ایوانِ صنعت و تجارت روڈ کا نام دیا گیا۔

اِسی سمت مزید آگے جائیں تو پہلے پاکستان کاٹن جینرز ایسوسی ایشن کا دفتر ہے اور پھر ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی بلڈنگ، سجی کی دکانیں، اور نیشنل بک فاونڈیشن کا شوروم۔ سڑک کے بائیں جانب ملتان آرٹس کونسل کی دیدہ زیب عمارت فخر سے سینہ پھلائے کھڑی ہے، جس سے کچھ ہی فاصلے پر ملتان ٹی ہاؤس واقع ہے، جو سن دو ہزار چودہ میں تعمیر ہوا، اور جس کی دیواروں پر مقصود جعفری اور مجھے چھوڑ کر ملتان کے ہر شاعر، متشاعر، ادیب اور نیم ادیب کی تصویر آویزاں ہے۔

ممکن ہے یہ میرا تعصب ہو، لیکن ٹی ہاؤس سے کہیں زیادہ مجھے اِس سے ملحق پارک، اور پارک کے بالمقابل کھڑی گول گپوں کی ریڑھیاں پسند ہیں۔ کسی دور میں یہاں صنعتی نمائش لگا کرتی تھی۔ پھر کسی بھلے مانس کو خیال آیا اور اس نے یہاں ایک فیملی پارک بنا کر اِسے آرٹس کونسل سے منسوب کر دیا، جہاں موسمی پھول کِھلتے ہیں، پرندے چہچہاتے ہیں، کپلز واک کرتے ہیں اور کبھی کبھار دھنک کے ساتوں رنگ زمین پر اتر آتے ہیں!

ملتان آرٹس کونسل میرے لڑکپن کی فینٹسی ہے۔ اِس کے ساتھ بھی ایمرسن کالج اور گول باغ پارک کی طرح لوو ایٹ فرسٹ سائٹ والا معاملہ رہا۔ کونسل کی لال بلڈنگ ٹھاہ کر کے دل پہ لگتی تھی۔ اِس ایک بلڈنگ کی وجہ سے پورا ایم۔ ڈی۔ روڈ سیکسی لگا کرتا۔ اِسی کو بار بار دیکھنے کے چکر میں البدر کی چانپوں اور شیخ کی سجی نے نگاہ و دہن کو ایسا جکڑا کہ اب تک رہائی نہیں ملی!

سن دو ہزار ایک کی بات ہے۔ میں ایمرسن کالج ملتان میں فرسٹ ائر کا طالب علم تھا۔ عمر یہی کوئی پندرہ، سولہ برس ہوگی۔ میں تازہ تازہ شجاع آباد سے آیا تھا اور العطاء کالونی المعروف کوڑیوالا کینٹ کے ایک سٹوڈنٹ ہوسٹل میں رہائش پذیر تھا، جس کا نام شجاع آباد ہاؤس تھا اور جو میرے نانا کی ملکیت تھی، لہٰذا مجھے کرایہ نہیں دینا پڑتا تھا۔ میرے پاس نارنجی رنگ کی ایک نئی نویلی ماؤنٹین بائیک تھی اور گھومنے کے لیے ایک پورا شہر۔ گھر والوں اور دوستوں سے جدائی کا دکھ تو تھا مگر جو بے پناہ آزادی اور اُڑنے کے لیے کھلا آسمان میسر تھا، اُس کی خوشی کہیں زیادہ تھی!

میں سائنس کا طالبعلم تھا لیکن سوشل سائنس اور آرٹس کی روح لے کر پیدا ہوا تھا۔ نہ صرف مجھے اندرون شہر کے ڈھابوں اور نت نئے کھابوں کو ایکسپلور کرنے کا شوق تھا بلکہ میں مقامی ثقافت اور تاریخ کو بھی سمجھنا چاہتا تھا۔ اُن دنوں میں نے ملتان کے ہر ہوٹل، پارک، سینما اور تھیٹر کو کم از کم ایک بار ضرور وزٹ کیا تاکہ سماج کا ہر ذائقہ چکھ سکوں، دل میں کوئی حسرت نہ رہ جائے!

ایمرسن کالج سے پہلے میں نشاط کالج آف سائنس کا طالبعلم تھا مگر اُس کا ماحول اِتنا سخت اور کشیدہ تھا کہ میں نے تیسرے ہی مہینے جان چھڑا لی۔ میڈم نشاط کی والدہ، میڈم بابر جنوبی پنجاب کی ایک معروف خاتون گزری ہیں۔ اُنہوں نے ملتان کو دو یادگار نشانیاں عطا کیں: بچوں کے لیے نشاط سکول اور بالغوں کے لیے بابر سینما۔ میں ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں، جو دونوں سے مستفید ہوئے۔ نشاط سکول اپنی پڑھائی اور ڈسپلن کے لیے مشہور تھا تو بابر سینما اپنے ٹھنڈے ٹھار ہال اور گرما گرم فلموں کے لیے۔ شرطیہ ڈبل پروگرام تو حشمت محل، رادھو، سٹیزن اور امپیریل بھی دکھاتے تھے، لیکن بابر کی کلاس الگ تھی۔ یہاں ہر وقت ہاؤس فل رہتا۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ گندی فلموں سے اکتا گئے اور گندی باتوں اور گندے ڈانس میں دلچسپی لینے لگے تو بابر سینما، بابر تھیٹر میں تبدیل ہو گیا!

میں ریکس، سنگم، ڈان اور بابر تھیٹر میں زیادہ ڈرامے نہیں دیکھ پایا۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں ٹھمکوں اور جگتوں کا زیادہ شوقین نہیں تھا۔ مزید برآں یہ میرے ہاسٹل سے کافی دور تھے اور ضرورت سے زیادہ مہنگے بھی۔ سستے ڈراموں کے شائق بالعموم ملتان آرٹس کونسل کا رخ کیا کرتے تھے۔ یہاں میں نے لا تعداد سٹیج ڈرامے دیکھے ؛ امان اللہ، ببو برال، سہیل احمد، ناصر چنیوٹی، شوکی خان، البیلا اور آغا ماجد سے پہلا تعارف یہیں ہوا؛ یہیں میں نے زندگی میں پہلی بار نرگس، مدیحہ شاہ اور دیدار کا رقص دیکھا؛ ڈرامے لکھنے اور سٹیج کرنے کا فیصلہ بھی میں نے یہیں بیٹھ کر کیا تھا!

میں نے سن دو ہزار چار میں تھیٹر کی ابتداء کی لیکن کمرشل کے بجائے آرٹ ڈرامے کا انتخاب کیا۔ اِس کی اور بھی کئی وجوہات ہوں گی مگر سب سے اہم وجہ نانا پاٹیکر کی فلم ”وجود“ تھی، جس میں اُس نے ایک تھیٹر آرٹسٹ کا کردار ادا کیا تھا۔ ”کیسے بتاؤں میں تمہیں میرے لیے تم کون ہو“ اور ”ایک سے لے کر دس تک پورے دل سے گنو تو خود بخود آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے“ نے ایسا سحر طاری کیا کہ میں نے ویسا ہی ایک اداکار۔ کم۔ ہدایتکار بننے کی ٹھان لی۔

نشتر میڈیکل کالج کے اسمبلی ہال سے یہ کھیل شروع ہوا۔ ابتداء میں الٹا سیدھا کام کیا، ہوٹنگ سہی، بے تحاشا تنقید کا سامنا کیا، لیکن بہائو الدین زکریا یونیورسٹی تک آتے آتے ہاتھ صاف ہو چکا تھا۔ دو ہزار چار سے دو ہزار آٹھ تک کل ملا کر دس ڈرامے پرفارم کیے مگر آرٹس کونسل کا سٹیج نصیب نہ ہوا۔ آخر دو ہزار نو میں قسمت نے یاوری کی تو ”آج اور ابھی“ کے نام سے ایک پچیس منٹ کا ڈرامہ پرفارم کرنے کا موقع ملا، جس کی مسرت اور سرشاری اِتنی بے تحاشا اور بے پناہ تھی کہ سولہ برس گزرنے کے بعد بھی اُس کا لمس اور مہکار باقی ہے۔

سن دو ہزار دس میں آخری بار ملتان آرٹس کونسل میں پرفارم کیا تھا۔ پھر سن دو ہزار بیس میں ایم۔ ایل۔ ایف ٹو کے پہلے دن ”فیضی اینڈ کمپنی“ کے عنوان سے میرا لکھا ہوا ایک ڈرامہ یہاں پیش ہوا، لیکن چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر میں خود اِس پروگرام میں شریک نہ ہو پایا۔ بالآخر چھ جون سن دو ہزار چوبیس کی ایک حبس آلود شام کو اِسی لالو لال بلڈنگ کے ایک چھوٹے سے ہال میں میرے ساتھ ایک طویل نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کی بدولت مجھے اپنی انتالیس سالہ زندگی کو دوبارہ جینے کا موقع ملا!

کہنے کو تو یہ محض تین سے چار گھنٹوں پر محیط ایک شام تھی مگر اس نے پٙرکار کی طرح میری پوری زندگی کا احاطہ کر لیا۔ اِس میں شجاع آباد ہاؤس، ایمرسن کالج اور بی۔ زیڈ۔ یو تھے جو مدھر ملک کے ہزار لفظی خاکے میں سما گئے۔ اِس میں ملتان آرٹس فورم، فکشن کلب اور بہاول پور تھے جو ہمدمِ دیرینہ لیاقت علی اور غضنفر عباس کی زبانی بیان ہوئے۔ اِس میں نشتر میڈیکل کالج، ڈاکٹر شکیب فیض، انس فرید اور راشد کوثر تھے، جنہوں نے سورگ کو نرکھ میں بدلتے دیکھا اور اِس میں ناچتی ہوئی نرتکیوں کی کتھا لکھی۔

اِس میں قائد اعظم میڈیکل کالج، نور علی اور فیضان علی تھے، جنہوں نے ”کھول دو“ کو ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ سے ملا دیا۔ اِس میں جپسم، کایا اور چندرا وتی تھیں، جنہیں میں نے ساحر شفیق اور ممتاز اطہر کے ساتھ مل کر دریافت کیا، مگر کبھی اِنہیں تحریر نہیں کر پایا۔ اِس میں خرم شہزاد، عثمان علی اور منور آکاش تھے جنہوں نے مجھے اپنے لکھے کو بار بار پڑھنا اور کاٹنا سکھایا۔ اِس میں امجد علی طاہر، جواد رشید اور حمزہ سدوزئی تھے، جنہیں دل کی آنکھ اور روح کے کان نصیب ہوئے۔

اِس میں ڈاکٹر نعمت الحق، سجاد نعیم اور ریحان اسلام تھے جنہوں نے میرے افسانوں کا بہ غور مطالعہ کیا اور مجھے اپنی ذات کے اندھے غار میں کودنے کی تلقین کی تاکہ میں دوڑنے کے ساتھ ساتھ چلنے کا ہنر بھی دریافت کر سکوں۔ اِس میں ابوذر مصطفیٰ، حمزہ طاہر اور مہد تھے، جو اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہر بھائی، برادرِ یوسف نہیں ہوتا، اور ایک ہی شخص بہ یک وقت آپ کا دوست بھی ہو سکتا ہے اور بھائی بھی۔ اِس میں عاقب قریشی تھا جو میرا دوست اور محرمِ راز ہی نہیں، غمگسار اور ناصح بھی ہے۔

اس میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ اور پراونشل منیجمنٹ سروس کی ان سنی کہانیاں اور پراسرار قصے تھے، جنہیں میرے رپورٹنگ افسر، فاروق ڈوگر نے کہنے اور نہ کہنے کی درمیانی سرحد پر رکھا اور ڈائس سے نیچے اتر آئے۔ اِس میں ملتان آرٹس کونسل، ریاض ہمدانی اور عثمان فاروق تھے، جنہوں نے مجھے ایک ایسی حسین و جمیل شام عطا کی، جس کی ادھ کُھلی آنکھوں میں شراب کی سی مستی تھی اور جب وہ ہنسی تو اُس کے گالوں میں ڈمپل پڑ گئے!

آپ ہی بتائیے ایک عام آدمی کو ایسی خاص شام نصیب ہو جائے تو زندگی سے اور کیا چاہیے؟ شاید سب کچھ، شاید کچھ بھی نہیں!

Facebook Comments HS