جیب کترے: نیر اقبال علوی کی افسانہ نگاری
نیر اقبال علوی معاصر عہد میں ان افسانہ نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں جنھوں نے اُردو افسانے کے معیار اور وقار کو اعتبار بخشا ہے۔ اب تک ان کے سات افسانوں کے مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں ”عالمِ سوز و ساز“ ، ”جہانِ رنگ و بو“ ، ”سلسلۂ روز و شب“ ، ”ہنگامۂ رنگ و صوت“ ، ”پاگل خانہ“ ، ”باؤلے کتے“ اور ”می رقصم“ شامل ہیں۔ ان افسانوں کے توسل سے انھوں نے قارئین اور ناقدین سے ڈھیروں داد سمیٹی ہے۔ اب ”جیب کترے“ کے عنوان سے ملٹی میڈیا افیئر، لاہور نے 2024 ء میں ان کا تازہ افسانوں کا مجموعہ شائع کیا ہے۔
نیر اقبال علوی کے افسانے معاصر عہد کے عکاس ہیں۔ بقول قیصر اقبال ”جن میں دکھیا من کی پکار، انسانوں کی حالتِ زار، ان پر روا رکھے جانے والے مظالم، نا مساعد حالاتَ زندگی، جہالت اور ناخواندگی، صحتِ عامہ سے متعلق غم انگیز واقعات، حکمرانوں کا فسطائی جبر، علاوہ ازیں اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کی غنڈہ گردیاں، وڈیرا شاہی اور ان کی رنگ رلیاں نیز ان کی نجی جیلوں میں پابہ زنجیر مزارعین اور ان کے افرادِ خانہ، غریب محنت کش اور ان پر ہونے والے مظالم، جابرانہ نظام اور ان کی چیرہ دستیاں، ایسے کئی موضوعات ہیں، جن میں رنج و غم کی چیخ و پکار شامل ہے۔
“ مذکورہ مجموعے میں اگر دیکھا جائے تو ان کا کینوس خاصا وسیع ہے جو مشرقی معاشرے تک محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت یورپی معاشرے تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ عالمی سطح پر ہونے والے واقعات کو بھی اپنی کہانیوں کا حصہ بناتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انھوں نے زندگی کا بیشتر وقت جرمنی میں گزارا ہے اور اس معاشرت اور معیشت کو قریب سے دیکھا ہے۔ اسی لیے ان کے افسانوں کا خمیر عالمگیر سرمایہ دارانہ نظام، یورپی اقوام کے استحصالی ہتھکنڈوں اور غریب ممالک پر طاقتوروں کے جبر سے اٹھتا ہے۔ ان کے افسانے معاشرتی بے اعتدالی، باہمی عدم برداشت اور اقربا پروری جیسی خباثتوں سے نفرت کا اظہاریہ ہیں۔
افسانوں کے مجموعے ”جیب کترے“ میں بھی انھوں نے اس تسلسل کو قائم رکھا ہے۔ انھوں نے معاشرے میں منفی رجحانات کے کوڑے دان سے تخلیقیت کے زور پر جن پھولوں کی فصل کاشت کرنے کی کوشش کی ہے، وہ نیر اقبال علوی جیسے افسانہ نگار کا ہی خاصا ہے۔ مذکورہ مجموعے کے ٹائٹل افسانے ”جیب کترے“ میں افسانہ نگار نے معاشرے کے ایسے افراد کے لئے، جنھوں نے، جمالیات اور مثبت اقدار میں بگاڑ پیدا کیا ہے، جیب کترے کا استعارہ استعمال کیا ہے۔
گزشتہ کچھ دہائیوں سے ادبی اور ثقافتی سر گرمیاں جس تیزی سے زوال آمادہ ہوئی ہیں اس پر تاسف کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ میکلورڈ روڈ پر ”رتن سینما“ کی عمارت کی خستگی اور فرسودگی کے توسط سے درحقیقت پورے سماج کا نوحہ بیان کیا گیا ہے۔ یوں رتن سینما کی عمارت پورے سماج کا استعارہ بن جاتی ہے۔ مسٹر کاشف جو لاہور کا رہائشی ہے اور اس پر گزرنے والے ماہ و سال کا چشم دید گواہ بھی ہے، مدیحہ سے فون کے ذریعے مکالمہ کرر ہا ہے۔ وہ اس وقت لندن میں مقیم ہے اور کئی سالوں سے وہاں رہ رہی ہے۔ دونوں کے مابین مکالمے نے پاکستانی سماج کی زوال آمادگی کو جس اچھوتے انداز میں بیان کیا ہے، قاری اس سے اثر پذیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس حوالے سے کاشف کا ایک بیان دیکھیے جس میں سماج کے روبہ تنزل ہونے کے اسباب کچھ یوں بیان ہوئے ہیں :
”مجھے دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم ایسی لا پرواہ اور بے شرم قوم بن چکے ہیں جس کو اپنے قومی ورثے کے تحفظ کا خیال ہے، نہ ہی حقیقت کا علم کہ فنونِ لطیفہ کے توسط سے ایک متوازن و پر کشش معاشرہ وجود میں آتا ہے، اسی سے کسی قوم و وطن کی ثقافت اور تہذیب ظہور پذیر ہوتی ہے۔ لوک ورثہ، ثقافتی سر گرمیاں اور فنونِ لطیفہ وہ عوامل ہیں جن سے قوموں کی شناخت بننے کے ساتھ ساتھ اس کے مجموعی ذوق و شوق اور عقل و فہم کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔“
لاہور شہر جو کسی زمانے میں علمی، ادبی اور ثقافتی سر گرمیوں کے لئے مشہور ہوا کرتا تھا اب اس میں وہ حرکت و حرارت نظر نہیں آتی۔ فلم بینی تو اس کے شہریوں کا خاص شغف تھا۔ یہاں درجنوں سینما اور تھیٹر موجود تھے جو لاکھوں لوگوں کے لئے تفریح مہیا کرتے تھے، اب ان کے محض آثار باقی ہیں۔ ستر کی دہائی میں فلم بینی عروج پر تھی اور ارم، ریکس، نگینہ، ناز اور رتن سینما کافی معروف تھے۔ پاکستان کی پہلی رنگین فلم ”نائلہ“ تھی جو پہلی بار ناز سینما میں لگی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہو گئی تھی۔
یہ فلم رضیہ بٹ کے ناول پر بنائی گئی تھی جسے ہر طبقے کے افراد نے پسند کیا تھا۔ لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان تھیٹروں اور سینماؤں کی جگہ، پلازوں اور دکانوں نے لے لی ہے۔ افسانے کا کردار مسٹر کاشف تبدیلی اور ترقی کے خلاف تو نہیں لیکن اپنے قومی ورثے، اقدار اور ثقافت کو محفوظ کرنے کا شدت سے خواہاں ہے۔ وہ اپنے سماج کا موازنہ یورپی اقوام سے کرتا ہے جہاں دو عالمی جنگوں نے کافی کچھ تباہ و برباد کیا لیکن انھوں نے اپنے ثقافتی ورثے، تمدنی دولت اور فنونِ لطیفہ کو بچا کر رکھا ہے۔
وہاں کے لوگ اب بھی سینما دیکھتے ہیں، ڈراما دیکھنے کے لئے بچے، بوڑھے اور جوان تھیٹروں کا رخ کرتے ہیں۔ فنونِ لطیفہ سے منسلک لوگوں کو وہاں عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں انھیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انھیں کنجر، مراثی اور رذیل سمجھا جاتا ہے حالاں کہ وہ خاص صلاحیتوں سے نوازے گئے خدا کے محترم و مقرب افراد ہوتے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد کچھ عرصہ صورتِ حال بہتر رہی لیکن اس کے بعد خواہ وہ معیشت ہو یا سیاست و ثقافت، ہر سطح پر ترقی کے بجائے تنزلی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ پھر مادر وطن کی عزت ہر گزرتے دن کے ساتھ تار تار ہوتی گئی۔ جیب کتروں نے اس کے بدن کو اس فنکاری سے لوٹا کہ اس کا نکھار اور وقار ملیا میٹ ہو گیا، اس کا جلال و جمال اور عظمت و سر بلندی خاک میں مل گئی۔ یوں مادرِ وطن کی عزت کو پامال کرنے والوں کے لیے ”جیب کترے“ کا استعارہ ایک بامعنی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
نیر اقبال علوی کے افسانوں میں سماج کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، وہ سماج کے ہر اس طبقے کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہیں جو مرکزی دھارے سے پچھڑا ہوا ہے اور جسے شعوری طور پر حاشیے پہ دھکیل دیا گیا ہے۔ وہ طبقہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود ہو وہ اس کے حق میں اور ظالم کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ افسانوں کے اس مجموعے میں وہ مظلوم عورتوں کی آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔ اس مجموعے میں کئی ایسے افسانے ہیں جن میں عورتوں کے مسائل کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس حوالے سے ان کے افسانے ”کوکھ میں جمے علق سے گفتگو“ ، ”مرجھائی ہوئی کلیاں“ ، شاخِ سوختہ پر ہریالی ”،“ کاروانِ حریت کے آبلہ پا ”اور“ میرا جسم میری مرضی ”ایسے افسانوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کا اندازہ ان کے انتساب سے بھی لگایا جا سکتا ہے :“ آہنی عزم و حوصلہ رکھنے والی ان عالی مرتبت خواتین کے نام جنھوں نے قومی آزادی کی جد و جہد میں ریاستی ظلم و تشدد، تذلیل، تضحیک اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کا بے خوفی اور دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا۔
”جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سماج میں جہاں پدر سری نظام اپنے تمام لوازمات اور آب و تاب کے ساتھ موجود ہو وہاں کمزور طبقات کا اور خاص طور پر عورت کا، استحصال سے بچنا ناممکن امر ہے۔ وہ کسی نہ کسی انداز میں طاقتور طبقے کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہوتی ہے جہاں اس کی حقیقی آزادی سماج کے اخلاقی، سیاسی اور معاشی دائروں میں مقید ہوتی ہے اور وہ اپنی مرضی کے فیصلے لینے سے قاصر ہوتی ہے۔ مذکورہ مجموعے کے افسانوں میں ایسا ہی دکھایا گیا کیا ہے جہاں افسانہ نگار سماج کے پسے ہوئے اس طبقے کی آواز بنے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے افسانے“ کاروانِ حریت کے آبلہ پا ”سے ایک اقتباس ملاحظہ فر مائیں :
”تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان نے مال و دولت سمیٹنے کے لیے معیشت کی بنیاد رکھی اور مختلف اجناس کے لیے لین دین اور دیگر کار آمد اشیاء کی تجارت کی ابتداء کی، تو خواتین کی خرید و فروخت ان سودا گروں کے لیے نہایت سود مند کاروبار ثابت ہوا۔ برِ اعظم افریقہ سے ان سوختہ بختوں کو جبراً غلام بنا کر دنیا کے تمام ممالک میں فروخت کیا جاتا۔ دوران سفر اپنے گھروں سے اٹھائی جانے والی یہ ان گنت بد قسمت داسیاں مختلف صعوبتوں، بیماریوں حادثوں اور فاقہ کشیوں کی بھینٹ چڑھ کر اس جہانِ خراب سے نجات پا جاتیں“
افسانے کے کردار فرہاد چودھری کا مذکورہ بیان تاریخ کے ایک ایسے سچ کو بیان کر رہا ہے جس کا ذکر ہماری تاریخ کی کتابوں سے یا تو غائب ہے یا دانستہ غائب کر دیا گیا ہے۔ یوں اس افسانے کے کردار سے سچ کہلوا کر افسانہ نگار نے عورت کی مذہبی، سیاسی اور معاشی آزادی کے حق میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس طرح کا رجحان ان کے اس مجموعے کے دیگر افسانوں جیسے ”اوڈی پس کمپلیکس“ ، ”شاہکار“ اور ”خلشِ پیہم“ میں بھی موجود ہے جہاں احساس کی مختلف سطحوں پر انھوں نے نسائی حسیت اور شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری عالمی جنگ اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی انھوں نے افسانے قلم بند کیے ہیں جیسے ”رستا خیز“ اور ”ابابیلیں کیوں نہیں آتیں“ وغیرہ۔
افسانوں کے مذکورہ مجموعے میں شامل افسانوں کی لوکیل مشرق اور یورپ تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے تمام خطوں سے کردار منتخب کیے ہیں۔ اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ ان کے کرداروں کا کوئی خاص وطن نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی خاص مذہب ہے۔ وہ ہر رنگ، نسل اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا اگر کوئی مذہب ہے تو وہ انسانیت ہے جس کا درس نئیر اقبال علوی مذکورہ افسانوں کے مجموعے کے توسل سے قارئین کو دینا چاہتے ہیں۔


