جب قائد اعظم نے عدت میں نکاح کے مقدمے کا فیصلہ الٹ دیا
یہ ستمبر 1931 کی بات ہے حنیفہ بیگم کا شوہر پولیس کی فائرنگ سے مارا جاتا ہے۔ حنیفہ عبدل کبیر سے شادی کر لیتی ہے۔ دونوں میں ناچاقی کے سبب علیحدگی ہوجاتی ہے اور پھر وہی مسئلہ کے طلاق کے وقت گواہان تھے یا نہیں۔
اب حنیفہ بیگم، سب انسپکٹر مرزا مہر علی سے تیسری شادی کر لیتی ہے۔
عبدل کبیر کشمیر پینل کوڈ مجریہ 494 کے تحت حنیفہ اور مہر علی دونوں پر مقدمہ دائر کر دیتا ہے (شادی شدہ عورت سے شادی کرنا) ۔ جموں کشمیر کی مقامی عدالت مہر علی کو بری کر دیتی ہے (عدم ثبوت کے طلاق یا عدت کا اس کو علم تھا یا نہیں ) ۔ لیکن اس کی بیوی حنیفہ بیگم کو سزا سنا دیتی ہے۔ عدالت کے مطابق حنیفہ بیگم یہ ثابت نہیں کر پائی کہ اسے طلاق ہوئی ہے۔ اس لئے وہ بدستور عبدل کبیر کی بیوی ہے اور شادی پر شادی کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔
سب انسپکٹر مرزا مہر علی اپنی بیوی کی بریت کے لئے ٹرائل کورٹ میں اپیل دائر کرتا ہے جہاں بیرسٹر افضل بیگ اس کا مقدمہ ہار جاتا ہے۔
مہر علی اب سری نگر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتا ہے۔ جہاں کے چیف جسٹس شری برج دلال کی عدالت میں یہ مقدمہ لگتا ہے۔ جج صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایسے مقدمات میں نچلے کورٹ کے فیصلوں کو زیادہ نہیں چھیڑتے۔ وکلاء حضرات کے لئے یہ مقدمہ ایک بیکار اور فضول کوشش تھی۔ جسے لڑنے سے ناکامی کا داغ لگنے کے سوا کچھ نہیں ملنا تھا۔
یہ 1936 کی بات ہے جب قائد اعظم اپنے ڈاکٹروں کے مشورے پر ، آرام کی غرض سے سری نگر تشریف لاتے ہیں۔ یہاں ان کا قیام سری نگر میں جھیل میں موجود ایک ہاؤس بوٹ میں ہوتا ہے۔ جہاں وہ اپنی سیاسی، سماجی اور پیشہ ورانہ مصروفیات کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف آرام کرنے آئے تھے۔ یہ وہی وقت تھا جب جناح صاحب کو ان کے ڈاکٹروں نے ایکس رے دیکھ کر ، پہلی بار پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن (ممکنہ تپ دق) تشخیص کی تھی۔
ٹرائل کورٹ میں ہارنے کے بعد افضل بیگ کے لئے یہ پیچیدہ مقدمہ ہائی کورٹ میں جیتنا، وہ بھی کسی نئے ثبوت کے بغیر، لگ بھگ ناممکن تھا۔ جب کہ سری نگر کا ہر وکیل اس مقدمہ میں یقینی ہار دیکھ رہا تھا۔
بیرسٹر افضل بیگ کے علم میں آیا کہ جناح صاحب سری نگر آئے ہوئے ہیں تو وہ مہر علی، شیخ عبداللہ اور دوسرے عمائدین کے ساتھ جناح صاحب سے ملنے پہنچا اور وکالت کی درخواست کی۔ قائد نے انہیں بتایا کہ وہ صرف آرام کرنے آئے ہیں لیکن لوگوں کے اصرار پر انہوں نے مقدمے کی فائل دیکھ کر مقدمہ لڑنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا۔ ساتھ شرط رکھی کہ وہ بمبئی ہائی کورٹ میں جو فیس لیتے ہیں وہی یہاں بھی لیں گے یعنی ایک ہزار روپے فی پیشی۔
افضل بیگ اور مہر علی کے چھکے چھوٹ گئے کیوں کہ سب انسپکٹر مہر علی اتنی بڑی رقم ادا نہیں کر سکتا تھا۔ قائد نے کہا کہ میں اپنے اصول کبھی نہیں توڑتا۔ مجھے وکیل کرنا یا نہ کرنا آپ کی مرضی ہے۔
نامراد وہاں سے نکلنے کے بعد ، سب انسپکٹر مہر علی نے بمشکل جناح صاحب سے دوبارہ تنہائی میں ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ قائد نے بادل ناخواستہ اس کو اندر بلا لیا۔ کچھ دیر بعد وہ باہر نکلا تو اس کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔
چیف جسٹس ہائی کورٹ کے سامنے پیشی والے دن پورا سری نگر کورٹ روم میں پہنچا ہوا تھا۔ سب لوگ بیرسٹر جناح کا کشمیر میں پہلا مقدمہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھنا چاہتے تھے۔ ان ہیں یہ بھی حیرانی تھی کہ بیرسٹر جناح کے پاس وہ کون سے دلائل ہوں گے جو اس مقدمے میں جان ڈال سکیں۔ سری نگر کے امراء، قانون داں، دکان دار اپنی دکان بند کر کے، طلباء اپنی تعلیمی درس گاہ چھوڑ کر، سرکاری ملازم دفتر سے آدھی چھٹی لے کر اور چھٹی پر سری نگر سیر کو آئے لوگ بھی سیر کو چھوڑ کر کورٹ پہنچے ہوئے تھے۔
بیرسٹر جناح کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کم لفظوں سے زیادہ فائدہ کشید کرنے والے جادوگر وکیل تھے۔ اس دن کورٹ روم میں موجود لوگوں کے لئے دل چسپ اور حیرانی کی بات یہ بھی تھی کہ بیرسٹر جناح عدالت میں خالی ہاتھ آئے تھے۔ نہ ان کے پاس کوئی کتابیں تھیں نہ کوئی فائل اور نہ کوئی نوٹس کی ڈائری۔
بیرسٹر جناح نے اپنے دلائل اس سوال سے شروع کیا کہ کیا جو تاریخیں عبدل کبیر کے وکلا نے کورٹ میں جمع کرائی ہیں وہ درست اور مصدقہ ہیں یا نہیں۔ تصدیق کے بعد جناح نے کہا کہ اسلام میں بیوہ یا مطلقہ عدت گزارنے کے بعد ہی دوسری شادی کر سکتی ہے۔ حنیفہ بیگم کا پہلا شوہر ستمبر 1931 میں مارا جاتا ہے۔ یوں اسے بیوگی کی عدت گزارنی ہوگی جس کی مدت چار مہینے اور دس دن ہے۔ اگر انتقال پہلی قمری تاریخ کو ہوا ہو تو چار قمری مہینے اور دس دن پانچویں مہینے میں عدت بنے گی۔
جس کے بعد وہ دوسری شادی کر سکتی ہے۔ جناح صاحب نے مزید کہا کہ اگر یہ انتقال مہینے کے وسط میں کہیں ہوا ہو تو یہ مدت شمسی کیلنڈر کے مطابق 130 دن بنتی ہے۔ بدقسمتی اور لاعلمی سے حنیفہ بیگم نے شوہر کے انتقال کے 128 دن بعد ہی عبدل کبیر سے شادی کرلی تھی یہ سمجھتے ہوئے کہ قمری چار مہینے دس دن پورے ہوچکے۔ جب کہ اس کی عدت ختم ہونے میں بدستور چند دن باقی تھے۔ یوں اسلامی شریعت کے مطابق حنیفہ بیگم کا نکاح عبدل کبیر سے ہوا ہی نہیں اور ناجائز تھا۔
ایسی صورت میں اس نے حنیفہ بیگم کو طلاق دی یا نہیں اس کی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ وہ اس کی منکوحہ ہی نہیں ہے۔
جب کہ حنیفہ بیگم کی شادی جب مہر علی سے ہوئی تو اس کی پہلی عدت پوری ہو چکی تھی۔ اور اس کا موجودہ نکاح ہی درست مانا جائے گا۔ بقول بیرسٹر جناح اگر عبدل کبیر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا نکاح پہلے شوہر کی وفات کے 130 دن بعد ہوا ہے تو اس کا مقدمہ جائز ہو گا اور حنیفہ بیگم کی سزا، درست۔ لیکن اگر اس کا نکاح عدت کے دوران ہوا تھا تو اس کا نکاح غلط ہونے کی صورت میں اس کا دعوی ہی غلط ہو جائے گا۔ کیوں کہ حنیفہ نے شادی پر شادی نہیں کی۔
کورٹ روم میں موجود لوگوں کے منہ کھلے کہ کھلے رہ گئے۔
چیف جسٹس نے صرف ایک سوال کیا: مسٹر جناح کیا آپ کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کوئی اتھارٹی یا ثبوت ہے؟
جناح نے برجستہ جواب دیا: مائی لارڈ۔ میں خود ایک اتھارٹی ہوں۔
عدالت نے عبدل کبیر سے شادی کے وقت عدت پوری نہ ہونے پر مقدمہ خارج کرتے ہوئے حنیفہ بیگم کو باعزت بری کرتے ہوئے سب انسپکٹر مہر علی کی قانونی بیوی قرار دے دیا۔
شاید ہم سمجھیں کہ قائد اعظم نے اس پیشی کہ کم از کم ایک ہزار روپے تو لئے ہی ہوں گے؟

جسٹس محمد یوسف صراف جو بعد میں پاکستانی کشمیر کے چیف جسٹس بنے۔ اپنی 1977 میں شائع ہونے والی کتاب میں بتاتے ہیں کہ مہر علی نے جب دیکھ لیا کہ وہ بیرسٹر جناح کی فیس ادا نہیں کر سکتا تو وہ دوبارہ ان سے ملنے گیا اور بتایا کہ وہ مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ کا سیاسی کارکن ہے اور اس نے کشمیر میں تحریک آزادی کے لئے اب تک کیا کیا خدمات انجام دی ہیں۔ پولیس والا ہونے کے باوجود اس نے ڈوگرہ فوج کے مظالم اور پیش رفت کو روکنے کے لئے ایک مرتبہ سنگھ رام کے پل کو بھی تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
یہ معلوم ہونے کے بعد مسٹر جناح نے مقدمے کی فائل دوبارہ دیکھی او ر مہر علی کو کہا کہ فکر مت کرو میں اب تم سے کوئی فیس نہیں لوں گا۔ مقدمے سے ایک دن پہلے مجھے اطلاع کر دینا اور اس وقت یہ فائل بھی دے جانا۔
مقدمے میں کامیابی کے بعد حنیفہ بیگم اور مہر علی نے بیرسٹر جناح سے دوبارہ ملاقات کر کے پہلی پیشی کی رقم ایک ہزار روپے دینے کی پھر کوشش کی اور ایک بار پھر ناکام رہے۔ جناح نے کہا جب میں نے وعدہ کیا تھا کہ فیس نہیں لوں گا تو اب کیسے لے لوں۔
عدت میں نکاح کا ایک مقدمہ پاکستان کے عدالتی نظام کو بھی داغدار کر رہا ہے۔ نہ کوئی اس شخص خاور مانیکا سے پوچھتا ہے کہ اس نے کسی گواہ کی موجودگی میں، یا قانونی اور شرعی طریقے سے کیوں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور سب سے بڑھ کر کسی ریاستی ادارے یا خواتین کے حقوق کے لئے لڑنے والی کسی تنظیم نے آگے بڑھ کر خاور مانیکا پر اب تک کیوں مقدمہ درج نہیں کیا کہ پاکستانی قوانین کی رو سے اس نے یونین کونسل کی معرفت یہ طلاق نامہ کیوں نہیں بھجوایا۔ سزا تو خود سابقہ شوہر کو ملنی چاہیے۔
اسی طرح ریاست نے اس مولوی کو بھی کیوں سزا نہیں دی جس پر لازم تھا کہ وہ بشری بی بی کا شناختی کارڈ اور پچھلے شوہر کا طلاق نامہ دیکھ کر اگلا نکاح پڑھاتا یا رجسٹر کرتا۔ ابھی تک نا تو کسی نے ریاستی ادارے نے اس کی اس نا اہلی پر اس کا نکاح خواں کا لائسنس منسوخ کیا اور نہ عدت میں نکاح کرانے پر اس کو سزا سنائی۔ عام لوگوں کو ان باتوں کی کہاں سمجھ ہوتی ہے اور یہ مولوی کی ہی ذمہ داری تھی کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا کہ نکاح پڑھایا جاسکتا تھا یا نہیں۔
اگر یہ معافیاں سابقہ شوہر کے لئے موجود ہیں (جو اب اس خاتون سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا) اور اس مولوی کے لئے بھی (جو اپنی غلطی کو وہاں موجود خواتین سے پردے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر سکتا ہے کہ اس نے وہاں موجود کسی خاتون سے پوچھا تھا کہ طلاق ہو چکی ہے یا نہیں ) تو یہ معافیاں، عمران خان اور ان کی بیگم کے لئے کیوں نہیں؟
تحریک انصاف کے وکیلوں پر بھی آفرین ہے کہ اگر وقوعہ لاہور میں ہوا تو انہوں نے مقدمے کو اسلام آباد میں کیوں لڑا؟ ویسے بھی اگر سعودیہ کا نکاح خواں کراچی میں آ کر نکاح پڑھائے اور نکاح سعودیہ میں رجسٹر ہوتو گناہ کہاں ہوا ہو گا؟ ریاستی اور قانونی اداروں کو بھی اب فیصلہ کر لینا چاہیے۔ فراڈ یا زنا جو بھی ہوا۔ مقدمہ لاہور کا ہی بنتا تھا۔ باقی طلاق کی صورت میں عدت 130 دن نہیں ہوتی بل کہ محض تین پیریڈ آنے سے مشروط ہے۔ جس کا فیصلہ صرف عورت ہی کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ خود فیصلہ دے چکی ہے کہ اگر کوئی عورت محض 39 دن بعد بھی یہ دعوی کردے کہ اس کے تین پیریڈ پورے ہو گئے تو سب کو ماننا پڑے گا۔
پھر یہ بھی کسی کو نہیں پتہ کہ فراڈ آخر ہوا کس کے ساتھ؟ اگر پہلا نکاح غلط بھی ہوا تھا تو ان لوگوں نے بعد میں اس کی تصیح کرلی او ر جب مولوی کو حقیقت کا علم ہو چکا تھا تو اس نے دوسرا نکاح کیوں پڑھایا۔ قصور تو مولوی کا بھی اتنا ہی ہے۔
اسی طرح پاکستان میں یہ بھی طے کر لینا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والے جرم یا ٹی وی پر آن ائر ہونے والے جرم کا مقدمہ کہاں رجسٹر کیا جائے گا۔ یہ صرف کسی ایک جگہ ہی ہونا چاہیے۔


