ساہیوال! تیرے اِنصاف پر صدقے
ساہیوال اور اوکاڑہ سے اپنی خاندانی عقیدت ہے اور پشاور سے اٹوٹ پیدائشی محبت۔ اوکاڑہ اور ساہیوال کا درمیانی فاصلہ تقریباً 50 کلومیٹر ہے جو لگ بھگ ایک گھنٹہ کی مسافت ہے۔ اوکاڑہ ہمارے والدِ گرامی کی جنم بھومی ہے جبکہ ساہیوال میں والدہِ محترمہ نے آنکھ کھولی اور شب و روز گزارے۔ یوں اِن دو شہروں کی مٹی کے ملن سے پشاور میں اپنا خمیر اُٹھا۔
ساہیوال پنجاب کا ایک خوبصورت اور سرسبز و شاداب شہر ہے۔ اس کا اصل نام ساہی آبادی کی مناسبت سے ساہیوال ہی تھا مگر انگریز کی آمد کے بعد 1865 کے آس پاس ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر رابرٹ مُنٹگمری کے نام پر مُنٹگمری پڑ گیا۔ بہرحال قیامِ پاکستان کے بعد 1967 میں اسے پھر سے ساہیوال کے نام سے بحال کر دیا گیا۔ یہ شہر دریائے ستلج اور دریائے راوی کے درمیان ایک گنجان آباد خطہ ہے۔
ساہیوال ایک قدیم اور پُرامن شہر ہے۔ یہ شہر جنوبی ایشیائی سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ اور صوفی زیارت گاہ پاکپتن شریف بھی ساہیوال کے قُرب میں واقع ہیں۔ ساہیوال کی سنٹرل جیل کو تاریخی لحاظ سے خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اس جیل میں قید رہنے والوں میں نمایاں نام ذوالفقار علی بُھٹو، جواہر لعل نہرو، فیض احمد فیض، شیخ ایاز اور دیگر کئی شخصیات شامل ہیں۔
اس شہر نے متعدد نامور شخصیات کو بھی جنم دیا جن میں اُردو ادب میں مجید امجد، مہندر سنگھ بیدی، منیر نیازی، ٹیلی ویژن اینکر طارق عزیز اور استاد ڈاکٹر مہدی حسن نمایاں ہیں۔
مذہبی اقلیتیں ساہیوال شہر کو 1998 میں ایوب مسیح کو سیشن کورٹ سے سنائی جانے والی سزائے موت اور بعد ازاں اسی عدالت کے سامنے بشپ جان جوزف کی شہادت کے تناظر میں جانتی ہیں۔ یہ شہر 6 مئی 1998 کو بین الاقوامی سطح پر اُس وقت خبروں میں نمایاں رہا جب پاکستان کے پہلے مقامی اور پنجابی کیتھولک بشپ جان جوزف نے تکفیر کے قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے ساہیوال کی مقامی عدالت کے سامنے احتجاجاً اپنی جان قربان کی۔
ساہیوال کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج کی جانب سے 27 اپریل 1998 کو اہانتِ دین کے مقدمے میں ایوب مسیح کو سزائے موت سنائی تھی۔ 25 سالہ ایوب مسیح پر 14 اکتوبر 1996 کو مقدمہ درج ہوا تھا۔
بشپ جان جوزف اپنی عوامی تقاریر میں اہانتِ دین کے قوانین کو مذہبی اقلیتوں کی زندگیوں کے لئے انتہائی خطرناک قرار دے چکے تھے۔ یہ اُن کی دوراندیشی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ مذہبی بنیادوں پر متعارف کروائے گئے تکفیر کے اِن قوانین کو شہری اپنے ذاتی مقاصد، گروہی اختلافات اور عقیدے کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کے خلاف غلط استعمال کریں گے لہٰذا یہ قوانین مذہبی اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دیں گے۔ اُن کی قربانی کے تقریباً 26 سال بعد صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ یہ قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد سے سینکڑوں املاک اور عبادت گاہوں کی مسماری کے علاوہ لگ بھگ 100 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔
29 جون 2024 کو جب دنیا کی نظریں آئی سی سی ٹی ٹوینٹی کے فائنل میچ پر جمی تھیں جہاں بھارت اور جنوبی افریقہ مدِمقابل تھے تو دوسری طرف امریکہ کے آئندہ انتخابات کے دو اُمیدواروں کے درمیان ہونے والا پہلا مباحثہ بھی زیرِ بحث تھا۔ اُدھر پاکستانی عوام حالیہ بجٹ کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی حکمتِ عملی میں مشغول تھی کہ یہ خبر مسیحیوں کو ایک بار پھر افسردہ کر گئی کہ ساہیوال کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 سالہ مسیحی نوجوان احسان مسیح کو سزائے موت، بائیس سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سُنا دی ہے۔
خبروں کے مطابق احسان مسیح پر الزام تھا کہ اُس نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ شیئر کی تھی جس سے مبینہ طور پر اشتعال پھیلا اور جس کی بنیاد پر 16 اگست 2023 کو جڑانوالا میں مسیحیوں کے سینکڑوں گھر اور دو درجن کے قریب گرجا گھروں کو نذرِآتش کر دیا گیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ بے بنیاد مقدمہ اور تعصب اور خوف پر مبنی فیصلہ ہے۔ اس میں بہت ساری قانونی خامیاں ہیں۔ احسان مسیح ہائی کورٹ میں اپیل کا حق رکھتا ہے مگر ذاتی، خاندانی اور معاشرتی طور پر پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ وہ دہشت گرد عناصر جنہوں نے دوسرے درجے کے پرامن شہریوں کو کھُلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور کر دیا، اُن کی زندگی بھر کی محنت اور خوابوں کو ہوا میں پھونک ڈالا اور جو دنیا بھر میں وطنِ عزیز اور خود کے لئے بھی رسوائی اور بدنامی کا باعث بنے اُن میں سے ابھی تک کسی فرد کو سزا نہیں ملی، انہیں سزا کون دے گا؟
مذہبی اقلیتوں کا اس ملک اور اس نظامِ انصاف پر اعتماد کون بحال کرے گا؟ مسیحی تو سوچ رہے ہیں کہ گھر بھی ہمارے جلے، بے حرمتی بھی ہماری ہوئی، گھر بار بھی ہمارے لُٹے، خواب بھی ہمارے ٹوٹے، قلم دوات اور کتاب بھی میری جلی، زندگی بھی تار تار میری ہوئی اور اب کے موت کی سزا کے حقدار بھی ہم ہوئے، واہ رے ساہیوال تیرا انصاف۔ بقولِ فرحت احساس
گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے
شہر میں جو بھی ہوا وہ خطا میری ہے
اطلاعات کے مطابق جڑانوالہ میں دنگا فساد کرنے، جلاؤ گھیراؤ میں ملوث اور دہشت پھیلانے کے الزام میں 135 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا مگر انصاف کا پلڑا 125 افراد کو رہا کرچکا ہے اور فقط 12 افراد پر شہر بھر کو جلانے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے۔ انصاف کی اس قدر تیز ترین رسائی پر میں صدقے میں واری۔ اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں میں ان 12 ملزمان کے متعلق بھی ”خبریں“ متوقع ہیں۔
ساہیوال کی سیشن عدالت کے ہاتھوں مذہبی اقلیتوں نے 1998 میں ایوب مسیح کی سزائے موت اور بعد ازاں بشپ جان جوزف کی شہادت کے زخم کھائے ہیں اور اب کی بار احسان مسیح کو سنائی جانے والی سزائے موت نے وہ زخم پھر سے ہرے کر دیے ہیں۔
فوری انصاف کا مطالبہ تو ہے مگر ساہیوال کی عدالت نے کسی جلد بازی میں ایسا فیصلہ سنا دیا ہے، اس انصاف پر ڈھکے چھپے ”میں صدقے، میں واری“ کی صدائیں اُٹھ رہی ہیں۔
ساہیوال کی سیشن عدالت کی جانب سے ایوب مسیح کو سزائے موت سنائے جانے کے 26 سال، 2 ماہ اور 2 دن بعد 26 سالہ احسان مسیح کو بھی اُسی عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے۔ ساہیوال کی عدالت کا یہ ”انصاف“ بھی تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال میں نہ تو کوئی تبدیلی آئی ہے نہ ہی بہتری۔ مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کے دکھ تاحال کم ہونے کی کوئی اُمید نہیں ہے۔


