کاربن ڈائی آکسائڈ اور گلوبل وارمنگ: کائنات (12)


کبھی ایک ایسی دنیا بھی تھی جو ہماری اپنی دنیا سے اتنی زیادہ مختلف نہیں تھی۔ کبھی کبھار قدرتی آفات، بڑے پیمانے پر آتش فشاں کا پھٹنا اور، کبھی کبھار، کسی سیارچہ کا کچھ نقصان پہنچانے کے لیے اچانک در آنا۔ لیکن پہلے ارب سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصے تک، یہ ایک جنت کی طرح لگتی تھی۔ ہمارے خیال میں سیارہ زہرہ ایسا ہی لگتا تھا جب ہمارا نظام شمسی جوان تھا۔ پھر حالات خوفناک حد تک غلط ہونے لگے۔ سیارہ زہرہ، جو کبھی جنت کی طرح لگتا تھا، ایک قسم کے جہنم میں بدل گیا۔ دونوں کے درمیان فرق ایک نازک توازن ہو سکتا ہے، جو آپ کے تصور سے کہیں زیادہ نازک ہو۔ ایک بار جب چیزیں کھلنے لگیں تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ وہی زہرہ ہے، ہمارا قریب ترین سیاروں میں پڑوسی، آج اس کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔

زہرہ کے سمندر بہت پہلے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ سطح بھڑکتے ہوئے چولہے سے زیادہ گرم ہے، اتنی گرم کہ سیسہ بھی پگھل جائے۔ کیوں؟ شاید آپ یہ سوچیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زہرہ زمین کے مقابلے سورج سے تیس فیصد زیادہ قریب ہے، لیکن یہ وجہ نہیں ہے۔ زہرہ مکمل طور پر سلفیورک تیزاب کے بادلوں سے ڈھکا ہوا ہے جو تقریباً تمام سورج کی روشنی کو سطح تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔ اس سے تو زہرہ کو زمین سے زیادہ ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ تو زہرہ اتنا گرم کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی روشنی کی تھوڑی مقدار جو بادلوں کے ذریعے سطح تک پہنچنے کے لیے داخل ہوتی ہے دوبارہ باہر نہیں نکل سکتی۔ توانائی کا بہاؤ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے گھنے ماحول کی وجہ سے مسدود ہوجاتا ہے۔ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس گرمی کو اندر رکھنے کے لیے دم گھٹا دینے والے کمبل کی طرح کام کرتی ہے۔ کوئی بھی کوئلہ نہیں جلا رہا ہے اور نہ ہی زہرہ پر گیس کے بڑے گیزر چلا رہا ہے۔ فطرت ذہین زندگی کی مدد کے بغیر بھی ماحول کو تباہ کر سکتی ہے۔ زہرہ ایک فرار ہوتے ہوئے گرین ہاؤس اثر کی گرفت میں ہے۔

ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم ایک پیالے کے اندر ہیں؟ یہ شدید ماحولیاتی دباؤ کی وجہ سے ہے۔ یہ وینیرا 13 کا ملبہ ہے۔ 1982 میں اس وقت کے سوویت یونین کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے اس خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ زہرہ پر اتارا۔ وہ اسے دو گھنٹے سے زیادہ ٹھنڈا رکھنے میں کامیاب رہے، تاکہ وہ اپنے اردگرد کی تصویر کشی کر سکے اور زمین پر منتقل کرسکے، اس سے پہلے کہ اس کا سارا الیکٹرانک سامان آگ جیسی گرمی سے جل جائے۔

زہرہ اور زمین کا آغاز تقریباً ایک ہی مقدار میں کاربن سے ہوا تھا، لیکن دونوں جہان یکسر مختلف راستوں پر آگے بڑھنے لگے، اور کاربن دونوں کہانیوں میں فیصلہ کن عنصر تھا۔ زہرہ پر، تقریباً تمام کاربن ڈائی آکسائیڈ، فضا میں گیس کی شکل میں ہے۔ زمین پر موجود زیادہ تر کاربن قرنوں سے کاربونیٹ چٹانوں کی شکل میں ذخیرہ ہے۔ کس دیو نے دنیا کا یہ عجوبہ بنایا ہے؟ سوئی کی نوک سے ہزار گنا چھوٹی مخلوق نے۔ کھربوں کے حساب سے، یک خلیہ کائی (ایلگی) نے۔

آتش فشاں فضا کو کاربن ڈائی آکسائیڈ فراہم کرتے ہیں، اور سمندر اسے آہستہ آہستہ جذب کر لیتے ہیں۔ لاکھوں برسوں کے دوران کام کرتے ہوئے، خوردبینی کائی نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چھوٹے خولوں اور سیپیوں میں تبدیل کر دیا۔ وہ سمندر کے فرش پر چاک یا چونے کے پتھر کے موٹے ذخائر میں جمع ہوتے رہے۔ بعد میں، بے چین زمین نے سمندری فرش کو اوپر دھکیل دیا اور ان بڑ ی چٹانوں کو تراش دیا۔ دیگر سمندری مخلوقات نے بہت بڑی مرجان کی چٹانیں (کورل ریف) بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کیا۔ اور سمندروں نے زندگی کی مدد کے بغیر ہی تحلیل شدہ سی او ٹو (کاربن ڈائی آکسائیڈ) کو چونے کے پتھروں میں تبدیل کر دیا۔ نتیجے کے طور پر، زمین کی فضا میں گیس کے طور پر صرف ایک چھوٹی سی مقدار ہی رہ گئی تھی۔ ایک فیصد کا تین سوواں حصہ بھی نہیں۔ اس کے بارے میں سوچیں۔ ہر دس ہزار میں تین سے بھی کم مالیکیول۔ اور پھر بھی، یہ بنجر ویرانے اور زمین پر زندگی کے باغ کے درمیان اہم فرق کرتا ہے۔ سی او ٹو کے بالکل بغیر، زمین منجمد ہو جائے گی۔ اور دو گنا زیادہ کے ساتھ، یاد رہے ہم اب بھی دس ہزار میں سے صرف چھ مالیکیولز کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ چیزیں تکلیف دہ طور پر گرم ہو جائیں گی اور ہمارے لیے کچھ سنگین مسائل کا باعث بنیں گی لیکن زہرہ کی طرح گرم کبھی نہیں ہوں گی۔ اس کے قریب بھی نہیں۔

سیارہ زہرہ اربوں سال پہلے خلا میں اپنا سمندر کھو بیٹھا تھا۔ سمندر کے بغیر، اس کے پاس ماحول سے سی او ٹو کو پکڑنے اور اسے معدنیات کے طور پر ذخیرہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ آتش فشاؤں کے پھٹنے سے سی او ٹو جمع ہوتی رہی۔ آج، زہرہ کا ماحول ہمارے مقابلے میں نوے گنا زیادہ بھاری ہے۔ اس کا تقریباً تمام حصہ گرمی کو پھنسانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زہرہ زندگی کے لیے اتنا خوفناک اور پر تشدد جہنم ہے۔

زمین، حیرت انگیز طور پر زہرہ کے برعکس ہے اور زندہ ہے۔ یہ سانس لیتی ہے لیکن بہت آہستہ۔ ایک سانس میں پورا سال لگتا ہے۔ زمین کی زندگی کا بیشتر حصہ جنگلات پر مشتمل ہیں، اور زیادہ تر جنگلات شمالی نصف کرہ میں ہیں۔ جب شمال میں بہار کا موسم آتا ہے، تو جنگلات ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سانس میں لیتے ہیں اور بڑھتے ہیں، جس سے زمین سبز ہو جاتی ہے۔ فضا میں سی او ٹو کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ جب خزاں آتی ہے اور پودے اپنے پتے گرانے لگتے ہیں، تو وہ سڑ جاتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا میں واپس نکال دیتے ہیں۔ جنوبی نصف کرہ میں بھی سال کے مخالف وقت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن جنوبی نصف کرہ زیادہ تر سمندر ہے۔ یہ شمال کے جنگلات ہی ہیں جو عالمی سی او ٹو میں سالانہ تبدیلیوں کو قابو میں رکھتے ہیں۔ زمین دسیوں ملین برسوں سے اس طرح سانس لے رہی ہے۔

Charles David Keeling

لیکن 1958 تک کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، جب ”چارلس ڈیوڈ کیلنگ“ نامی ایک سمندری ماہر (اوشنو گرافر) نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو درست طریقے سے ماپنے کا طریقہ وضع کیا۔ کیلنگ نے زمین کی شاندار سانس دریافت کی۔ لیکن اس نے ایک اور چونکا دینے والی چیز بھی دریافت کی۔ سی او ٹو کی مجموعی سطح میں ایک تیز رفتار اضافہ، انسانی تاریخ میں بے مثال، جو تب سے جاری و ساری ہے۔ یہ سی او ٹو کی سطحوں سے حیرت انگیز طور پر مختلف تھی جو زراعت اور تہذیب کے عروج کے دوران غالب رہی۔ درحقیقت، زمین نے تیس لاکھ برسوں سے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔ ہم اتنا یقین کیسے کر سکتے ہیں؟ ثبوت پانی میں لکھا ہے۔

زمین پرانے زمانوں کی برف میں لکھی ہوئی اپنی ایک تفصیلی ڈائری رکھتی ہے۔ موسمیاتی سائنسدانوں نے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کی گہرائیوں سے برف کی سطحیں کھودی ہیں۔ برف کی تہوں کے اندر قدیم ہوا پھنسی ہوئی تھی۔ ہم زمین کے ماحول کے غیر منقطع ریکارڈ کو پڑھ سکتے ہیں جو پچھلے آٹھ لاکھ برس میں پھیلا ہوا ہے۔ اس سارے عرصے میں، ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کبھی بھی ایک فیصد کے تین سوویں حصے سے زیادہ نہیں بڑھی۔ یعنی بیسویں صدی کے آغاز تک۔ اور تب سے یہ مسلسل اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ صنعتی انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس جلا کر، ہماری تہذیب کاربن ڈائی آکسائیڈ کو زمین کے جذب کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے خارج کر رہی ہے۔ اس وجہ سے سی او ٹو فضا میں بڑھتی جا رہی ہے۔ سیارہ گرم ہو تا جا رہا ہے۔

ہر گرم چیز ایک قسم کی روشنی پھیلاتی ہے جسے ہم ننگی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ اسے حرارتی زیریں سرخ (تھرمل انفراریڈ) روشنی کہتے ہیں۔ ہم سب پوشیدہ حرارت کی تابکاری سے چمکتے ہیں، یہاں تک کہ اندھیرے میں بھی۔ سورج سے آنے والی روشنی سطح سے ٹکراتی ہے۔ زمین اس توانائی کا زیادہ تر حصہ جذب کر لیتی ہے، جو سیارے کو گرم کرتی ہے اور انفرا ریڈ روشنی میں سطح کو چمکاتی ہے۔ لیکن فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ اس باہر جانے والی گرمی کی زیادہ تر تابکاری کو جذب کر لیتی ہے، اور اس کا زیادہ تر حصہ واپس سطح پر بھیج دیتی ہے۔ یہ سیارے کو اور بھی زیادہ گرم کر دیتا ہے۔ گرین ہاؤس اثر میں بس اتنا ہی ہے۔ یہ بنیادی طبیعیات ہے، صرف توانائی کے بہاؤ کا ایک ریکارڈ۔ اس کے بارے میں کوئی متنازعہ بات نہیں ہے۔ اگر ہمارے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ نہ ہوتی تو زمین صرف ایک بہت بڑا برف کا گولا ہوتی، اور ہم یہاں نہیں ہوتے۔ تو، تھوڑا سا گرین ہاؤس اثر ایک اچھی چیز ہے۔ لیکن اگر یہ زیادہ ہو جائے تو آب و ہوا کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور ہمارے طرز زندگی کو برباد کر سکتا ہے۔

ٹھیک ہے، لیکن ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ ہم ہی مسئلہ ہیں؟ شاید زمین خود سی او ٹو میں اضافے کا سبب بن رہی ہو۔ شاید اس کا ہم جو کوئلہ اور تیل جلاتے ہیں اس سے کوئی تعلق نا ہو۔ شاید وہ ان آتش فشانوں کی کارستانی ہو۔ ہر چند سال بعد ، سسلی میں ایٹنا کا پہاڑ، اپنا ڈھیر اڑا دیتا ہے۔ ہر بڑا آتش فشاں لاکھوں ٹن سی او ٹو فضا میں بھیجتا ہے۔ اب، اسے سیارے پر دیگر تمام آتش فشانوں کی اخراجی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑیں۔ آئیے سب سے بڑا سائنسی تخمینہ لیتے ہیں۔ تقریباً پانچ سو ملین ٹن آتش فشانی سی او ٹو ہر سال فضا میں داخل ہوتی ہے۔ یہ کچھ زیادہ تو نہیں لگ رہا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن یہ تیس بلین ٹن سی او ٹو کا دو فیصد بھی نہیں ہے جس کا ہماری تہذیب ہر سال اخراج کر رہی ہے۔ اور، مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ فضا میں سی او ٹو میں ماپا جانے والا اضافہ اس معلوم مقدار کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جو ہم کوئلہ، تیل اور گیس جلا کر وہاں پھینک رہے ہیں۔ آتش فشانی سی او ٹو کی ایک الگ خصوصیت ہے۔ یہ رکاز (فوسِل) ایندھن کو جلانے سے پیدا ہونے والی قسم سے قدرے بھاری ہوتی ہے۔ جب ہم جوہری سطح پر ان کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دونوں کے درمیان فرق بتا سکتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہوا میں سی او ٹو میں اضافہ آتش فشانوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ مزید یہ کہ مشاہدہ شدہ گرمی کی شدت میں اضافہ اتنا ہی ہے جتنا کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ماپے جانے والے اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ یہ ایک بہت ہی سخت معاملہ ہے۔ ان سب پر ہماری انگلیوں کے نشانات موجود ہیں۔

Arrhenius

ہر سال تیس بلین ٹن سی او ٹو کتنی ہوتی ہے؟ اگر آپ اسے ٹھوس شکل میں دبا دیتے ہیں، تو یہ تقریباً انگلستان میں ڈووَر کی سفید چٹانوں کے حجم کے برابر ہو گا جو 350 فٹ اونچی ہیں اور 13 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اور ہم سال بہ سال بڑی تندہی کے ساتھ مسلسل ہوا میں اتنا سی او ٹو شامل کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے بدقسمتی ہے کہ ہماری تہذیب کا بنیادی فضلہ صرف کوئی مادہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے عالمی تپش قرار (تھرموسٹیٹ) کی آب و ہوا کو منظم کرنے والی سالہا سال سے سب سے بنیادی گیس ہے۔ یہ بہت برا ہے کہ سی او ٹو ایک نادیدہ گیس ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اگر ہماری آنکھیں سی او ٹو کے لیے حساس ہوتیں اور اگر ہم وہ تمام کاربن ڈائی آکسائیڈ دیکھ سکتے، تو ہم اپنی انکار کی حالت پر قابو پا لیتے اور ماحول پر ہمارے اثرات کی شدت کا اندازہ کر سکتے۔ لیکن اس بات کا ثبوت کہ دنیا گرم ہو رہی ہے ہمارے چاروں طرف عیاں ہے۔

شروع کرنے والوں کے لیے، آئیے ایک حرارت پیما ( تھرمامیٹر) دیکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے موسمی اسٹیشن 1880 کی دہائی سے درجہ حرارت کے قابل اعتماد ریکارڈ رکھے ہوئے ہیں، اور ناسا نے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت کا پتہ لگانے والا نقشہ مرتب کیا ہے۔ دنیا انیسویں صدی کے مقابلے میں زیادہ گرم ہے۔

کافی پہلے، ایک بھلائے ہوئے جینئس نے اس مسئلے کے حل پیش کیا۔ میرے ساتھ آئیے۔ ایک وقت تھا کہ ایسی دنیا بھی تھی جو زیادہ گرم نہیں تھی اور زیادہ ٹھنڈی بھی نہیں تھی۔ وہ بالکل صحیح تھی۔ پھر ایک وقت آیا جب اس زندگی نے جو زمین نے برقرار رکھی ہوئی ہے، اس نے محسوس کرنا شروع کیا کہ ہمارا خوبصورت سیارہ بدل رہا ہے۔ اور ایسا بھی نہیں تھا کہ ہم نے اسے آتے دیکھا نہیں تھا۔ 1896 میں سویڈش سائنسدان ”سوانتے آرہینئس“ نے حساب لگایا کہ فضا میں سی او ٹو کی مقدار کے دوگنا ہونے سے قطبی برف پگھل جائے گی۔ 1930 کی دہائی میں بحری تحقیقی لیبارٹری میں امریکی ماہر طبیعیات ”ای۔ او۔ ہلبرٹ“ نے اس نتیجے کی تصدیق کی تھی۔ اب تک، یہ صرف نظریاتی تھا۔ لیکن پھر، انگریز انجینئر ”گائے کیلنڈر“ نے یہ ظاہر کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے کہ سی او ٹو اور اوسط عالمی درجہ حرارت دونوں درحقیقت بڑھ رہے ہیں۔

Guy Callendar

”انسان اب بھی اپنی تہذیب کے فضلہ کے ذریعے نادانستہ طور پر دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کر رہا ہے۔

ہمارے اس سالانہ فیکٹریوں اور گاڑیوں کے ذریعے اخراج سے، چھ بلین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، اس ہوا میں مل رہی ہے جو ہوا سورج کی گرمی کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہمارا ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے۔ ”

” کیا یہ برا ہے؟“

”اس کا حساب لگایا گیا ہے، زمین کے درجہ حرارت میں چند ڈگری اضافے سے قطبی برف کی چوٹیاں پگھل جائیں گی۔“

1960 میں، کارل سیگن کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں زہرہ پر گرین ہاؤس کے فرار ہونے والے اثر کا پہلا حساب شامل تھا۔ اصل ”کوسموس“ سیریز میں، 1980 میں، کارل سیگن نے خبردار کیا ”ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار چھوڑ رہے ہیں، جس سے گرین ہاؤس اثر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زمین کی آب و ہوا کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمیں زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، کائنات میں ہمارے واحد گھر، اس جنت کو ایک قسم کے جہنم میں تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگ سکتا۔“ جب سے کارل نے یہ الفاظ کہے ہیں، ہم نے اپنی دنیا کے ماحول پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ اگر ہم اپنے طریقے نہیں بدلتے تو ہمارے بچوں کے مستقبل میں سیارہ کیسا ہو گا؟ سائنسی تخمینوں کی بنیاد پر، اگر ہم معاملات ایسے ہی چلاتے رہے، تو ہمارے بچوں کے لیے یہ ایک سخت سفر ہو گا۔ قاتل گرمی کی لہریں، ریکارڈ خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافہ، انواع کا بڑے پیمانے پر ناپید ہونا۔ ہمیں وراثت میں ایک بہت بھرپور دنیا ملی جو نسبتاً مستحکم آب و ہوا کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ زراعت اور تہذیب ہزاروں برسوں میں پروان چڑھی۔ اور اب، ہماری لاپرواہی اور لالچ نے اس سب کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹھیک ہے، تو اگر ہم سائنس دان آب و ہوا کے بارے میں یہ سنگین، طویل مدتی پیشین گوئیاں کرنے میں اتنے اچھے ہیں، تو ہم موسم کی پیشین گوئی کرنے میں اتنے خراب کیسے ہو گئے؟ اس کے علاوہ، اس سال، ہمارے شہر میں سرد موسم شدید تھا۔ لیکن سائنس دان صرف عالمی ٹھنڈک کی بات کرتے ہیں۔

یہاں موسم اور آب و ہوا کے درمیان فرق ہے۔ موسم وہ ہے جو ماحول مختصر مدت کے گھنٹوں میں، دن بہ دن کرتا ہے۔ موسم ہر وقت بدلتا رہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خوردبینی خلل بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے وہ دس دس دن کی موسم کی پیشین گوئیاں بیکار ہوتی ہیں۔ بالی، انڈونیشیا میں ایک تتلی اپنے پروں کو پھڑپھڑاتی ہے، اور چھ ہفتے بعد ، مین، امریکہ میں آپ کی بیرونی شادی کا انتظام برباد ہو جاتا ہے۔ آب و ہوا کئی برسوں میں موسم کی طویل مدتی اوسط ہوتی ہے۔ اس کی تشکیل عالمی قوتوں سے ہوتی ہے جو فضا میں توانائی کے توازن کو تبدیل کرتی ہیں، جیسے سورج میں تبدیلیاں، زمین کے محور کا جھکاؤ، سورج کی روشنی کی مقدار جو زمین واپس خلا میں منعکس کرتی ہے اور ہوا میں گرین ہاؤس گیسوں کا ارتکاز۔ ان میں سے کسی میں بھی تبدیلی آب و ہوا کو ان طریقوں سے متاثر کرتی ہے جن کا وسیع پیمانے پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ موسم کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن آب و ہوا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ زمین کی طویل تاریخ میں آب و ہوا کئی بار تبدیل ہوئی ہے لیکن ہمیشہ عالمی قوتوں کے ردعمل کے طور پر۔ اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کو چلانے والی سب سے مضبوط قوت فوسل ایندھن کے جلنے سے بڑھتی ہوئی سی او ٹو ہے، جو سورج کی گرمی کو زیادہ قید کر رہی ہے۔ اس تمام اضافی توانائی کو کہیں تو جانا ہے۔ اس میں سے کچھ ہوا کو گرم کرتی ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ سمندروں میں ختم ہوجاتا ہے۔ پوری دنیا میں سمندر گرم ہو رہے ہیں۔ یہ بحیرہ منجمد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سب سے زیادہ واضح ہے۔ اچھا، تو ہم موسم گرما کی سمندری برف کو ایسی جگہ سے کھو رہے ہیں جہاں شاید ہی کوئی کبھی گیا ہو۔ اگر قطب شمالی کے گرد برف نہ ہو تو مجھے کیا پرواہ ہے؟ برف زمین کی سب سے روشن قدرتی سطح ہے، اور کھلے سمندر کا پانی سب سے تاریک ہے۔ برف آنے والی سورج کی روشنی کو خلا میں واپس منعکس کرتی ہے۔ پانی سورج کی روشنی کو جذب کرتا ہے اور گرم ہو جاتا ہے، جو اور بھی زیادہ برف کو پگھلا دیتا ہے، جو اس سے بھی زیادہ سورج کی روشنی کو جذب کرنے کے لیے سمندر کی سطح کو مزید بے نقاب کر چکا ہوتا ہے۔ اسے ہم مثبت اشاروں کا دائرہ (فیڈ بیک لوپ ) کہتے ہیں۔ یہ بہت سے قدرتی میکانزم میں سے ایک ہے جو صرف سی او ٹو کی وجہ سے ہونے والی کسی بھی گرمی کو بڑھاتا ہے۔

ہم بحر منجمد کے کنارے پر ڈریو پوائنٹ، الاسکا میں ہیں۔ جب میں پیدا ہوا تھا، ساحل کی لکیر ایک میل دور تھی، اور یہ تقریباً بیس فٹ سالانہ کی شرح سے ٹوٹ رہی تھی۔ اب اسے ہر سال تقریباً پچاس فٹ پر کھا لیا جاتا ہے۔ بحر منجمد بڑھتی ہوئی شرح سے گرم ہو رہا ہے۔ لہذا یہ سال کے زیادہ عرصے میں برف سے پاک رہتا ہے۔ اس سے یہاں کا ساحل طوفانوں کے کٹاؤ کا زیادہ شکار ہو جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ زیادہ طاقتور بھی ہو رہے ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور اثر ہے۔ الاسکا، سائبیریا اور کینیڈا کے شمالی حصے زیادہ تر زیر سطحی منجمد زمین (پَرما فراسٹ) ہیں، ایسی زمین جو ہزاروں برسوں سے سال بھر منجمد رہتی ہے۔ اس میں بہت سارے نامیاتی مادے، پرانے پتے اور پودوں کی جڑیں ہیں جو ہزاروں سال پہلے اگے تھے۔ چونکہ آرکٹک کے علاقے زمین پر کسی بھی جگہ سے زیادہ تیزی سے گرم ہو رہے ہیں، پَرما فراسٹ پگھل رہا ہے اور اس کا سارا مواد سڑ رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جب آپ اپنے گھر کے فریزر کو بند کر دیتے ہیں۔ پگھلنے والا پَرما فراسٹ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ایک زیادہ طاقتور گرین ہاؤس گیس، میتھین، فضا میں چھوڑ رہا ہے۔ یہ چیزوں کو اور بھی زیادہ گرم بنا رہا ہے، ایک مثبت فیڈ بیک میکانزم کی ایک اور مثال۔ دنیا کا پَرما فراسٹ ماحول میں سی او ٹو کو دوگنا کرنے کے لیے کافی کاربن کا ذخیرہ کرتا ہے۔ جس شرح سے ہم جا رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی (گلوبل وارمنگ) صدی کے آخر تک اس کا بیشتر حصہ ماحول میں بھیج سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم آب و ہوا کو ایک غیر متوقع ڈھلان میں واپسی کے نقطہ سے آگے جا رہے ہوں۔

Augustin Mouchot

ٹھیک ہے، ہوا، پانی اور زمین سب گرم ہو رہے ہیں، اس لیے گلوبل وارمنگ واقعی ہو رہی ہے۔ لیکن شاید یہ ہماری غلطی نا ہو۔ شاید یہ صرف فطرت کی کارستانی ہو۔ شاید ذمہ دار سورج ہو۔ نہیں، یہ سورج نہیں ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے سورج کی بہت قریب سے نگرانی کر رہے ہیں، اور شمسی توانائی کی پیداوار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مزید یہ کہ زمین دن کے وقت کی نسبت رات کو زیادہ گرم ہو رہی ہے اور گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ گرم ہو رہی ہے۔ یہ بالکل وہی ہے جس کی ہم گرین ہاؤس وارمنگ سے توقع کرتے ہیں، لیکن شمسی پیداوار کی وجہ سے اضافہ اس کے برعکس ہو گا۔ اب یہ کسی بھی معقول شک سے بالاتر ہے کہ ہم آب و ہوا کو تبدیل کر رہے ہیں۔ سورج کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک حل ہے، اور ہم اسے آپ کے خیال سے کہیں زیادہ طویل عرصے سے جانتے ہیں۔

پیرس، ستمبر 1878۔ ایفل ٹاور آنے والے کئی برسوں تک تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ دنیا کے اب تک کے سب سے شاندار نظاروں میں سے ایک کا مشاہدہ کریں۔ مجسمہ آزادی کا شاندار سر ابھی مکمل ہوا ہے۔ کرہ ارض کے آس پاس کے ہزاروں نمائش کنندگان اپنی ایجادات اور سامان کے ساتھ پیرس کی چھیاسٹھ ایکڑ اراضی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ایڈیسن کے لائٹ بلب کا پہلا عوامی مظاہرہ مزید ایک سال تک نہیں ہو پائے گا۔ برقی آلات جیسی کوئی چیز ابھی تک نہیں ہے۔ لوگ سوئچ نہیں چھوتے اور نا ہی بٹن دباتے ہیں۔ یہ ہاتھوں سے ہونے والی اور گھوڑوں سے چلنے والی دنیا ہے۔ یہ وہی آدمی ہے جسے ہم دیکھنے آئے تھے، وہ عجیب سی مونچھوں والا۔ وہ ایک ریاضی کا استاد ہے جس کا نام ”آگسٹاں موشاں“ ہے۔ یاد رکھیں، یہ 1878 ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو زیادہ تر گیس سے روشن ہوتی ہے۔ کاریں ابھی برسوں دور ہیں۔ لیکن موشاں، یہاں، اپنے شمسی توانائی کے مرکز کے ساتھ ہجوم کو حیران کر رہا ہے۔

”سورج ہم سب کا ہے! اگرچہ یہ ہم سے ایک سو پچاس ملین کلومیٹر دور ہے، اس کی زبردست طاقت محسوس کریں! میری ایجاد سورج کی آزاد توانائی کو مرکوز کرتی ہے اور اسے مکینیکل حرکت میں بدل دیتی ہے۔ یہ کسی بھی قسم کی مشین کو طاقت دے سکتی ہے۔ یہ بجلی پیدا کر سکتی ہے یا پرنٹنگ پریس چلا سکتی ہے یا گرم دن میں برف بنا سکتی ہے۔ یہ دیکھیے! اس کے بارے میں سوچیں، سورج کی روشنی برف میں بدل گئی۔ آپ دیکھیے، میرے دوستو، حیرت ہے کہ اگر ہم سورج کی بھرپور توانائی کو استعمال کرتے ہیں تو ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ دنیا میں کسی دن کوئلہ ختم ہو جائے گا، لیکن شاندار سورج ہمیشہ ہمارے لیے موجود رہے گا۔“

موشاں نے اس میلے سے گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ لیکن کوئلے کی قیمت گر گئی، اتنی سستی ہو گئی کہ شمسی توانائی میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ اس کے علاوہ، کوئی نہیں سمجھتا تھا، اس وقت، فوسل ایندھن کو جلانے کی اصل قیمت کیا تھی۔ موشاں کی تحقیقی مالی مدد منقطع کر دی گئی۔

پینتیس سال بعد ، بیسویں صدی میں، متبادل مستقبل کے لیے ایک اور دروازہ کھل گیا۔ یہ مصر میں دریائے نیل کے کنارے پیش آیا۔ مصر، 1913۔ یہ فلاڈیلفیا کا فرینک شُومن ہے۔ اس کے پاس صرف تین سال کی تعلیم ہے، لیکن جدت طرازی کے لیے اس کی ذہانت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تیس سال کی عمر سے پہلے شُومن نے حفاظتی شیشہ ایجاد کیا تھا۔ آٹوموبائل اور اسکائی لائٹس میں اس کے استعمال نے ان گنت جانیں بچائیں اور اسے ایک بہت امیر آدمی بنا دیا تھا۔ اتنا امیر کہ اپنے حقیقی جذبے، شمسی توانائی کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرسکے۔ شُومن نے اس ٹیم کی قیادت کی جس نے شمسی توانائی کے مرکزوں کی ایک صف کو ڈیزائن کیا اور بنایا۔ یہ بھاپ کے انجن کو توانائی دے سکتا ہے۔ شُومن سورج کی طاقت کو صحرا کو سیراب کرنے اور اسے سبز کرنے کے لیے استعمال کرنے کی امید کر رہا ہے۔ 1913 میں شومن کے شمسی پاور پلانٹ کا باضابطہ افتتاح ایک شاندار کامیابی تھی۔ اس نے سورج کی توانائی کو صنعتی پیمانے پر استعمال کرنے کا ایک عملی طریقہ ایجاد کیا تھا، جس سے شمسی توانائی کوئلے سے بھی سستی ہو گئی تھی۔ برطانوی اور جرمن حکومتوں نے شُومن کو اس کی ایجاد کو تیار کرنے کے لیے فراخدلانہ مالی امداد کی پیشکش کی۔ یہ گرم علاقوں میں وافر طاقت کا مثالی ذریعہ تھا، جہاں درآمد شدہ کوئلہ ممنوعہ طور پر مہنگا تھا۔ لیکن شُومن اس سے بھی بڑا خواب دیکھ رہا تھا۔ سائنٹیفک امریکن کو لکھے گئے خط میں، اس نے حساب لگایا کہ اگر صحرائے صحارا کے کسی علاقے میں ایک طرف صرف 150 میل کے فاصلے پر نصب کیا جائے تو اس کے شمسی پاور پلانٹس اتنی بجلی فراہم کر سکتے ہیں جتنی دنیا کی تمام صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔ لیکن ایسا، ہونا نہیں تھا۔ مائع فوسل ایندھن، پیٹرولیم، کی مارکیٹ شپنگ، گھر کو گرم کرنے کے لیے، اور کاروں اور ٹرکوں میں استعمال ہونے کے لیے پھٹ پڑی تھی۔ تیل وافر تھا، کوئلے سے بھی سستا تھا، اور زمین سے باہر نکلنا اور استعمال میں لانا بہت آسان تھا۔ کوئلے سے جہاز کو ایندھن دینے میں ہفتے میں ایک سو آدمی لگتے تھے، لیکن تیل سے ایک آدمی ایک ہی دن میں یہ کام کر سکتا تھا۔ صحرا میں شُومن کی فتح کے ایک سال بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ اس کے شمسی توانائی جمع کرنے والے سامان کو ہتھیاروں میں بدل دیا گیا۔

فرینک شُومن کے شمسی توانائی سے چلنے والی تہذیب کے خواب کو دوبارہ جنم لینے کے لیے ایک اور صدی انتظار کرنا پڑے گا۔

Frank Shuman

دنیا کے لیے صاف توانائی کا ایک اور ناقابل تسخیر ذریعہ بھی ہے۔ ہوائیں خود شمسی توانائی سے چلتی ہیں، کیونکہ ہمارا ستارہ ہواؤں اور لہروں کو بھی چلاتا ہے۔ شمسی توانائی جمع کرنے والوں کے برعکس، وِنڈ فارمز (وہ علاقے جہاں پن چکیاں اور ہوا سے چلنے والے ٹربائن لگائے جائیں۔ ) بہت کم زمین گھیرتے ہیں۔ اگر سمندر کے کنارے ہوں اور جہاں ہوائیں تیز ہوتی ہیں۔ اگر ہم ان کی طاقت کا ایک فیصد بھی استعمال کر سکیں تو ہمارے پاس اپنی تہذیب کو چلانے کے لیے کافی توانائی ہوگی۔ زمین پر ایک گھنٹے میں اس سے زیادہ شمسی توانائی گرتی ہے جو ہماری تہذیب پورے سال میں استعمال کرتی ہے۔ اگر ہم دستیاب شمسی اور ہوا کی طاقت کا ایک چھوٹا سا حصہ استعمال کر سکیں، تو ہم اپنی تمام توانائی کی ضروریات کو ہمیشہ کے لیے فراہم کر سکتے ہیں، اور فضا میں کوئی کاربن شامل کیے بغیر۔ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ ایسا مستقبل جس کے لیے لڑا جاسکتا ہے۔

میں کیسے جان سکتا ہوں؟ ہم میں سے ہر ایک زندہ بچ جانے والوں کی ایک لمبی قطار سے آتا ہے۔ ہماری انواع کچھ بھی نہیں ہے اگر مطابقت پذیر نہ ہوں۔ ہم یہاں صرف اس وجہ سے موجود ہیں کہ ہمارے آبا و اجداد نے طویل مدتی سوچنا اور اس کے مطابق عمل کرنا سیکھا۔ اس سے پہلے بھی ہماری پیٹھ دیوار سے لگ چکی ہے، اور اس سے گزر کر اب ہم نئی بلندیوں کو سر کرنے کے لیے آئے ہیں۔ درحقیقت، سب سے زیادہ افسانوی انسانی کارنامے ہمارے تاریک ترین وقت سے ہی نکلے ہیں۔

ایک بار ایک ایسی دنیا بھی تھی جو ساٹھ ہزار جوہری ہتھیاروں سے مسلح تھی۔ جنگجو زمین کے دو سب سے طاقتور ممالک تھے، اور وہ ایک مہلک جھگڑے میں ملوث تھے، ہر ایک نے عہد کیا ہوا تھا کہ وہ دوسرے کی مرضی کے تابع ہونے کے بجائے اپنی پسند کی ہر چیز کو تباہ ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ جب میں تین سال کا تھا تو سوویت یونین نے اب تک کا سب سے بڑا انسان ساختہ دھماکہ کیا۔ وہ دہشت تھم گئی لیکن اس کی جگہ ایک نئے خوف نے لے لی۔ اب یہ خطرہ نہیں رہا تھا کہ زمین کے دو ہزار بڑے شہر ایک دوپہر کے وقفے میں ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جوہری دشمنی کا ایک اور ضمنی نتیجہ نکلا۔ چاند پر اپالو مشن ہتھیاروں کی دوڑ کی توسیع تھی جو ان دونوں کے درمیان چل رہی تھی۔ لوگوں کو زمین کے گرد مدار میں چکر لگانے یا چاند پر جانے کے لیے بھیجنے کے لیے بڑے، قابل اعتماد، طاقتور راکٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل وہی ٹیکنالوجی جس کی آپ کو اپنے دشمن کے سب سے بڑے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے سیارے کے آدھے راستے پر جوہری وار ہیڈ لے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

”میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم کو اس مقصد کو حاصل کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔ اس دہائی کے ختم ہونے سے پہلے، ایک آدمی کو چاند پر اتارنے اور اسے بحفاظت زمین پر واپس لانے کا مقصد۔“

صدر کینیڈی کی 1961 کی تقریر نے قوم میں بجلی بھر دی، اور اس تقریر میں بہت کچھ تھا جو قابل ذکر طور پر بالکل ایک پیش گوئی کی طرح تھا۔ لیکن چاند پر جانے کے سائنسی مقصد کے بارے میں اس میں ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ چاند کی اصلیت یا تجزیہ کے لیے نمونے واپس لانے کی امید کے بارے میں کوئی سوال نہیں تھا۔ نہیں، اپالو مشن کو ہمارے اسٹریٹجک میزائلوں کی اعلیٰ طاقت اور درستی کے مظاہرے کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ لیکن چاند پر جاتے ہوئے ہمارے ساتھ ایک مضحکہ خیز بات ہوئی۔ ہم نے گھر کی طرف مڑ کے دیکھا اور ایک اور دنیا دریافت کی۔ پہلی بار، ہم زمین کے باشندے پیچھے ہٹ کر اسے اسی طرح دیکھ سکتے تھے جیسے یہ واقعی ہے۔ ایک دنیا، ناقابل تقسیم، اور کائناتی تناظر میں چھوٹی سی۔ اپولو پروگرام کے لیے درکار بے پناہ وسائل کو ہم نے جس وجہ سے پہلے اکٹھا کیا، وہ سرد جنگ کی قوم پرستی اور موت کے آلات میں پھنس کر رہ گئے۔ زمین کے اتحاد اور نزاکت کی ناگزیر پہچان اس کا واضح اور روشن منافع تھا۔ اپالو نے یہ ہمیں یہ غیر متوقع تحفہ دیا۔ مہلک مقابلے کے لیے تصور کردہ ایک پروجیکٹ نے ہمیں اپنے گروہ کو پہچاننے پر مجبور کر دیا۔

تقریباً دس ہزار سال پہلے، پوری دنیا میں ہمارے آبا و اجداد نے موسمیاتی تبدیلی کی ایک اور شکل کا فائدہ اٹھایا، برفانی ادوار میں وقفے کی ہلکی اور معتدل آب و ہوا۔ انہوں نے زراعت ایجاد کی۔ انہوں نے بس جانے اور غذا تیار کرنے کے لیے مسلسل گھومنے پھرنے، شکار کرنے اور جمع کرنے کو ترک کر دیا جو ایک ملین سال یا اس سے زیادہ عرصے سے ان کا طرز زندگی تھا۔ انہوں نے اپنے آبا و اجداد کے مقابلے میں قدرتی طور پر فراہم کردہ ماحول سے دس سے سو گنا زیادہ شمسی توانائی حاصل کرنے کا ایک طریقہ تلاش کیا۔ پوری دنیا کے لوگوں نے خانہ بدوش ثقافتوں سے زرعی ثقافتوں میں ایک مشکل منتقلی کی جس میں شمسی توانائی کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔ اس عمل نے تہذیب کو جنم دیا۔

ہم ان لوگوں کے کندھوں پر کھڑے ہیں جنہوں نے وہ سخت محنت کی جس کی اس طرح کی بنیادی تبدیلی کے لیے ضرورت تھی۔ اب ہماری باری ہے۔

کبھی ایک دنیا تھی۔ اگر زندگی کبھی زہرہ پر موجود ہوتی تو اسے اس دنیا کی جہنمی تقدیر کو ٹالنے کا موقع کبھی نہ مل پاتا۔ وہ فرار ہوتا ہوا گرین ہاؤس اثر رکنے والا نہیں تھا۔

کبھی ایک دنیا تھی، ہماری۔ اور وہ دنیا اب ہے۔ ہماری دنیا اور اس کی قیمتی زندگی کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی بھی سائنسی یا تکنیکی رکاوٹیں نہیں ہیں۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس چیز کی واقعی قدر کرتے ہیں اور اس کے بارے میں عمل پیرا ہونے کی کتنی خواہش رکھتے ہیں۔

صدر کینیڈی: ”لیکن کیوں، کچھ پوچھتے ہیں، آخر چاند ہی کیوں؟ کیوں اپنے مقصد کے طور پر اسے ہی منتخب کیا جائے؟ اور وہ پوچھ سکتے ہیں، بلند ترین پہاڑ ہی پر کیوں چڑھیں؟ ہم نے چاند پر جانا چن لیا ہے، ہم نے چاند پر جانا چنا ہے، ہم نے اس دہائی میں چاند پر جانے اور دوسرے کام کرنے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ آسان ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ مشکل ہیں۔“

(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فزیسسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم ”کوسموس“ کی بارہویں قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔)

Facebook Comments HS