مدرسے کی ذہنیت: لمحۂ فکریہ


آج ایک ضروری کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جانا ہوا، واپسی پر اپنے گاؤں کا ایک لڑکا ملا جس کے بارے میں اتنا تو علم تھا کہ کسی مدرسے میں پڑھتا ہے لیکن یہ علم نہیں تھا کہ کس مدرسے میں، خیر لفٹ دی اور دعا سلام کے بعد پوچھا کہ آج کل کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں دعوت اسلامی کے مدرسے میں درسِ نظامی کا کورس کر رہا ہوں۔

اس پر میں نے سوال کیا کہ کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ پانچ سال ہو گئے ہیں، پھر میں نے ایک اور سوال کیا کہ مفتی بننے کے لیے کتنا عرصہ درکار ہوتا ہے اور کیا کیا پڑھنا پڑتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ درس نظامی آٹھ سال کا ہوتا ہے اس کے بعد پھر ایک امتحان لیا جاتا ہے، وہ پاس کرنے کے بعد بندہ مفتی کورس کے لیے اہل ہو جاتا ہے، تو پھر میں نے ایک اور سوال کیا کہ کہ آپ کا آگے کیا ارادہ ہے کیا آپ بھی مفتی کا کورس کریں گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ انشاء اللہ ضرور۔

اس کے بعد ایک دو سوال میں نے یکم محرم اور شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہ کیا یکم محرم ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے، تو اس نے کہا کہ ہاں اس پر اجماع (جو میرے علم کے مطابق نہیں ہے ) ہے، اور اس پر ہمارے مفتیان کرام کے بہت سے فتاوی بھی موجود ہیں، یہ بات رافضیوں (اہلِ تشیع) کی پھیلائی ہوئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت یکم محرم نہیں بلکہ 27 ذی الحجہ ہے۔

اس کے بعد میں نے ڈرتے ڈرتے ایک اور سوال کرنے کی اجازت چاہی اور اسے پیشگی بتایا کہ سوال تھوڑا اختلافی قسم کا ہے، اگر آپ خفا نہ ہوں تو جواب دینا پسند کریں گے؟ اس نے کہا ضرور ضرور کیوں نہیں! تو میں نے سوال کیا کہ کیا اسلام کو مقتدر کرنے کے لیے تمام فرقے بشمول دیوبندی، اہلِ حدیث اہلِ تشیع اور اشاعت و توحید کو ساتھ ملا کر کام کیا جا سکتا ہے؟ یا اگر ان میں سے کوئی بھی فرقہ اسلام کو غلبہ دلا دے تو اپ کا کیا رد عمل ہو گا؟

تو اس نے جواب دیا کہ نہیں نہیں اگر غلبۂ اسلام بریلوی مکتب فکر کا ہو تو پھر قابلِ قبول ہے ورنہ دوسری صورت میں اگر کوئی اور فرقہ اسلام کو مقتدر کر دے تو وہ قابل قبول نہیں، کیونکہ ان کے عقائد درست نہیں اور اگر انھوں نے اقتدار میں آ کر اپنی عقائد رائج کر دیے تو یہ بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا، ان (اہلِ تشیع اور دیوبند) کے خلاف اعلی حضرت نے ایک کتاب لکھی اور اس پہ ڈیڑھ سو مفتیان کرام کے دستخط ہیں کہ یہ لوگ بد عقیدہ ہیں۔ لہذا ان کا لایا ہوا انقلاب یا اسلامی حکومت کسی طرح قابل قبول نہیں۔

اس پر میں نے کہا کہ اس وقت ہمیں اتحاد کی شدید ضرورت ہے اگر ہم تمام فرقے باہم متحد ہو کر کوشش کریں تو اسلام کو برسرِ اقتدار لا سکتے ہیں، اور میرے نزدیک سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی چیز کی ہے، میں اتحاد و اتفاق کے بارے اسے قرآنی دلیل دینا چاہتا تھا کہ اس نے مجھ سے اجازت چاہی، کہ میں کسی اور دن آپ سے اس موضوع پر بات کروں گا، جس پر میں نے اسے روکنا مناسب نہیں سمجھا۔

اب میں اس بات پہ حیران ہوں کہ ہم بحیثیت امت کس سمت جا رہے ہیں؟ ہمارے مدرسوں میں کیا چیز پڑھائی جا رہی ہے؟ ہم یا تو اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی کے دین کی پیروی کر رہے ہیں یا قاسم نانوتوی (بانیِ دیوبند) یا ملا باقر مجلسی کے دین کی پیروی کر رہے ہیں، وہ اللہ کا اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر اتارا ہوا دین تو ہم نے کہیں گم کر دیا، حالانکہ قرآن نے اس بارے تنبیہ بھی فرمائی ہے، اللہ تعالی نے سورۃ التوبہ آیت نمبر 31 میں فرمایا کہ: ”انھوں نے اللہ کے علاوہ اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا۔“

آج ہمارے مدرسے بھی یہی فکر پیدا کر رہے ہیں کہ فروعی مسائل میں بچوں کو الجھا کر دوسرے فرقوں کے بارے نفرت پیدا کر رہے ہیں، یقیناً یہی حال دیوبند کے مدرسوں کا ہو گا وہ بھی بریلویوں کو بد عقیدہ سمجھتے ہوں گے اور یہی حال اہلِ تشیع کا بھی۔

چلیں اگر ایک لمحے کو یہ تصور کر لیں کہ اس لڑکے کی علمی سطح ابھی طالب علمانہ تھی اور وہ اس فرقے کی ترجمانی نہیں کر رہا، لیکن اس چیز سے کیسے منہ موڑا جا سکتا ہے کہ اس کو پڑھایا جانے والا فکر و فلسفہ، کتابیں اور حوالہ جات جو اس نے مجھے پیش کیے، وہ تو اس طرح کے فکر کو پروان چڑھانے کے لیے ایک سوچی سمجھی اور شعوری کوشش ہے۔

میرے نزدیک اگر مدرسہ صرف دوسرے فرقوں کے بارے میں یہی چیزیں پڑھا رہا ہے تو یہ بہت بڑا ظلم ہے۔

اگر ایک بچہ اختلافِ رائے کا احترام، دوسرے مذاہب اور مکاتبِ فکر کے لیے وسعت نظری اور اتحادِ امت کا درس مدرسے سے نہیں سیکھے گا تو کہاں سے سیکھے گا؟

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بچوں کو دوسرے فرقوں کا احترام کرنا سکھائیں، انہیں یہ بتائیں کہ دوسرے فرقے بھی ہماری طرح مسلمان ہیں، انہیں یہ بتائیں کہ اختلاف اسلام کی خوبصورتی ہے، انہیں یہ بتائیں کہ ہم اکیلے کچھ نہیں، جب تک ہم ایک باشعور اور متحد اجتماعیت قائم نہیں کر لیتے تب تک اسلام کو برسرِ اقتدار لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، انہیں یہ بتائیں کہ اسلام رنگ، نسل زبان، مسلک، قومیت وطنیت اور فرقوں سے بہت آگے کی چیز ہے، اسلام بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب تمام انسانیت کی فلاح و بہبود چاہتا ہے، لہذا اس کے لیے لازمی ہے کہ پہلے ہم اپنے مسلمان جو دوسرے فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کو اپنے ساتھ ملائیں، ان کا احترام کریں، ان سے محبت کریں تاکہ یہ عظیم مقصد حاصل ہو۔

Facebook Comments HS