کہ از ساحل و خلیل، بوئے خرد نمی آید
جہالت سے مراد ناخواندگی نہیں بلکہ یہ ایک وکھری ٹائپ کی ذہنی کیفیت ہے جو اچھے خاصے تعلیم یافتاؤں میں بھی پائی جا سکتی ہے۔ ادھر کچھ چٹے ان پڑھ افراد انتہائی معاملہ فہم اور باشعور بھی ہوتے ہیں۔ جہالت جامعات و مدارس میں نہیں، صرف عملی تربیت سے کم ہو سکتی ہے۔ تربیت کی خشتِ اول کی کجی تا ثریا دھڑلے سے ساتھ نبھاتی ہے۔ ساحل (بروزن جاہل) نے جہالت کی جدید تعریف وضع فرمائی ہے کہ کسی علم یا شعبہ کی اصطلاحات سے ناواقف افراد جاہل ہیں۔
ان کے مطابق اس حوالے سے پچانوے فی صد عورتیں جاہل ہیں۔ کوئی پوچھو کہ کیا تمام مرد ان اصطلاحات سے واقف ہیں؟ خیر، پاؤں تلے جنت لیے پچانوے فیصد خواتین جاہل اور دوزخی ہیں۔ اس حساب سے قوم کے پچانوے فیصد لوگ جن میں عالم، فاضل، ولی اور مرشد شامل ہیں، جاہل ماؤں کی اولادیں ہیں۔ معلوم نہیں علما کو عورت پر کس چیز کا غصہ ہے کہ صدیوں سے اسے جاہل گردان رہے ہیں۔ کوئی احساس کمتری ضرور ہے جس کی تلافی یوں ہوتی آئی ہے۔
گویا ساحل و خلیل نے جہالت کا دائرہ اس قدر وسیع کر دیا کہ اب ہر عالم فاضل اور سکالر مستند جاہل ہے۔ کیونکہ مذہبی علما دیگر علوم و فنون کے اسرار رموز نہیں جانتے۔ صرف عربی گرائمر اور اپنے فرقے کے مسلکی معاملات کے علاوہ انھیں کچھ جاننے کی حاجت ہی نہیں۔ گویا جو مولوی کمپیوٹر، فزکس، کیمسٹری، معاشیات وغیرہ سے نابلد ہے، جاہل ہے۔ اپنی گاڑی خود مرمت نہ کر پانا، اپنا ٹی وی اور موبائل کا نقص دور نہ کر سکنا جہالت و طاغوتیت کی علامت ہو گا۔
خلیل میاں کو تو ہر وقت غلیل چلانے کے سوا کام نہیں۔ ان دونوں سے پوچھو، دیوث، کا کیا مطلب ہے اور انھیں یہ بھی بتاؤ کہ جو معلومات آں جناب کے بھیجوں میں پھسی ہیں ان کی دنیا کو اب ضرورت نہیں۔ فی الحال دنیا کی امامت ایلن مسک، جیف بیزس اور بل گیٹس کے پاس ہے۔ جن کی بدولت آپ بھی دنیا کو اپنا چہرہ کرانے اور آواز سنانے کے قابِل ہوئے ہیں۔ آپ اپنی ملفوظات ان بہشتی ریوڑوں کو سنائیے جو مرنے کے بعد والی جنت کے لیے اس دنیا کو دوزخ بنانا فرض سمجھتے ہیں، جی ہاں وہی ان دیکھی جنت جسے دیکھتے بھالتے ہوئے ابلیس نے ایک سجدے پر قربان کر دیا تھا۔
ایک دن بجلی یا انٹرنیٹ بند ہو جائے تو سب سے زیادہ حشر مذہبی طبقات ہی اٹھائیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ آپ کا مطمح نظر فالوشپ اور گولڈن بٹن ہیں جو اس ہجوم نما قوم میں مشکل نہیں۔ پہلے انسان سوشل اینیمل ہوا کرتا تھا مگر اب وہ باقاعدہ، سوشل میڈیا اینیمل، بن چکا ہے۔ سپیکر، مائیک اور تصویروں کو حرام قرار دینے والوں کی پوری زندگی کا انحصار اب کفار کی بنائی ہوئی انھیں چیزوں پر ہو چکا ہے۔ اتفاق سے اپنے ہاتھ اسلام آ گیا، ہم جس مذہب کے بھی پیرو ہوتے، ایسے ہی ہوتے۔
اک بد نظم اور جنونی ہجوم کو درست سمت سے کیا لینا دینا؟ کسی نظریے میں سکت کہاں جو ہمیں نکیل ڈالے۔ ایسے ہجوم کی نفسیات سے آشنا لوگ لادینیت، لبرل ازم، جدید علوم اور عورت کے خلاف بول کر اور مذہبی کارڈ کھیل کر آسانی سے ہیرو بن سکتے ہیں۔ کبھی کسی ماں کے لعل نے حقوقِ نسواں، شخصی آزادی، فیملی پلاننگ اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے جم غفیر اکٹھا کرنے کی جرات نہیں کی۔ مگر اس ہجوم کے پسندیدہ خیالات کی وکالت سے لاکھوں فالوورز بنا سکتے ہیں۔
ایسے لوگ اگر عرب و یورپی ممالک میں ہوں تو یقینا زنداں یا پاگل خانے میں ہوں۔ غور کریں تو ہمارے ہاں سیاست، مذہب، ادب اور موسیقی میں کس قسم کے افراد مقبول، معروف اور محبوب ہیں۔ سچ کہا کہ یہ دور احمقوں کی پذیرائی کا عہد ہے اور یہی جمہوریت کا اصل ہے جس میں چھے چرسی پانچ سکالرز پر بھاری ہوتے ہیں۔ صد شکر کہ اللہ کے ہاں ایسی جمہوریت نہیں ورنہ شیطان کو قابو میں رکھنا دشوار ہوجاتا۔ اقبال بھی اس طرح بندوں کو گننے کے خلاف تھے، اک اور جگہ لکھ گئے،
گریز از طرزِ جمہوری، غلامِ پختہ کار شو کہ از مغز ِ دو صد خَر فکرِ انسانی نمی آید
ثابت ہوا کہ کسی قوم یا ہجوم کی مجموعی سرشت اور تربیت اس کے معمولات میں جھلکتی ہے۔ ہم مغرب کو لادینیت اور برائی کا گڑھ تصور کرتے ہیں۔ مگر ہم چاہیں تو مغرب سے فحاشی، غیر اخلاقی اقدار اور پورن کی بجائے ایمانداری، آگاہی، سائنس جیسی چیزیں بھی سمیٹ سکتے ہیں۔ لیکن ہماری فطرت اور تربیت ہمیں وہی سمیٹنے دیتی ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ سب سے بڑا سیکولر شہر ٹوکیو ہے مگر دنیا بھر میں ایماندار ترین شہر بھی ٹوکیو ہی ہے۔ اپنے ہاں تو طاغوت سے لاعلم ہر شخص جاہل ٹھہر گیا ہے۔
اس اصول کے مطابق الحمدااللہ چین روس، جاپان، آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا سب جاہل ہیں۔ مگر یاد رکھو ان کا گزارہ ہمارے طاغوت کے بغیر ہو جائے گا لیکن ہم ان کی میڈیکل سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر ایجادات کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتے۔ حتیٰ کہ لوٹا، چپل بنیان اور تسبیح بھی، میڈ ان چائنا، ہیں۔ توہین مذہب، توہین قرآن اور توہین عدالت سے تو سب واقف تھے مگر اب ہم جہالت جیسی خباثت کی توہین کر کے، توہین ِ جہالت، کے مرتکب بھی ہو گئے ہیں۔


