خود کلامی: اختر رضا سلیمی کا تخلیقی سفر


(بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کے بعد وادیِ تفہیم کی طرف ایک سفر)

بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ میں نے رات گئے پوری توجہ سے سنی۔ ڈاکٹر روش ندیم صاحب، محترمہ ڈاکٹر صنوبر الطاف اور ڈاکٹر قاسم یعقوب صاحب کی گفتگو سنی تو نیند اڑ گئی۔ وہ گوشے جو تاریکی میں تھے ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آتے چلے گئے۔ سونا سوگند ہوا تو خود کلامی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا۔ میں نے ساری رات ایبٹ آباد کے اس طرف پھیلے ہوئے پہاڑوں میں کچھ اس طرح گزار دی کہ میں "الف لیلہ و لیلہ” کی ایک داستان ’قصہ سوتے جاگتے کا ‘ کا مرکزی کردار بن کر رہ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ قصے کا کردار دریائے دجلہ کے پل پر بیٹھتا تھا، دجلہ جس نے کئی کہانیوں کو جنم دیا ہے مگر مجھے ایک ایسی ندی کا سامنا تھا جس کے پاس کوئی کہانی نہیں تھی۔ اختر رضا سلیمی سے محبت کرنے والے اس سفر میں میرے ہم سفر تھے۔ ایک اعتبار سے مجھے اس سفر میں میزبان کی حیثیت حاصل تھی۔

وادیِ تفہیم کی طرف اس سفر کے آغاز ہی میں میں نے دوستوں کو بتا دیا تھا کہ
اختر رضا سلیمی کے تینوں ناول، جاگے ہیں خواب میں، جندر اور لواخ اور تینوں شعری مجموعے، اختراع، ارتفاع اور خواب دان کو ایک فیتے میں باندھ لیجیے تا کہ یہ بارِ گراں پہاڑی راستوں کے پیچ و خم میں کہیں ہاتھ سے جاتا نہ رہے اور اسے اپنے کاندھے پر یوں اٹھا لیجیے جیسے عیسیٰ نے اپنی صلیب اٹھائی تھی۔ مجھے یہ بھی اصرار تھا کہ اس فیتے کا ایک نام بھی ہے اور یہ نام ہمیں کہیں اور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس ضمن میں بھی ہمیں اختر رضا سلیمی ہی کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ لکھنے والا کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو، اپنی تحریروں میں کوئی ایسا نشان ضرور چھوڑ دیتا ہے جو اس کے باطن اور اس کی تحریروں کے پس منظر تک رسائی میں ممد و معاون ہوتا ہے۔ اختر رضا سلیمی کو بھی اس سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ اس لیے میں اس فیتے کا نام ’ہرو‘ تجویز کرتا ہوں۔ ’ہرو‘ آپ کو یاد ہے مگر ایک بار پھر اس پر نظر ڈال لینے میں کیا مضائقہ ہے ؛

ہرو

میں ہرو ہوں
ہزاروں برس سے یونہی اپنی رو میں بہے جا رہا ہوں
مری اور گلیات کی چھاتیوں سے نکلتی ہوئی دودھیا آبشاریں
مرے ظرف کو آزماتی رہی ہیں
مگر میں نے اپنے کنارے پہاڑ ایستادہ رکھے
تا کہ چاہوں بھی تو اپنے آپے سے باہر نہ ہو پاؤں میں
قسم ہے زمانے کی
میں نے کسی بھی زمانے میں اپنے کنارے پہ آباد گاؤں اجاڑے نہیں
سو مرے پانیوں میں لہو کا نہیں
سیب و شہتوت و زیتون و انجیر کا ذائقہ ہے
مرے ساحلوں پر دیودار اور چیڑ کی خوشبوئیں تیرتی ہیں
میں گنگا نہ جمنا نہ نیل و فرات
ایک گام نام دریا ہرو ہوں ہرو
مقدس صحیفے مرے تذکرے سے تہی ہیں
کہ میں نے کسی بھی زمانے میں انسانی جانوں کا نذرانہ مانگا نہیں
داستانوں میں میرا حوالہ نہیں
کہ میں نے کسی سوہنی کو ڈبویا نہیں
اور تاریخ کی سب کتابیں مرے باب میں چپ
کہ میری روانی میں پن چکیوں کی حسیں گونج ہے العطش العطش کی صدائیں نہیں
تشنگی پیتے ہونٹوں کی آہیں نہیں

اب آپ ہی کہیے کہ یہ نظم سلیمی کے ناولوں کے لوکیل، کہانی، کرداروں اور پس منظر میں دور تک پھیلے ہوئے سلسلوں کی نشان دہی نہیں کر رہی؟ انہی سلسلوں میں سے ایک زبان کا خلیق استعمال ہے۔ اختر رضا سلیمی کے ناولوں کی زبان کے پس منظر میں ہمیں ایک سلجھا ہوا شاعر بھی دکھائی دیتا ہے اور اس کی طرف ’بلیک ہول‘ میں ایک دوست نے ہماری توجہ مبذول بھی کرائی تھی۔

اس فیتے پر اختر کا ایک شعر بھی لکھنا ہو گا کہ یہ محض شعر نہیں بلکہ ایک نئے تخلیقی سفر کی ابتدا کا استعارہ ہے ؛

میں ہل چلاتے ہوئے جس کو سوچا کرتا تھا
اسی کی گندمی رنگت ہے بالی بالی پر

اب ہمارا رختِ سفر تیار تھا اور ہم ایک لمبے سفر پر نکلنے والے تھے۔

(2)

پہاڑوں کے سفر کی اپنی کچھ الجھنیں بھی ہیں جیسے پہاڑی راستے ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ چلیں اور مسلسل ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھیں یا جیسے ہم چلتے ہوئے اپنی نگاہیں راستے کے بجائے کہیں اور مرکوز کیے رکھیں۔ کوئی منظر اگر دامنِ دل کھینچے تو پل دو پل ٹھہر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ ایک لمبا گہرا سانس لینے کے لیے بھی قدموں کو روک لینا پڑتا ہے۔

پہاڑوں کے سفر میں ہم جیسے ہی کوئی موڑ مڑتے ہیں تو ہوا کے ٹھنڈے جھونکے ہی نہیں بلکہ نئے مناظر بھی ہمارا استقبال کرتے ہیں۔ ہر موڑ پر ایک نیا منظر، ہر موڑ پر ایک نئی صورتِ حال، اس لیے یہ سفر در سفر کا سا معاملہ ہے۔ اشفاق احمد نے اپنے سفر نامے ’سفر در سفر‘ میں مناظر کی نسبت سے اپنے اندر جو سفر کیا ہے، اس کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کو بھی اس سفر میں وہ سب کچھ یاد آئے جو آپ یکسر بھلا چکے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کو یہ گمان گزرے کہ آپ یہ سفر خواب کی سی کیفیت میں کر رہے ہیں، یا ابھی خواب سے جاگے ہیں یا ہنوز خواب میں ہیں۔

ایبٹ آباد سے مانسہرہ کی طرف جاتے ہوئے تین، ساڑھے تین کلو میٹر لمبی سرنگ میں داخل ہونے سے پہلے کا لینڈ سکیپ اس منظر سے بالکل مختلف ہے جو سرنگ کے دوسرے کنارے پر آپ کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں اترنے پر اصرار کرتا ہے۔ گویا آپ ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ وقت کے اندر بھی ہمارا سفر شاید کچھ اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اختر رضا سلیمی وقت کی تفہیم کے لیے دستیاب وسیلوں کے علاوہ نامعلوم کو بھی بروئے کار لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ماں کی پلکوں پر ٹھہرے ہوئے ایک آنسو میں رواں دواں وقت، محبوبہ کے ذہن کے کسی گوشے میں سمٹا ہوا وقت، جندر کی چکی میں پستا ہوا وقت، کسی خواب کی لے پر لہکتا ہوا وقت، آبائی مکان کے دروازے کے اوپر ویران گھونسلے میں پڑا ہوا وقت، کمپیوٹر کی سکرین پر نوحہ خوانی میں مصروف وقت، گاؤں کی گلیوں میں بھٹکتا وقت، ناڑہ ستوڑہ کی ہواؤں میں بکھرا ہوا وقت، آنکھوں پر پڑنے والے ہونٹوں کے سائے میں سلگتا وقت، مری کی چھاؤنی میں توپ کے دہانے کی طرف سینہ تانے ہوا وقت، زمان کی آنکھوں میں گردش کرتا وقت۔

وقت کے جانے کتنے روپ ہیں، سلیمی جانے کہاں کہاں اسے تلاش کرتا پھرتا ہے۔ سلیمی کو ناوقت بھی درپیش رہا ہے مگر وہ اس منطقے میں بھی اپنے آپ سے دست بردار نہیں ہوا؛

کل کنجِ شگفتِ جاں میں میری
کچھ دیر کو آنکھ لگ گئی اور
چپ چاپ گزر گیا وہ لمحہ
صدیوں سے میں جس کا منتظر تھا
جب آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا
ہر سمت سمے کی دھجیاں ہیں
شیرازۂ وقت منتشر تھا
لیکن میں وجود پر مصر تھا

اس بحر میں ہمیں چند ہی نظمیں ملتی ہیں لیکن میری نظر سے اس بحر میں لکھی گئی جتنی بھی نظمیں گزریں ہیں ان کی تمکنت ہی جدا ہے۔

اب ہم بہت دور نکل آئے ہیں۔ ہمیں کسی مسجد کے صحن، کسی مزار کے احاطے، کسی جندر کے نیم تاریک ماحول، کسی درخت کی چھاؤں، کسی لواخ کے دہانے، کسی چشمے کے کنارے یا کسی خشک چشمے کے کنارے بیٹھ کر ’ہرو‘ کے فیتے میں لپٹی کتابوں کو کھولنا ہو گا۔

اختر رضا سلیمی نے جب ان پہاڑوں کی طرف سفر کا آغاز کیا تو اسے یہ گمان تک نہ تھا کہ یہ محض پہاڑوں کی طرف سفر نہیں بلکہ یہ مراجعت کا وہ سفر ہے جسے کا آغاز تو کیا جا سکتا ہے مگر اس کا اختتام کہیں نہیں ہوتا، کبھی نہیں ہوتا۔ معلوم نہیں وہ کہانی کی تلاش میں اس طرف آیا تھا یا شعری دھن میں مگر اس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کی پیچیدگی بیان کرنے کے لیے اس نے نفسی و طبیعی علوم، تاریخ و جغرافیہ، طب و تہذیب سبھی سے مقدور بھر استفادہ کیا۔ ان علوم سے استفادے کی صورتیں ہمیں اس کی شاعری اور ناولوں میں دکھائی دیتی ہیں مگر اس کے ناول صرف ناول ہیں، ان علوم کی کتابیں نہیں۔ ایک سوال جو بہت شد و مد سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اختر رضا سلیمی کے ناول تاریخی ہیں؟

تاریخی ناولوں کے تذکرے سے ہمارے ذہن میں نسیم حجازی کا نام آتا ہے۔ سلیمی کے ناولوں کا تاریخ سے تعلق ضرور ہے مگر یہ تاریخی ناول ہر گز نہیں۔ تاریخ ناقابلِ اعتبار ہے مگر ادبی شہ پارے جو متوازی تاریخ کا اشاریہ ہوتے ہیں ان کی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس ضمن میں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر اہلِ علم کو ان کی چنداں حاجت نہیں۔

تاریخ وہ دریا ہے جس کا پانی بہت آلودہ ہے، بلکہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ اختر رضا سلیمی نے اس دریا کے پانی کو سمندر کی اور بہنے دیا۔ پھر اس نے اپنی تحقیق و جستجو کی دھوپ اس سمندر پر دور تک پھیلا دی جس کے نتیجے میں پانی بخارات کی شکل میں فضا میں بلند ہوا۔ اس عمل کے دوران میں سارا زہر، ساری آلودگی جاتی رہی۔ آلودگی سے پاک ان بخارات کو اختر رضا سلیمی نے اپنے تخیل کے پر دیے اور انھوں نے بادلوں کی صورت اختیار کر لی، اس نے اپنی شاعری کی ہواؤں سے ان بادلوں کا رُخ پہاڑوں کی طرف پھیر دیا اور انھیں کہانیوں کی پوترتا دی۔ گلیات اور اس کی ملحقہ وادیوں میں جب یہ بادل برسے تو پہلے ’جاگے ہیں خواب میں، پھر‘ جندر ’اور اب‘ لواخ ’کی جھیلیں نمودار ہوئیں۔ ان جھیلوں کے کنارے تاریخ کے بھلائے ہوئے کرداروں کی سبھا جمی ہوئی ہے۔

اب یہی دیکھ لیجیے کہ متعصب مورخ نے جہاں جہاں ترازو کے پلڑے کو اپنے حق میں جھکانے کی کوشش کی ہے، سلیمی نے اس کا رد بڑے ہی مدلل انداز میں کچھ اس تخلیقی رچاؤ کے ساتھ کیا ہے کہ کہیں ناول کی شان مجروح نہیں ہوئی۔ انگریز حکام اور ان کے حاشیہ نشین مورخ نے ان قبائل کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جو انگریزوں اور سکھوں سے برسرِ پیکار رہے ہیں اور ان کے مفاد کو جہاں تک ممکن تھا زک پہنچائی ہے۔ انگریزوں کے نزدیک وہی خاندان معتبر تھے جنھیں اپنی مٹی کے بجائے عہدہ و منصب اور جاگیریں پسند تھیں۔

اس حوالے سے مجھے بہت پہلے کی ایک بات رہ رہ کر یاد آتی ہے۔ اختر رضا سلیمی نے ایک بار تاریخ کے پنوں میں گم ایک حکایت کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر میں بھی اس ضمن میں اس کی کوئی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ بات آئی گئی ہو گئی مگر اختر کے اندر کہیں یہ آگ جلتی رہی۔ اس کی جستجو سچی تھی، اس لیے ساری کائنات جستجو کی اس سازش میں اس کی شریکِ کار ہو گئی تھی۔ جن دنوں وہ ’لواخ‘ کو ایک بار پھر روشن کرنے نکلا تو اچانک اس حکایت نے اپنے ظہورِ نو کی خوش خبری سنائی۔ میں تو خوشی سے پاگل ہو گیا کہ اس حکایت کے ظہورِ نو کا اس سے بہتر کوئی وقت ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ میں نے یہ خوش خبری سلیمی کو سنائی تو مجھے لگا جیسے اس کی آنکھیں نم ہو گئی ہیں۔ ’لواخ‘ شائع ہوا تو میں نے دیکھا کہ سلیمی نے مہتاب سنگھ کی تاریخِ ہزارہ کے جواب میں اپنا لاجواب نوشتہ ترتیب دیا ہے۔ مہتاب سنگھ نے تاریخِ ہزارہ فارسی زبان میں لکھی تھی، اس کا اردو میں ترجمہ پروفیسر محمد زمان مضطر صاحب نے کیا ہے اور یہ عین اس وقت شائع ہوا جب سلیمی آتش رفتہ سے لواخ روشن کرنے پر ادھار کھائے بیٹھا تھا اور کیوں نہ کھائے بیٹھتا کہ اس نے اپنی مٹی کا قرض جو چکانا تھا۔ ہری سنگھ نلوہ کے رفیق کی یہ تاریخ ہزارہ معرکۂ بالاکوٹ کے بارے میں معلوم حد تک پہلی باقاعدہ تاریخی دستاویز ہے۔

ایک لمحہ ٹھہر کر سوچیے کہ اگر مہتاب سنگھ کی فارسی زبان میں لکھی تاریخِ ہزارہ کا یہ ترجمہ عین اس وقت شائع نہ ہوتا جب اختر رضا سلیمی ’لواخ‘ روشن کیے بیٹھا تھا تو کیا ’نوشتہ‘ اس ناول کے کینوس پر اترتا؟

’لواخ‘ کے نام کے حوالے سے بھی اس کائناتی سازش نے ٹھیک وقت پر اپنا کام دکھایا ورنہ اس ناول کا نام ’نوشتہ‘ ہوتا اور اردو دنیا کبھی نہ جان پاتی کہ ’لواخ‘ کیا چیز ہے۔ یہ اس رات کا قصہ ہے جب اختر رضا سلیمی کو ایک بہت ضروری کام کی وجہ سے ناول کا مسودہ ایک طرف رکھنا پڑا تھا۔ وہ اپنے بھائی کے گھر پہنچا تو چودھویں کا چاند اپنے پورے جوبن پر تھا۔ کسی نے اسے مخاطب کیا اور چاندنی کی طرف اسے متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ ”اج تے لواخ لگے دا اے۔“ اس نے دل ہی دل میں کہا ہو گا ’تری آواز مکے اور مدینے۔ ‘

لواخ کا لفظ سلیمی کے لیے اجنبی نہیں تھا، اس کے کان بچپن سے اس لفظ سے مانوس تھے لیکن ’لواخ لگے دا اے‘ کے جملے نے ایسے سمے میں پر نکالے کہ جب وہ گھر واپس آیا تو ناول کے سرِورق پر جہاں ’نوشتہ‘ لکھا ہوا تھا، وہاں اب ’لواخ‘ روشن ہو چکا تھا۔ کائناتی سازشیں اور بھی ہیں جیسے اختر رضا سلیمی کی نظم ’بلیک ہول‘ اور میری اس بے ربط خود کلامی کا سبب بنے والا ’بلیک ہول‘ جسے بلند قامت دوستوں نے اپنی گفتگو سے ایک روشن تر لواخ میں بدل دیا تھا۔

اختر رضا سلیمی نے پہاڑوں کا رُخ جس بھی دھن میں کیا تھا وہی بہتر جانتا ہے مگر اب جو مرحلۂ سخت اسے درپیش تھا اس سے عہدہ برا ہونے کے لیے اسے وسیع مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنی نظر بھی پیدا کرنا تھی اور پھر اپنی نظر کے کرشمے بھی دکھانا تھے۔

اس حوالے سے اس کی ایک نظم لائقِ توجہ ہے کہ اس میں اپنی نظر کی وسعتوں کے پس منظر میں کارفرما جذبے کا شاعرانہ بیان ہی نہیں بلکہ اپنے ہونے اور اپنے ہونے کے اظہار کا قرینہ بھی موجود ہے۔ اس نظم میں رفتگاں کے پہاڑ جیسی قامت اور عظمتوں کا اعتراف بھی ہے اور اپنے ہونے کا جواز بھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اپنے ناولوں میں کرداروں، علاقائی نسبتوں اور جغرافیائی حوالوں سے جو ماحول بنایا ہے، وہ اس کی رگوں میں اس کے ورود کے ساتھ ہی لہو بن کر دوڑنے لگا تھا۔ اس نے یہ ماحول خود پر طاری نہیں کیا بلکہ یہ اس کے شخصی اوصاف میں شامل ہے۔ نظم ’منظر اک بلندی پر ‘ آپ بھی دیکھ لیجیے ؛

میں کھڑا ہوں وادیِ خوش خواب میں
اور میرے چار جانب دور تک پھیلی ہوئی ہے
منظروں کی کہکشاں
اور منظروں پر ثبت ہیں
ان دیکھنے والوں کی نظروں کے نشاں
جو یہاں سے جا چکے ہیں
منظروں کی دوسری جانب
جہاں سے لوٹ کر کوئی کبھی آیا نہیں
وہ جا چکے ہیں
اپنے ہونے کی مکمل داستاں ان منظروں پر ثبت کر کے
میں بھی اک منظر پر اپنا آپ لکھنے آیا ہوں
لیکن کہاں لکھوں
یہاں
سب منظروں پر گرد ہے
گزرے ہوئے لوگوں کی بینائی کی گرد
میں کسی شفاف منظر پر
نظر سے دستخط کر کے ابد آثار ہونا چاہتا ہوں
ایسے اک منظر پہ جو پہلے
کسی بھی آنکھ پر اترا نہ ہو

لیجیے ناول نگار اختر رضا سلیمی کو شاعر اختر رضا سلیمی نے نظم کے آئینے سے منعکس ہونے والی کرنوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب معاملہ کسی حد تک سمجھ میں آنے لگا ہے۔ غالب نے کہا تھا کہ؛

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

اختر رضا سلیمی کسی شفاف منظر پر نظر سے دستخط کر کے ابد آثار ہونا چاہتا تھا اور کسی ایسے ہی منظر کی تلاش میں وہ ’ہرو‘ کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہوا یہاں تک چلا آیا تھا مگر یہاں قدم قدم پر ان کی یادگاریں ہیں جو جا چکے ہیں۔ وہ ان سے صرفِ نظر بھی نہیں کر سکتا کہ یہ اپنی نظر سے ایک طرح کی غداری ہے۔ یہ مرحلہ بھی کچھ کم سخت نہیں۔

مجروح سلطانپوری بھلے وقت میں یاد آئے ؛
بے تیشۂ نظر نہ چلو راہِ رفتگاں
ہر نقشِ پا بلند ہے دیوار کی طرح

اختر رضا سلیمی کے لیے یہ کارِ سہل آہستہ آہستہ دشوار ہوتا گیا۔ اسے کب معلوم تھا کہ اسے اپنی انگلیوں سے یہ بلند پہاڑ کھودنا پڑیں گے مگر اس نے اس کام کا آغاز پوری تندہی سے کیا۔ ’لواخ‘ کا انتساب اُس نے اپنے مرحوم والدین کے نام کیا ہے اور وہ اپنی نظر کے کرشمے دیکھنے کے لیے اپنی ذات تک کو منظر سے منہا کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے ؛

غبارِ جسم اگر درمیاں سے ہٹ جاتا
تو رفتگاں کو سہولت سے دیکھ سکتا میں

اُس کی ترجیحات واضح ہیں، اس کا مقصد اُس کی اپنی ذات سے بھی بڑا ہے۔ اس کے ناولوں میں، اس کی شاعری میں ہمیں جا بجا ایسے قرائن و شواہد ملتے ہیں جو اس کے اندر بھڑکتی آگ کی حدت و شدت سے اس کے ظاہر و باطن کو روشن اور اجلا کرتے ہیں۔ نظم ’اپنے آبائی مکان کے دروازے پر ‘ کا مطالعہ بھی اس ضمن میں مفیدِ مطلب ہے۔ آپ چاہیں تو ’یہ وہ منظر ہے‘ سے بھی کچھ روشنی کشید کر سکتے ہیں۔ ’اختراع‘ اور ’ارتفاع‘ سے بھی کچھ نشتر ہاتھ آ سکتے ہیں مگر سرِ دست میں پہاڑوں کو اپنی انگلیوں سے کھودنے والے کی کتھا بیان کر رہا ہوں۔

اب اس کے ناخنوں میں بہت مٹی بھر گئی تھی۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ ناخنوں میں بھری ہوئی یہی مٹی اس کے لیے کیمیا بن گئی ہے۔ اب تو اس نے جس کہانی کو چھوا اسے سونا بنا دیا، جس کردار پر نظر ڈالی اسے امر کر دیا، جس مقام سے گزرا اسے یادگار بنا دیا۔

ایبٹ آباد کے پہاڑی سلسلے سے شروع ہو کر بالاکوٹ تک پھیلی ہوئی کہانیوں کو اس نے کچھ یوں بسر کیا کہ انھیں داستان بنا دیا۔ ان داستانوں کو ناول جیسے بڑے کینوس پر اتارتے ہوئے اختر رضا سلیمی نے جانے کتنے جنم بھوگے ہوں گے۔

Facebook Comments HS