ایک پراعتماد خاتون کی حوصلہ افزائی کے مثبت اثرات
میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ سامنے ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی کار آ کر رکی اس میں ایک خاتون اور ایک تین چار سال کا بچہ باہر نکلے۔ خاتون نے بچے کو انگلی پکڑائی اور سکول میں بنے ہوئے مڈل کے امتحانی سنٹر میں چلی گئی۔ یہ آج سے بیس سال پہلے کی بات ہے اور اس زمانے میں ہمارے شہر میں بھی خال خال ہی خواتین ڈرائیونگ کرتی ہوئی نظر آیا کرتی تھیں۔ جب کہ یہ خاتون گاؤں کی سڑکوں پر اکیلی بے خوف و خطر ڈرائیونگ کرتی پھر رہی تھی اور اس کی چال ڈھال اور حرکات و سکنات سے خود اعتمادی اور بے خوفی کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔
اس کے پہناوے اور لباس میں ایک خاص قسم کی نفاست تھی جو اس کے وقار اور احترام میں اضافہ کرتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ میرے ذہن پر بھی اس کی شخصیت نے بڑے خوشگوار اثرات چھوڑے تھے اور میں نے اس کے ساتھ تعارفی ملاقات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنے چپڑاسی کی ڈیوٹی لگا دی کہ جونہی وہ خاتون امتحانی سنٹر سے واپس آئیں تو انہیں بتایا جائے کہ اس سکول کا ہیڈ ماسٹر آپ سے ملنا چاہتا ہے اور وہ پندرہ بیس منٹ بعد میرے دفتر میں بیٹھی ہوئی اپنے بارے میں بتا رہی تھیں کہ وہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 477/EB میں سیکنڈری سکول ٹیچر ہیں اور یہاں پر مڈل کے امتحانی سنٹر کی انسپکشن کرنے آئی ہوئی ہیں۔ مزید برآں یونیورسٹی سے ایم ایس سی کیمسٹری امتیازی حیثیت سے کیا ہوا ہے ۔ گو کہ اس کے تعارف نے اس کے وقار میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ لیکن میں اس کی اس حیثیت سے مطمئن نہیں تھا۔ میں اُسے بہتر پوسٹ پر دیکھنا چاہتا تھا۔
ہم پینڈو لوگوں کی عادت ہے کہ ہم اپنی پسند اور ناپسند کو تکلف کے لبادے میں چھپانے کی کوشش نہیں کرتے اور اسی بات کے پیشِ نظر لگی لپٹی رکھے بغیر میں نے محترمہ سے کہا کہ آپ کی تعلیم ، شخصیت اور خود اعتمادی کی مناسبت سے موجودہ پوسٹ آپ کے شایان شان نہیں ہے آپ کو کسی کالج یا یونیورسٹی میں پروفیسر ہونا چاہیے اور اگر سکول ایجوکیشن میں ہی سروس کرنا ہے تو آپ کو کم ازکم کسی ہائی سکول کی ہیڈ مسٹریس ہونا چاہیے اور یہ آپ کا حق ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنے اس حق کے حصول کے لیے ضرور کوشش کریں گی۔
ہماری یہ تعارفی ملاقات چائے کی پیالی کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچی اور صدف نذیر نامی وہ خاتون واپس چلی گئی ۔ اس ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا شاید ڈیڑھ دو سال بعد ہی ایک دن مجھے فون آیا دوسری طرف صدف نذیر جوش اور مسرت بھرے لہجے میں مخاطب ہوئیں۔ سر مبارک ہو میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے ہائی سکول کی ہیڈ مسٹریس منتخب ہو گئی ہوں بلکہ میری پوسٹنگ بھی آپ کے بالکل پڑوس میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 493/EB میں بطور ہیڈ مسٹریس ہو گئی ہے۔ وہ بار بار اپنی ممنونیت کا اظہار کرتیں کہ یہ سب کچھ محض میری طرف سے کی گئی اس کی حوصلہ افزائی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔
حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی اس میں ایک ایسا ٹیلنٹ موجود تھا جس نے اس کی ذات کو نہ صرف اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ بلکہ وہ صاف اور واضح طور پر دکھائی بھی دے رہا تھا اور میں نے تو صرف اس کو اس ٹیلنٹ کے بارے میں آگاہی ہی دی تھی جسے میڈم صدف نذیر نے بحثیت ہیڈ مسٹریس بھی اپنے فعال کردار سے حرف بہ حرف سچ ثابت کیا۔ بشیر صاحب میرے کولیگ، دوست اور میرے گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ موصوفہ اُن کی سٹودنٹ رہی ہیں۔
یہ گاؤں سے سائیکل چلا کر شہر میں آیا کرتی تھیں اور میرے پاس لڑکوں کی کلاس میں یہ اکیلی لڑکی پیچھے بیٹھ کر سائنس مضامین پڑھا کرتی تھی۔ بڑی لائق اور پر اعتماد سٹوڈنٹ تھیں اور دسویں جماعت کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کیا تھا میرے پڑوس میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 493/EB میں اُن کی پہلی پوسٹنگ تھی۔ یہاں پر اس گاؤں کے ایک مقامی گھرانے نے سکول کی زمین کے ملکیتی حقوق کے متعلق ایک جھگڑا کھڑا کر دیا وہ سکول کی زمین کے ایک حصے کی ملکیت کے دعویدار تھے اور اُن کی پشت پناہی ان کا بڑا بھائی کر رہا تھا جو ایک معروف بیورو کریٹ تھا لیکن موصوفہ نے اس دانش مندی، دانائی اور جرات کے ساتھ اپنے سکول کا مقدمہ لڑا کہ اس کے صحیح کسٹوڈین ہونے کا حق ادا کر دیا اور مخالفین کو منہ کی کھانی پڑی۔
اس کے بعد اُن کا تبادلہ گورنمنٹ ہائی سکول عظیم آباد میں ہوگیا یہاں بھی مقامی لوگوں کے ساتھ جھگڑے اور عدالتی چارہ جوئی کا کیس شاید پہلے سے ہی ان کا منتظر تھا ۔ موصوفہ نے یہاں بھی نہایت دانائی اور جرات کے ساتھ یہ لڑائی لڑی۔ ہائی کورٹ میں تاریخوں پر بذاتِ خود جاتیں رہیں اور اس معاملے میں بھی بالآخر سرخ رو ہوگئیں۔ بوریوالہ کا یہ واحد سکول ہے جس کی دیوار کے ساتھ ساتھ کہیں پر کوئی ریڑھی، کوئی ٹھیلا یا کھوکھا آج بھی دکھائی نہیں دیتا اور آج بھی چھٹی کے وقت سکول کے سامنے والی مین روڈ کو ٹریفک کے لیے دونوں طرف سے بند کر دیا جاتا ہے۔
اس کے بعد بچیاں سڑک عبور کرتی ہیں تو پھر ٹریفک دوبارہ بحال ہوتی ہے اور یہ سارا کام سکول کا عملہ اپنی نگرانی میں کرواتا ہے۔ اس سکول کا عدالتی کیس لڑنے کے سلسلہ میں موصوفہ کی خدمات کا باقاعدہ طور پر اعتراف ہیڈ ٹیچرز کی ماہانہ میٹنگ میں سی ای او ایجوکیشن نے ان الفاظ میں کیا۔محترمہ نے اس کیس کو جس فہم و فراست اور جرات و بہادری کے ساتھ لڑا ہے۔ وہ اپنی مثال آپ ہے اور یہ کام شاید نہیں بلکہ یقینا کسی مرد کے بس کا روگ بھی نہیں تھا۔
ایک بار میری سب سے چھوٹی بیٹی عشا فاطمہ کے ایف ایس سی کے امتحانات ہونے والے تھے اور اس کا امتحانی سنٹر گورنمنٹ ہائی سکول سیٹلائٹ ٹاؤن تھا۔ وہ بڑے دنوں سے مصر تھیں کہ میں اُن کے ساتھ جاکر اُسے امتحانی سنٹر دکھا لاؤں تاکہ بعد میں اُسے کوئی الجھن نہ ہو میں نے سرسری طور پر پوچھا کہ وہاں ہیڈ مسٹریس کون ہیں تو بولیں کہ میڈم صدف نذیر ہیں میں نے بڑے اعتماد سے کہا تو پھر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کو وہاں پر امتحان کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔
کیونکہ وہ ایک بہت اچھی منتظم ہیں لیکن اس سب کے باوجود بیٹی کے اصرار پر مجھے وہاں پر جانا پڑا اور وہاں پر موصوفہ کے کام اور کارگردگی کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ امتحانی سنٹر کے لیے منتخب کیے گئے کمرے بڑے کھلے اور ہوادار تھے۔ وہاں پر ضرورت کے مطابق پنکھے ورکنگ پوزیشن میں تھے کیوں کہ گرمی کا موسم تھا اس لیے ہر کمرے میں ٹھنڈے پانی کی دست یابی کے لیے کولر کے انتظامات کیے ہوئے تھے۔ان سارے انتظامات کو دیکھ کر میری بیٹی بھی مطمئن ہو گئی۔
پچھلے دنوں میں فیس بک پر دیکھ رہا تھا کہ میڈم کو گریڈ انیس ایوارڈ کیا گیا ہے ۔ ویسے اُن کی ہمہ جہت اور ہمہ پہلو شخصیت اس امر کی متقاضی ہے کہ وہ کسی ضلع کی سی ای او تعینات کی جائیں۔ تاکہ وہاں پر وہ اپنی صلاحیتیوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کچھ ایسی نئی اور مثبت روایات کو فروغ دے جائیں جو نہ صرف سرکاری سکولوں کی کارکردگی اور ساکھ کو بہتر بنانے میں ممد و معاون ثابت ہوں۔ بلکہ اُن کے جانے کے بعد بھی مستقل بنیادوں پر ایسے ہی جاری و ساری رہیں۔
جیسے کہ اُن کے سابقہ اداروں میں کیے گئے انقلابی اقدامات کے باعث اُن کے فیوض و برکات وہاں پر آج بھی جاری و ساری ہیں ۔ واضح رہے کہ فرد واحد کی تعریف و توصیف میں لکھے گئے اس کالم کا مقصد یہ ہے کہ ہماری کمیونٹی میں ایسے لوگوں کی شدید کمی ہے جو سرکاری امور کو ذاتی امور کی طرح پوری ذمہ داری ، دیانت اور جرات کے ساتھ انجام دیتے ہیں اکثر لوگ سرکار کے کام کو بے کار سمجھ کر کسی بھی بڑے پھڈے میں پڑنے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔
تو اس ماحول میں جو لوگ اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں غیر روایتی طور پر اپنی ساری صلاحیتوں او ر توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیئے کوشاں ہیں۔ اتنی تعریف تو نہ صرف اُن کا حق بنتا ہے بلکہ یہ تعریف و توصیف اُن کو مستقبل میں زیادہ فعال رکھنے کے لیئے مہمیز کا کام بھی دیتی رہے گی اور دوسرے لوگوں کو اس کارِ خیر میں فعال کردار ادا کرنے کی بھی مسلسل تحریک دیتی رہے گی۔



Sadaf deserves this beautiful description