بیت المقدس کے مسلمانوں سے دو مرتبہ چھن جانے کی وجہ


 

جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ دو مرتبہ مسلمانوں کو بیت المقدس چھوڑنا پڑا۔ جس طرح قوم یہود کو ان کی غلطیوں کے باعث بیت المقدس چھن گیا تھا اسی طرح مسلمانوں کی بھی غلطیوں سے ایسا وقوع میں آیا۔ کیونکہ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کا مثل قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح سے آنحضرت ﷺ کو موسٰی علیہ السلام کا مثیل قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا آپ کی امت بھی موسٰی علیہ السلام کی امت کے شانہ بشانہ چلی۔ جس کے متعلق آنحضرتﷺ نے اپنی امت کے متعلق فرمایا ہے۔

”لتتبعن سنن من کان قبلکم“ (بخاری جلد رابع کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ) تم پہلے لوگوں کے طریقہ پر عمل کرو گے۔ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلیں گے لیکن افسوس کہ با وجود ہوشیار کر دینے کے مسلمان بھی اس آفت سے نہ بچ سکے۔ آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ میری قوم یہود کے نقش قدم پر چل نکلے گی لہٰذا ان سے بھی وہی سلوک ہو گا جو بنی اسرائیل سے ہوا تھا۔ یعنی دو دفعہ ارض مقدس ان سے چھین لی گئی۔

اسی طرح مسلمانوں کے قبضہ سے ارض مقدس جاتی رہے گی۔ چنانچہ دیکھ لیں کہ جب پہلی دفعہ ارض مقدس کو بخت نصر نے یہودیوں کو تہہ تیغ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کے وقت میں مسلمانوں کے ہاتھ سے ارض مقدس چھن گئی۔ پھر جس طرح موسٰی علیہ السلام سے تیرہ سو سال بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد بنی اسرائیل کو یہ ملک چھوڑنا پڑا۔ بالکل اسی طرح آنحضرت ﷺ کے تیرہ سو سال کے بعد مسلمانوں کی حکومت اس ملک سے جاتی رہی۔

یہ وہ وقت ہے جس میں عارضی طور پر بنی اسرائیل فلسطین پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفاً۔ (بنی اسرائیل 104 ) پھر جب پچھلی بار کا وعدہ ( پورا ہونے کا وقت) آئے گا تو ہم (تم سب کو) جمع کر کے لے آئیں گے۔ چنانچہ آج یہودی دنیا کے کونے کونے سے فلسطین میں جمع ہو گئے ہیں۔ اور مسلمانوں کو عارضی طور پر فلسطین کو چھوڑنا پڑا۔ یہ وہ وعدہ ہے جس میں مسلمانوں کی شامت اعمال سے یاجوج و ماجوج کا غلبہ مقدر تھا۔

چنانچہ بعض مفسرین نے بھی یہی مراد لیا ہے کہ ان کے غلبہ کے زمانے میں یہود ارض مقدس میں جمع کر دیے جائیں گے۔ اور یہ زمانہ کا سر صلیب حضرت مسیح موعودؑ کے نزول کا ہو گا۔ (تفسیر قرطبی و فتح بیان) یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے مذہبی لٹریچر میں یہ پیشگوئی شائع ہوتی چلی آئی ہے۔ کہ مسیح موعود کے زمانہ کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ارض مقدس میں یہود دوبارہ بسائے جائیں گے۔ لیکن ان کی حکومت عارضی ہوگی اور پھر وہاں سے مٹا دی جائے گی۔ چنانچہ بائبل میں لکھا ہے۔ کہ

”میں مصریوں کو ان قوموں کے درمیان سے جہاں سے وہ پراگندہ ہوئے جمع کروں گا۔ اور میں مصر کے اسیروں کو واپس لاؤں گا۔ اور ان کو فتروس کی زمین ان کے وطن میں واپس پہنچاؤں گا۔ اور وہ وہاں حقیر مملکت ہوں گئے۔ یہ مملکت تمام مملکتوں سے زیادہ حقیر ہوگی اور پھر قوموں پر اپنے تئیں بلند نہ کرے گی کیونکہ میں ان کو پست کروں گا تا کہ پھر قوموں پر حکمرانی نہ کریں اور وہ آئندہ کو بنی اسرائیل کی تکیہ گاہ نہ ہوگی جب وہ ان کی طرف دیکھنے لگیں تو ان کی بد کاری یاد دلائیں گے۔ اور جانیں گے کہ میں خداوند ہوں“ ۔ (حزقیل باب 29 آیت 13۔ 16 )

اور زبور میں ہے کہ

”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان نصوص سے واضح ہے کہ یہود کا اس وقت قبضہ ہے وہ بطور وراثت کے نہیں بلکہ غاصبانہ ہے جو ایک دن یقیناً ان سے چھن جائے گی۔ یہاں تو ارض مقدسہ پر اسرائیلی حکومت کے قیام کی پیشگوئی ہے مگر سورہ انبیاء میں بھی ذکر ہے کہ اسرائیلی قبضہ عارضی ہو گا۔ پھر ان مسلمانوں میں سے عبادی الصالحون ہی ارض مقدس پر حکمران بنا دیے جائیں گے اور بنی اسرائیل کو وہاں سے نکال دیا جائے گا کیونکہ قرآن کریم اور صحف سابقہ میں پیشگوئی ہے کہ ارض مقدس پر دائمی قبضہ صرف صالح بندوں کا ہو گا۔ قرآن کریم نے فرمایا۔ وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ۔ (الانبیاء 106 ) ہم نے زبور میں کچھ نصیحتوں کے بعد لکھ چھوڑا ہے کہ ارض مقدسہ کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ زبور میں بھی ہے کہ

”بدکار کاٹ ڈالے جائیں لیکن جن کو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا۔ تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا۔ پر وہ نہ ہو گا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادماں رہیں گے۔ شریر راست باز کے خلاف بندشیں باندھتا ہے اور اس پر دانت پیستا ہے خداوند اس پر ہنسے گا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دن آتا ہے۔ شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے تاکہ غریب اور محتاج کو گرا دیں اور راست رو کو قتل کریں۔ ان کی تلوار ان ہی کے دل کو چھیدے گی اور ان کی کمانیں توڑی جائیں گی۔ صادق کا تھوڑا سا مال بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے۔ کیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائیں گے۔ لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے۔ کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے۔ (زبور باب 36 آیت 8۔ 18 )“

زبور کی یہ عظیم الشان پیشگوئی اسرائیل کے موجودہ کرتوتوں کی بڑی تفصیل سے نشان دہی کر رہی ہے ”کہ بدکار کاٹے جائیں گے۔“

اب آپ جائزہ لیں کہ کیا اسرائیلیوں کی موجودہ حالت یہ ثابت نہیں کر رہی کہ اس قوم میں انسانیت کی کوئی رمق نہیں پائی جاتی۔ معصوم بے نگاہ بچوں اور عورتوں کو بمباری سے ہلاک کیا جا رہا ہے۔ 15000 ہزار بچے اور 10 ہزار عورتیں 10 ہزار بوڑھوں اور جوانوں کو لقمہ اجل بنا دیا جاتا ہے۔ 80 ہزار زخمی اپنے زخموں سے کرہ رہے ہیں۔ زخمی زخموں سے تڑپ رہے ہیں ان کو دیکھ کر یہ بدکردار بے حس اسرائیلی ملٹری جشن منا رہی ہے اور خوشی سے ناچ رہی ہے۔

دوسری طرف پوری دنیا ان مناظر کو دیکھ کر تڑپ اٹھی ہے اور سڑکوں پر ان سورماؤں کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔ ان پر لعنت ڈال رہی ہے۔ کیا یہ سب باتیں ثابت نہیں کر رہیں کہ یہ انسانیت سے عاری بے حس قوم ہے۔ جس کے بارے میں زبور کی پیشگوئی ان پر لعنت ڈالتی ہے اور بتا رہی ہے کہ یہ بدکردار ہیں اور اس کا انجام کیا ہو گا۔ صاف بتا دیا ہے یہ ہلاک کیے جائیں گے کاٹ دیے جائیں گے۔ اور یہ پیشگوئی کی گئی کہ تھوڑی دیر میں یہ شریر نابود ہو جائے گا۔ تو اس جگہ کو غور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہو گا۔ ”

زبور میں آتا ہے کہ جب یہ بد کردار شریر قوم نابود ہو جائے گی تو پھر کون وارث ہو گا۔
” حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شامان ہوں گے۔“
زبور کی پیشگوئی اس بدکردار شریر کے بارے میں یہ بیان کرتی ہے کہ
”شریر راست باز کے خلاف بندشیں باندھتا ہے اور دانت پیستا ہے۔

انسانیت سے عاری اس بد کردار اسرائیلی قوم نے کیا فلسطینیوں کا پانی خوراک، ادویات اور بجلی بند نہیں کی۔ U۔ N۔ Oنے اسرائیل کو بار بار یہ حکم دیا ہے کہ امدادی مدد جو U۔ N۔ Oغزہ بھیج رہا ہے اس کو روکا نہ جائے لیکن کئی مہینوں سے اسرائیل اس امداد کو پہنچنے نہیں دے رہا۔ یہ ہیں وہ بندشیں جن کا زبور نے ذکر کیا ہے۔

ساری دنیا پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے کہ قحط کی وجہ سے بھوک کی تاب نہ لا کر بچے لاغر ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی اموات ہو رہی ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر پتھر دل انسان کا دل بھی پگھل جاتا ہے مگر یہ اس بے حس قوم ان دلخراش مناظر کو دیکھ کر جشن مناتی اور خوشی سے نا چتی ہے پیشگوئی سے ثابت ہو گیا کہ یہ بدکار قوم ہے۔

زبور کی پیشگوئی کی ایک شق یہ بھی ہے کہ ان کے ان کرتوتوں پر ہنسے گا۔ جیسا کہ زبور میں آیا ہے۔
”خداوند اس پر ہنسے گا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دن آتا ہے۔“

خداوند ان پر ہنسے گا کہ یہ قوم ظلم اور بربریت کر کے جشن منا رہی ہے اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ میں ان کا کیا حشر کرنے والا ہوں جیسا کہ پیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ

” کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دن آتا ہے۔“

پھر پیشگوئی میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس بدکار قوم نے تلوار اور کمان اس لئے کھینچی ہے کہ غریب اور محتاج کو گرا دیں جیسا کہ پیشگوئی کے یہ الفاظ میں کہ

” شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے۔ تاکہ محتاج کو گرا دیں اور راست رو کو قتل کریں۔“

کیا اس شقی القلب قوم نے آسمان سے کمانوں ( جہازوں ) سے تیر ( بمب) نہیں گرائے اور تلوار ( اسلحہ ) سے نہتے غریب بے گناہوں کو قتل نہیں کیا۔

پیشگوئی میں یہ بھی درج ہے کہ ان ظالموں کا انجام کیا ہو گا چنانچہ لکھا ہے کہ
” ان کی تلوار ان ہی کے دل کو چھیدے گی اور ان کی کمانیں توڑیں جائیں گی۔“

آج اسرائیل جس پر اترا رہا ہے یعنی اپنے جدید اسلحہ اور جنگی جہازوں پر، وہ وقت آنے والا ہے کہ اس کے لیے وبال جان بن جائے گا جو تدبیریں یہ کر رہا ہے وہ الٹی ہو جائیں گی۔ الفاظ ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ خدائی نوشتے ہیں جو پورے ہو کر رہیں گے جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے کہ ”شریروں کے بازو توڑے جائیں گے لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے۔“

موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ یہود کے فتنوں کی انتہاء ہو گئی ہے۔ ان کے ظلم و استبداد کی داستانیں سن کر جو وہ مظلوم فلسطینیوں پر ڈھاتے ہیں کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ آج ارض مقدس پر فلسطینیوں کا بہتا ہوا خون پکار پکار کر اس بربریت کی داستان سنا رہا ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ کون سا قصبہ ہے جو یہودیوں کی بربریت اور ظلم سے محفوظ رہا ہو۔ گزشتہ 75 سال سے جو چیرہ دستیاں اور ظلم ان پر روا رکھا گیا ہے ان کو دیکھ کر دنیا کانپ اٹھی ہے مگر یہ وہ قوم ہے جس پر کوئی اثر نہ ہوا۔

غزہ کا حالیہ واقعہ جس میں معصوم بچوں اور عورتوں اور بوڑھوں پر اسرائیل اندھادھند، رات دن کئی ماہ سے بمبارمنٹ کر رہا ہے اس کو دیکھ کر دنیا لرز اٹھی۔ اکثر ممالک نے اسرائیل کو وار کریمنل (war criminal) قرار دیا ہے۔

افسوس کہ قوم اپنی سرکشی و طغیانی سے باز نہ آئی اور قدوس ذوالجلال کے اس حکم کی طرف کان نہ دھرا۔ یہاں تک کہ غیور خدا کو اپنے وعدہ کا اظہار ان لفظوں میں کرنا پڑا۔

مَّلْعُوْنِیْنَ ۖ اَیْنَمَا ثُقِفُوٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً۔ (احزاب 60
جہاں بھی یہ لوگ پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور خوب قتل کیے جائیں گے۔

ضُرِبَتْ عَلَیْ۔ ہِ۔ مُ ال۔ ذِّلَّ۔ ةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّ۔ ٰھِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّ۔ ٰھِ وَضُرِبَتْ عَلَیْ۔ ہِ۔ مُ الْمَسْکَنَةُ ۚ ذٰلِکَ بِاَنَّ۔ ہُ۔ مْ کَانُ۔ وْا یَکْ۔ فُرُوْنَ بِاٰیَاتِ اللّ۔ ٰھِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآءَ بِغَیْ۔ رِ حَقٍّ ۚ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُ۔ وْا یَعْتَدُو ْنَ (آل عمران 111 )

جہاں بھی یہ لوگ پائے جائیں گے۔ ذلت و خواری ان پر مسلط ہے۔ البتہ اللہ کے عہد اور لوگوں کے عہد و پیمان سے انہیں پناہ مل سکتی ہے اور یہ لوگ غضب الٰہی میں مبتلا ہو گئے اور ان کو مسکینی اور محتاجی نے بھی گھیر لیا۔ اس لئے کہ یہ خدا تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے۔ اور انبیاء کو قتل کرتے رہے ہیں یہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا نتیجہ ہے۔

ان آیات میں یہودیوں کے بارے میں بہت سی اہمیت کی پیشگوئیاں بیان ہوئی ہیں یہ کہ اس قوم کے لئے ذلت و بدنامی ہمیشہ کے لئے مقدر ہے اور یہ قوم ہمیشہ بادشاہت سے محروم رہے گی اور ہمیشہ دوسری بادشاہوں کے زیرنگیں رہے گی۔ یہودیت کی تاریخ گواہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے لے کر 1948 ء تک کبھی بھی ان کو حکومت نصیب نہیں ہوئی۔ قرآن کریم کی اس عظیم الشان پیشگوئی کی سچائی اس بات سے عیاں ہے کہ سارے ملکوں میں یہودیوں کو طرح طرح کی ذلتیں اٹھانی پڑیں اور آج جو وہ فلسطین پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ وہ بھی ان کی اپنی طاقت سے نہیں بلکہ امریکہ کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ اور ان کا یہ عارضی قبضہ ان بیساکھیوں کے ہلنے سے جاتا رہے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ بندوں کی رسی پکڑ کر عارضی قبضہ تو ہو گا مگر دائمی نہیں کیونکہ بندوں کی رسی کمزور ہوا کرتی ہے۔

سورہ انبیاء کی آخری آیت میں رسول کریم ﷺ کو ان الفاظ ذیل ایک دعا سکھائی ہے۔ قَالَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْ۔ مٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۔ (الانبیاء 113 )

(وحی الٰہی کی ان پیشگوئیوں کے نزول پر ذات رحمت العالمین نے دعا کی) اے میرے رب تو حق کے مطابق فیصلہ فرما اور ہمارا رب رحمان ہے اور اے کافر و جوتم باتیں کرتے ہو ان کے خلاف اسی سے مدد مانگی جاتی ہے۔

قرآن کریم کی اور بائبل کی پیشگوئیوں کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ارض مقدس یعنی فلسطین پر قبضہ انجام کار مسلمانوں کا مقدر ہے وہ وقت ضرور آئے گا جب کہ آنحضرتﷺ سے محبت رکھنے والی وہ جماعت جو عبادی الصالحون کہلائے گی اس پر قابض ہوگی خدا کرے کہ وہ وقت جلد آئے تا ان مظلوم فلسطینیوں کی آہ بکا رنگ لائے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ جس چیز کو خدا نے مقدر کر رکھا ہو اسے کوئی تبدیل کر دے۔

انسان کی تدبیر پہ غالب ہے ہمیشہ
اللہ کی تدبیر جو مٹتے نہیں مٹتی
اسلام کو ہے نور ملا نور خدا سے
ہے ایسی یہ تنویر جو مٹتے نہیں مٹتی
(کلام محمود)

اے فلسطین کے باسیو! تم کبھی بھی دلگیر نہ ہونا اور ہمت سے کام لینا کیونکہ تمہاری پشت پر تمہارا وہ خدا کھڑا ہے جس کی طاقت کے سامنے نہ امریکہ کھڑا ہو سکتا ہے نہ یورپ کی طاقت کھڑی ہو سکتی ہے۔ جو قربانیاں تمہاری قوم نے پیش کی ہیں رنگ لائیں گی کیونکہ خدائی نوشتے بتا رہے ہیں کہ وقت آنے والا ہے کہ تم فلسطین کے وارث ہو گے۔ قرآن کی پیشگوئیاں بتا رہی ہیں اور بائبل کی بھی پیشگوئیاں ظاہر کر رہی ہیں کہ اس کے وارث قوم یہود نہیں ہو گی بلکہ حلیم لوگ وارث ہوں گے۔

اے فلسطین کی عظیم ماؤں تمہیں سلام تمہاری گود میں پلنے والے تمہارے عظیم جگر گوشوں کو سلام جنہوں نے ایسی تاریخ رقم کر دی ہے کہ دنیا اس کی مثال دے گی۔

Facebook Comments HS