یونیورسٹی رینکنگ واقعی فراڈ ہوتی ہیں
میں سندھ کی ٹاپ انجینیئرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوا ہوں، جس کا شمار پاکستان کی ٹاپ 10 انجینیئرنگ یونیورسٹیز میں ہوتا ہے، 2013 میں ایچ ای سی نے سندھ کی ٹاپ اور پاکستان کی چوتھی بہترین انجینیئرنگ یونیورسٹی کہا تھا، 2010 میں QS نے دنیا کی 400 بہترین یونیورسٹیز میں شامل کیا تھا، 2020 میں QS نے 400 بہترین ایشیئن یونیورسٹیز میں شامل کیا تھا، یونیورسٹیٹ انڈونیشیا گرین میٹرک ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ نے دنیا کی 271 نمبر بہترین یونیورسٹی کہا تھا، پاکستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں دوسرے نمبر پر ہے اور آئی ایس او 9000 سے سرٹیفائیڈ ہے۔
میں اپنا یونیورسٹی کا تجربہ بتاتا ہوں۔
ہماری یونیورسٹی کے سپلیمینٹری امتحان میں نقل ہوتی تھی، ٹیچرز خود بچوں کو نقل کرنے دیتے تھے، ٹیچرز امتحان کے شروع میں تھوڑی سختی کرتے تھے جیسے چیٹنگ مٹیریل نکلتا تھا تو چھین لیتے تھے ( کاپی کیس نہیں کرتے تھے ) پھر تھوڑی دیر کے بعد ٹیچرز اپنی باتوں میں لگ جاتے تھے اور بچے بینچ کے نیچے پھررے رکھ کر نقل کر رہے ہوتے تھے ٹیچروں کو معلوم ہوتا تھا لیکن وہ خود کچھ نہیں کرتے تھے، کبھی ایسا ہوتا تھا کہ ٹیچرز خود 30 یا 45 منٹ کے لیے کلاس سے باہر چلے جاتے تھے تاکہ بچے چیٹنگ کر لیں وہ اس کو پاور پلے کہتے تھے، کبھی ٹیچرز کھلم کھلا کہتے تھے کس کا انتظار کر رہے ہو کام شروع کرو۔
ہمارے ٹیچرز نے کبھی نہیں بتایا کہ کتاب پڑھنے کی اہمیت کیا ہے یا مضامین کے کانسپٹ کلیئر کرنے کے لیے ہمیں ایک سے زیادہ کتابیں پڑھنی چاہیں بلکہ ٹیچرز خود اپنا بتاتے تھے کہ انہوں نے خود کیسے پڑھا تھا اپنے وقت میں۔
ایک ٹیچر جو الیکٹرانکس ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار تھے، ماسٹرز کیا ہوا تھا اب اسسٹنٹ پروفیسر ہیں وہ ہمیں بتاتے تھے کہ آپ لوگوں کو سپلی کیوں لگتی ہے ہم تو پورا سیمسٹر نہیں پڑھتے تھے بس امتحان کی پریپریشن چھٹیوں میں دن رات ایک کر کے پڑھتے تھے اور امتحان کلیئر کر لیتے تھے یہی سر ہمیں BE/BS کا فرق بتاتے تھے کہ BE والے کے نام کے ساتھ انجینئر لگتا ہے کیونکہ BE کروانے والی یونیورسٹی PEC سے recognized ہوتی ہے باقی BS اگر آپ فاسٹ یونیورسٹی سے بھی کرتے ہو تو بھی آپ کے نام کے ساتھ انجینئر نہیں لگ سکتا کیونکہ فاسٹ یونیورسٹی PEC سے recognized نہیں ہے (یہ بات غلط تھی، ڈگری کوئی بھی ہو BE/BS/BSC/B۔ TECH اس کو پی ای سی سے ریکگنیشن مل سکتی ہے اور ریکگنیشن ملنے کے بعد آپ کے نام کے ساتھ انجینئر بھی لگتا ہے اور آپ آفیشل انجینیئر ہوتے ہو اگر سر کی بات مان لی جائے تو پھر UET لاہور جو بی ایس سی کی ڈگری دیتی ہے اور GIKi جو بی ایس کی ڈگری دیتی ہے وہاں کے بچے بھی انجینئر نہیں کہلائیں گے ) ۔ ایک ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچر تھے جو اب سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اب وہاں سے ہی پوسٹ ڈوک کر رہے ہیں وہ بتاتے تھے کہ ہم صرف تین دن پڑھتے تھے ( 3 دن ہر پیپر کے درمیان میں گیپ ملتا تھا) کیونکہ ہمیں پتا ہوتا تھا کہ پیپر نکالنا ہمارے لیے چٹکی بجانے جیسا کام ہے، viva میں ہم پڑھ کر نہیں جاتے تھے بس مائنڈ کی شارپنیس سے جواب دیتے تھے۔
ایک اور ٹیچر تھے جنہوں نے اس وقت ماسٹرز کیا ہوا تھا اور ماسٹرز کی ریسرچ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی آف میلان اٹلی سے کی تھی اور اب UK سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، وہ بھی یہی بولتے تھے کہ کلاس میں صرف لیکچر اچھی طرح لے لو پھر گھر پر جا کر پڑھنا مت صرف لیکچر کو سرسری طور پر دیکھ لینا تم پیپرز آسانی سے کلیئر کر لو گے۔
ایک الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر تھے جو اب سول سروسز میں چلے گئے ہیں وہ بھی کہتے تھے کہ ہم لوگ صرف لیکچر اچھی طرح لیتے تھے باقی گھر پہ جا کر پڑھتے نہیں تھے۔ میرے اپنے batch کے پوزیشن ہولڈرز بھی ایسے ہی پڑھتے تھے اس لیے ان کو مضامین کی بنیادی چیزیں بھی نہیں آتی تھیں ان کو آسانی سے اسکول لیول کی طبیعات اور ریاضی میں بھی پھنسایا جاسکتا تھا۔
ہمیں جو ریاضی کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں وہ ہماری یونیورسٹی کے پروفیسر کی لکھی ہوئی تھیں اور یہ بات خود ایک ریاضی کی لیکچرار نے بولی تھی کے اس کتاب کا کوئی معیار ہی نہیں ہے۔
ہماری مطالعہ پاکستان کی ٹیچر ہمیں لیکچر نہیں دیتی تھیں وہ ہم کو نوٹس ڈکٹیٹ کرواتی تھیں، وہ ہمیں بتاتی تھیں کہ میرے بچے مجھ سے کہتے ہیں کہ ہمارے بورڈز کے پیپرز کے مارکس بورڈز سے بڑھوا دو تو میں ان کو بولتی تھی کہ یہ مجھ سے نہیں ہو گا بھلے فیل ہو جاؤ پیپرز واپس دے دینا لیکن جب ہمارا سیشنل ٹیسٹ ہوا تو وہ کلاس سے باہر چلی گئیں تاکہ ہم نقل کر سکیں جب وہ کلاس میں داخل ہوئیں تو ایک بچہ دوسرے بچے سے کچھ پوچھ رہا تھا اپنی جگہ چھوڑ کر لیکن انہوں نے اس بچے کو پھر بھی کچھ نہیں کہا کہ تم اپنی جگہ سے کیوں اٹھے ٹیسٹ کے دوران۔ انہوں نے پورا سیمسٹر لیکچر نہیں دیا تھا صرف کبھی کبھی ڈکٹیٹ کروا دیتی تھیں اور سیمسٹر کے آخر میں کہنے لگیں کہ یہ سب آپ پہلے سے پڑھ کر آچکے ہو میں آپ کو کیا پڑھاتی (اب وہ یہ بات یونیورسٹی انتظامیہ کو کیوں نہیں بتاتیں کہ یہ مضمون بچوں نے پہلے سے پڑھا ہوا ہے آپ مجھے تنخواہ دے کر اپنے پیسے ضائع کر رہے ہو اس مضمون کو نصاب سے نکال دو ) ۔
ہمارے سینیئر نے بتایا کہ میٹ لیب (MAT LAB programming) پروگرامنگ پڑھانے والے ٹیچر کو خود پروگرامنگ نہیں آتی تھی وہ کچھ پروگرام لکھ کر کہتے تھے بس یہ لکھ لو سوال مت پوچھنا مجھے بھی نہیں پتا کہ یہ کیا ہے بس ان پروگرامز کو رٹ لینا باقی مارکس میں اچھے دے دوں گا۔
ایک الیکٹرانکس ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہمیں ڈیجیٹل الیکٹرانکس سبجیکٹ پڑھاتی تھیں یہ آسان سبجیکٹ تھا اس لیے انہوں نے پڑھا دیا تھا لیکن سینیئرز بتاتے تھے کہ اس سے پہلے یہ ٹیچر ان کو جو سبجیکٹس پڑھاتی تھیں تو وہ سبجیکٹس ٹیچر کو خود نہیں آتے تھے اور سوال جواب کرنے پر وہ ہم کو ٹوپی کرا دیتی تھیں، وہ ہمیں پریکٹیکل کروانے آتی تھیں لیکن ان کو پریکٹیکل بھی نہیں آتا تھا تو پہلے وہ لیب اسسٹنٹ (پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سے B۔ Tech کیا ہوا تھا) کو کہتی تھیں تجربہ کرو پھر اس کا طریقہ دیکھ کر بچوں کو کرواتی تھیں۔
ایک سر جو اسسٹنٹ پروفیسر تھے، ماسٹرز کیا ہوا تھا، آٹھ سال سے پڑھا رہے تھے اور اب چائنہ سے پی ایچ ڈی ہونے والی ہے ان کی۔ وہ شیعہ مسلمان تھے، وہ کہتے تھے کہ ماتم کیا کرو بہت مزہ آتا ہے اور ماتم کرنے سے دل کے وال کھل جاتے ہیں (میں نے یہ سوال سائنس کی دنیا فیسبک گروپ پر کیا تو انہوں اس بات کو بالکل غلط کہا) ، انہوں نے فیس بک پر پوسٹ کیا (پی ایچ ڈی کے دوران) ہارپ ٹیکنالوجی طوفان اور زلزلے کی وجہ ہے (اس پر میں نے ان کو ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی وڈیو بھیجی جس میں ڈاکٹر صاحب نے اس بات کو بالکل غلط بتایا ہے ) ، میں نے ان سے پوچھا کیا نظریہ ارتقاء پڑھنے سے ہمارا ایمان خراب ہوتا ہے تو انہوں نے کہا کہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس پر یقین کرنے میں مسئلہ ہے۔ ایک اور ٹیچر تھے جو کئی سال سے لیکچرر تھے اور اب (ہمارے پاس آؤٹ ہونے کے بعد ) اپنی پی ایچ ڈی پولی ٹیکنک یونیورسٹی آف میلان اٹلی سے کی ہے، ہمیں پریکٹیکل کروا رہے تھے بیٹس جنریٹ کرنے کا، تو بتانے لگے کہ سب سے زیادہ موسیقی آلات امریکہ میں سنے اور بجائے جاتے ہیں اسی لیے سب سے زیادہ پاگل خانے امریکہ میں ہیں اور اسی لیے موسیقی اسلام میں حرام ہے۔ (جبکہ مجھے جہاں تک معلوم ہے وہ یہ ہے کہ موسیقی ہمارے دماغ کے لیے دوائی کی طرح ہے یہ ہمارے ذہنی تناؤ کو کم کرتا ہے اور میوزیکل آلات بجانے سے بھی ہمارے دماغ کو فائدہ پہنچتا ہے ) ۔
ایک بہت سینیئر ٹیچر جنہوں نے ہمارے وقت میں ماسٹرز کر رکھا تھا اور اب چائنہ سے پی ایچ ڈی کرلی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ پروفیشنل ڈگری کا مطلب کیا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کوئی مطلب نہیں ہے بس ڈاکٹر اور انجینئر کو ٹائٹل دیا ہوا ہے(یہ بات غلط تھی پروفیشنل ڈگری کا مطلب ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کو سیدھا مخصوص فیلڈ کی تیاری کروائی جاتی ہے اور پروفیشنل ڈگری صرف یہی نہیں ہوتی اور بھی بہت سی ہوتی ہیں ) ۔
ایک انڈسٹریل ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچر تھے، وہ اپنے وقت کے گولڈ میڈلسٹ تھے۔ ان کے ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈینٹ بتاتے تھے کہ وہ ٹیچر ان کو بولتے ہیں کہ مجھے 1000 روپے دو اور میں اپنے مضمون میں فل مارکس دے دوں گا، وہ ٹیچر بولتے تھے یہ پوری دنیا دو ستون پہ کھڑی ہے ایک ڈاکٹر اور دوسرا انجینئر (یہ بات بھی غلط تھی کیونکہ دنیا بہت ساری فیلڈز پر کھڑی ہے اور اپلائیڈ سائنس اور پیور سائنس دونوں ایک دوسرے پر کھڑی ہیں ) ۔
اسلامیات کے سر بتانے لگے کہ ایک بار ایک بچے کو میں نے پیپر میں فیل کر دیا وہ بچہ یونیورسٹی کے ٹیچر کا بیٹا تھا تو اس ٹیچر نے مجھ سے پوچھا کے آپ نے میرے بیٹے کو فیل کیوں کیا، میں نے بتایا کہ میں نے سورہ الانفال کا ترجمہ پوچھا تھا لیکن آپ کے بیٹے نے سورہ الحجرات کا ترجمہ لکھ دیا تو اس پر اس نے جواب دیا کہ دونوں سورتوں میں اللہ کا نام ہی تو ہے تو ترجمہ کوئی سا بھی لکھ دو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہماری کلاس میں دو ہندو بچے بھی پڑھتے تھے لیکن ان کو بھی اسلامیات کا لیکچر لینا پڑتا تھا بس امتحان کے دنوں میں ٹیچر نے ان کو الگ سے نوٹس دے دیے تھے۔ اسلامیات کے ٹیچر ایک بار لیکچر دیتے وقت کہنے لگے کہ اسلام نے مرنے کے بعد بھی انسانوں کو عزت دی ہے ورنہ دوسرے مذاہب میں انسانوں کو جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے یا جلا دیا جاتا ہے (اب جو ہندو بچے تھے اس بات سے تو ان کی دل آزاری ہوگی کہ ان کی روایت کو ٹیچر برا بول رہا ہے ) ۔
یونیورسٹی کا اصول ہے اگر کسی ڈسٹرکٹ کی میرٹ پر سیٹ بچتی ہے تو اگر سیٹ اس ڈسٹرکٹ کے Urban کی ہے تو اسی ڈسٹرکٹ کے Rural امیدوار کو دے دی جاتی ہے اور اگر Rural کی ہے تو Urban کو دے دی جاتی ہے اور اگر دونوں میں لینے والا کوئی نہیں ہے تو سیٹ کو ضائع کر دیا جاتا ہے لیکن سیلف فنانس پر ایک ڈسٹرکٹ کی سیٹ دوسرے ڈسٹرکٹ کو دے دی جاتی ہے، اس سے یونیورسٹی کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن بہت سے بچوں کو نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے یہاں پر یہ بات بہت بولی جاتی ہے کہ بس یونیورسٹی میں پہنچ جاؤ اس کے بعد آپ کی زندگی سیٹ ہو جائے گی اور یونیورسٹی سے بن کر ہی نکلو گے اسی وجہ سے ماں، باپ بچوں کا داخلہ کروا دیتے ہیں لیکن یونیورسٹی میں آنے کے بعد بچوں کو پڑھنے میں مسئلہ ہوتا ہے اور بہت سے بچے جنہوں نے 5 یا 10 لاکھ تک میں سیٹ لی ہوتی تھی وہ یونیورسٹی چھوڑ کر اپنے پیسے اور وقت ضائع کر دیتے ہیں، یونیورسٹی میں اکثریت میں ایسے بچے تھے جن کو بنیادی ریاضی یا بنیادی انگریزی کے اسپیلنگ تک بھی نہیں آتے تھے۔
یونیورسٹی کا ماحول اب پر امن ہے لیکن ہمارے وقت میں شروع کے دو سال تک سیاسی جماعتوں کی وجہ سے بائیکاٹ، دھرنا، نعرے بازی ہوتی تھی۔ اسٹوڈینٹ ڈرتے تھے، کلاس کے باہر اپنی کلاس کی فی میل اسٹوڈینٹ سے بات تک بھی نہیں کر سکتے تھے ایسا کرنے پر لڑکوں کو تھپڑ تک بھی مارا ہوا تھا، پروفیسر تک کو تھپڑ مارا ہوا تھا ان کی بات نہ ماننے پر ، ان کے لیے کسی کام کے لیے کسی قطار میں لگنا ضروری نہیں ہوتا تھا قطار کو توڑ کر اپنا کام کروا کر چلے جاتے تھے، ہاسٹل میں رات کے وقت اور آخری سال کی سیلیبریشن پر ہوائی فائرنگ کرتے تھے وہ جب تک چاہتے ہماری بسوں کو روک لیتے اور زبردستی پریس کلب بھی لے جاتے تھے۔
یہ حالات تھے ہماری ورلڈ کلاس یونیورسٹی کے اگر ایسی یونیورسٹی کو اتنی اچھی رینکنگ مل سکتی ہے تو نسٹ، جی آئی کے، یو ای ٹی لاہور کو کیوں نہیں جو یقیناً ہماری یونیورسٹی سے بہت بہتر ہیں۔



جو باتیں آپ نے لکھیں ان میں سے کسی کا بھی رینکنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
یہ انفرادی اور ذاتی باتیں ہیں۔ سوائے یہ بات کہ پریکٹیکل کرانے والی خاتون کو خود نہیں آتا تو اس کا بھی علم کسی کو اس وقت ہوگا اگر چھاپہ پڑے یا کوئی شکایت کرے۔ اور یہ کبھی نہیں ہوتا۔ جو شکایت کرے وہ عموما ساری زندگی پاس ہی نہیں ہوگا۔
سندھ کے خاص طور پر پاس ہونے والے ڈاکٹر صاحبان جب کراچی نوکری پر لائے جاتے ہیں تو اکثریت کو انجکشن لگانا تو بڑی بات ہے ای سی جی کرنا یا اسے پڑھنا بھی نہیں آتا۔
انجینئر تو معمولی بات ہے کہ اس کی غلطی سے فوری کسی کی موت نہیں ہوتی۔
کیوں،کیا امتحان کا نظام،ٹیچنگ یا ٹیچرز کا معیار،داخلہ کے امتحان کا تعلق ایک اچھی یونیورسٹی کے لیے ضروری نہیں ہے؟