یہ سیر تن نحیف و نزار کی


naseer ahmad

سارتھی کہہ رہے تھے کہ نئی ٹریل دریافت کی ہے اور اس نئی ٹریل پر یارڑے کے خرام کی بات ہی اور ہو گی۔ رستے میں نصرت فتح علی خان کی قوالیاں سنتے رہے۔ آنکھ اٹھتی رہی اور محبت انگڑائیاں لیتی رہی۔ کوئی پینتالیس بار ایسا ہوا تو ہم اونگھنے لگے۔

اسی رنجیدہ سی غنودہ حالت میں وہاں پہنچے تو سارتھی ابھی سفر کر رہے تھے۔ اتنے عرصے میں گردوپیش کے جائزے کے بعد معلوم ہوا کہ وہی بلند ضلع ہے اور وہی لیڈی باور کا ڈیم جس کے آس پاس کی ٹریلوں میں بارہا آ چکے ہیں اور ان میں یہ ٹور سائڈ ٹریل بھی تھی۔ سعادت نے البتہ ٹریل کا نیا نام رکھ دیا۔ مائی بوری۔

بہرحال یہ ضلع حسین ہے اور اکثر حسینوں کی طرح ہر وقت ہی جنت گاہ ہے۔ دونوں اطراف میں کوئلہ جلی گول مٹول پھلو سی پہاڑیاں جن کے وسط میں چیڑ، سرو اور دیگر اشجار کے جھنڈ کے جھنڈ ہیں۔ دونوں کے درمیان لیڈی باور کا ڈیم ہے۔ پہاڑیوں کی چوٹیوں پر ہلکی ہلکی برف بھی جمی تھی

جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔

سلام دعا اور کار پارک میں گاڑی ٹھہرانے کا معاوضہ ادا کرنے کے بعد خرام دہقاناں کا آغاز ہوا۔ ارے یہ تو گستاخی ہو گئی، دہقانوں کا تو ہم بھائیوں کا جوڑا تھا، دوسرا بھائیوں کا جوڑا تو کلغی دھروں کا جوڑا تھا۔ جس طرح سکھوں میں بیدی سوڈھی ہیں، اس طرح ہمارے ہاں نقوی بخاری ہوتے ہیں ناں۔ بس یہ جانیں ہم نے کھورو گھسیٹ گھسیٹ کر دھرتی کا سکون متزلزل کر دیا اور ان کے قدم مبارک الارض کو عزت بخشتے رہے اور اس کے دکھوں کا درماں کرتے رہے۔

جیسے ہی چڑھائی شروع ہوئی تو وہ کش مکش اور جد و جہد جو پہاڑیوں کی چوٹیوں کے آس پاس ہوتی تھی وہ پہاڑی کے شروع میں ہی ہونے لگی۔ اور ہم جان گئے کہ ہم تو بہت دھیرے دھیمے ہی یہ کشٹ کر پائیں گے۔ اس لیے سوچا کہ ان لوگوں کا لطف کیوں خراب کیا جائے۔ اس لیے ان سے اصرار کرنے لگے۔
الوداع اے قافلے والو مجھے اب تنہا چھوڑ دو
میری قسمت میں لکھی ہیں دشت کی ویرانیاں

وہ ہمیں تنہا چھوڑنے پر آمادہ تو نہیں ہو رہے تھے لیکن ہم نے قائل کر ہی لیے اور وہ ایکلیز کی طرح کودتے پھاندتے آگے بڑھ گئے اور ہم کچھوے کی طرح بددعائیں دینے لگے کہ اللہ کرے ایکلیز کو نیند آ جائے اور دوڑ ہم جیت جائیں۔ ہار بھی جاتے تو بھی کوئی بات نہیں زینو تو ہمارے ساتھ ہے۔ یہ زینو فلسفی کا وقت اور فاصلے کے بارے میں ایک معما ہے جس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس میں زینو کچھ ایسی ایوریج نکالتا ہے کہ ایکلیز اور کچھوے کی دوڑ دائمی طور پر برابر ہی رہتی ہے۔ یعنی ایک چھلانگ ایکلیز نے لگائی اور ایک قدم کچھوے نے بھرا حساب برابر

اور تا ابد ایسے ہی برابری میں دوڑتے رہیں گے۔ ایکلیز ایک معروف یونانی ہیرو ہے جس نے ٹرائے کے فرضی شہر پر فرضی دھاوے کیے تھے۔

یہ حساب کتاب کرتے دھیرے دھیرے ہم اکیلے ہی بڑھتے رہے۔ پہاڑوں سے برف پگھل پگھل کر پانی ہو رہی تھی اس لیے رستے میں تھوڑی تھوڑی دور کے بعد ایک نالہ کرتا نالہ آ جاتا تھا جسے پار کرنے میں دشواری ہو جاتی تھی کہ آتے جاتے قدم بہت کیچڑ پھیلا چکے تھے۔

اس کاوش کی وجہ سے مرض کی علامات لوٹنے لگیں۔ پہلے لگا بازو کسی نے جکڑ لیے۔ تھوڑی دیر بہت یوں محسوس ہوا کہ پاؤں میں بیڑیاں پڑ گئیں۔ اس کے بعد کندھے سر کا وبال اٹھانے سے انکار کرنے لگے۔ یہ مسئلہ ہماری یونٹ کے دیگر مریضوں کو درپیش نہیں ہے، ہمارے ہی حصے میں آیا ہے۔

سر کو آگے پیچھے دائیں بائیں کسی حساب سے قرار نہیں آتا اور سر سہاروں کے لیے مچلنے لگتا ہے اور ہم یہ سوچنے لگتے ہیں

یا تن سے جدا ہوتا یا کسی زانو پر دھرا ہوتا

لیکن آس پاس نہ کوئی جلاد تھا اور نہ کوئی معشوقہ جان فزا۔ ایک چٹان سی نظر آئی جو بستر بن سکتی تھی۔ اب اس سر کی قسمت میں چٹانیں ہی ہیں تو چٹانیں ہی سہی۔ تو کر لیا چٹانوں پر بسیرا اور دیکھنے لگے طرح طرح کے جلوے۔

کچھ قرار آیا تو سیبوں سے خود کو تازہ دم کیا لیکن کشمش سے قرار نہیں لے سکے۔ لیکن اس کے گلے کی بھیڑوں سے سامنا ہو گیا جس کی زلفیں کوے سی کالی ہیں۔ سچ مچ ایسے لگتا ہے کہ غزل الغزلات یا نغمہ سلیمان اسی علاقے میں رونما ہوئے ہیں۔ غزل الغزلات عہد نامہ قدیم کا ایک باب ہے اور عہد نامہ قدیم کے ابواب یہودیت اور عیسائیت میں مقدس کتابیں سمجھے جاتے ہیں۔ آپ تو پڑھے لکھے ہیں آپ کو شاید ان وضاحتوں کی ضرورت نہیں لیکن گلے شلے آتے رہتے ہیں کہ ہم کا کچھو سمجھ نہیں آوت تو ہم نے سوچا وضاحتیں کر ہی دیں۔

تو بھیڑیں ہماری لاٹھی دیکھ کر ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ ہمیں ہنسی سی آ گئی کہ اگر ان بھیڑوں اور لیلوں کو معاملات کی خبر ہو جائے تو یہ ہمیں ٹکریں مار مار کر بے حال کر دیں۔ کچھ ایک پند کا بھی اثر تھا اور کچھ ہمیں خود بھی خیال آ گیا کہ مذہبیوں کو بھی ایسے ہی بھیڑیں اور لیلے قرار دے کر ان سے مذہب کے معاملے میں بات چیت، گفت گو اور بحث مباحثہ بالکل ہی ترک کر دیں اور دینی ٹکروں سے نجات پائیں۔ اب ایسا بھی نہیں کر سکتے کہ انسان کی انسانیت بھی تو بہت اہم ہے۔ ان ٹکروں سے بس مٹی کا مادھو بن کر شاید بچا جا سکتا ہے لیکن وہ بنیں تو اہل ایمان گرز اٹھا کر بت شکنی کا ثواب حاصل کرنے لگیں گے۔

ویسے ہماری رائے مذہب کے بارے میں ہم دردانہ ہے۔ مذہب پر ایمان رکھنا لوگوں کا حق ہے۔ اگر اس ایمان میں مذہبیوں کے لیے نفسیاتی، معاشرتی اور اخلاقی خوشیاں ہیں تو وہ ان خوشیوں سے ضرور لطف اندوز ہوں۔ اور اگر ان کا ایمان ان کے لیے نیکیوں جیسے صداقت یا سخاوت کے در کھولتا ہے تو اور اچھی بات ہے۔ ان کی مذہبی آزادیوں کا بھی احترام ضروری ہے اور مذہب کی بنیاد پر ان سے بدسلوکی بھی نہ کی جائے۔ اور مذہب کے بنا پر جہاں جہاں بدسلوکی ہوتی ہے اس کے خلاف تو ہم مسلسل لکھتے رہتے ہیں۔ یہی ہو سکتا ہے لیکن بہت سارے مذہبی لوگوں کا رویہ کچھ ایسا ہے کہ اختلاف رائے کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اور مذہب کے بارے میں بھی اپنی لاعلمی کو نازک سی پارسائی کے نکڑ ناٹک کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور مسلسل یہی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ اور ان کے عقائد ہر صورت میں ہر قسم کی تنقید سے محفوظ رہیں۔ اور کسی قسم کا سوال جواب ہنسی ٹھٹھولی ہو جائے وہ اسے مذہب دشمنی کے الزامات کا جواز بنانے لگتے ہیں۔

مذہبی فاشزم کے ہم ضرور مخالف ہیں۔ مذہب کی وجہ سے نہیں فاشزم کی وجہ سے۔ لیکن مذہبی فاشزم کی مخالفت ہمارے سمیت ہر کسی کا انسانی، انفرادی اور شہری فرض ہے۔ مذہبی لوگوں کا بھی کہ اگر وہ واقعی مذہبی ہیں تو انھیں اپنے اپنے مذاہب کو فاشزم سے دور کرنا چاہیے۔

یہی سوچتے، لڑکھڑاتے اور ڈگمگاتے اور بڑھتی سردی میں کانپتے بڑھتے رہے کہ گھاس میں سے ایک خرگوش اٹھا اور برق رفتار ہو گیا۔ ہم بے ساختہ حالا کتیا پکار اٹھے مگر کتے کہاں سے آئیں۔ آس پاس بھیڑیں ہی تھیں اور وہ سست رفتار، سست خو اور فربہ اندام برق کا تعاقب کیوں کریں۔

اتنے میں درختوں کے جھنڈ پیچھے رہ گیا اور پہاڑی ختم ہو گئی۔ ایک پلیا کے پاس، دونوں پہاڑیوں کے درمیان ایک آبشار کے کنارے ہم نے بچھونا ڈھونڈ لیا اور ٹھہرے ہوئے پتھروں کی پرواہ کیے بغیر اس پر دراز ہو گئے اور آنکھیں موند لیں۔ آس پاس گزرنے والے ایک دو مہربانوں کو لگا کہ واقعہ سخت ہو گیا ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے انھیں یقین دلایا کہ ہٹے کٹے ہیں۔ اس کے بعد آنکھیں کھول کر کیرتن کرنے لگے تاکہ راہ گیروں کو اندازہ ہو جائے کہ ان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک دو گوربانیوں کے بعد کاریں آ گئیں اور کاروں پر قریبی شہر گلوسپ میں ایک کیفے میں چلے گئے۔ وہاں پر نوازش نے بوجھ لیا کہ کیفے چلانے والے فارسی دان ہیں۔ اب یہ خود زیارتوں کے لیے ایران جاتے رہے ہیں اور فارسی بول لیتے ہیں۔ انھوں نے ایک خوش جمال سی کارکن کے ساتھ کچھ چطوری مطوری کیا اور خیلی ممنون شمنون بھی۔ یعنی حال احوال پوچھا اور شکریہ وغیرہ ادا کیا۔ ہمیں اس خوش شعار نے مفت میں چائے پلائی۔

اس کے بعد بھائی اور سید برادران اسلام کے زوال کے بارے میں عالمانہ سی جذباتی بات چیت کرنے لگے۔ ہمیں وہ بھیڑوں والی بات یاد تھی اس لیے اس گفتگو میں کم از کم بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔

پھر تھک بھی بہت گئے تھے۔ الوداعی کلمات کے بعد اپنے اپنے گھروں میں لوٹ آئے۔

Facebook Comments HS