غلامی کی تاریخ
غلامی کی تاریخ ایک بڑی اور ناقابل بیان کہانی ہے، المیہ اور ظلم سے بھری ہوئی ہے۔ جو صدیوں اور براعظموں دونوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بتانا مشکل ہے کہ غلامی کا آغاز کس سال ہوا، لیکن مورخین اس غیر انسانی عمل کی جڑیں تقریباً 11,000 سال پرانی بتاتے ہیں۔
غلامی صدیوں سے دنیا کے تمام حصوں میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ تمام نسلوں، جنس اور عمر کے گروہوں میں موجود رہی۔ یہ صرف حالیہ صدی میں ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1948 میں انسانی حقوق کے اعلامیہ کو منظور کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر غیر قانونی قرار دیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ غلامی سے آزادی ایک عالمی انسانی حق ہے اور غلامی کو ہر طرح سے ممنوع قرار دیا جانا چاہیے
تاریخی طور پر، غلامی کی بہت سی مختلف اقسام ہیں جن میں چیٹل، بندھوا، جبری مشقت اور جنسی غلامی شامل ہیں۔ غلامی کی اہم خصوصیات وہ ہیں جن پر عام طور پر اتفاق کیا جاتا ہے جیسے نقل و حرکت کی آزادی اور قانونی اور انسانی حقوق کا کھو جانا۔
قدیم زمانے میں غلامی عام طور پر قرض کے نتیجے میں، غلام خاندان میں پیدائش، بچوں کو ترک کرنے، جنگ، یا جرم کی سزا کے طور پر سامنے آئی تھی۔
میسوپوٹیمیا اور سومیری تہذیبیں۔
سب سے قدیم معروف غلام معاشرہ میسوپوٹیمیا اور سومیری تہذیبیں تھیں جو دو ہزار سے چھ ہزار کے درمیان ایران/عراق کے علاقے میں واقع تھیں۔
غلامی کا سب سے قدیم تحریری حوالہ 1754 قبل مسیح کے ضابطہ حمورابی میں پایا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”اگر کوئی عدالت کے حکم کے بنا کسی مرد یا عورت غلام کو، یا کسی آزاد آدمی کے غلام یا عورت کو شہر کے دروازوں سے باہر لے جائے تو اسے۔ سزائے موت دی جائے گی۔
مصری تہذیب :
مصر بھی ایک دوسری تہذیب تھی جس کی معیشت ہی غلامی پر منحصر تھی۔ غلام اور آقا کے درمیان تعلق کو قانون میں کچھ پابندیوں کے ساتھ طے کیا گیا تھا جیسے کہ مالکان غلام بچوں کو غیر ضروری سخت جسمانی مشقت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے تھے۔ غلاموں کی کوئی منڈیاں نہیں تھیں اور غلاموں کی خرید و فروخت کے کسی بھی لین دین کی نگرانی سرکاری اہلکاروں کو کرنی پڑتی تھی۔
خروج کی مشہور بائبل کی داستان اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے جس کے تحت موسیٰ کے ذریعہ بنی اسرائیل کو آزادی کی راہ پر گامزن کیا گیا تھا اور ماہرین آثار قدیمہ کا یہ نظریہ تھا کہ یہ نئی بادشاہی کے دور ( 1550۔ 712 قبل مسیح) میں ہوا ہو گا۔ پرانے عہد نامے کی یہ داستان آزادی حاصل کرنے والے غلاموں کے ابتدائی تحریری ریکارڈ میں سے ایک ہے۔
قدیم یونان
قدیم یونان کو دنیا کا پہلا حقیقی ’غلام معاشرہ‘ قرار دیا جا سکتا ہے جہاں معیشت کی اکثریت کا انحصار غلاموں کی مزدوری پر تھا۔ غلاموں کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ امیر طبقے کے ساتھ دستی مزدوری کو دور کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم، قدیم یونان نے غلاموں کے لیے آزادی کی ایک شکل پیش کی تھی جس کے ذریعے وہ اپنی آزادی خرید سکتے تھے یا اپنے آقا کی صوابدید پر آزاد کیے جاتے تھے۔ یہ مکمل آزادی نہیں تھی، کیونکہ انہیں کبھی بھی قانونی طور پر مکمل شہری بننے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور اکثریت اب بھی اپنے سابق آقاؤں کو کچھ فرائض فراہم کرنے کی پابند تھی۔ غلامی کی اخلاقیات کے بارے میں بھی کچھ ثبوت موجود ہیں۔ اس Nyssa کے بشپ گریگوری کا ہے جو چوتھی صدی عیسوی میں تھا جس نے دلیل دی کہ ’غلامی خدا کی شبیہ میں انسانیت کی تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتی‘ ۔
یونان کے زوال اور روم کی توسیع کے ساتھ غلامی میں بھی توسیع ہوئی۔ رومی سلطنت کے عروج پر کل آبادی کا 30 % تک غلام بنا ہوا تھا اور اکثریت مفتوحہ لوگوں پر مشتمل تھی۔ ہم غلامی کے ظہور کو بھی دیکھتے ہیں جو ’کھیل‘ کے لیے مزدوری کے بجائے استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ گلیڈی ایٹر کی لڑائیاں اور بڑے پیمانے پر کوٹھے۔ اس دوران غلاموں کی بغاوتیں کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ غلامی کے بارے میں پھر سخت قوانین تھے اور بغاوت کرنے والے غلاموں کے لیے سخت سزائیں بھی تھیں۔
ایسے ہی ایک معاملے میں ایک غلام بھی شامل ہے جس نے اپنے آقا کو قتل کر دیا۔ بدلہ کے طور پر، آقا نے گھر کے تمام غلاموں کو قتل کر دیا گیا۔ اس عرصے کے دوران غلام ہنر مند کاریگروں اور خواتین جیسے ہیئر ڈریسرز، پینٹرز اور یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کے ٹیوٹر کے طور پر بھی کام کر سکتے تھے۔ روم یونان سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ آزاد شدہ غلام حقوق کے ساتھ مکمل قانونی رومن شہری بن سکتے ہیں۔
رومن سلطنت کے زوال کی وجہ سے جسے عام طور پر ’تاریک دور‘ یا قرون وسطیٰ کا دور کہا جاتا ہے۔ رومی سلطنت کے زوال کے ساتھ بڑے پیمانے پر بازاروں کا نقصان ہوا۔ ہم قطعی طور پر نہیں جانتے کہ رومن غلاموں کے بڑے تناسب کے ساتھ کیا ہوا، غالباً آقاؤں اور حکمران طبقوں کی جائیداد کے بڑے پیمانے پر نقصان کے ساتھ، غلاموں کی قیمتیں گر گئیں یا غلاموں کو صرف ان کے اپنے آلات پر چھوڑ دیا گیا۔
چین میں بھی دیگر تہذیبوں کی طرح کم و بیش انھی اصولوں اور قواعد کے ساتھ غلامی جاری و ساری رہی۔
برطانیہ میں رومیوں کے جانے کے بعد معاشرے کی ایک تنظیم نو اور بہت بعد میں غلامی کا ظہور ہوا۔
ایک دلچسپ کہانی بالتھلڈ نامی انگریز لونڈی کی ہے، جو ساتویں صدی میں فرینکش بادشاہ کلووس دوم کی ملکہ بنی۔ اپنے نوجوان بیٹے کے لیے ملکہ ریجنٹ کے طور پر، عیسائی غلاموں کی تجارت کو ختم کر دیا اور تمام چھوٹے چھوٹے غلاموں کو آزاد کر دیا۔
مصر، یونان، روم، فارس اور دیگر خطوں کی دیگر تہذیبوں میں غلامی کا رواج تھا۔ غلام اکثر جنگوں کے دوران پکڑے جاتے تھے، تجارت کے ذریعے خریدے جاتے تھے، یا غلامی میں پیدا ہوتے تھے۔ انہوں نے زراعت، تعمیرات، گھریلو اور فوجیوں کے طور پر کام کیا۔
مشرق وسطی اور عرب میں بھی غلامی عروج پر تھی غلاموں کی خرید و ٖروخت کا سلسلہ قبل از اسلام سے ہی رائج تھا اور اسلام آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اسلام نے غلامی کو ختم نہیں کیا، لیکن اس نے اہم اصلاحات متعارف کرائیں جن کا غلاموں کے ساتھ سلوک کو بہتر بنانا تھا۔
ہندوستان میں غلامی کی تاریخ دیگر ممالک اور خطوں کے با نسبت تھوڑی سی پیچیدہ ہے ہندوستان میں مذہبی طور پر کاسٹ سسٹم رائج تھا اس لیے یہاں جنگی قیدی رکھے جاتے تھے جو کہ اپنی سزا کاٹ کر آزاد ہو سکتے تھے۔ اس کے علاوہ جو لوگ معاشی مشکلات کا شکار ہوتے وہ اپنے آپ کو گروی رکھ کر غلامی میں آ جاتے تھے اور وہ اپنی غلامی کا قرضہ پورا ہونے کی صورت میں آزادی حاصل کر سکتے تھے۔ ارتھ شاستر کے مصنف چانکیہ نے غلاموں کے ساتھ سلوک کے باقاعدہ ضابطے تحریر کیے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ ان کے مخصوص حقوق ہیں جو انہیں مہیا کیے جائیں۔
چونکہ اشوکا بدھ مذہب سے متاثر تھا تو انہوں نے بدھ مذہب کے زیر اثر حکمرانی اور اخلاقی اقدار کو بہت زیادہ فروغ دیا ہے۔ موریہ سلطنت میں غلامی سماجی ڈھانچے کا ایک حصہ تھی لیکن اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ غلاموں کے ساتھ انسانیت اور احترام کا سلوک کیا جائے گا اور وہ ان کی معاشی یا جنگی قید سے وہ آزاد ہو سکتے تھے۔ ارتھ شاستر کے باب نمبر 13 سے غلاموں کے کچھ حقوق نقل کر رہی ہوں۔
”کسی غلام کو اس کے پیسے کا دھوکہ دینا یا اسے ان مراعات سے محروم کرنا جو وہ ایک آریہ (آریہ بھاؤ) کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، اسے آدھے جرمانے کی سزا دی جائے گی (ایک آریہ کی زندگی کو غلام بنانے کے لیے عائد کیا جائے گا)
”جس آدمی نے اپنے آپ کو غلام بنا کر بیچ دیا ہو اس کی اولاد آریہ ہوگی۔ غلام کو نہ صرف اپنے آقا کے کام سے تعصب کیے بغیر جو کچھ اس نے کمایا ہے اس سے لطف اندوز ہونے کا حقدار ہو گا بلکہ اس کو اپنے والد سے ملنے والی وراثت کا بھی حق ہو گا۔
کاریگر، موسیقار، طبیب، بھینس، باورچی، اور دیگر مزدور، اپنی مرضی سے خدمت کرنے والے، اتنی ہی اجرت حاصل کریں گے جتنی دوسری جگہوں پر کام کرنے والے افراد کو عام طور پر ملتی ہے یا جتنی ماہرین (کوشال) طے کریں گے۔
”اجرت سے متعلق تنازعات کا فیصلہ گواہوں کے پیش کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ گواہوں کی غیر موجودگی میں، مالک جس نے اپنے نوکر کو کام فراہم کیا ہے اس کی جانچ کی جائے گی۔ اجرت ادا کرنے میں ناکامی پر اجرت کی رقم سے دس گنا جرمانے کی سزا دی جائے گی اجرت کے غلط استعمال پر 12 پنوں یا اجرت کی رقم سے پانچ گنا جرمانے کی سزا دی جائے گی“
”پڑوسیوں کو معلوم ہو گا کہ مالک اور اس کے نوکر کے درمیان معاہدے کی نوعیت کیا ہے۔ نوکر کو وعدہ شدہ اجرت ملے گی۔ پہلے سے طے شدہ اجرت کے بارے میں، رقم کام کیے گئے کام اور اسے کرنے میں صرف کیے گئے وقت کے تناسب سے طے کی جائے گی۔
یورپ میں بھی غلامی بہت زوروں پر رہی وہاں غلاموں کی منڈیوں کے آثار قدیمہ کے کافی ثبوت موجود ہیں، ۔ برسٹل کے پاس ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کے ساتھ اپنے روابط کی وجہ سے بدنام ہونے سے برسوں پہلے وائکنگ غلاموں کی مارکیٹ بھی تھی۔ وائکنگ غلام زیادہ تر قیدیوں یا جنگی سامان پر مشتمل ہوتے تھے یا محض چھاپوں میں اغوا کر لیے جاتے تھے۔ وائکنگز کے تحت غلاموں کا قطعی طور پر کوئی حق نہیں تھا اور ان کے ساتھ مویشیوں سے تھوڑا زیادہ (یا کم) سلوک کیا جاتا تھا اور تفریح یا رسومات کے حصے کے لئے بے ترتیب طور پر قتل کیا جاتا تھا۔
بہت سے غلاموں کے سر قلم کیے گئے اور خواتین غلاموں کی اکثر عصمت دری کی جاتی تھی کیوں کہ حاملہ لونڈی کو ’2 کے بدلے 1‘ کے معاہدے کے طور پر بازاروں میں زیادہ قیمتیں ملتی تھیں۔ جب کہ ہندستان میں آقا کی حاملہ لونڈی کو بیچنا جرم تھا۔ جنسی غلامی میں لونڈی کو ستر ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی۔ عرب میں یہی رواج نافذ تھا جو بعد از اسلام بھی نافذ رہا۔
1066 ولیم دیی کونکیوریر کی طرف سے برطانیہ کی فتح کے بعد ، ڈومس ڈے بک (کنگ ولیم فاتح کے حکم پر 1086 میں مکمل انگلینڈ اور ویلز کے کچھ حصوں کے عظیم سروے کا ایک مخطوطہ ریکارڈ ہے۔ ]
کو ٹیکس وجوہات کی بنا پر زمین کا سروے کرنے کام کیا گیا۔ اس مخطوطہ میں جو بات بھی واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ تقریباً 10 % برطانوی آبادی کو غلاموں کے درجہ میں رکھا گیا تھا۔ 1102 میں چرچ نے غلامی کی مذمت کی، لیکن اس کے پاس عمل کروانے کا کوئی قانون سازی اختیار نہیں تھا۔ غلاموں کی منڈی اب بھی ترقی کی منازل طے کرتی رہی لیکن ثقافتی طور پر غلامی کا رواج خاتمہ کرنے والوں کے ساتھ بدلنا شروع ہوا جیسا کہ وورسٹر کے بشپ ولفسٹان نے اس عمل کو ختم کرنے کے لیے برسٹل میں ہجوم کو باقاعدگی سے تبلیغ کی۔ 1200 کی غلامی اپنی پرانی تعریف کے مطابق برطانوی جزائر میں مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔
افریقہ میں غلامی ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی تھی اور افریقہ کے بہت سے حکمران یورپیوں کے ساتھ ایسے سامان اور مواد کے لیے تجارت کرنے کے خواہشمند تھے جو مقامی طور پر دستیاب نہیں تھے جیسے کہ ٹن اور دیگر دھاتیں۔ پرتگالی افریقہ میں پہلے ’مغربی آقا تھے اور پوپل کی مدد سے 1415 میں افریقی بندرگاہ سیوٹا پر قبضہ کر لیا گیا۔ 15 ویں صدی کے دوران مقامی افریقیوں کی غلاموں کی تجارت نسبتاً چھوٹے پیمانے پر تھی کیونکہ پرتگالی اور ہسپانوی وسطی اور جنوبی امریکہ میں مقامی آبادی کو غلام بنا رہے تھے۔
جب ان مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں بیماریوں سے مرنا شروع کیا تو انہوں نے دستی مزدوری کے دوسرے ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے۔ بڑے پیمانے پر چینی کی پیداوار برازیل کے علاقے کے ارد گرد شروع ہوئی تھی۔ غلاموں کی تجارت شروع کی گئی تھی۔ تاہم بہت سے لوگوں نے اس کے خلاف آوازیں اٹھائی جن میں بارٹولومی، ڈیاس جیسے لوگ شامل تھے۔

1919 ویں صدی کے دوران مغربی ممالک سے جلد ہی غلامی غائب ہو گئی اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے ساتھ 20 ویں صدی تک عالمی سطح پر اسے مکمل طور پر غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا حالانکہ چند مزید ممالک نے 1980 کی دہائی تک بھی اس عمل کو برقرار رکھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ غلامی تاریخ کے دھندلکے میں کھو گئی مگر اور 21 ویں صدی میں لوگوں کی سمگلنگ اب بھی ایک منافع بخش تجارت ہے جس میں زیادہ تر شکار خواتین جنسی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت 40 ملین افراد آج بھی جنسی غلامی کا شکار ہیں۔
غلامی کی ایک واضح اور مضبوط جھلک وڈیرہ شاہی اور ان کے مزارعوں کی صورت میں پاکستان جیسے ملکوں میں اب بھی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں گھریلو کام کاج کے سلسلے میں نو عمر بچے خریدے جاتے ہیں اور ان کا نہ صرف جسمانی استعمال ہوتا ہے بلکہ جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں مذہب کو بنیاد بنا کر لونڈیوں سے تعلقات کو جائز کہہ کر ماسیوں اور نوکرانیوں کو سیکس سلیو سمجھا جاتا ہے،
برصغیر پاک و ہند میں چونکہ غلامی ایک مختلف شکل میں تھی اور ساتھ میں کاسٹ سسٹم بھی موجود تھا جو کئی صدیوں سے یہاں رائج ہے۔ اس لیے ہندوستان اور پاکستان کے لوگ آج بھی ذہنی غلام ہیں، اگرچہ یہاں انگریزوں نے غلامی کی وہ شکل رائج نہیں کی مگر وہ یہاں کی قوم کی ذہنی غلامی کی نفسیات سمجھتے ہوئے ایسے اقدام کر گئے کہ یہ قوم آج تک ذہنی غلامی سے نہیں نکل پا رہی ہے۔ لیکن یہ ذہنی طور پر انگریزوں کے غلام نہیں ہیں بلکہ انیسویں صدی میں کیے جانے والے انگریزی اقدامات کو چاٹنے میں مصروف ہے، محمد بن قاسم کے بعد اسلام کی قبولیت نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا یہ اپنی قومیت بدلنے کے باوجود ذات پات کے سسٹم میں جڑے رہے۔ اس خطہ میں ایسی قوم کا جنم ہوا ہے جو انگریزوں کو گالیاں دے کر ان کے ممالک میں رہنا چاہتی ہے جو اپنی سابقہ رسومات کو مذہب کا لبادہ اوڑھا کر سابقہ مذہبی رایات کو نیا رنگ دے بیٹھی۔
صنعتی انقلابات کے بعد صنعت کار نے انتقاما انسانی آزادی اور خواتین کی آزادی کی تحریک کو ہوا دی کیونکہ اس کی ضرورت ذرائع پیداوار کے ذریعے سرمایہ کو پیدا کرنا تھا۔ اس کے لیے ہنرمند طبقہ ضرورت بن گیا۔ جاگیرداروں کو غلامی کے لئے ظلم کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تھا مگر صنعت کار نے سرمائے کے کنٹرول سے نسبتاً پر امن طریقے مقاصد حاصل کر لئے۔ یاد رہے کہ ابراہم لنکن کے دور کی امریکی خانہ جنگی بھی جنوب کی زرعی ریاستوں اور شمال کی صنعتی ریاستوں کی باہم کشمکش تھی جہاں صنعتکاروں کو فتح حاصل ہوئی۔ ہندوستان کو استثناء حاصل تھا غلامی کی روایت سے کیونکہ انہوں نے ذات پات کے نظام سے غلامی کے مقاصد حاصل کر لیے تھے






