دوسری سٹیج کی ناکامی!
سب جانتے ہیں سیزیرین سے ہونے والی زچگی۔ لیکن کیا ہر سیزیرین ایک جیسا ہوتا ہے؟
توبہ کریں جی۔ اتنا سہل ہوتا تو چھوٹے چھوٹے میڈیکل سینٹرز پہ بیٹھے ڈاکٹرز کے پسینے کیسے چھوٹتے؟
ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ زچگی کے تین مراحل ہوتے ہیں جنہیں ڈاکٹری زبان میں فرسٹ سٹیج، سیکنڈ سٹیج اور تھرڈ سٹیج کہا جاتا ہے۔
پہلی سٹیج میں درد زہ شروع ہوتا ہے اور بچے دانی کا منہ کھلنا شروع ہوتا ہے۔ یہ سٹیج آٹھ سے دس گھنٹے پہ محیط ہوتی ہے۔ پہلی سٹیج سے دوسری سٹیج میں جانے کی نشانی یہ ہے کہ بچے دانی کا منہ دس سینٹی میٹر کھل جاتا ہے۔ اس مرحلے کو ڈاکٹر ”فلی ہونا“ پکارتے ہیں۔
دوسری سٹیج میں جب مریضہ فلی ہو جاتی ہے تب اسے زور لگانے کا کہا جاتا ہے۔ کچھ خواتین پہلی سٹیج میں ہی زور لگانا شروع کر دیتی ہیں کہ شاید زچگی جلدی ہو جائے گی۔ لیکن یہ غلط پریکٹس ہے کہ بچے دانی کا منہ ہی مکمل طور پہ نہیں کھلا ہوتا اور ایسا کرنے سے بچے دانی کے منہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری سٹیج کا دورانیہ دو سے تین گھنٹے ہیں۔ اگر پہلا بچہ ہو تو ڈھائی سے تین گھنٹے اور اگر تیسرا چوتھا بچہ ہو تو دو گھنٹے۔
لیکن اگر یہ دورانیہ گزر جائے اور بچہ پیدا نہ ہو تو؟ اس صورت حال کو سیکنڈ سٹیج فیلئر کہتے ہیں اور یہ ڈاکٹر کے لیے ایک امتحان ہے کہ کیا کیا جائے؟
ڈاکٹر صورت حال کا جائزہ لیتی ہے۔ درد زہ اچھے ہیں، مریضہ زور بھی لگا رہی ہے، بچے کے دل کی دھڑکن بھی ٹھیک ہے، بچے کا سر ویجائنا میں ہے اور باہر نہیں نکل رہا۔ مریضہ اس وقت اس قدر تکلیف میں ہوتی ہے کہ گڑگڑا کر ڈاکٹر کی منتیں کر رہی ہوتی ہے کہ جلد کچھ کیا جائے۔
ڈاکٹر کے پاس دو آپشنز ہیں ؛ اوزار اور سیزیرین۔ کون سا آپشن استعمال کیا جائے؟ اس کے لیے ڈاکٹر اپنی دو انگلیاں ویجائنا میں ڈال کر یہ محسوس کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ بچے کے سر کی پوزیشن کیا ہے؟
ویجائنا سے باہر نکلنے کے لئے پیٹ سے نیچے آتا ہوا بچہ جب تک اپنا سر ایک خاص پوزیشن میں نہ لے آئے، اسے باہر نکالنا مشکل اور کبھی کبھی ناممکن ہوتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کا منہ ویجائنا کی پچھلی طرف یعنی ماں کے مقعد کی طرف ہونا چاہیے اور سر کا پچھلا حصہ سامنے یعنی ماں کی پیشاب کرنے والی جگہ کی طرف۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ بچے کے سر کو زیرو سٹیشن سے نیچے ہونا چاہیے۔ آپ شاید حیران ہوں کہ ویجائنا میں بھی مختلف سٹیشنز بنے ہیں جہاں سے بچے کا سر گزرتا ہے۔ زیرو سٹیشن ویجائنا کا وسط ہے۔ سو بچے کے سر کو اوزار لگا کر کھینچنے کے لیے ضروری ہے کہ سر زیرو سٹیشن پار کر کے نیچے آ گیا ہو۔ اگر بچے کا سر زیرو سٹیشن یا اس سے اوپر ہو تب اوزار لگانا ممنوع ہے۔
سوچیے ایک چیختی، روتی، مدد کے لیے پکارتی عورت کی ویجائنا میں دو انگلیوں کے سہارے بچے کے سٹیٹس کا تعین کرنا اور پھر یہ فیصلہ کرنا کہ اوزار لگاؤں یا سیزیرین۔ ڈاکٹر کے لیے پل صراط کے برابر ہے۔
دونوں صورت حال مشکل ہیں اور دونوں میں نقصان ہونے کا کچھ نہ کچھ احتمال ہے۔ یہ نقصان کم سے کم تب ہی ہوتا ہے جب ڈاکٹر کی مہارت کمال تک پہنچی ہو۔
چلیے فرض کرتے ہیں کہ ڈاکٹر سیزیرین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے۔ اس وقت ایک اور دشوار مرحلہ سامنے آتا ہے جب مریض کے لواحقین یہ فرض کر لیتے ہیں کہ سیزیرین کے فیصلے کے پیچھے ڈاکٹر کے ذاتی مسائل / مفاد پوشیدہ ہیں۔
مریضہ کسی نہ کسی طور آپریشن تھیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ آپریشن شروع ہوتا ہے۔ پیٹ کھول کر بچے دانی میں سوراخ بنایا جاتا ہے۔ سامنے بچے کے کندھے نظر آتے ہیں۔ سر تو ویجائنا میں پھنسا ہوا ہے۔ اب اس بچے کو کیسے نکالیں باہر؟
سوچیے بچے دانی میں ایک سوراخ ہے جس کے کناروں سے خون ابل رہا ہے۔ بچے دانی کے دونوں اطراف میں خون سے بھری ہوئی شریانیں اور وریدیں ہیں۔ بچے کے کندھے نظر آرہے ہیں اور سر ویجائنا میں ہے۔
ڈاکٹر اپنا ہاتھ کسی نہ کسی طرح اس سوراخ میں گھسا کر سر تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ سر ویجائنا میں بری طرح پھنسا ہوا ہے سو وہ سر کو نہیں پکڑ پاتی۔ اب مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ پلیز کوئی نیچے سے اوپر کی طرف دھکیلے۔
یہ سنتے ہی کوئی نہ کوئی نرس فوراً دستانے پہن کر اپنا ہاتھ ویجائنا میں ڈال کر بچے کے پھنسے ہوئے سر کو اوپر کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی ہے۔ اوپر سے ڈاکٹر کا ہاتھ اور نیچے سے نرس کا ہاتھ۔ اور یہ سب اس وقت تک کیا جاتا ہے جب تک ڈاکٹر بچے کا سر ویجائنا سے نکال کر بچے دانی کے اس سوراخ تک نہ لے آئے جو سیزیرین کے لیے بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر اور نرس کی یہ چومکھی ویجائنا میں لڑی جاتی ہے۔ اور بعض اوقات اس کے نتیجے میں ویجائنا اور بچے دانی بری طرح کٹ پھٹ بھی جاتی ہیں جن کی سلائی ایک اور عذاب جان ہوتی ہے۔
کچھ اور طریقے موجود ہیں جن میں بچے کی ٹانگیں پہلے نکالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے لیکن چونکہ ٹانگیں آپریشن کے سوراخ سے بہت اوپر ہوتی ہیں سو ہاتھ کے سہارے پیر تک پہنچنا اور اسے شناخت کر کے کھینچنا اور پھر دوسرے پاؤں کو کھینچ کر نکالنا۔ یاد رکھیے کہ یہ سب ایک انتہائی تنگ جگہ پہ ہو رہا ہے۔ اس جدوجہد میں بعض اوقات بچے کے بازو باہر نکل آتے ہیں جو صورت حال کو مزید پیچیدہ کرتے ہیں۔
پاؤں سے نکالنا مشکل تو ہے لیکن فائدہ یہ ہے کہ اگر ٹانگیں نکل آئیں تب ان کی مدد سے بچے کا جسم کھینچ کر باہر نکالا جاتا ہے اور یوں ویجائنا میں پھنسا ہوا سر بنا کسی کے دھکیلنے کے اوپر آ جاتا ہے۔
یہ سب آسان ہے اگر برسوں کی ریاضت ساتھ ہو۔ کم تجربہ کار ڈاکٹرز کو یہ بات ہر وقت یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ان کے پاس اس قدر مہارت موجود نہیں تو مریض کو بروقت کسی بڑے ہسپتال میں منتقل کریں۔ ماں اور بچے کی زندگی اہم ہے سو اپنی کمزوریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مریض کو آپریٹ کر لینا پروفیشنل رویہ نہیں ہے۔
اب دوسری صورت حال کی طرف آئیے۔ جس میں ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ وہ اوزار کے ذریعے ویجائنا سے بچے کو نکال سکتی ہے۔ اوزاروں کے بارے میں ہم پہلے کافی بار لکھ چکے ہیں۔ ڈاکٹر صورت حال کی مناسبت سے اوزار کا انتخاب کرتی ہے اور بچے کے سر پہ وہ اوزار لگا کر کھینچنا شروع کرتی ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ کتنی دیر تک کھینچنا ہے اور کتنی بار کھینچنا ہے کا تعین کیا جا چکا ہے اور اس سے زیادہ کرنے کی صورت میں ماں اور بچے کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ جب کتنی بار اور کب تک کی حد پار ہو جائے تب اوزار کو سر سے اتار لیا جاتا ہے اور اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ بچے کو سیزیرین کے ذریعے نکالا جائے۔
یاد رکھیے کہ اوزاروں کی ناکامی کے بعد ہونے والا سیزیرین مشکل ترین ہو گا کہ بچے کا سر کھینچا تانی کے بعد مزید پھنس چکا ہے۔
ہر ڈاکٹر کی مہارت ایک جیسی نہیں ہوتی اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی تو ہوتی ہی نہیں۔ یہ سپیشلائزیشن کے مراحل ہیں اور ان میں جتنا گڑ ڈالا جائے گا، نتیجہ اتنی ہی اچھا ہو گا۔
آپ یقیناً محسوس کر چکے ہوں گے کہ زچگی کا عمل چاہے ویجائنل ہو یا سیزیرین، اس قدر سادہ نہیں جتنا لوگ باگ سمجھے بیٹھے ہیں کہ کرو چھو منتر اور بچہ باہر۔
حقیقت میں یہ ایک پل صراط ہے اور اس سے زچہ تو گزرتی ہی ہے لیکن وہ عورت بھی پیچھے نہیں رہتی جو اس کا ہاتھ پکڑتی ہے۔

