فوج کا ’سیاسی انتباہ‘ اور تحریک انصاف کا یوٹرن
پاک فوج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس نے حال ہی میں ’عزم استحکام‘ نامی فوجی آپریشن کے خلاف سیاسی رائے ظاہر کرنے والے عناصر کے بارے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ فوج قومی سلامتی کے مقاصد حاصل کرنے میں یکسو ہے۔ 265 ویں کور کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بعض عناصر جان بوجھ کر اس آپریشن کی غلط تشریح کر کے غیر ضروری تنقید کر رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں حکومت نے قومی ایکشن پلان کی مرکزی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ’عزم استحکام‘ کے نام سے ایک نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔ ایپکس کمیٹی میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے خیبر پختون کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی شمولیت کی وجہ سے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ البتہ بعد میں تحریک انصاف نے دیگر متعدد اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر اس آپریشن کے خلاف شدید احتجاج کیا بلکہ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم اور سرکاری ذرائع نے ’عزم استحکام‘ کو نئے فوجی آپریشن کی بجائے دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد دہشت گرد عناصر کا قلع قمع کرنے کی کوششوں میں یگانگت پیدا کرنا ہے۔ اور کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا۔ اب حکومت اس حوالے سے کل جماعتی کانفرنس بلا کر ’غلط فہمیوں‘ کا ازالہ کرنے کا اعلان بھی کرچکی ہے۔
یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے کہ ایک طرف کور کمانڈر کانفرنس کی طرف سے ’عزم استحکام‘ کے ناقدین کے رویے کو مسترد کر کے اسے انتشار پھیلانے کی کوشش قرار دیا گیا تو دوسری طرف تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے ایکس پر ایک بیان میں ’عزم استحکام‘ کے حوالے سے بلائی جانے والی اے پی سی میں شریک ہونے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس حد تک تو خوش آئند ہے کہ پہلی بار تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے حکومت کے ساتھ براہ راست مواصلت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اسی لیے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی طرف سے فوری طور سے اس اعلان کا خیر مقدم بھی کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف فوج سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔
بجٹ بحث کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کو براہ راست بات چیت کی دعوت دینے کے علاوہ عمران خان کو پیش کش کی تھی کہ اگر انہیں جیل میں کوئی مسائل و مشکلات ہیں تو وہ انہیں حل کروانے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اس پیش کش کا جواب دیتے ہوئے حکومت کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیا اور کہا کہ حکومت بے اختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان جیل میں بند ہیں، حکومت کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ اس طرح ایک بار پھر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ ختم کرنے کی ایک مزید کوشش ناکام ہو گئی حالانکہ اس بار وزیر اعظم نے خود مصالحت کا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
اس پس منظر میں عمران خان کا بیان تحریک انصاف کے سابقہ سخت گیر موقف کے مقابلے میں یوٹرن کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیاست میں وقت اور حالات کے مطابق رائے تبدیل کرنا برا نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے اگر تحریک انصاف اب ’عزم استحکام‘ کے نام سے منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہو کر ایک حکومتی اقدام کا ساتھ دینے کا اعلان کر رہی ہے تو ملکی سیاست میں اسے ایک خوش آئند پیش رفت سمجھنا چاہیے اور عمران خان کے اس اعلان کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ البتہ کور کمانڈر کانفرنس کے ’انتباہ‘ کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی طرف سے تعاون و خوش اسلوبی کا اعلان ملکی سیاست پر اسٹیبلشمنٹ اور عسکری قیادت کی دھونس اور دسترس کو براہ راست تسلیم کرنے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک طرف فوجی قیادت ’عزم استحکام‘ کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت لب و لہجہ میں وارننگ جاری کر رہی تھی تو دوسری طرف عمران خان کی طرف سے لچک دکھانے کا اعلان ہو رہا تھا۔
عمران خان نے اگرچہ کبھی بھی اپنے اس موقف پر شرمندگی کا اظہار نہیں کیا کہ وہ اب بھی فوج کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں اور اس کی خوشنودی و تعاون سے اقتدار تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہی عوامی سطح پر تحریک انصاف خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی حتی الامکان کوشش بھی کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر پارٹی کے متحرک نمائندے فوج کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔
اس طریقے کو بظاہر تحریک انصاف کا فوج پر دباؤ ڈال کر سیاسی مقصد حاصل کرنے کی حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم فوج کی طرف سے ابھی تک تحریک انصاف کے ایسے ہتھکنڈوں کے جواب میں کسی قسم کی نرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ’عزم استحکام‘ کے خلاف تحریک انصاف کے سخت گیر سیاسی موقف کو بھی درحقیقت فوج پر یہ واضح کرنا ہی تھا کہ اگر فوج تحریک انصاف کو نظر انداز کر کے ملکی سیاست میں اس کا ’جائز‘ حصہ دلوانے میں مدد فراہم نہیں کرے گی تو پارٹی بھی فوج کے کسی ارادے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی خواہ اس کا تعلق قومی سلامتی سے ہی کیوں نہ ہو۔ اس پس منظر میں کور کمانڈر کانفرنس کے انتباہ کے ساتھ ہی عمران خان کا ’مفاہمانہ‘ بیان ایسا سیاسی یوٹرن ہے، جس کی وضاحت تحریک انصاف کی پوری قیادت پر واجب ہے۔
عمران خان کے بیان میں اگرچہ اے پی سی میں شامل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم قومی مفاد میں صرف حکومت کا موقف سننے کے لیے وہاں جائیں گے‘ ۔ لیکن اسی بیان میں دہشت گردی کے خلاف جاری مہم جوئی کو مسترد کرتے ہوئے غیر ضروری کوشش بھی کہا گیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اختلافات کی موجودہ صورت حال میں دہشت گردی کے خلاف کوئی کوشش بارآور نہیں ہو سکتی۔ اگر فوج ان عناصر کو پاکستان سے بھگائے گی تو وہ افغانستان چلے جائیں گے۔ اس لیے پاکستان کو افغانستان سے اختلافات کی بجائے کابل حکومت کا تعاون حاصل کرنا چاہیے۔
کابل حکومت کے ساتھ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی محاذ آرائی محض تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں اس کے ناقابل قبول رویہ تک ہی محدود نہیں ہے۔ شنگھائی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا تھا کہ طالبان حکومت کو ہمسایہ ملکوں میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور دہشت گردی کے قلع قمع میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اقوام عالم سے بھی اس سلسلہ میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
پاکستان، افغان طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ دہشت گردی کا معاملہ حل ہو سکے لیکن وہ یہ کام اب کابل حکومت کی شرائط پر کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ طالبان حکومت باہمی تجارت، ڈالر کی خرید و فروخت اور ویزا پابندیوں کے جیسے معاملات پر حکومت پاکستان کے اقدامات کو مسترد کرتی ہے جبکہ یہ اقدامات پاکستان کی معیشت اور روپے کی قدر کے حوالے سے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان ویزا کے بغیر آمد و رفت سے اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے جس کا پاکستانی خزانے کو براہ راست نقصان ہوتا ہے۔
البتہ عمران خان کے بیان میں دونوں ملکوں کے درمیان ان مسائل کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے بلکہ طالبان حکومت کو ’راضی‘ رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ حالانکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں ارکان کو پاکستان آ کر آباد ہونے اور پر امن شہریوں کے طور پر رہنے کی سہولت دی گئی تھی۔ عام قیاس ہے کہ یہی عناصر اب سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ تحریک انصاف فوج اور حکومت کی پالیسی کو مسترد کرنے کے باوجود اس مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کا کوئی حل سامنے نہیں لائی۔ ہو سکتا ہے کہ ’عزم استحکام‘ کی وضاحت کے لیے منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں اس حوالے سے کوئی ٹھوس تجاویز سامنے لائی جائیں۔
دوسری طرف کور کمانڈر کانفرنس کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیہ کا لب و لہجہ درحقیقت سیاسی ہے۔ اس اعلامیے کو غور سے پڑھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ فوج اپنے عزائم و مقاصد کے سامنے سیاسی رائے کو اہمیت دینے اور سننے پر تیار نہیں ہے۔ ’عزم استحکام‘ کا فیصلہ وزیر اعظم کی سربراہی میں ایپکس کمیٹی نے کیا تھا۔ اس لیے اس کی سیاسی نوعیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اعلان، دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی کی اطلاع دینے کے لیے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے ملک میں سامنے آنے والی سیاسی رائے کے بارے میں کور کمانڈر کانفرنس کی ’تشویش‘ و پریشانی ناقابل فہم ہے۔ اگر ملک ایک جمہوری نظام کے تحت کام کر رہا ہے تو جمہوریت میں ایسے مباحث معمول کی بات ہے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ کی اکثریت کسی بھی قومی معاملہ میں حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ فوج کو ایسی بحث یا فیصلوں میں کسی پبلک پلیٹ فارم پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
اعلامیہ کے مطابق ’کور کمانڈر کانفرنس نے ہمہ قسم چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور باہمت پاکستانی عوام کی حمایت سے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ بیرونی سہولت کاروں کی مدد سے سیاسی بنیادوں پر شروع کی گئی ڈیجیٹل دہشت گردی ریاستی اداروں کے خلاف ہے۔ اس کا مقصد قوم میں مایوسی پھیلانا اور اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے سفید جھوٹ، جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن فوج اور قوم ایسی سازشوں سے پوری طرح باخبر ہیں اور ملک دشمنوں کے عزائم کو شکست دیں گی‘ ۔
اس بیان میں بیرونی سہولت کاروں کی مدد سے ملک میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر کی سازش اور فوج کی آئینی ذمہ داری کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں الفاظ کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کے بیان سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ملک میں اگر بیرونی عناصر سازش کر رہے ہیں اور ملک کے اندر بعض لوگ ان کے معاون ہیں تو ملک کا نظام قانون ان کا سراغ لگانے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے سرگرم ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں کور کمانڈرز کو کسی اعلان کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح فوج کی ’آئینی ذمہ داریوں‘ کا تعین بھی فوج کی کور کمانڈر کانفرنس نہیں کر سکتی۔ یہ کام حکومت وقت کی ہدایت اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کے مطابق طے پانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ادارے آئینی حدود میں رہیں تب ہی ملکی معاملات درست سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم غیر آئینی رویوں کو ’آئینی ذمہ داریاں‘ پوری کرنے کے سہانے الفاظ میں لپیٹ کر بیان میں زور تو پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن درست منزل کا تعین نہیں ہو سکتا۔


