مسجدِ گوہر شاد کے احاطے میں


مسجد گوہر شاد ایران کے صوبہ خُراسان حرم مطہر رضوی میں موجود ایک قدیم اور اسلامی فنِ تعمیر کا شاہکار، اسلامی عظمت و سطوت کی نشانی ہے۔ ایرانی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار، تیموری طرز تعمیر کا یہ شاہکار آج بھی ملکہ گوہر شاد کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مسجد 1418 ء میں ملکہ گوہر شاد نے تعمیر کرائی۔

الحمدللہ مجھے ایران آنے کے بعد متعدد بار اس مسجد میں نماز پڑھنے کی، اس مسجد کے احاطے میں بیٹھنے کی، اس مسجد کی روحانی فضا میں سانسیں لینے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ لیکن اس مسجد کا نام ”گوہر شاد“ کیوں رکھا، وجہ تسمیہ مجھے معلوم نہ تھا۔ نہ کبھی وجہ تسمیہ کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ تاریخی کتابوں میں چند بار یہ نام نظروں سے گزر تھا۔ چند سال قبل مستنصر حسین تارڑ کے ایک سفرنامے میں پڑھا تھا کہ یہ مسجد عہد تیموری میں امیر تیمور لنگ کے فرزند مرزا شارخ تیموری کی اہلیہ ملکہ گوہر شاد خانم کی ہدایت و حمایت پر تعمیر کی گئی ہے۔

اور اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام ”مسجدِ گوہر شاد“ معروف و موسوم ہے۔ سلسلہ ذھبیہ، عرفان و تصوف کے ایک سرخیل حضرت شاہ سید محمد نور بخش رح اور ان کے اُستاد حضرت خواجہ اسحاق ختلانی نے مرزا شارخ کے خلاف، ان کے مظالم کے خلاف خروج کیا۔ یہ بحث یہاں کرنا طوالت کا باعث ہو گا۔ اس لیے قلم زد کرتا ہوں۔ گوہر شاد خانم کا مزار اس وقت موجودہ افغانستان ہرات میں موجود ہے۔ کل رات اُستاد محترم ڈاکٹر احمدی و ڈاکٹر ماہری قمی کے ساتھ ”حرم شناسی“ کے عنوان سے حرم مطہر رضوی کے مختلف جگہوں پر مطالعاتی و روحانی دورہ کیا۔

حضرت استاد ڈاکٹر ماہری نے مختلف جہات سے نہایت دقیق اور تفصیلی، ایمان افروز معلومات فراہم کیں۔ ان پر الگ سے تفصیلی لکھنے کا ارادہ ہے۔ جب ہم مسجدِ گوہر شاد میں پہنچے تو استاد محترم نے گوہر شاد خانم کے حوالے سے فرمایا۔ کہ جب مسجد گوہر شاد کی عمارت تعمیر ہو رہی تھی۔ اُس وقت وہاں کام کرنے والے ایک ہُنر مند گوہر شاد خانم کے شکل و شمائل، حُسن و نزاکت پر فریفتہ و آشفتہ ہو گیا۔ اُس ہنر مند نے پیغام نکاح بھیجا کہ میں آپ پر فریفتہ و وارفتہ ہوں، آپ کے حُسن و جمال، ناز و ادا، نے مجھے گھائل کر دیا ہے۔ میں آپ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کا عاشق ہو گیا ہوں۔ گوہر شاد خانم نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو تم چالیس دن اس مسجد کے محراب میں اعتکاف کرو پھر مجھے پیغام نکاح بھیجنا میں قبول کروں گی۔  بہرحال اُس شخص نے چالیس دن اعتکاف کی۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو گوہر شاد خانم نے پیغام بھیجا اے عاشق و آشفتہ شخص تم نے ابھی تک مُجھے پیغام نہیں بھیجا کیا وجہ ہے۔ اُس شخص نے جوابی پیغام بھیجا کہ اے گوہر شاد خانم آپ کا شکریہ آپ نے مجھے معشوق حقیقی سے آشنا کر دیا اب مجھے کوئی اور نہیں چاہیے اب مجھے کسی کی نزاکت و ادا گھائل نہیں کر سکتی۔

میں اب جمال حقیقی سے آشنا ہو گیا۔ استاد محترم مسجد گوہر شاد کے حوالے سے نہایت پُر مغز گفتگو فرما رہے تھے۔ اسرار و رموز کے پرتوں کو کھول رہے تھے۔ مجھ پر ایک وجدانی کیفیت طاری تھی۔ آنکھیں پُرنم دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ میں مسجد گوہر شاد کے در دیوار، فضا میں بلند میناروں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ ایک شخص کو عشقِ مجازی سے سفر کر کے عشق حقیقی کے منزل تک رسائی ہوگی۔ اور میں علمِ ظاہر کی گتھیوں کو سلجھانے میں در در کے خاک چھان رہا ہوں۔

معشوقِ حقیقی کے خم بہ خم زلفوں کو سنوارنے کی ابھی تک سعادت نہیں ملی۔ میں مسجد گوہر شاد کے احاطے میں بیٹھ کر سوچ رہا ہوں کہ کتنے اسرار و رموز مسجد گوہر شاد کے در و دیوار، محراب و منبر میں مدفون ہیں۔ جو تاریخ کے صفحات میں رقم ہونے سے رہ گئے ہیں۔ کتنے اولیاء کرام نے اس کے احاطے میں نمازیں پڑھیں۔ کتنے اولیاء کرام نے اس مسجد کے احاطے میں ذکر و اذکار پڑھتے ہوئے راتیں کاٹیں۔ اس مسجد کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ مسجد شاہ خراسان، شاہ طوس، حضرت امام رضا علیہ السلام کے ضریح مقدس سے بالکل متصل ہے۔

ہر روز دنیا کے گوش و کنار سے ہزاروں زائرین اس مسجد میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس مسجد کے پس منظر میں عہد تیموری، سلطنت تیموری کی پوری تاریخ ہے۔ یہ مسجد آج بھی عہدِ تیموری کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اور زبانِ قال نہ سہی حال سے کہہ رہی ہے کہ مجھ میں چھپے اسرار کو جاننے کی کوشش کرو میں ایک عہد کی داستان ہوں۔ مجھ میں ایک پس منظر محفوظ ہے۔ میں ایک تاریخ ہوں۔

Facebook Comments HS