برطانوی انتخابات:جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
برطانیہ کے قومی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ روس یوکرین جنگ، غزہ میں انسانی نسل کُشی، برطانیہ کی معاشی ابتری، صحتِ عامہ اور روزگار کے بحران نے برطانیہ کے قومی انتخابات کو اہم ترین بنا دیا تھا۔ برطانوی عوام حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی اور بہتری کے خواہاں تھے۔ اگرچہ چند معاملات جیسے روس یوکرین جنگ، غزہ اور معیشت پر دونوں بڑی پارٹیوں کی کم و بیش یکساں پالیسی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی نے گزشتہ تین سال میں معیشت کی ابتری کا رونا رویا اور اس کا ملبہ کرونا اور یوکرین جنگ پر ڈالے رکھا۔
مہنگائی کی کمی کی بات کی گئی مگر حقیقت یہ تھی کہ 2021 ء میں مہنگائی 20 فیصد تھی اس میں محض 2 فیصد کے قریب کمی آئی، یعنی 18 فیصد مہنگائی کا عوام کو تاحال سامنا تھا۔ معاشی صورتِ حال کے ساتھ صحتِ عامہ کی صورتِ حال بھی انتہائی ابتر رہی۔ ہنگامی حالات یعنی بغیر ایمبولینس کے ہسپتال جانا اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرنا تھا۔ ہسپتالوں میں انتظار کرنے والوں کی فہرست لامتناہی ہوتی چلی گئی۔ مجبورا کم وسائل رکھنے والے افراد کو اپنا علاج پرائیویٹ اسپتالوں یا پھر بیرونِ ملک ترکی وغیرہ جاکر کروانا پڑتا۔
حکومت رقم کی قلت کا بہانہ بنا کر کہنے لگی کہ اب علاج کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرپائے گی۔ اس کی ذمہ داری وزیراعظم رشی سونک نے مہاجرین پر ڈالی۔ اسٹوڈنٹ اور دیگر ویزوں پر آنے والوں سے پہلے سالانہ ہیلتھ سرچارج 650 پاؤنڈ لیا جاتا جو اِس سال بڑھا کر 1050 پاؤنڈ کر دیا گیا۔ یہ رقم ویزا فیس کے ساتھ ادا کرنی ہوتی ہے چاہے آپ ایک پاونڈ بھی علاج معالجے کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس نئے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم رشی سونک نے کہا تھا کہ اس سے حاصل ہونے والے ایک ارب پاؤنڈ صحتِ عامہ کے لیے خرچ ہوں گے۔
ایک جانب اس میں اضافے کا اعلان صحتِ عامہ کے بجٹ کے لیے کیا گیا، اور دوسری جانب کئی ٹرسٹ جن کے تحت ہسپتال چل رہے تھے ان کا بجٹ کم کر دیا گیا۔ پھر اسٹوڈنٹ ویزا پالیسی میں بھی تبدیلی کر کے صرف تحقیق کرنے والے طلبہ کے لیے ہی اہلِ خانہ کے ویزا کی اجازت برقرار رکھی گئی۔ اس سے پہلے بیرونی طلبہ سے فیس کی مد میں برطانوی جامعات کو سالانہ 86 ارب پاؤنڈ کی خطیر رقم حاصل ہوتی تھی۔ لیکن نئی ویزا پالیسی کے بعد برطانوی جامعات کے داخلوں میں 57 فیصد تک کمی نے جامعات کو شدید بحران کا شکار کر دیا تو جامعات نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مقامی طلبہ کو فیس میں دی گئی رعایت ختم کر دیں گی اور اگر اس کی اجازت نہ دی گئی تو انہیں اپنے کئی پروگرام بند کرنا پڑیں گے۔ دوسری جانب جامعات نے ملازمین میں کمی کا اعلان کیا۔ ٹاؤن یونیورسٹی آف ہرڈس فیلڈ نے بھی 200 ملازمین کی کمی کا نوٹس دیا جس پر ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے، یہی صورتِ حال کم و بیش دوسری یونیورسٹیوں کی ہے۔
کنزرویٹو حکومت نے 2020 ء میں ایک نئی تعلیمی پالیسی متعارف کروائی تھی کہ 16 سال کی عمر کے بعد مزید تعلیم نہ حاصل کرنے والوں کو اسکل ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ برطانوی معیشت میں اپنا قابلِ قدر حصہ ڈال سکیں۔ اس کو T Level Qualifications کا نام دیا گیا اور اس پر حکومت 1.8 ارب پاؤنڈ خرچ کر کے بھی 16 سے 19 سال کی عمر کے محض تین فیصد طلبہ کو مستفید کر پائی، اور یہ شارٹ اسکل ٹریننگ پروگرام مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوا۔
برطانیہ میں تعلیم و صحت دو ہی شعبے تھے جن کی دھاک پوری دنیا پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ان شعبوں میں پیدا شدہ بحران کو حل کرنے سے حکومت قاصر رہی۔ وزیراعظم رشی سونک نے ایک طرف یہ اعلان کیا کہ اگر وہ دوبارہ برسر اقتدار آئے تو مالی ابتری کے باعث کم آمدنی افراد کو 69 ارب پاؤنڈ کی مالی سپورٹ بند کر دیں گے، جبکہ دوسری جانب 70 ارب پونڈ سے زیادہ سالانہ رقم روس یوکرین جنگ میں ہتھیاروں کی امداد اور مہاجرین کی آباد کاری و سہولیات پر خرچ کی گئی۔
ان وجوہات کے باعث برطانیہ میں حکمراں جماعت کنزرویٹو کا 14 سالہ دور ختم ہوا۔ 650 نشستوں میں سے لیبر پارٹی 412 نشستوں کے ساتھ کامیاب قرار پائی جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 120 نشستیں ملیں۔ لیبر پارٹی کے سربراہ سرکیئر سٹارمر نے اپنے وکٹری خطاب میں کہا کہ ملک کے عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا، اتنے بڑے مینڈیٹ کے ساتھ اتنی بڑی ذمہ داری بھی عوام نے دی، ہمیں سیاست کو خدمت میں بدلنا ہے، سخت محنت کر کے ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ گویا :
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
یہ الگ بات ہے کہ آنے والے دنوں میں پتہ لگے گا کہ لیبر پارٹی کے سربراہ اپنے کہے پر کتنا پورا اترتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانوی عوام نے صفحہ بدل لیا ہے، انتخابات میں نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، ہمیں فوری تبدیلی لانے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ لیبر پارٹی بدل چکی ہے اور یہ تبدیلی ہمارے طرز حکومت میں نظر آئے گی، ملک پہلے اور پارٹی بعد میں ہوتی ہے، برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سر کیئر اسٹارمر کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
برطانیہ کے عام انتخابات میں کابینہ کے 9 وزرا کی ریکارڈ تعداد پارلیمان کی سیٹیں دوبارہ جیتنے میں ناکام رہی۔
اس سے قبل 1997 کے عام انتخابات میں سات ارکان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہارنے والوں میں کابینہ کے ہائی پروفائل رکن اور سیکریٹری دفاع گرانٹ شیپس بھی شامل ہیں۔ 2022 میں 49 دنوں کے لیے بطور وزیراعظم فرائض سرانجام دینے والی لز ٹرس بھی ہار گئیں، وہ 2010 سے پارلیمان کی رکن تھیں۔ کنزرویٹو پارٹی کے دیگر ارکان اور وفاقی وزرا جنہیں حالیہ انتخابات میں شکست کا سامنا رہا، ان میں سیکریٹری تعلیم گیلین کیگن، سیکریٹری انصاف الیکس چاک، سیکریٹری ثقافت لوسی فریزر، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ سائنس میشعل ڈونیلن اور ویٹرن افیئرز کے وزیر جانی مرسر اور بریگزٹ یعنی برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی رہنما جیکب ریس موگ شامل ہیں۔
ریفارم یو کے ’پارٹی کے قائد اور بریگزٹ کی مہم میں اہم کردار ادا کرنے والے نائجل فراج پہلی مرتبہ پارلیمان کی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ان کی جماعت نے کُل چار نشستیں جیتی ہیں۔ وہ آٹھویں کوشش پر پارلیمان میں ایک سیٹ جیت سکے ہیں۔
فلسطین کے حامی آزاد امیدوار جیرمی کو ربن نے لیبر پارٹی کے امیدوار کو شکست دی۔ 1935 کی بدترین شکست کے بعد 2019 کے انتخابات میں پارٹی کی بری کارکردگی کے نتیجے میں جیرمی کو ربن بطور لیبر پارٹی کے قائد مستعفی ہو گئے تھے۔ کیئر سٹارمر نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔
سات مرتبہ رکن پارلیمان بننے والے بائیں بازو کے جارج گیلووے لیبر پارٹی کے امیدوار پال واف سے شکست کھا گئے۔ جو صحافی بھی رہ چکے ہیں اور ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے ساتھ کام کرتے رہے۔ بھارتی نژاد سابق وزیراعظم رشی سونک اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہے۔
برطانیہ کے انتخابات ہو چکے، ہمارے سیاسی لیڈروں کے لئے ان سے سیکھنے کے یہ سبق موجود ہیں۔
1۔ انتخاب اصولوں، مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کرنے کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے۔ صرف مخالفین پر ذاتی حملے کر کے یا سیاستدانوں کی کردار کشی سے جمہوریت پر لوگوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔
2۔ کسی مسئلہ پر عوام کی تائید ملنے کے بعد سب اس فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔ اگر پاکستانی سیاستدان بھی مسائل پر توجہ دیں تو سیاسی جماعتوں کی قدر و قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
3۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد ان پر سوال اٹھانا، الیکشن کمیشن کو مطعون کرنا اور دھاندلی کی گردان کرنا جمہوریت نہیں۔ اگر تحفظات ہوں تو مل بیٹھ کر اداروں کی غیر جانبداری اور انہیں آزاد حیثیت دینے کے لیے قانون سازی کریں۔ جب تک سیاستدان اداروں، جمہوری طریقہ کار اور نظام پر خود اعتماد کا اظہار نہیں کریں گے، اس وقت تک لوگوں میں یہ شعور پیدا ہونا ممکن نہیں۔
4۔ نئے برطانوی وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ملک پہلے اور پارٹی بعد میں ہوتی ہے، کاش ہمارے سیاستدان بھی اس نہج پر آجائیں۔


