ہیوبرس (Hubris): انا پرستی کی بدترین قسم
ہیوبرس یونانی زبان لفظ ہے جس کا مطلب ایک پر غرور اور تکبرانہ عمل جس سے دیوتا ناراض ہوتے ہیں۔
ڈیوڈ اوون 1980 ء میں برطانیہ کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کا لیڈر رہ چکا ہے۔ پیشہ کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر اور نفسیات اس کا شعبۂ خصوصی ہے۔ اس نے ڈیوک میڈیکل سنٹر نارتھ کیرولینا کے ایک ماہرِ نفسیات جوناتھن ڈیودسن کے ساتھ مل کر ایک میڈیکل جرنل ”برین“ میں ایک مضمون لکھا کہ ہیوبرس با اقتدار لوگوں اور ان لوگوں کے لئے جو اقتدار میں رہ چکے ہیں ایک پیشہ ورانہ خطرہ ہے۔
گو کہ ہم سیاستدانوں اور بڑے بینکرز کے بارے میں اکثر سنتے ہیں لیکن ہیوبرس کسی ایک پیشہ یا کم طاقت یا کم تر اقتدار رکھنے والوں تک محدود نہیں ہے۔ ہیوبرس لغوی طور پر کسی بھی شخص کے دماغ میں جا سکتا ہے اور سائنسدان ایک دن یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ اس سلسلے میں دماغی کیمسٹری میں ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کیا جا سکتا ہے۔ لارڈ اوون نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ خود بھی محدود عرصے کے لئے اس عارضہ کا شکار رہ چکا ہے لیکن اپنی بیوی کے بھرپور تعاون سے اس عارضہ پر قابو پا نے میں کامیاب رہا۔ اس مرض کی علامات مندرجہ ذیل ہیں
٭اپنی ذات اور شخصیت کے بارے میں غیر متناسب فکر و تردد
٭اپنی ذات، رائے اور قوتِ فیصلہ پر بے جا اعتماد
٭اپنے بارے میں بہت زیادہ مبالغہ آمیز اور خود کو بعض معاملات میں قادر مطلق سمجھنا
٭زمینی حقیقتوں سے ناتا توڑ کر اپنی تصوراتی دنیا میں تنہا رہ جانا
٭بے چین اور حساس شخصیت
اس حوالے سے دیکھا جائے تو مقبول عوامی لیڈر اس عارضہ کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان کو اس کے اثرات سے بچانے کے لئے عوامی عمل کو بہتر اور سخت بنانے کی ضرورت ہے۔
با اختیار لوگوں کو ان کی حدود میں رکھنے اور ان کے احتساب کو موثر بنانے کے لئے لارڈ اوون کی تحقیق ایک عملی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو سرکاری افسران اور بیوروکریسی کو اس بیماری میں مبتلاء کرنے کے وسائل خود عوامی پیسوں سے کیے جاتے ہیں۔ سرکاری عمارات دیکھ لیں، وزیروں، مشیروں اور بیورو کریٹ، اور دیگر افسران کے دفاتر اور کرو فر دیکھ لیں، ہٹو بچو والے پروٹوکول دیکھ لیں۔ اس طرح کے کلچر کی موجودگی میں آپ ان حضرات سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ یہ ہیوبرس کا شکا ر نہیں ہوں گے۔
ہیوبرس کا دائرہ کار صرف سیاستدانوں یا بیورو کریٹس تک محدود نہیں ہے بلکہ دیکھا جائے تو اس کا دائرہ کار بہت پھیلا ہوا ہے اور اس میں دانشور، کھلاڑی، فنکار، قلم کار، بزنس مین، سماجی کارکن اور علماء کرام سب ہی شامل ہی (ایسے علماء کرام کے لئے بعض دفعہ علماء سو کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے )
اسی طرح ہیوبرس کسی خاص قومیت، نسل، رنگت، زبان، جنس، کلچر یا زبان تک محدود نہیں ہے۔ جسے قدرت کی طرف سے عام لوگوں کے مقابلے میں کچھ بہتر وسائل میسر آ جاتے ہیں چاہے وہ صورت شکل ہو، رنگت ہو، عمدہ صحت ہو، اچھا خاندانی پس منظر ہو، مال و دولت ہو، اعلیٰ تعلیم ہو، قابلیت ہو، معاشرے میں ممتاز حیثیت حاصل ہو، فنونِ لطیفہ یا ادب اور آرٹ کے حوالے سے بہتر فنکارانہ صلاحیتیں ہوں، یا شہرت ہو تو ایسے شخص کے ہیوبرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ خود شناس اور اپنی اصلاح پر وقت صرف کرنے والے لوگ اس سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور اکثر کامیاب رہتے ہیں۔
اب سے کافی پہلے برصغیر کے مشہور فنکار دلیپ کمار مرحوم نے اپنے ایک انٹرویو میں اسی بات کو ذرا مختلف پیرائے میں بیان کیا ان کا کہنا تھا کہ شہرت بذاتِ خود ایک بہت موذی بیماری ہے اور اس سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بے غرضی کے ساتھ وقت صرف کریں۔
ہیوبرس کی تشخیص تو میڈیکل سائنس میں تو اب ہوئی ہے لیکن ہمارے اپنے کلچر میں اسے ذہنی مرض کا درجہ بہت پہلے دے دیا گیا تھا۔ وہ لوگ جو اپنی بہتر سماجی حیثیت کی وجہ سے دوسروں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، ان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ دماغ خراب ہو گیا ہے۔
ہوبرس کینسر کی طرح ایک چور بیماری ہے جس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب مرض بہت پھیل چکا ہوتا ہے۔ اسے ہم ایک طرح کا دماغی کینسر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن بہر حال یہ کینسر کی طرح لا علاج مرض نہیں ہے۔ اس بیماری کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ اس کی ابتداء انسان کی اچھی خصوصیات سے ہوتی ہے۔ حوصلہ مندی، فنِ خطابت اور خود اعتمادی اچھی خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں لیکن ان ہی سے ہیوبرس کی ابتداء ہو سکتی ہے کہ انسان ان اچھی خصوصیات کی وجہ سے خود کو لوگوں سے ممتاز اور دوسروں کو کمتر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ ہیوبرس کے حوالے سے ہمیں خود اپنی ذات کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس بات کی دعوت دینے رہنا چاہیے کہ وہ ہماری ذات میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے رہیں تاکہ ہم ان پر قابو پا سکیں۔
جب ہم اپنی ذات کو اہمیت دینا شروع کرتے ہیں تو ہر وقت ”میں“ کی رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ میں نے یہ کیا۔ میں نے وہ کیا۔ اس میں کی رٹ میں ہم یہ بات قطعی طور پر فراموش کر دیتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے اگر اس کی رضا نہ ہو۔ اس عنوان سے ہمیں خود کو نہ تو اتنی زیادہ اہمیت دینی چاہیے اور نہ ہی اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنا چاہیے بلکہ اس بات کا شکر کرنا چاہیے کہ اس کی رحمت سے ہمیں کامیابی ہوئی نہ کہ ہم نے خود کوئی بڑا تیر مارا۔ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ اس طرح سے خود پرستی کے حصار سے نکلنے میں مدد ملتی ہے

