شعر کی جمالیاتی اپج

حسن عسکری نے اپنے مضمون ’کچھ فراق صاحب کے بارے میں‘ میں لکھا ہے ؛ ”شعر ایک جمالیاتی چیز سہی لیکن انسانی تجربے اور کائنات کی ماہیت کی تفتیش کا ذریعہ بھی ہے۔“ پیش منظر سے قطع نظر جزوی طور پر اردو شعر کی معنوی روایت میں ایسا بھاری بھر کم مقولہ شاید ہی کہیں زیرِ بحث لایا گیا ہو۔ خود حسن عسکری اسی کے آگے لکھتے ہیں ؛ ”یہ بات بلند بانگ معلوم ہوتی ہے، اسے بھی چھوڑیے۔“ جس سے اس امر کا واضح ہونا ثابت ہے کہ شاعری کی ان نامعلوم جہتوں کو عبور کرنے کا بار کسی دوشِ تعقل نے اٹھایا ہی نہیں جو اب تقریباً مٹنے کو ہیں۔
’شاعری کتھارسس کا دوسرا نام ہے‘ ، ’حسِ جمالیات کا فنی پیرائے میں اظہار شاعری ہے‘ ، ’تسکینِ طبع کا موجب شاعر کی فطری حساسیت ہے‘ ، وغیرہ ایسے جملے شاعری کی عالمانہ و طالب علمانہ توضیحات میں اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ اور ادب پرور ذہن جس تیزی سے ان پر ایمان لے آتا ہے اسی تناسب سے وہ ان تعریفات کے بدیہی ہونے کی بابت تشکیک کی جانب لپکتا ہے۔ نتیجتاً نہ تو شعر کی وہ ماہیت اصل حالت میں باقی رہتی ہے جو شاعر کا تخیل تراشتا ہے اور نہ ہی اس سے جنم لینے والا وہ احساس جو مفعول کے ہاں ابھرتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لفظ اور معنی کے ربط یا نشان اور اس کی انٹرپریٹیشن کے معاملے میں حتمیت کا مصنوعی سائبان تان لیا جاتا ہے یہ مانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی قیاس کو کبھی حتمی نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اس انتشار (chaos) کی مرحلے میں زبان کی ساخت اور تناظر کا معنی کے تشکیلی عمل میں جو کردار نظر آتا ہے اس کا سایہ اظہار کی جمالیاتی اپج ہر بھی پڑتا ہے۔ جس کو فطرتِ انسانی آغاز سے ہی اپنے ہاتھوں میں دائیں بائیں ڈھالنا شروع کر دیتی ہے۔ اور جب وہ فن کے تکنیکی سانچوں سے ہوتا ہوا قاری/سامع تک پہنچتا ہے وہ اظہارِ محض نہیں رہتا۔ اس میں میڈیم کی کثافتیں (impurities) شامل ہو جاتی ہیں کیوں کہ یہاں میڈیم catalyst کے طور پر کام نہیں کرتا۔
اس کے ساتھ ہی قاری کی موضوعیت اظہار کی ناخالص شکل کی ساخت از خود تشکیل دیتی ہے، اس کی ردِ تشکیل بھی کرتی ہے اور تشکیلِ نو بھی۔ اس طرح جمالیات کی مبہم اور بعض اوقات پنہاں جہتوں تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اس کا ثبوت صدیوں سے چلی آ رہی ادبی تھیوری کی روایت ہے جو آج بھی ان مباحث میں کارفرما نظر آتی جن کا آغاز متن کو ٹھوس کائناتی حقیقت کے طور دریافت کرنے والوں نے کیا تھا۔
جمالیات کیا ہے؟ عمومی (سطحی؟ ) رویہ اسے خوب صورتی کے روح پرور احساس کا نام دیتا ہے۔ مگر فکری روایت میں چیدہ چیدہ اذہان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ’جمالیات کیا ہے؟‘ کے سوال کے تحت کلیشے کے مباحث رد بھی کیے اور وہ مہیجات مختص کرنے کی کوشش بھی کی جن کے آگے لا ادریت کی دھند چھائی ہے۔ اس طرح ایک نیا رویہ تخصیص کا حامل قرار پایا جس کے رجحان بننے کا امکان پیدا ہی نہ ہو سکا کہ یہ رویہ بدل کر بھی رویہ ہی رہا۔
کانٹ اپنی magnum opus میں جمالیات کو نئے سرے سے معنی کا لباس پہناتا ہے۔ ’عام جمالیات‘ (general aesthetics) اب ’قبل تجربی حسیات‘ (transcendental aesthetics) کا روپ دھار لیتی ہے۔ خوبصورتی، راحت اور دیگر حسی لوازمات اب زمان و مکان کے چترِ ہمہ رنگ کے نیچے منجمد نظر آتے ہیں۔ کانٹ سب سے پہلے مشاہدہ، حس، ادراکِ حسی، مظہر اور صورت وغیرہ کی تعریف کرتا ہے اور پھر یہ بھی بتاتا ہے کہ قبل تجربی حسیات ہے کیا۔ (فٹ نوٹ میں کانٹ نے جرمنوں کے ہاں عمومی طور پر رائج جمالیات اور اپنی قبل تجربی حسیات میں فرق مدلل انداز میں واضح کیا ہے۔ ) حسِ بدیہی (a priori sensibility) کے تمام اصولوں کے علم کو کانٹ transcendental aesthetics کا نام دیتا ہے۔
عسکری صاحب نے یہاں شعر کو جمالیات کی تفہیم کے عمومی پیرائے میں لیا ہے۔ میر کا ایک شعر دیکھیے ؛
اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال
آدم نہیں ہے صورتِ آدم بہت ہے یاں
میر نے اپنے ارد گرد کے عالم کو بت کدہ کیوں کہا؟ ظاہر ہے کہ آدم کی صورت کے بے زبان بت اسے دکھائی دیتے ہیں جو ’معنی کے سوال‘ کا جواب دینے سے عاری ہیں۔ لیکن بت کدہ ہی کیوں؟ کوئی دوسری علامت کیوں نہیں! کیوں کہ ’بت کدے‘ میں انسانی تجربہ اور کائنات کی ماہیت دونوں ایک ساتھ در آئے ہیں اور یہ سراسر شاعر کی لاشعوری کاوش کا نتیجہ ہے۔ ’بت‘ اور ’صورتِ آدم‘ کا معنوی رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ اس نے تخیل کے دھارے کو منتشر نہیں ہونے دیا۔
لہٰذا شعر اپنے آپ میں ایک زندہ چیز ہے جو خود اپنا جسم اپنی ماہیت تراشتا ہے اور لحظہ بہ لحظہ پروان چڑھتا ہے۔ شاعر ’بت کدے میں معنی کا سوال ہی کیوں کرنا چاہتا ہے؟ حالانکہ اس کا تجربہ خود معنی کشید کرنا جانتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تناظر اپنا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔ میر معنی کو passive حوالے سے دیکھنا/سننا چاہتے ہیں۔
اس تمام عمل میں شعر جمالیات اور قبل تجربی حسیات کے معروضات کا ملغوبہ سا بن گیا ہے۔ اور اس سے یہ وضاحت بھی نکلتی ہے کہ شعر کے جمالیاتی چیز ہونے اور انسانی تجربے اور کائنات کی ماہیت کی تفتیش کے ذریعہ ہونے کا فرق دراصل عمومی جمالیات اور قبل تجربی حسیات کا فرق ہے جو کانٹ نے واضح کیا ہے۔ اسی سے شعر کے تاثر کا انطباق بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے احساس کی ترجمانی اور خواص کے دستورِ فکر (organon of thinking) کی نگہبانی شعر کرتا ہے۔
میر کو گرچہ گفتگو عوام سے ہے لیکن خواص کی توجہ اور داد سے میر ہجوم میں بھی سب سے قدآور نظر آتا ہے تبھی وہ تعلی برتنے میں بے باک بھی ہے۔

