عمران خان کی (مطلوب) رہائی اور تحریک انصاف کی مشکلات

تحریک انصاف کی صفوں میں حالیہ باہمی اندرونی اختلافات اور گروہ بندی کے مختلف محرکات اور اسباب ہو سکتے ہیں تاہم عمومی طور پر اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پارٹی کے موجودہ ذمہ داران عمران خان کی جلد رہائی کے سلسلے میں سنجیدہ کوشش کرنے اور حکمت عملی سے کام لینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی یہ مبینہ ناکامی یا نا اہلی کارکنوں میں تشویش کا باعث گردانی جاتی ہے اگر ایسا ہے تو دیکھنا یہ ہو گا کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے پاس عمران خان کو مقدمات اور قید سے ریلیف دلانے کی کتنی صورتیں یا راستے ہیں اور ان میں کیا ممکنہ مشکلات ہو سکتی ہیں؟
اس حوالے سے ایک راستہ تو قانونی اور عدالتی ہے اس سطح پر تو پارٹی کے رہنما اور ان کے وکلا متعلقہ عدالتوں میں عمران خان کے خلاف مقدمات کی اپنی تئیں پیروی کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ جس کے نتیجے کا بنیادی دار و مدار تو مقدمات کی نوعیت اور دلائل اور شواہد پر ہو گا۔ اگر عمران خان کے خلاف مقدمات کی بنیاد کمزور الزامات اور شواہد پر ہوگی تو ان کو غلط ثابت کرنے پر اعلی عدالتیں سے عدل و انصاف کے مطابق موجود مقدمات سے اس کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
چونکہ تحریک انصاف کے ذمہ داران اس قانونی آپشن کے لیے ممکن حد تک کوشاں ہیں یوں ان پر اس حوالے سے کوتاہی اور غیر سنجیدگی کا الزام لگانا کچھ زیادہ بجا نہیں لگتا ہے بالفرض اگر کسی وجہ (مصلحت یا دباؤ) سے اعلی عدلیہ میرٹ کے باوجود عمران خان کو فوری ریلیف دینے سے گریزاں ہوں۔ تو اس صورت میں پارٹی رہنماؤں کے پاس دوسرا راستہ احتجاجی تحریک کا ہے۔ یہاں البتہ یہ اعتراض یا تنقید کی جا سکتی ہے کہ کوئی احتجاجی تحریک یا سرگرمی کا فقدان تحریک انصاف کی موجود لیڈر شپ اور ذمہ داران کی ناکامی ہے 9 فروری کے بعد سے پارٹی کی طرف سے کارکنوں کو سڑکوں پر نکلنے اور مظاہروں کے لیے کئی کالز دیے گئے جو موثر ثابت نہیں ہوئے ہیں اس ضمن میں تحریک انصاف کی ناکامی کے شاید کچھ دیگر عوامل بھی ہوں تاہم اس کی بڑی وجہ تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد ”کسی دوسرے رہنما میں ایسی صلاحیت۔
اہلیت اور کرزما نہیں ہے جن کی قیادت اور نگرانی میں کارکن متحرک ہو کر سڑکوں پر آ کر عمران خان کی جلد رہائی کے سلسلے میں کوئی راستہ یا صورت نکال دے اس لیے اس آپشن کے ذریعے مطلوبہ مقصد کے حصول کا امکان سر دست کم نظر آتا ہے ہاں البتہ اگر تمام اپوزیشن جماعتیں بالخصوص جماعت علما اسلام واقعی ان سے مل کر متحدہ پلیٹ فارم (جس کے لیے فریقین کوشاں ہیں ) سے ملک گیر احتجاج شروع کرتی ہیں تو اس کے موثر ہونے کی صورت میں یہ امکان ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے حوالے سے مقتدر حلقوں کی سوچ اور طرز عمل میں تبدیلی آئے۔
اور یوں عمران خان کو ریلیف ملنے کی صورت نکل آئے۔ تیسرا راستہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی ممکنہ سمجھوتے کے تحت نکل سکتا ہے۔ یہاں اس بجٹ سے قطع نظر کہ عمران خان (جو فی الوقت حکومت کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر مصر ہے ) کا حکومت کے ساتھ فوری مذاکرات کا کتنا امکان ہے یا حکومت اپنے اوپر کسی خاص سیاسی دباؤ کی عدم موجودگی میں تحریک انصاف کے ساتھ واقعی سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنا اپنے مفاد میں سمجھی گی یا نہیں تاہم اگر مذاکرات کا آپشن اختیار کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں جو سمجھوتا ہو گا وہ“ کچھ لو اور کچھ دو ”کی بنیاد پر ہی ہو گا جس میں ریلیف کے عوض تحریک انصاف کو شاید اپنی بعض سرگرمیوں سے احتراز کرنے کی گارنٹی دینی پڑے۔ مختصر یہ کہ ممکنہ مذاکرات کے مضمرات کے باعث تحریک انصاف کے سامنے یہ سوال بھی رہے گا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات اور کسی قسم کا سمجھوتہ سیاسی فائدے سے زیادہ کہیں گھاٹے کا سودا نہ ہو جائے یوں اس کی لیڈر شب کے لیے مذاکرات کے راستہ کا انتخاب بھی مخمصے کا باعث ہو سکتا ہے۔

