کیا ہم جاہل ہیں؟
کچھ دن پہلے سمہ ٹی وی چینل کے پروگرام میں ایک نام نہاد اسلامک اسکالر ساحل عدیم نے ایک لڑکی سے سوال کیا کہ آپ کو طاغوت کی معنی کا پتا ہے اس نے کہا میں نے آپ سے ہی یہ لفظ سنا ہے اس سے پہلے میں نے نہیں سنا۔ ساحل نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا اگر آپ کو طاغوت کی معنی نہیں پتا تو آپ جاہل ہیں۔ پھر اس نے اپنا کوئی سروے پیش کیا کہ پاکستان میں 95 فیصد عورتیں جاہل ہیں، کیوں کہ ان کو طاغوت کی معنی نہیں آتی۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ مجھے بھی تو طاغوت کی معنی کا نہیں پتا اس کا مطلب ہے کہ میں بھی جاہل ہوں۔
اس لیے اپنے دوستوں سے رابط کیا کہ آپ کو طاغوت کا معنی کا پتا ہے میرے کسی دوست نے مجھے طاغوت کی معنی نہیں بتائی۔ ان میں کچھ میرے ایسے بھی دوست ہیں جن کو میں بہت پسند کرتا ہوں اور وہ اپنے کیریر میں بہترین پروفیشنل ہیں۔ میری ذہن میں یہ بھی خیال آیا یہ عربی کا لفظ ہے یہ شاید کسی قرآن کے حافظ کو پتا ہو گا لیکن جب میں نے ان سے رابط کیا تو ان کو بھی طاغوت کی معنی نہیں آتی تھی۔ اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ جب اس لفظ کی معنی اکثر مردوں کو بھی نہیں آتی تو ساحل عدیم نے عورتوں کا سروے کیوں بتایا۔ اور ان کو فقط عورتیں کیوں جاہل نظر آتی ہے۔ اور ان لوگوں پر بھی سوال نہیں اٹھایا جو سمجھتے ہیں قرآن شریف کو پڑھنے سے ثواب ملتا ہے اور اس کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس سوال سے تو اس ڈبیٹ کا آغاز ہونا چاہیے تھا کہ قرآن شریف سمجھ کر پڑھ لینا چاہیے اور جتنے مدرسے قرآن شریف کی تعلیم دیتے ہیں ان کو پابند کرنا چاہیے کہ وہ قرآن شریف کو معنی کے ساتھ پڑھائیں اور اگر ان بچوں کو قرآن کی الفاظ کی معنی نہیں آتی تو ساحل عدیم کے دلیل کے مطابق وہ بھی جاہل ہوئے۔
بہرحال میں تو اس بات کا اقرار کر چکا ہوں کہ میں ساحل عدیم کے نظریے کے مطابق جاہل ہوں اس لیے بہت سارے سوال میرے ذہن میں آ رہے ہیں لیکن میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ میں سارے سوال کر سکوں مگر ساحل عدیم نے اپنی ایک وڈیو میں سندھی قوم کے لیے بھی غلیظ زبان استعمال کی ہے اس پر میں ساحل عدیم کے خیال پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ جبکہ ساحل عدیم نے اپنے ایکس کے اکاؤنٹ پر معذرت بھی کی ہے مگر میرے نزدیک وہ معافی کافی نہیں۔
ساحل عدیم نے کہا ہے سندھی شادی کی پہلی رات اپنی لڑکی اپنے علاقے کے چوہدری اور وڈیرے کو پیش کرتے ہیں۔ یہ بے شرم ہیں ان کے فقط نام مسلمانوں والے ہیں۔ کام غزوہ ہند والے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی لوگ کسی سے اتنی نفرت کیسے کر لیتے ہیں۔ کوئی ساحل عدیم سے پوچھے کہ آپ کراچی سے نیچے سندھ کا کتنے دفعہ چکر لگایا ہے۔ اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کے زندگی میں کتنے دوست سندھی رہے ہیں۔ اور آپ نے یہ نتیجہ کیسے نکالا ہے۔
پہلی بات سندھ میں چوہدری نہیں ہوتے وہ پنجاب میں ہوتے ہیں۔ سندھ کے لوگ تو کبھی غزوہ ہند کا نام بھی نہیں لیتے۔ اور سندھ میں ہندو مسلمان عیسائی، احمدی سب ساتھ رہتے ہیں۔ کوئی کسی سے نفرت نہیں کرتا۔ جب کوئی نفرت کی بات کرتا ہے تو اکثریت میں لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں پاگلوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور سندھ میں بھی باگل لوگ رہتے ہیں مگر ایسے نفرت سے بھرے لوگ بہت کم ہیں۔
میں نے ایکس پر ساحل عدیم کی جب یہ وڈیو سنی تو مجھے پاکستان کے نامور صحافی ابصار عالم کے الفاظ یاد آ گئے جو انہوں نے سما ٹی وی کے پروگرام اسٹریٹ ٹاک ود عائشہ بخش میں کہے تھے۔ ابصار عالم نے کہا تھا ہم پنجاب والے چھوٹوں صوبوں کے لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ جب اس نے یہ کہا تھا اس وقت پروگرام میں پنجاب کے تین اور پنجابی اسکالرز جو پروگرام میں موجود تھے انہوں نے ابصار عالم سے اتفاق کیا تھا اور حسن نثار نے کہا تھا میں ابصار عالم کی نظر اتارنا چاہتا ہوں جس نے آج سچی بات کی ہے۔
میں حیراں ہوں ہمارے ٹی وی چینل ایسے لوگوں کو اسکالر سمجھ کر مدعو کرتے ہیں جو نفرت سے بھرے ہوتے ہیں، وہ عورت کو انسان بھی نہیں سمجھتے اور کسی قوم کے لیے اتنے بکواس کرتے ہیں۔ اور ایسے نفرت والے پروگراموں کو یو ٹیوب پر اپلوڈ کیا جاتا ہے اور لاکھوں میں لوگ اس کو دیکھتے ہیں اور ملک میں نفرت بڑھتی ہے۔ لیکن ان کو روکنے والا کوئی بھی نہیں ہے کیونکہ اس نفرت کے ساتھ وہ ایسا اسلامک ٹچ دیتے ہیں کہ کوئی ان سے سوال بھی نہیں کر سکتا۔


