ڈاکٹر خالد سہیل اور ایک نوجوان کا ادبی سفر
کسی بھر سفر کے آغاز سے پہلے اگر آپ کی ملاقات کسی ماہر مسافر سے ہو جائے تو آپ کا سفر نہ صرف شاندار بلکہ یادگار بھی ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی کچھ عرصہ قبل میرے ساتھ عملی زندگی میں ہوا، جب مجھے اپنے ادبی سفر کے آغاز سے پہلے کراچی میں میری ملاقات نامور شاعر اور معروف مصنف ڈاکٹر خالد سہیل سے ہوئی۔ وہ ان دنوں پاکستان اور خاص طور پر کراچی اپنے نوجوان دوست ایاز مورس سے ملنے آئے تھے۔ میری خوش نصیبی تھی کہ مجھے کافی وقت ان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔
ڈاکٹر خالد سہیل نے مجھ سے گفتگو کے دوران میری زندگی کے بارے میں پوچھا اور مجھ سے سوال کیا کہ ”کیا آپ بھی اپنے بڑے بھائی ایاز مورس کی طرح ادبی سرگرمیوں میں متحرک ہیں؟“ میں نے جواب میں کہا نہیں، میں ابھی صرف ادبی لوگوں سے ملتا ہوں اور ان کی ادبی محفلوں سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس موقع پر میں نے ان کو اپنی ایک تحریر پڑھ کر سنائی، جسے سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے مجھے سراہا اور میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ”آپ لکھا کریں، آپ میں لکھنے کی صلاحیت ہے“ ۔
اسی روز ڈاکٹر خالد سہیل سے ان کے قریبی دوست، معروف ادیب اقبال نظر ملنے آئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل اور اقبال نظر کی اس ملاقات نے ادبی سماں باندھ دیا۔ میرے لیے یہ ادبی محفل سیکھنے کے لحاظ سے بڑی کارآمد ثابت ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد میں نے باقاعدہ طور پر لکھنے کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ یوں میں ادبی تحریریں لکھنے کے ساتھ ساتھ، ادبی لوگوں سے بھی متاثر ہوتا رہا ہوں اور میرا رجحان اور دلچسپی مزید بڑھتی گئی ہے۔
چند مہینے قبل جب میں کراچی سے اپنے گاؤں، لوریتو، لیہ، جنوبی پنجاب میں شفٹ ہوا۔ مجھے اپنے علاقے اور گاؤں میں ادب شناس اور ادبی لوگوں سے ملنے کی جستجو ہوئی، اس ضمن میں میری پہلی ملاقات اپنے گاؤں میں پنجابی کے نامور شاعر مقبول شہزاد سے ہوئی ہے جو جنوبی پنجاب میں اپنے منفرد اسلوب کی وجہ سے معروف ہیں۔ ان کی اب تک چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اُن کے ساتھ چند ملاقاتوں میں ہی میں ان کی شاعری سے بڑا متاثر ہوا اور یوں میری دلچسپی اور سیکھنے کی جستجو مزید بڑھ گئی۔
جس سے میں نے اب باقاعدہ طور پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اس نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ میری کوشش ہے کہ اپنے خطے جنوبی پنجاب، بالخصوص لیہ کے ادیبوں اور علم و انسانیت دوست انسانوں سے ملاقات کروں اور اُن کے کام کی پذیرائی کے لئے جدید میڈیا کا استعمال کروں۔ میں نے مقبول شہزاد کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو بھی کیا جس کا موضوع ادب اور آج کی نوجوان نسل تھا۔
میں نے اُن سے سوال پوچھا ”آج کے دُور میں نوجوان نسل میں ادبی سرگرمیوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے پروان چڑھایا جا سکتا ہے؟“ جس کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں کو تلقین کروں گا کہ اگر وہ ادب یا شاعری کی طرف آنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ان کو اپنے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں اور ادبی لوگوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں اُن کی اس بات سے اس لئے متفق ہوں کیونکہ میں نے بھی اپنے اندر ادب سے لگاؤ، دلچسپی اور سیکھنے کی جستجو ادبی لوگوں سے ملنے کے بعد ہی دیکھی ہے۔
اس لیے میں اپنے نوجوان دوستوں کو جو ادبی ذوق رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے اندر ادبی اور تخلیقی صلاحیت موجود ہیں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر موجود تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ادبی لوگوں اور ادبی محفلوں سے ضرور سیکھیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لیے سیکھنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر حقیقی اور قابل ذکر ترقی ممکن نہیں ہے، کیونکہ کسی بھی فن میں سیکھے بغیر مہارت حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے ایک رہنما یا استاد کا کردار بھی ناگزیر ہے۔ وہ نئے مسافر کو سفر میں رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتا رہے۔


