مجید امجد اور باطن کی مٹی

(اورینٹل کالج میں مجید امجد کی برسی پر پڑھی گئی ایک تحریر)
صدر محترم، یہ کوئی علمی یا تدریسی مقالہ نہیں بلکہ میرے کچھ تاثرات ہیں جن کو میں اپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے محترم ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کی طرف سے جو موضوع دیا گیا ہے وہ ہے ’مجید امجد اور ثقافتی جڑیں‘۔ میں نے سوچا شاید اس کے لیے مجھے جڑانوالہ جانا پڑے گا لیکن پھر خیال آیا کہ ثقافتی جڑوں کا قصہ تو ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ پہلے شروع ہو چکا تھا جب انگریز حکمرانوں نے اپنی نوآبادیاتی حکمت عملی کے تحت مقامی باشندوں کو بڑی ہنرمندی سے ان کی اپنی تہذیب و ثقافت سے علیحدہ کر دیا تھا۔ خاص طور پر اورئینٹلسٹس نے تو مشرق کی تہذیب کو ایک غیر متحرک اور جامد عجوبے میں بدل دیا تھا۔ اس صورتحال میں مقامی باشندوں میں عدم تشخص کا ایک شدید احساس پیدا ہو گیا تھا اور جب نوآبادیاتی نظام کے خلاف افرو ایشیائی ملکوں میں قومی جدوجہد اور آزادی کی تحریکیں چلیں تو اس وقت ثقافتی جڑوں کی بازیافت بھی شروع ہو گئی جو آزادی کے بعد بھی جاری رہی۔ افریقہ میں نگریٹوڈ اور ہندوستان میں تھیٹر آف روٹس اور اقبال کی احیائے اسلام کا چرچا ہوا۔ اور گاندھی جی نے تو اپنے چرخے لنگوٹی اور بکری کے ساتھ اس کی مکمل تجسیم بھی کردی۔ یہاں فرانز فینن کی زبانی ایک چھوٹی سی کہانی کا ذکر دل چسپی سے خالی نہ ہو گا :
ایک پڑھے لکھے افریقی لڑکے اور ایک فرانسیسی لڑکی کو آپس میں محبت ہو گئی۔ بات شادی تک جا پہنچی لیکن شادی سے پہلے اتفاق سے لڑکے نے لڑکی کا ایک خط پڑھ لیا جو اس نے اپنی ماں کو لکھا تھا۔ وہ لکھتی ہے ’پیاری ماما، میرا ہونے والا خاوند بالکل ہماری طرح فرانسیسی بولتا ہے۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا بات کرنے کا طریقہ، کھانے پینے کا طریقہ، لباس پہننے کا طریقہ بھی بالکل فرانسیسیوں جیسا ہے بس تھوڑا سا ذرا کالا ہے۔‘ افریقی لڑکے نے خط پڑھتے ہی اپنا فرانسیسی سوٹ بوٹ پھینک دیا اور ثقافتی جڑوں کی تلاش میں اپنے قدیم قبائلی گاؤں کی طرف بھاگ گیا۔
فرانز فینن کا کہنا ہے کہ:
مقامی باشندہ اپنی ثقافت کی محرومی میں پہلے اپنے حکمرانوں کی تقلید کرتا ہے جس سے ایک Mimick مین پیدا ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں براؤن صاحب کا تصور ہے۔ لیکن جب یہ Mimick man اپنے سفید فام آقاؤں کے ساتھ بیٹھتا اٹھتا ہے تو یک دم اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ان میں ہوتے ہوئے بھی ان میں سے نہیں۔ اس کے رد عمل میں وہ اپنے گمشدہ تشخص کی تلاش میں اسی افریقی لڑکے کی طرح موجود کو چھوڑ کر ماضی کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔
فرانز فینن اسے Niggeredly native کہتا ہے : یعنی ”قابلِ رحم حد تک علاقائیت پسند“ ۔
نو آبادیات اور مابعد نو آبادیات کے اس تاریخی عمل میں ہمیں اپنی اردو شاعری میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو۔ علامہ اقبال یہ ثقافتی تشخص سمر قند، بخارا کی تہذیبوں اور حجاز کی سرزمینوں میں تلاش کرتے ہیں۔ میرا جی قدیم ہندوستانی دیو مالا کی طرف لوٹتے ہیں اور فیض امراؤ جان ادا اور کربلا کی طرف۔ کوچۂ جاناں اور مقتل ان کے محبوب استعارے ہیں۔ انتظار حسین ایک کھوئی ہوئی داستان کو یاد کرتے ہیں۔ ما خذ کی تلاش نفسیاتی اعتبار سے ماں کی تلاش ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایڈیپس جو اپنی ماں کی تلاش میں نکلا تھا آخر اس کے ساتھ کیا ہوا۔
صدر محترم، مجید امجد کو پڑھتے ہوئے ہمیں اس قسم کی کوئی مراجعت نظر نہیں آتی اس لیے کہ وہ اپنی ثقافتی وراثت کو نہ تو اپنے آپ سے جدا سمجھتے ہیں اور نہ ان کے لیے یہ کوئی قصہ ِ پارینہ ہے۔ وہ تو مراجعت کی ایک غیر شعوری ردِ تشکیل کرتے ہوئے اسے حال میں تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں۔ جیسے بہار اور فصل ِ گل کا ہماری اردو شاعری میں بڑا چرچا ہے لیکن مجید امجد رنگوں، پھولوں اور بہار کو ایک خاص تناظر میں دیکھتے ہیں :
تم نے میٹھے مٹروں کی ڈالی سے ڈرتے ڈرتے،
تتلی جیسی ایک کلی کو توڑ کے سونگھا۔ سوچا،
اور پھر آنکھیں میچ کے، اپنے آپ میں، خود ہی خود، کملا گئے تم،
اپنے پاگل پن میں، اپنے آپ سے روٹھی ہوئی یہ خوشیاں تو سب مندے کی باتیں ہیں!
آخر ہم بھی تو ہیں۔
کتنا مال ہے، اس دنیا کا، جس کا بوجھ ہماری پلکوں پر ہے،
اور یہ پلکیں ہیں جو پھر بھی تنی ہوئی ہیں،
تم اک بار ہماری آنکھوں سے بھی تو دیکھو؛
اس پر گنے کی اک اک کیاری میں ہر پنکھڑی سونے کی ٹکلی ہے
اب کے ہم نے پہلے تو یہ پگھلی ہوئی سب اشرفیاں اپنی آڑھت میں سمیٹیں،
اور پھر، ان کی اصلی اوسوں کے ساتھ، ان کے ٹرک بھر بھر کر بھیجے
میلے میں، جو اب کے پھولوں کی رت میں آیا ہے،
سچ پوچھو تو بڑا لگا اب کے اپنا سیزن پھولوں کا
جانے تم کیوں سب چیزوں کو اپنی روح کے تہ خانوں میں بھر لیتے ہو،
ذرا اس اپنی دل کی کلی کو توڑ کے اپنی نوٹوں والی جیب میں رکھ لو،
اور پھر مزے مزے سے پھرو اس پھلواڑی میں،
ورنہ ان زرخیز بہاروں میں کملا جاؤ گے
مجید امجد کی اس نظم کا نام ”فصلِ گل“ ہے۔ اس نظم کو پڑھتے ہوئے ہمارے ذہنوں سے فصلِ گل کے روایتی استعارے محو ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہم ایک جیتے جاگتے زرخیز موسم سے آشنا ہوتے ہیں۔ جس سے ہمارا قدیم ذوق قدرے نامانوسیت محسوس کرتا ہے۔
اس نظم میں مجید امجد نہ تو اپنی ثقافتی جڑوں کی تلاش میں نکلتے ہیں اور نہ ہی شعوری طور پر اپنے ماخذ کی طرف مراجعت کرتے ہیں۔ یہ ان کی نظموں کی جمالیات ہے اور بالکل منفرد خمیر سے گوندھی گئی ہے۔ اسی طرز احساس نے کسی سیاسی، سماجی یا ثقافتی تحریک سے جنم نہیں لیا۔ ان کی شاعری پر نوآبادیات اور مابعد نوآبادیات مباحث کا کوئی براہ راست اثر نظر نہیں آتا۔ کوئی بھی تحریک کسی ردِ عمل سے شروع ہوتی ہے اور ردِعمل سے شاعری نہیں، خطابت پیدا ہوتی ہے۔ مجید امجد کسی کے زیر اثر نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی ایسا سماجی اور ثقافتی تضاد نظر آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ان میں Otherکا کوئی نظریاتی تصور نہیں۔ وہ تو دریاؤں پہاڑوں چشموں، پرندوں سے باتیں کرتے ہیں۔ وہ شاید اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریکیں تو آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں بھی بدلتی رہتی ہیں لیکن اس زمین پر پہاڑوں، دریاؤں اور موسموں کا انسان سے تعلق نہیں بدلتا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں کسی روایتی حب الوطنی کا تصور بھی نہیں ملتا۔ وہ بلند آہنگ، پرشکوہ یا قادرالکلام شاعر نہیں۔ قادرالکلام شاعر لفظوں پر قادر ہوتا ہے۔ ان پر سواری کرتا ہے۔ لفظ اس کے سامنے لونڈیوں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ وہ لفظوں پر حکم چلاتا ہے ان سے عشق نہیں کرتا۔
جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں، کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے کا کفارہ بن سکتے ہیں
کیا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں، ان کا
جن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ان ویراں صحنوں تک ہے
کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقت؟
نا صاحب، اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلو بھر بھیک کسی کو دے کر
ہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گے
اور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیں،
شاعر اگر لفظوں سے کسی محبوب کی طرح ہم آغوش نہیں ہوتا اس پر لفظوں کا قرض بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن مجید امجد لفظوں کو ایسے لاڈ سے چھوتے ہیں کہ لفظ اپنی بھرپور کیفیتوں اور رمزوں کے ساتھ ہم پر منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کسی باضابطہ تفکر یا کسی مخصوص گہرے تعقل کے شاعر نہیں۔ وہ تو دریا کنارے بیٹھے کوزہ گروں کی طرح اپنے باطن کی مٹی سے باوے، مورتیاں اور پیالے بناتے رہتے ہیں۔ مٹی کا استعارہ خاص طور پر مجید امجد کی ’شبِ رفتہ کے بعد‘ کی بہت سی نظموں میں ملتا ہے۔ وہ ہر چیز کو مٹی کی کرامات میں دیکھتے ہیں :
سب وابستگیاں اُن روحوں سے ہیں
جو مٹی میں یکساں یک منزل ہیں
اک اک قبر پہ جلنے والا دیا گو الگ الگ گھر سے آتا ہے
لیکن سارے دیوں کی روشنیاں مل کر مٹی کے اک ہی عالم میں جھلملاتی ہیں
مٹی محض خاک و غبار نہیں۔ زرخیزی، بہار، خزاں، انسانی جسم، پانچوں حواس، لوگ، محلے، گلیاں، جبلت اور فنا کی لذتوں کا نام ہے :
اور جب بھی لہو میں مقدس مٹی کی یہ طینت گھلتی ہے تو کیسی کیسی
سلسبیلیں ہیں جو ان نینوں میں امڈ آتی ہیں
اور پھر :
میرے باطن کی مٹی
میرے نام کی جس سے نمو ہے
اور پھر:
سبھوں نے مل لیں اپنے اپنے چہروں پر ’
مٹیاں اپنی عمروں کی ’۔ اور یوں جو جو شکلیں نتھری ہیں
ان سے ہی اَب اُن کی پہچانیں ہیں
جو لوگ اپنی مٹی کو بھول جاتے ہیں انہیں وہ ایک درویش کی طرح مٹی کی یاد دلاتے ہیں :
’ بندے‘
جب پلکوں کے جڑے جڑے گُچھوں کے نیچے ’تیری آنکھوں میں اِک لمبے گھیرے والے
عندیے کا ہلکا سا پھیرا پڑتا ہے۔
جب ایسے میں تیرے بھنچے ہوئے ہونٹوں پر ایک ارادے کا بوجھ آ پڑتا ہے
اور وہ ہونٹ آپس میں اور بھی دب جاتے ہیں
اور ٹھوڑی کے نیچے اطمینان کا اِک لٹکاوا اُبھر آتا ہے
تب تو تیرے گمان میں دُنیا کے ہر ذرّے پر تیرے چہرے کا سکہ ڈھل جاتا ہے
تب تو ڈرنے والے ڈر جاتے ہیں
اپنے غرور میں جینے والی مٹی کی اس اِک مُورت کو دیکھ کے
ڈرنے والے ڈر جاتے ہیں
اور میں ’اس تیری مورت کی بے علمی سے ڈر جاتا ہوں
کوئی تمہارے حلق پہ جب مٹی کا انگوٹھا رکھ کر کچھ کہتا ہے
تو سب قلعے گر پڑتے ہیں ’
مٹی کا یہ تصور سرکار دربار کا نہیں یہ تو صوفیوں بھگتوں، فقیروں اور درویشوں میں ملتا ہے :
فریدا خاک نہ نِندیے خاکو جیڈ نہ کو
ماٹی قدم کریندی یار
ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روندے موہے
اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توہے
سپائی نوزا کہتا ہے :
”میں اس لیے ہوں کہ میں محسوس کرتا ہوں“ ۔
اور ڈیکارٹ نے کہا کہ:
”میں اس لیے ہوں کہ میں سوچتا ہوں“
لیکن ژاک دریدہ کہتا ہے :
”جس کسی نے بھی کہا کہ میں ہوں وہی نہ ہوا“ ۔
یہ نہ ہونے میں ہونے کا تصور شاید ماتھے پہ راکھ ملنا۔ خاک کو چھو کر ماتھے کا تلک بنا لینا۔ انسان کا اپنے نہ ہونے کا اقرار ہے کہ اس کا ہونا اس کے نہ ہونے میں ہے۔ یہ تصور ہمیں گوتم، نانک، شاہ حسین، بھگت کبیر اور اردو شاعری میں خاص طور پر میرتقی میر کے ہاں ملتا ہے :
نہ دیکھا میرِ آوارہ کو لیکن
غبار اک ناتواں سا کوبکو تھا
مجید امجد بھی جھنگ اور ساہیوال کی گلیوں میں اک غبارِ ناتواں تھا جو اپنے نہ ہونے کے اثبات سے جنم لیتا ہے۔ وہ کوئی منصب دار یا عہدیدار نہیں تھا۔ وہ تو مانگی ہوئی اچکن پہن کر نرگس کی فلم دیکھتا ہے۔ بابا جوگی کے ہوٹل میں بیٹھ کے چائے پیتا ہے۔ وہ تو زمین پر پیدل چلتا ہے یا سائیکل پر جس کے دندانے کڑکتے اور کتے بولتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہوجاتا ہے۔ درختوں اور چڑیوں سے باتیں کرتا ہے :
’تو کس دھیان میں ہے، اے ری چڑیا! ‘
بچوں سے باتیں کرتا ہے
’بچو ہم ان اینٹوں کے ہم عمر ہیں جن پر تم چلتے ہو‘
جاروب کشوں اور پنواڑیوں سے خوش گپیاں کرتا ہے۔ وہ تو چیونٹیوں کے قافلے کا مناد ہے۔ مجید امجد کا لہجہ ایک فطری گفتگو کا لہجہ ہے۔ وہ زیرِ لب گفتگو کرتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے ساری کائنات ان سے ہمکلام ہے۔ یہ لہجہ وہی لہجہ ہے جو تحریک زدہ شاعروں کے احاطہ ادراک سے باہر رہتا ہے جیسے استاد ذوق کہتے ہیں :
نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
آخر یہ زور مارنا، یہ زورِ بیان، یہ خطابت، یہ افادیت پسندی، ترقی پسندی، اصلاح پسندی کیا ہے؟ یہ تو زمانے کے طاقتور طبقے کا چلن ہے۔ طاقتور طبقہ ہی معیار قائم کرتا ہے اور وہی زور مارتا ہے۔
مجید امجد کا مسئلہ طاقت کا حصول نہیں۔ وہ کسی خودنمائی کے جلسے میں دل چسپی نہیں رکھتے۔ ان کی شاعری تو ایک بے غرض نشاط ہے۔ وہ اپنی شعری جمالیات کو نظریے کی وردی نہیں پہناتے وہ اِسے ایک حسیاتی رچاؤ میں تخلیق کرتے ہیں۔ نظریہ پسند شاعروں اور مجید امجد کی شاعری میں وہی فرق ہے جو ایک بے ارادہ آوارگی اور ایک منظم جلوس میں ہے۔
اس سے پہلے کہ ان باتوں سے کوئی ادبی مغالطہ پیدا ہو۔ میں اپنے چند بنیادی مفروضوں کو بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ میرے خیال میں تضاد کا تصور ارسطو نے دیا۔ وہ اپنی بوطیقا میں تضاد کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اور آگے چل کر مغرب کا علم اسی تصور کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس برصغیر میں انسان کی زندگی کو ایک سفر کے استعارے میں بیان کیا گیا ہے۔ جو جنم، خواہش، دکھ، تپسیا اور سنیاتا کا ایک چکر ہے :
’ایک یہی پیکر
جس میں روحیں آ آ کر اپنی میعادوں میں چکراتی ہیں، کھو جاتی ہیں ’
برصغیر کی جمالیات کی بنیاد ناٹیہ شاستر ہے جو تین سو سال قبل از مسیح ترتیب دی گئی۔ اس کتاب میں رقص موسیقی، شاعری، تھیٹر اور ڈرامے کے اصول وضع کیے گئے ہیں۔ انسان کے ازلی اور ابدی جذبات کو رقص و موسیقی اور شاعری کی صورت گری میں دکھایا گیا ہے۔
مجید امجد شعوری طور پر کسی فلسفے یا نظریہ فن کو نہیں اپناتے لیکن ان کی شاعری جنوبی ایشیا کی سرزمین کی سرگزشت ہے۔ یہی ان کی گراؤنڈ آف بینگ یعنی خطہ ذات ہے۔ ان کی شاعری کے بہاؤ میں یہ تصورات ایسے رچے بسے ہیں کہ محسوس تو ہوتے ہیں لیکن نظر نہیں آتے۔ وہ جمالیات کے شاعر ہیں۔ اور جمالیات میرے نزدیک آرٹ کا دوسرا نام ہے۔ جمالیات کا مطلب متناسب خطوط کھینچنا نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق حُسن کے کسی رائج معیار سے ہے۔ پکاسو کی تصویروں میں ایسا کوئی تناسب نہیں۔ مودگلینی (Modigliani) کی عورتوں کے جسموں کا تناسب کسی حقیقی عورت سے نہیں ملتا۔ ہمارے ہاں چغتائی، صادقین اور شاکر علی حُسن کے اپنے اپنے معیار تخلیق کرتے ہیں۔ منٹو خالی بوتل پھینک کے کہتے ہیں : ”دنیا تیرا حسن یہی بدصورتی ہے“ ۔ تو جمالیات کا مطلب خوابیدہ حسن کو جگانا ہے۔ یہ کسی نادید کا دیدار ہے۔ ادھوری اور خالی جگہوں کی زیارت ہے۔ وہ تضادات کو دکھاتا تو ہے لیکن تضادات کے درمیان Liminal Spaces سے گزرتا ہے۔ جیسے ہم کینوس کے ایک چوکھٹے اور اس پر لگے ہوئے رنگوں اور لکیروں کو دیکھتے ہیں توہم آبجیکٹ آف آرٹ کو دیکھتے ہیں آرٹ کو نہیں۔ کیونکہ آرٹ محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن وہ نظر نہیں آتا۔ غالب اپنے ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں :
از لطافت سخنِ ما نہ پذیرد تحریر
نشود گرد نمایاں ز رمِ توسن ِ ما
اردو میں ان کا مصرعہ ہے :
مدّعا عنقا ہے اپنے عالم ِ تقریر کا
عنقا کیا ہے ایک ایسا پرندہ جو ہمیں نظر نہیں آتا لیکن اس کی پھڑپھڑاہٹ ہمیں سنائی دیتی رہتی ہے۔ حُسن بھی نظر نہیں آتا۔ ہم اسے دیکھنے کی طلب کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہم سے روپوش ہی رہتا ہے۔ جیسے کینوس کے پیچھے کوئی نادیدہ تصویر چھپی رہتی ہے۔ اس کی ایک جھلک پر ہم ہزاروں تفسیریں لکھ دیتے ہیں۔ مجید امجد میں بھی آرٹ نظر نہیں آتا لیکن اس کی جمالیات میں آپ کئی کائناتوں کو دھڑکتے ہوئے محسوس کر سکتے ہیں۔
مجید امجد کی شبِ رفتہ کے بعد کی نظموں کو بہت سے لوگ بے وزن اور بحر سے خارج سمجھتے رہے اور اب بھی شاید سمجھتے ہوں لیکن مجید امجد پر سنجیدہ کام کرنے والے ایک اہم محقق خواجہ زکریا کا کہنا ہے کہ مجید امجد نے ایک بھی مصرعہ بے وزن نہیں لکھا۔
تو پھر یہ سب کچھ کیوں اور کیسے سمجھا گیا؟ اچھی شاعری چاہے وہ پابند یا آزاد ہو، بحر ہمیشہ تحت الشعور میں رہتی ہے۔ وہ شعری واردات پر مسلط نہیں ہوتی لیکن بری شاعری میں پڑھنے والا شعر کا لطف لینے کی بجائے فعولن فعولن پڑھتا رہتا ہے۔ ایسی صورتحال صرف گیتوں میں اچھی لگتی ہے۔ جہاں الفاظ کی بانٹ اور بحر کا چلن یکساں ہوجاتا ہے۔ ہماری شاعری زیادہ تر عربی اور فارسی بحروں میں لکھی گئی ہے۔ مجید امجد کی شاعری میں نمایاں بحر دوہے اور سورٹھ کی ہے۔ جس کی بنیاد موسیقی کی لے کی طرح ماتروں پر ہے۔ ماترا نبض اور دل کی دھڑکن ہے۔ ایک مسلسل ِگنت۔ مجید امجد نے اپنی نظم میں دوہے کو نہایت سادہ طریقے سے آزاد کر دیا ہے۔ دوہے میں دونوں مصرعے ہم وزن ہوتے ہیں لیکن ان میں بسرام یعنی وقفہ آتا ہے۔ جیسے
لکڑی جل کوئلہ بنی، کوئلہ بھیؤ راکھ
میں پاپن ایسی جلی، کوئلہ بنی نہ راکھ
ان دونوں مصرعوں میں بسرام کا مقام فکسڈ یعنی معّین رہتا ہے۔ عظت اللہ خاں صاحب اپنی کتاب ’سریلے بول‘ میں کہتے ہیں۔
’اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شاعر ماترک بحر میں نظم لکھنا چاہتا ہے تو۔ ان میں کہاں کہاں بسرام ہونا چاہیے۔ اس کو کامل اختیار ہو گا کہ وہ اپنے کان کی ترنم والی ترازو کے لحاظ سے جس ماترے پر چاہے بسرام رکھے۔ ‘
’سریلے بول‘ میں عظمت اللہ نے اس کی پوری وضاحت کرتے ہوئے ایک نظام وضع کیا ہے اور پھر شعوری طور پر اپنی شاعری کو اس کے تابع کرنے کی کوشش کی لیکن مجید نے صرف اتنا کہا کہ کہ اُن کی نظموں کو رک رک کر پڑھا جائے۔ مجید امجد نے بسرام کے اس مقام کو اپنی ان نظموں میں Fluid یعنی غیر معین کر دیا ہے۔ وہ جہاں چاہتے ہیں بسرام کا استعمال کرتے ہیں۔ بسرام کیا ہے یہ ایک ایسی دھڑکن ہے جو سنائی نہیں دیتی۔ یہ وہ خوابیدہ حسن ہے جو دکھائی نہیں دیتا لیکن محسوس ہوتا رہتا ہے۔ مجید امجد کی ان نظموں کا آہنگ دراصل بلمپت کی لے ہے جس میں ایک ماترا چار دم کا ہے اور یہ دم نظر نہیں آتے۔ بس خاموشی میں دھڑکتے رہتے ہیں۔ جیسے کوئی دھیان گیان کر رہا ہو۔ جیسے کوئی آہستہ آہستہ گفتگو کر رہا ہو۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ شاید اس لیے کہ وہ اپنے اس گیان دھیان میں بحر کو مخل نہیں دیکھنا چاہتے۔
اِک اِک رُوح کے آگے اِک دیوار ہے اُونچی گلے گلے تک
اِک دیوار ہے رمز ِ دروں کی
اس دیوار کے اندر کی جانب جتنا کچھ بھی ہوتا ہے
جس کے پاس خزانہ ’اک دردانہ‘ یا اک تال مکھانہ
نقدِ باطن یا کم از کم۔ آب و دانہ ’
جتنا کچھ بھی پاس ہو اتنی ہی دیوار یہ موٹی ہوتی ہے اور اس دُوری کے باعث
اتنی ہی اس روح کی بات ذرا گمبھیر اور گہری ہوجاتی ہے
اپنے بوجھ سے بوجھل ہوجاتی ہے
دیر سے سننے میں آتی ہے
اپنے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ’روح نہ اس کا کوئی دُھنارا‘
اپنے پاس تو صرف اِک یہ آواز ہے جس کے آگے کوئی بھی دیوار نہیں ہے
سن سے تمہارے پاس پہنچ جاتی ہے
اس آواز میں رمزِ دروں کے سارے غیر مقطر زہر ہیں ’اس کا برا نہ مانو‘
کبھی کبھی جی میں آئے تو سُن لو
چن لو
رکھ لو
چکھ لو



شاید ہی صہبائ صاحب سے پیشتر کسی اور نے مجید امجد کو اتنا گہرا جانا ہو ۔ الفاظ کی مالا پروتے پروتے صہبائ صاحب قاری کو اپنے علمی حصار میں لئے رکھتے ہیں یہی ان کا کمال ہے ۔ سعید ابراہیم نے لکھا کہ یہ تحریر پڑھتے ہوئے جھوم رہا تھا ۔۔ اس میں قطعی کوئ شک نہیں۔۔۔ صہبائ بھی یہی چاہتے ہیں جھوم برابر جھوم