خواجہ سرا،تاریخ ، تہذیب اور جدید دور


یوں تو اکثر ہم مذہب کے معاملات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اسی وجہ سے جو کوئی ہمارے اردگرد مذہب کا لبادہ اوڑھ لے یا مذہب کا استعمال کرے تو وہ ہمارے لیئے محترم اور قابل احترام بن جایا کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی ظالم ، منافق اور مذہب کش روایات کا پیروکار ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم یہ کہ سکتے ہیں ہم بطور معاشرہ اور قوم بالکل ہی اسلام دشمن اور انسانیت دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں اور عجیب منطق پالتے بھی ہیں کہ ہم ہی تو اسلام کے شیدائی ہیں ۔

پاکستانی معاشرہ ایک متنوع اور ثقافتی لحاظ سے بھرپور معاشرہ ہے،پاکستانی معاشرت میں خواجہ سرا افراد کے ساتھ روایتی سلوک پیچیدہ اور متضاد ہوتا ہے۔ تاریخ اور ثقافت میں خواجہ سرا افراد کو بعض مواقع پر معاشرتی قبولیت ملی ہے خواجہ سرا برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ تاریخی طور پر انہیں مختلف ادوار میں مختلف حیثیتیں دی گئیں، مگر ان کا سماجی، ثقافتی اور روحانی مقام ہمیشہ اہم رہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں خواجہ سراؤں کی اہمیت اور ان کا تاریخی پس منظر ایک طویل اور متنوع کہانی ہے۔ یہ طبقہ صدیوں سے جنوبی ایشیا کی ثقافت، سماج اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتا آیا ہے۔ ، مگر جدید دور میں انہیں مختلف مسائل اور تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاریخی طور پر ، جنوبی ایشیا میں خواجہ سرا افراد کو خاص طور پر ہندو اور مغل درباروں میں اہم مقام حاصل رہا۔ انہیں مذہبی تقریبات، شادی بیاہ اور بچوں کی پیدائش کی تقریبات میں بلایا جاتا تھا اور انہیں خوشی کا پیامبر سمجھا جاتا تھا قدیم ہندوستان میں خواجہ سراوں کو سماج کا ایک خاص اور قابلِ احترام حصہ سمجھا جاتا تھا۔

ویدک ادب اور مہابھارت جیسی قدیم کتب میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ اس دور میں انہیں مقدس اور روحانی مقام دیا جاتا تھا، اور انہیں عبادات اور رسومات میں شامل کیا جاتا تھا مغل دور میں خواجہ سراؤں کی حیثیت اور زیادہ مضبوط ہو گئی۔ انہیں شاہی دربار میں خاص عہدے دیے جاتے تھے اور وہ بادشاہوں اور نوابوں کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ خواجہ سراؤں کو محل کی حفاظت، خزانے کی نگرانی اور اہم معاملات میں مشورہ دینے کے لئے مقرر کیا جاتا تھا۔ اس دور میں انہیں نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی طاقت بھی حاصل تھی۔

برطانوی حکومت کے دوران، خواجہ سراؤں کی حیثیت میں تبدیلیاں آئیں۔ 1871 کے "کریمنل ٹرائبز ایکٹ” نے انہیں "مجرمانہ قبیلوں” کی فہرست میں شامل کر دیا، جس سے ان کی زندگی مشکل ہو گئی اور ان پر سخت پابندیاں لگائی گئیں مگر یہاں خواجہ سرا افراد کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کی کوشش کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرتی برابری اور انصاف قائم کیا جا سکے۔ یہاں کچھ اہم مسائل اور ان کے ممکنہ حل پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کے بعد، خواجہ سراؤں کی حیثیت میں مزید تبدیلیاں آئیں۔ انہیں اکثر سماجی امتیاز اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، مگر حالیہ برسوں میں ان کی حالت میں کچھ بہتری آئی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک نے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قوانین بنائے ہیں اور ان کی شناخت کو قانونی طور پر تسلیم کیا ہے.

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ خواجہ سرا افراد کو اللہ کا تحفہ سمجھا جاتا ہے اور انہیں دعا کرنے والے یا دعا دینے والے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ رویہ ہر جگہ نہیں پایا جاتا اور کئی جگہ ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک بھی کیا جاتا ہے اور خطرناک حد تک ان کے ساتھ جرائم بھی کیئے جاتے ہیں ۔.

خواجہ سرا افراد کو اکثر معاشرتی تعصب اور امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی خود اعتمادی اور عزت نفس کو متاثر کرتا ہے جو کہ کسی بھی طور قابل قبول نہیں نہ ہی مذہب نہ ہی معاشرتی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں اور اسی لیئے جدید دور میں یہ ایک جرم سمجھا جاتا ہے کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی کی جائے۔.

بہت سے خواجہ سرا افراد کو تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں ملتا یا انہیں تعلیم مکمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

خواجہ سرا افراد کو ملازمت کے مواقع میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر انہیں غیر روایتی اور غیر محفوظ پیشوں میں کام کرنا پڑتا ہے.

خواجہ سرا افراد کو صحت کی سہولتیں حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہیں عمومی طبی خدمات تک رسائی نہیں ملتی اور خاص طور پر جنسی اور تولیدی صحت کی سہولتیں محدود ہیں

پاکستان میں خواجہ سرا افراد کے قانونی حقوق کے حوالے سے بھی مسائل ہیں، جیسے شناختی کارڈ بنوانے میں مشکلات اور قانونی دستاویزات میں جنس کی شناخت کا مسئلہ جو کہ اب حل کی جانب ہیں اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔

معاشرتی شعور اور آگاہی کے لیے مہمات چلانا ضروری ہے تاکہ لوگ خواجہ سرا افراد کے حقوق اور ان کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

تعلیمی اداروں میں خواجہ سرا افراد کے لیے خصوصی کوٹہ یا وظیفے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔

خواجہ سرا افراد کے لیے خصوصی ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں اور مختلف کمپنیوں اور اداروں کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ خواجہ سرا افراد کو ملازمت دیں۔

صحت کے مراکز میں خواجہ سرا افراد کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں اور انہیں صحت کی بنیادی خدمات تک رسائی دی جائے۔

قانونی نظام میں اصلاحات کی جائیں تاکہ خواجہ سرا افراد کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات بنوانے میں سہولت ہو۔ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی قوانین پر صحیح معنوں میں عمل کیا جائے۔

خواجہ سرا افراد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرامز چلائے جائیں تاکہ وہ معاشرتی اور اقتصادی طور پر خود مختار بن سکیں۔

Facebook Comments HS