"قدرِ مشترک : "درُونِ ذات کی سُلگ


سمیع اللہ عرفی سے اپنا تعارف اتنا پُرانا تو نہیں لیکن اپنائیت کا احساس ایسا ہے جیسے ہم کئی جنموں سے دوست ہوں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اُن سے میری پہلی ملاقات حلقہ اربابِ ذوق، لائلپور کے ایک اجلاس میں ہوئی جس میں اُن کی ایک نظم تنقید کے لئے پیش کی گئی تھی۔ نظم، جدید استعارات و علامات کا مرقع تھی مگر نقاد روایتی تنقیدی و ادبی اوزاروں سے لیس ہو کر اس کے پیکر کے اندرون میں اترنے کی کوششوں میں مگن تھے مگر نظم تھی کہ ان کے ہاتھ سے پھسل پھسل جاتی تھی۔

خیر نظم کا جو ہونا تھا سو ہوا لیکن سمیع اللہ عرفی سے محبت اور خلوص کا ایک سلسلہ نکل آیا جو آج تک کسی نہ کسی صورت قائم و دائم ہے۔ گزشتہ ماہ ان کا شعری مجموعہ” قدر ِمشترک” اکائی پبلشرز، فیصل آباد سے شائع ہوا تو، انھوں نے جس محبت سے عطا کیا، اس کے بعد اس کا مطالعہ اور اس پہ رائے واجب ہو گئی، کیونکہ کسی تخلیق کار کے لئے سب سے بڑھ کر خوشی کا مقام وہ ہوتا ہے جب اس کا قاری اس کی تخلیق پر ردِ عمل ظاہر کرتا ہے۔

ایک بڑے شاعر کے ہاں غیر مرئی دنیاؤں کو مجسم کرنے، نامعلوم کو گرفت میں لینے اور تجسیم کو تحلیل کرنے کی خواہش کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ وہ معروضی حقائق کو اچھوتے اور منفرد زاویوں سے دیکھتا اور دکھاتا ہے۔ وہ وجود سے جوہر کا سفر کرتا ہے اور بے جان مناظر میں زندگی کے رنگ بھر دیتا ہے۔ سمیع اللہ عرفی بھی ان ہی صورت گروں اور آئینہ سازوں کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کا شعری مجموعہ” قدرِ مشترک” ان کی شعری اپچ، تخلیقی بہجت اور سالہا سال کی فنی ریاضت کا گواہ ہے۔

انھوں نے فکری تناظرات اور داخلی کیفیات کی پراسراریت کے درمیان ایک ایسا نقطۂ اتصال دریافت کیا ہے جو ان کے شاعرانہ اظہار میں تیقن اور توازن جیسی صفات کو سامنے لاتا ہے۔ ان کی شاعری انسان کے داخلی سفر کی تخلیقی رُوداد ہے۔ اس میں نہ مصنوعی رِقّت ہے، نہ گھن گرج اور نہ ہی وہ مصنوعی احتجاج جو عام قسم کی شاعری میں موجود ہوتا ہے۔ اِن کے ہاں وہ خلوص ہے جو ذات کے باطن میں اُترنے کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ خلوص عموماً اُس شاعری میں موجود ہوتا ہے جہاں کسی تجربے کو انتہائی نجی سطح پر شدت سے محسوس کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں مستعمل استعارات و تشبیہات ان کے تخلیقی تجربے سے خود رو پودے کے مانند پھوٹی ہیں جن میں مصنوعی پن نہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان پر گزرنے والی واردات کو مخصوص انداز میں دیکھنے کا لازمی نتیجہ ہیں۔ اس حوالے سے ان کی غزلیات سے چند اشعار ملاحظہ ہوں :

یا وہ بے حس ہے یا ظالم ہے یا مجذوب ہے وہ
شہرِ نابینا میں جس نےبھی نکھارے منظر

پھول شبنم سے گلے مل کے لگے نادم سے
صبح ِدم آنکھ نے دیکھے وہ کنوارے منظر

اگر ملا تو ملوں گا میں تیرے لہجے میں
مجھے تلاش کرو لہجۂ کرخت میں تم

وہ کنارے پر ہے میرا منتظر
میں ہوں اپنی ذات میں ڈوبا ہوا

معاصر غزل کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ اُن موضوعات کو اتنا اہم خیال نہیں کرتی، جنھیں غیر معمولی اور بے مثال کہا گیا ہے۔ جدید شاعری اور بالخصوص غزل زندگی کی معمولی چیزوں، عام تجربات اور لاشعور سے ظہور پذیر ہونے والے مظاہر کو زیادہ اہمیت دیتی ہے جو انسانی احساس کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے جدید غزل کی جمالیات کسی اشرافیائی اور مقتدر تصور کی قائل نہیں ہے۔

جو واقعہ یا خیال فرد کی حسی دنیا کو متاثر کر سکتا ہے یا اس کا محرک ثابت ہو سکتا ہے وہ اس کے جمالیاتی نظام کا موضوع بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سمیع اللہ عرفی کی غزلیات کا بنیادی تناظر بھی روز مرہ کے یہی معمولی تجربات ہیں جن کو شاعر کی تخلیقیت نے معمولی سے غیر معمولی بنا ڈالا ہے۔ ان کی آنکھ نے روز مرہ کے معمولات کو ایسی حیرت سے دیکھا ہے کہ مانوسیت اور تکرار کہیں غائب ہو گئی ہے اور اس کی جگہ تازگی نے لے لی ہے۔

بغور دیکھیں توان کی غزلوں میں انسانی رشتوں سے وابستہ احساسات اور جذبات ہیں، تنہائی کے لمحات میں ہستی کے اسرار و رموز جاننے کی تڑپ ہے، کائنات اور انسان کے مابین تعلق کی کھوج ہے۔ اسی لئے رات، اندھیرا، روشنی، پھول، شبنم، خواب، آنکھیں، پانی، بوندیں، سمندر،سوچ، خیال، وجدان، ذات اور وجود ان کے خاص استعارے ہیں جنھیں وہ اپنی شاعری میں سہولت سے استعمال کرتے ہیں :

آنکھ کے راستے تو ان کو نکل جانے دے
دل کے پنجرے میں پرندوں کو گرفتار نہ رکھ

اک مدت سے تنی ہوئی خاموشی جب ٹوٹتی ہے
لہریں دائرے بنتی ہیں اور جھیل میں کنکر ناچتا ہے

میں خود کو کسی روز بھلا ڈھونڈ سکوں گا
میرا بھی تشخص میرے حالات میں گم ہے

سمیع اللہ عرفی کی غزلوں کی زبان سادہ اور صاف ہے، ادق اور غیر مانوس الفاظ کا استعمال مفقود ہے جس سے زبان قاری کی تفہیم میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ ان کی تشبیہات اور استعارات دیگر شعرا کی نسبت منفرد ہیں جس سے ان کی شاعری میں موسموں کا حسن، پھولوں کی نزاکت، ہجر و وصال کی کیفیات، پرندوں کی پکار، ہونٹوں کی سرگوشیاں، دریاؤں کی روانی، محبت کی سلگ، عشق کی آتش، زندگی کے خواب، مناظر کے سحر، ان دیکھی دنیاؤں کے احساسات، سماج کی بے اعتنائیوں اور سرد مہریوں کے اثرات دو آتشہ ہو گئے ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ڈکشن غیر تخلیقی رویوں اور کلیشے کے خلاف صریح بغاوت ہے۔

"قدرِ مشترک” کے مطالعے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ سمیع اللہ عرفی، اچھے، سچے اور منجھے ہوئے تخلیق کار ہیں اور ان کے ہاں زندگی کے احساسات نمایاں انداز میں جلوہ گر ہیں جو اپنی اہمیت و افادیت سے ہمنوا بنا لیتے ہیں۔ انھوں نے زندگی، کائنات اور ذات کی تثلیث سے اپنی شاعری کی دنیا تعمیر کی ہے جس میں خواب کے منظر نامے، حقیقت کی تلخیاں اور ان کے ذاتی محسوسات پوری آب و تاب سے جلوہ افروز ہیں۔ ان کی غزلوں میں حساس دل کے دھڑکنے کی صدا اور قلم و قرطاس کے اتصال سے جنم لینے والی نغمگی کو آسانی سے سنا جا سکتا ہے۔ ان کی غزلوں سے چند اشعار جو میری اس بات کی تصدیق کریں گے ملاحظہ ہوں :

دریا تھے بپھرنے سے گریزاں تھے مگر جب
چڑھ آئے تو پھر چڑھ کے اترنا نہیں آیا

خوشبو کی خود کشی کا اثر ہم پہ کچھ نہیں
جلتے ہوئے گلاب سے آگے کے لوگ ہیں

ایسے ڈرا نہ اپنی سزاؤں کے خوف سے
دوزخ ترے عذاب سے آگے کے لوگ ہیں

اندر کی جیل سے ابھی ممکن نہیں فرار
پہرہ مرے بدن کا میرے آس پاس ہے۔

ان کی شاعری کو دیگر کئی حوالوں سے دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری کا مجموعہ”قدرِ مشترک” خود سے پڑھیں اور اندازہ کریں کہ ان کی شاعری کی سطح کیا ہے۔

Facebook Comments HS